Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/10/2025
4 Views
Episode no 13
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_13 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن صبح کا سورج ہر جانب ٹھنڈی پُرسکون کرنیں بکھیرتا عابثہ اسماعیل کے لئے ایک نیا امتحان لے کر طلوع ہوا تھا۔۔وہ کتنی بھی مضبوط سہی۔۔مگر تھی تو ایک نازک سی لڑکی ہی ناں۔۔ ساری رات رونے کی وجہ سے آنکھیں سوجھ سی گئی تھیں۔فجر کی نماز ادا کرکے اپنے رب کا شکر ادا کرتی وہ کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی۔۔اور اب دن چڑھتے ہی کسی نے زور دار آنداز میں دروازہ پیٹ ڈالا تھا۔ ’’کیا مصیبت آگئی ہے۔‘‘وہ بڑبڑاتی ہوئی بیڈ سے اُتری تھی۔دروازہ کھولتے ہی سامنے ہالہ کا خوبصورت چہرہ نمودار ہوا تھا۔۔اُس کے چہرے کی مسکراہٹ بتا رہی تھی۔۔کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ ’’مصیبت تو تم ہو ہماری زندگیوں کی۔‘‘وہ استہزایہ مسُکرائی۔۔عابثہ نے ایک ناگوارنظر سے نواز تھا۔۔ ’’جلدی بکواس کرو۔‘‘وہ دروازہ سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی۔ ’’بابا نیچے بُلا رہے ہیں تمہیں۔۔کیا معلوم آج ہماری برسو پُرانی خواہش رنگ لے آئے۔۔اور تمہارے چاول نصیب ہوجائیں۔‘‘ہالہ جاتے جاتے بھی اس کو آگ لگانا ہر گز نہیں بھولی تھی۔ ’’پتہ نہیں کیا مصیبت ہے ۔۔اس گھر کے سارے لوگوں کو۔۔بس صبح صبح ہی نیند خراب کرنی ہوتی ہے۔‘‘وہ بڑبڑاتی نائٹ سوٹ پر ہاتھ مار کر شکن دور کرتی اسی حالت میں نیچے کی جانب بڑھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے آنداز میں دوڑتی ہوئی نیچے آئی تھی۔۔مگر وہاں موجود تمام تر گھر والوں کو دیکھ چونک گئی۔حیرت سے آنکھیں پھیلائے وہ لاؤنج میں قریب آئی تھی۔۔ایک طرف فردوس بیگم غصہٰ سے نشست سنبھالے بیٹھی تھیں۔۔جبکہ دوسری جانب عدیل ماموں لاؤنج کے بیچ و بیچ پیچھے کمر پر ہاتھ باندھے غصّہ سے مارچ کرنے میں مصروف تھے۔ہالہ اور مینا سیب کترتی مُسکراتی ہوئی شو کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ ’’یہاں آؤ۔‘‘عدیل صاحب طیش میں اِس کی جانب بڑھے تھے۔۔عابثہ نے خوف سے تھوک نگلا۔۔۔ ’’کیوں ہماری عزتوں کا تماشا بنانا چاہ رہی ہو۔۔۔کس سے پوچھ کر اتنی رات کو اکیلی باہر نکلیں تھیں۔۔بتاؤ مجھے۔‘‘وہ اس کا بازو اپنے سخت ہاتھوں کی گرفت میں لیتے غصّے سے دھاڑ اُٹھے تھے۔۔۔ ’’ماموں وہ۔۔‘‘کچھ لمحوں کے لئے وہ گڑبڑا سی گئی تھی۔ ’’کیا ماموں ۔۔۔شکر کرو۔۔کہ ہم نے تمہیں یہ چھت دی ہوئی ہے۔۔ورنہ پڑی ہوتیں۔۔کسی کچرے کے ڈبے میں۔۔‘‘وہ سخت طیش میں پھُنکارے تھے۔۔عابثہ نے بامشکل آنسو ضبط کئے۔ ’’آئیندہ آگر میں نے تمہیں آوارہ لڑکیوں کی طرح باہر مٹر گشتی کرتے دیکھ لیا ناں۔۔توزندہ زمیں میں گاڑ دونگا تجھ زلت کی پوٹ کو۔۔‘‘غصے کی شّدت کے باعث وہ بہت زور سے چیخ تھے۔۔جو بھی تھا عابثہ سہم کر رہ گئی تھی۔۔جبکہ سب کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔۔جبکہ نانی بیگم اپنے طنطنے کے ساتھ براجمان مسلسل اُسے ہی گھور کر دیکھ رہی تھیں۔ ’’دفعہ ہوجاؤ میرے سامنے سے۔۔اور خبر دار جو اس گھر کی دہلیز سے قدم بھی باہر نکالا تو۔‘‘اُن کے جھٹکے پر وہ لہرا کر پیچھے گر پڑی تھی۔۔کوئی نہیں تھا جس نے آگے بڑھ کر ایُسے تھام لیا ہو۔۔عابثہ خود کو سنبھالتی تلخی سے مسکرائی۔ ’’اماں اس کی گاڑی کی چابی لے کر رکھیں اپنے پاس۔۔۔اور جو رشتہ والے آپ نے بلُائے تھے اس کے لئے۔۔وہ میرے جاننے والوں میں سے نکل آئیے ہیں۔۔میری بات ہوگئی ہے۔۔وہ آج نہیں بلکہ کل آئیں گے۔۔اس ناہنجار لڑکی کو دیکھنے۔‘‘وہ تیز لفظوں میں بولتے کہیں سے بھی پڑھے لکھے انسان نہیں لگ رہے تھے۔ ’’گاڑی کی چابی تو یہ کمبخت نجانے کہاں رکھتی ہے۔۔ارے میں تو کہتی ہوں بیچ کر الگ کرو۔۔اس کے باپ کی ہے تو کیا ہوا۔۔اتنے سالوں سے ہمارا کھا رہی ہے۔۔‘‘نانی بیگم کی زبان نے پھر زہر اُگلنا شروع کردیا تھا۔۔جبکہ وہ خود کو سنبھالتی سب کی ہنسی اور تلخ باتیں نظر آنداز کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’شیرآفگن یار بات سنُ۔۔‘‘وہ دونوں اس وقت آفس میں موجود تھے۔جب ارتضٰی نے لیپ ٹاپ پہ چلتی انگلیاں روکیں ۔۔ ’’ہاں !بول؟‘‘وہ موبائل میں محوِ چونک کر متوجہ ہوا تھا۔ ’’وہ لڑکی یاد ہے۔۔‘‘ارتضٰی زرا ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ ’’کون لڑکی؟‘‘آفگن نے اچھنبے سے دریافت کیا۔ ’’یار وہی عدیل صاحب کے گھر جو ملی تھی۔‘‘وہ زرا زچ ہو کر گویا ہوا تھا۔اپنی بات کا دہرانہ ایسےخاصہ ناپسند تھا۔ ’’اچھا وہ اُن کی بیٹی ہالہ؟‘‘وہ سمجھنے والے آنداز میں نتیجے پر پہنچا تھا۔ ’’ارے نہیں یار! وہ دوسری والی۔‘‘وہ زچ ہوکر مسکرایا تھا۔ ’’اچھا وہ ماسی ٹائیپ جو تھی۔۔‘‘شیرآفگن یاد کر کے مُسکرایا تھا۔ ارتضٰی نے آ ئی برو آٹھا کر خاموشی سے اُیسے ناراض نظروں سے گھورا تھا۔وہ گڑبڑا کر سیدھا ہوا تھا۔ ’’مس عابثہ!اُس کا نام ادا کر اس کی سابقہ حرکت بھی یاد آگئی تھی۔بے ساختہ ہی ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ ’’اوہ!کیا بات ہے بڑا مسُکرایا جارہا ہے بھئ۔کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں ہے۔‘‘آفگن معنی خیز مسکراہٹ لبو میں دبائے شوخی سے بولا تھا۔ ’’مجھے اس کی مکمل ڈیٹیل چاہئے۔مطلب اس لڑکی کے بارے میں ساری تفصیل چاہیے۔کون ہے؟کیا کرتی ہے؟کس کی بیٹی ہے؟‘‘ارتضٰی باہم ہاتھوں کو آپس میں ملائے مکمل سنجیدگی سے گویا ہوا تھا۔ ’’عدیل صاحب ک بہن کی بیٹی ہے ناں وہ۔۔‘‘شیرافگن نے اس کا مختصر سا تعارف یاد آنے پر کہا تھا۔ ’’یار!مجھے اس لڑکی کے بارے میں ساری ڈیٹیلز چاہیے۔۔‘‘وہ زرا جھنجھلا سا گیا تھا۔ ’’اچھا سہی؟ مگر خیریت تھی؟‘‘آفگن زرا حیران ہوا تھا۔اور حیرانی بجا بھی تھی کیونکہ ارتضٰی کسی لڑکی میں کم ہی دلچسپی لیا کرتا تھا۔ ’’ہاں یار سب خیریت ہے۔بس فی الحال جتنا کہا ہے اتنا کر۔اور ہاں اس معاملے میں زیادہ لوگوں کو انولو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ارتٰضی کچھ سوچ کر مکمل سنجیدگی سے ہدایت دیتا پر سُوچ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’اچھا مطلب ۔۔میں نکاح کے چھوارے کھانے کے لیے تیار رہوں۔‘‘آفگن کی شرارتی رگ پھڑک چکی تھی۔ ’’ہاہاہاہاہا!ناٹ اگین۔۔‘‘وہ مسکراہٹ ضبط کرتا تنبیہ کر گیا تھا۔ ’’ویسے تمہارا اپنے ولیمےکے کھانے کے بارے میں کیا خیال ہے۔‘‘ارتضٰی نے مسکراہٹ ضبط کرتے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔ ’’شٹ اپ!‘‘شیر غصے سے چلایا تو وہ قہقہہ لگا اُٹھا۔۔جبکہ وہ پھر سے اپنی جون میں لوٹ آیا تھا۔۔ ’’اگے براتی پیچھے بینڈ باجا ۔۔ آئے دلہے راجا گوری کھول دروازہ۔۔آفگن مزے سے شوخی سے ڈیسک بجاتا اب مسلسل ایسے چھیڑ رہا تھا۔جو ایک گھوری سے نوازتا اپنے کام میں غرق ہوچکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فردوس منزل کے آنگن میں مزید ایک دن بھر پور رعونت کے ساتھ نمودار ہوا تھا۔آج اتوار کا دن تھا فردوس منزل کے سبھی مکین گھر میں موجود تھے۔مگر ان کی موجودگی کسی خاص زمرے میں نہیں آتی تھی۔ سبھی اپنے اپنے کمروں میں موجود لمبی تان کر اپنی نیندیں پوری کرنے میں مصروف تھے۔ایسے میں فردوس بیگم نے آج رشتہ والی کے زریع مزید ایک خاندان کو مدعو کر رکھا تھا۔جو عدیل صاحب کے جاننے والے تھے یا چکر کچھ اور تھا۔۔ رشتے والے جو خاص الخاص اپنے چاند سے بیٹے کے لیے محض عابثہ بی بی کادیدار کرنے وہاں تشریف آور ہوئے تھے۔چونکہ اب تک تو لڑکی کو اسنیپ چیٹ کے فلٹرز کی بدولت دُھلادھلایا ہی دیکھا تھا۔مطلب بقول بڑی مامی کے چیخیں نکلنے کا وقت ہوا جاتا ہے اب۔۔۔ ’’دل نے ماری سیٹی یار دل میں بجی گھنٹی یار ٹن ٹن ٹن۔۔۔۔۔‘‘عابثہ بی بی مخصوص انداز میں لبوں کی عجیب و غریب گردش کرتیں۔ ہاتھ پیروں کا رقص کرتیں اپنی ہی جون میں مہمان خانے میں داخل ہوئی تھیں۔جبکہ ڈرائینگ روم میں موجود فردوس منزل کے مکین اپنی جگہ پر جزبز سے ہوکر رہ گئے تھے۔۔ ’’دل نے۔۔۔۔۔‘‘سامنے ڈرائینگ روم میں ایک خوش شکل نوجوان کے علاوہ رشتہ والی آنٹی کے
