Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/10/2025
4 Views
Episode no 13
ہمراہ دو دو صحت مند آنٹیوں کو سوئیوں سے انصاف کرتا دیکھ منہ کے ساتھ ساتھ پیروں کو بھی بریک لگا تھا۔ ’’یہ لیں بہن۔۔عابثہ بیٹی بھی آگئی۔۔‘‘رشتہ والی سخت گیر شکل والی معصوم سی آنٹی نے مسکرا کر تعارف کروایا تھا۔جبکہ نانی کی سلگتی نگاہیں اس کے وجود پر ٹکی ایسے پگھلانےنے پر جتی ہوئی تھیں۔ ’’یہ عابثہ ہے؟؟؟؟‘‘مقابل کا ریکشن تواقعات کے عین مطابق تھا۔ناشتہ کے لیے کچھ دیر پہلے نیچے آئی ہالہ ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے وہیں آگی تھی مگر مقابل کے الفاظ اور چہرے کے اُتار چڑھاؤ دیکھ بے ساختہ ہی ہنس پڑی تھی۔ ’’اوہ سوری سوری!!‘‘منہ میں موجود پانی بھی فورے کی صورت میں ساتھ ہی باہر آیا تھا۔جو چاند سے بیٹے کے منہ پر پھوارکی مانند جاگرا تھا۔جس کے باعث موصوف کے ہاتھ میں موجود آدھا سموسہ غیر متوقع بارش میں پور پور بھیگ گیا تھا۔ ’’یہ۔۔۔۔۔‘‘موصوف کا حسین و جمیل سی لڑکی دیکھ کر ہی منہ بگڑ گیا تھا،کجاکہ نہ ہونے والی سالی صاحبہ کی اس قدر فضول حرکت پر وہ خون کے آنسو پی کر رہ گیا تھا۔۔۔ نانی بیگم نے ناچاہتے ہوئے بھی معذرتی لہجہ اپنا کر بات برابر کی۔۔ ’’یہ عابثہ بیٹی ہے۔آؤ بیٹا ہمارے ساتھ آکر بیٹھو۔۔‘‘ان میں سے ایک خاتون مزاجً زرا سنبھل کر گویا ہوئی تھیں۔ورنہ اس لڑکی کا لاپرواہ حلیہ دیکھ ان کی تیوری چڑھ گئی تھی۔۔ ’’کیوں؟‘‘آئی برو آٹھا کر پھاڑ کھاتا لہجے میں وہ اُلٹا چڑھ دوڑی تھی۔ ’’عابثہ یہاں آؤ یہ لوگ تمہیں دیکھنے آئے ہیں ۔۔‘‘فردوس بیگم کا بس نہیں چلا دانت کچکچاتی وہ ضبط سے کام لے رہی تھیں۔۔ورنہ اسےُ بھی پیس ڈالتیں۔جو ٹراوزر اور شارٹ شرٹ میں ملبوس بم پھٹے بالوں کے ساتھ ہی تشریف لے آئی تھی۔۔۔ ’’کیوں میں کوئی عجوبہ ہوں جو یہ اسپیشلی مجھے دیکھنے آئے ہیں؟‘‘عابثہ ساری گھوریوں کو خاطر میں لائے بغیر طنزیہ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’اس سے کم بھی نہیں ہو ویسے۔۔‘‘جواب ہالہ کی جانب سے آیا تھا۔ ’’یہ تمہارے رشتے والے ہیں۔ہم نے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے۔یہ صرف ایک فارمیلیٹی ہے۔بہتر ہے کہ اپنے مزاج درست کرلو۔‘‘پیچھے سے داخل ہوتے عدیل صاحب سخت آواز میں گویا ہوئے تھے۔لڑکے کی ماں تو نہیں البتہ لڑکا ضرور چونکا تھا۔ ’’ہیں؟مگر کس سے پوچھ کر؟‘‘وہ تیز آواز میں چنگھاڑ اُٹھی تھی۔ ’’آواز نیچے رکھو لڑکی!اپنا فیصلہ سنُانے کے لیئےہمیں کسی کی اجازت درکار نہیں ۔۔‘‘اُن کی گھُورتی سخت نگاہیں اُسی کے تاثرات کا طواف کر رہی تھیں۔جبکہ لڑکے کی ماں اپنے بیٹے کے کان میں کچھ کہ رہی تھی۔۔۔ ’’یہ میری زندگی ہے۔میں جو چاہے فیصلہ کروں آپ ہوتے کون ہیں؟میری زندگی کافیصلہ سنُانے والے۔‘عابثہ کا چہرہ ضبط سے سُرخ پڑ گیا تھا۔ہروقت خود کو سب مسائل سے دور رکھنے والی عابثہ اس وقت ازیت کی انتہاؤں کو چھو رہی تھی۔ ’’خاموش گستاخ لڑکی۔۔‘‘وہ چنگھاڑ اُٹھے۔۔ ’’عدیل!!‘‘فردوس بیگم نے اُنہیں باز رہنے کا اشارہ کیا جبکہ وہ بڑی دیدہ دلیری سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اِنہیں گھور رہی تھی۔۔ ’’اور آپ لوگ!!!!چلو نیچے رکھو یہ پیالی بہت ٹھوس لیا۔لڑکی دیکھنے آئے تھے یا ہماری ادھی جائیداد اپنے نام کروانے آئے تھے۔کوئی شادی وادی نہیں ہورہی،شاباش نکلیں یہاں سے۔‘‘وہ اچانک ہی چڑ کر قریب آتی استہزایہ پھنکاری تھی۔ ’’بڑی بد تمیز ہو لڑکی۔ہم تو کبھی تم جیسی کالی بھوتنی سے اپنے چاند سے بیٹے کی شادی نہیں کرتے وہ تو عدیل صاحب کے کہنے پر ہم راضی ہوگئے۔‘‘اس بار وہ خاتون بھی تیز لہجے میں سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر گویا ہوئیں تھیں۔ ’’کون ہیں آپ اس لال بیگ کی؟‘‘لال ٹی شرٹ پر چوٹ کی گئی تھی۔جبکہ اشر نے آنکھیں کھول کر اس آفت کی پرکالا کو دیکھا تھا۔ ’’خالہ ہوں میں اس کی۔‘‘گردن آکڑا کر جواب آیا تھا۔ ’’تو خالہ جان آپ اپنی بیٹی کی شادی کیوں نہیں کر دیتی اس لال بیگم سے۔‘‘ہالہ نے بڑی مشکل سے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’اور ہاں ویسے کیا قیمت لگائی آپ نے اپنے سستے لال بیگ کی۔‘‘وہ سینے پر ہاتھ لپیٹتی اب اس کی ماں کی جانب آئی تھی۔جو گڑ بڑا کر نظریں پھیر گئیں۔۔۔۔ ’’ہنہ!آیا بڑا مجھے ریجیکٹ کرنے والا شکل بھی دیکھی ہے کبھی آئینہ میں اپنی۔جاؤ تمہیں یہ سانولی ،کالی کم صورت عابثہ اسماعیل ریجیکٹ کرتی ہے۔کیونکہ تم میرے میعار پر پورا اترنا تو دور ایک فیصد بھی نہیں اُترتے۔۔‘‘وہ غصہٰ سے لال بھبھوکا ہوتے چہرے پر حقارتی تاثرات لیے مقابل کو طیش دلا گئی تھی۔ ’’اگر آپ واقعی انسان کے بچے ہو تے ناں تو کچھ سوچا بھی جا سکتا تھا مگر آپ انسان نہیں بلکہ بکاؤ مال ہیں۔صرف چند روپوں میں بِک گئے ۔۔اپنے ضمیر کی بولی لگا دی۔۔چچچ چچ چچ ۔۔آپ جیسےانسان سے شادی اور وہ بھی میں؟؟‘‘وہ مقابل جیسی حقارت لہجے میں سمائے آئینہ دکھاگئی تھی۔خوبصورتی صرف شکل و صورت پر ہی تو نہیں منحضر کرتی ناں ۔۔اور اس طرح کے بدصورت کردار کا مالک شخص واقعی اس کے قابل نہیں تھا۔ ’’ چپ کرو! زبان دراز لڑکی۔۔اس کی باتوں پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ تاریخ کے مطابق بارات لے آئیے گا۔‘‘عدیل صاحب سخت لہجے میں دپٹ کر رسانیت سے مخاطب ہوئے تھے،جن کا چہرا تزلیل کے باعث لہو چھلکا رہا تھا۔ ’’بس کر جائیں بھائی صاحب اتنے بے غیرت نظر آرہے ہیں کیا؟آپ کی بھانجی نے ہماری اتنی بے عزتی کی میرے بیٹے کی بے عزتی کی اس سب کے بعد بھی آپ یہ امُید لگا رہے ہیں کہ ہم اس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو بنائیں گے۔‘‘وہ غصے اور تنفرسے بولتی ایک جھٹکے سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔جبکہ بیٹے کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی بے عزتی ہر گز ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ’’جی جی آنٹی جائیے وہ رہا دروازاہ۔۔‘‘وہ اُنہیں جاتا دیکھ چڑانا نہیں بھولی تھی۔جبکہ اس لڑکے نے بہت دلچسپی سے اس کے آنداز ملاحظہ کیے تھے۔۔ ’’چٹاخ!!!خاموش گستاخ لڑکی۔۔تمہیں گھر آئے مہمان سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے کیا؟‘‘عدیل صاحب کا ہاتھ بے ساختہ ہی اُٹھا تھا اور اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا۔ جبکہ وہ گال پر ہاتھ رکھے صرف نمکین پانیوں سے لبریز نگاہیں اُٹھا کر زخمی سا مسکراتی انہیں دیکھ کر رہ گئی تھی۔فردوس بیگم لب بھینچے بیٹھی تھیں۔ہالہ نے مسکراہٹ ضبط کی۔جبکہ مامیوں کی اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔وہ اپنی کٹی پارٹیز میں مصروف تھی۔۔۔ دفعہ ہوجاؤ یہاں سے گستاخ۔۔‘‘وہ ہاتھ پکڑ کر باہر کی جانب دھکیل گئے تھے جس نے بڑی مشکل سے آنسو ضبط کیے تھے۔جبکہ دل میں اُٹھتا درد تھاکہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’میں میں یہاں نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔۔میں ۔۔میں نہیں۔۔‘‘وہ مسلسل ہچکیوں کے درمیان رُوتی اس سے منتیں کر رہی تھی۔ ’’یار عابی کیا ہوگیا ہے جان!تم جانتی ہو میں تمہیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتا اور کس رشتہ سے؟آخر تم دنیا کو کیا کیا جواب دو گی پھر۔‘‘وہ ایسے سمجھا سمجھا کر زچ ہوکر رہ گیا تھا۔ ’’میں کچھ نہیں جانتی اپنے پاس بلاؤ مجھے۔تم کہتے تھے ناں تم میرے بہت اچھے دوست ہو۔بس میں نہیں جانتی بلاؤ اپنے پاس۔۔‘‘وہ ضدی بچی کی مانند بولی تھی۔ ’’نہیں بلاسکتا میرا بچہ سمجھا کرو یار!‘‘وہ اب کی بار بے بسی سے بولا تھاْ۔ ’’بس ٹھیک ہے اب میں تم سے بھی بات نہیں کرونگا۔‘‘وہ جب غصے میں ہوتی تھی۔اسی طرح بات کرتئ تھی۔دوسری جانب شخص نے مسکراہٹ ضبط کی۔ ’’اچھا بات تو سنُو!!‘‘ ’’میں نہیں سُن رہی۔۔تم بھی باقی سب جیسے ہو۔۔‘‘وہ ناراضگی بھرے لہجے میں کہتی کھٹ سے کال بند کر گئی تھی۔جبکہ وہ
