Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
4 Views
Episode no 09
آگے بڑھا۔۔جو دروازہ میں استاذہ جم کر کھڑی ہوگئی تھی۔ ’’’اب ہٹ بھی جاؤ حیات۔‘‘وہ جب اس کے نزدیک آنے پر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو ایسے چار و نچار مخاطب کرنا پڑا تھا۔ ’’اوہ ۔۔ہاں۔۔سوری وہ میں۔۔‘‘وہ جلدی سے گڑبڑا کر پیچھے ہوئی جو ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا اب شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا۔۔ ’’کھانا لگاؤں۔۔‘‘وہ صوفے پر بیٹھی اس کا انتظار کرنے لگی تھی۔۔جو دس منٹ بعد گیلے بالوں کو تولیہ سے خشک کرتا واشروم سے باہر آتا اس کی آواز پر چونک گیا تھا۔ ’’نہیں۔۔۔میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔‘‘وہ بے رُخی سے بولتا بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔ ’’لیکن میں نے تو آپ کے انتظار میں رات کا کھانا ہی نہیں کھایا۔۔‘‘وہ دو قدم اٹُھاتی نزدیک چلی آئی تھی۔ ’’میں نے کہا تھا بھوکے رہنے کو۔‘‘وہ کہنی کے بل اُٹھتا آئی برو اٹُھا کر سختی سے گویا ہوا تھا۔ ’’ نہیں ۔۔مگر میں پھر بھی۔۔‘‘وہ اس کے ساتھ بیٹھتی مزید کچھ کہتی اس سے پہلے ہی وہ کمبل منہ تک لیتا رُخ پھیر کر لیٹ گیا تھا۔۔حیات کی آنکھوں سے یکدم آنسو آنے لگے تھے۔۔جو پتہ نہیں کیوں اس سے اتنا ناراض ہورہا تھا۔ ’’افگن۔۔آپ مجھ سے ناراض ہیں۔‘‘وہ ہمت کرتی قریب آئی مگر دوسری جانب ہنوز ناراضگی برقرار تھی۔کچھ لمحے یونہی سرک گئے تھے۔۔اس کی پشت پر ایک خاموش نگاہ ڈالتی وہ بھی غصےٰ سے ڈریسنگ روم میں چلی گئی تھئ۔ شیر نے زرا اچھنبے سے اس کا آنداز دیکھا تھا۔۔جو یقیناً اندر چیزیں پٹخ رہی تھی۔۔فی الحال وہ کان بند کر کے نیند کی وادیوں میں اُتر گیا تھا۔۔کچھ دیر بعد لباس تبدیل کرتی، وہ بغیر کھانا کھائے ہی سو گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘عابثہ اسکرین پر بلنک کرتا نمبر دیکھ جلدی سے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔ ’’کہاں ہو تم؟‘‘دوسری جانب تفشیش بھرے لہجے میں دریافت کیا گیا تھا۔ ’’گھر میں ہی ہوں خیریت۔‘‘وہ احتیاطً روم لاکڈ کر چکی تھی۔ ’’ارتضٰی سے بات ہوئی تمہاری؟‘‘‘دوسری جانب زرا پریشانی سے پوچھا گیاتھا۔ ’’نہیں۔۔میں مزید یہ کھیل نہیں کھیل رہی۔۔۔میں ہار مان رہی ہوں۔۔عابثہ اسماعیل یہ شرط ہار گئی۔۔۔‘‘ایسا شاید پہلی بار ہوا تھا کہ وہ اپنے قول سے پیچھے ہٹ رہی تھی۔ ’’عابثہ میری جان کیا ہو گیا ہے تمہیں؟‘‘دوسری جانب وہ اُس کی آواز میں گھلی نمی محسوس کرتا تڑپ اٹُھا تھا۔ ’’تم مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے۔۔یہاں کیوں چھوڑ رکھا ہے؟‘‘بلآخر وہ ضبط کھوتی رُو پڑی تھی۔ ’’میری جان ابھی یہ سب ممکن نہیں ہے۔۔بات کو سمجھو۔۔جب تک تم اپنی نانی کے گھر میں ہو بالکل محفوظ ہو۔۔میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکتا۔‘‘وہ نرمی سے مگر صاف گوئی سے بولا تھا۔۔جو شدّت سے روتی ہوئی کال کاٹ کر بیڈ پر بیٹھ کر ہچکیوں سے رونے لگی تھئ۔۔دوسری جانب وہ بے چینی سے اسے بار بار کال ملا رہا تھا مگر دوسری جانب شاید اس کی چھوٹی سی جان اس سے روٹھ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے موسم نے اچانک ہی کروٹ لی تھی۔۔دوپہر میں جو سورج آگ برسا رہا تھا ۔۔اب نرم سی ہواؤں میں خنکی سی پھیل گئی تھی۔۔شام ہوتے ہی سردی بڑھ جاتی تھی۔۔آنکھوں کو فرحت بخش احساس دلاتی آسمان پر پھیلی شفق کی لالی بہت بھلی سی لگ رہی تھی۔۔شیر افگن نے اس روز حیات کی ناراضگی جتانے کے باوجود اس کو منانا تو دور بات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔اور بہت خاموشی سے اپنا سفری بیگ اُٹھاتا اگلے دن چائنہ کے لئے روانہ ہوگیا تھا۔۔ آنکھوں میں تشنگی لئے اُداسی کی مورت بنی کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی وہ مسلسل آسمان کو تک رہی تھی۔۔باہر کا موسم جس قدر خوبصورت اور دلفریب تھا اس کے دل کے موسم میں اتنے ہی جھکڑ چل رہے تھے۔ ’’ہاتھ میں موجود موبائیل ایک دم ہی رنگ کرنے لگا تو اس کی توجہ اسکرین پر بلنک کرتے نمبر کی جانب گئی تھی۔جہاں انٹرنشنل نمبر جگمگ کر رہا تھا۔۔وہ جانتی تھی یہ کال کس کی تھی۔۔مگر پھر بھی جان بوجھ کر نظر آنداز کرتی موبائل آف کر چکی تھی۔ گھڑی میں وقت دیکھا تو شام کے چار بج رہے تھے۔۔اگلے ہفتے ان کے ولیمے کی گرینڈ پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا۔۔ناصر صاحب کے مطابق وہ اپنی اکلوتی لاڈلی بہو کو پوری دنیا کے سامنے فخر سے انٹروڈیوس کروانا چاہتے تھے۔ مگر کیا وہ واقعی لاڈلی اکلوتی بہو تھی۔۔۔۔۔۔یہی سوچ تھی جہاں آکر اس کا دماغ معاوف ہوکر کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔۔۔شیر افگن کا دھوپ چھاؤں سا رویہ اُسے اکثر تکلیف میں مبتلہ کردیتا تھا۔۔جو اُسے کبھی بہت نرمی سے ڈیل کرتا تھا تو کبھی بالکل انجانا سا رویہ اختیار کرلیتا تھا۔جیسے ایسے جانتا ہی نہ ہو۔۔ طبیعت میں بوجھل پن محسوس کرتی وہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔۔مگر گھر میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ’’نازو۔۔‘‘ حیات نے گھر میں سناٹا سا محسوس کر ہال میں کھڑے ہوکر ہی ملازمہ کو آواز لگائی تھی۔ ’’جی بی بی۔۔‘‘وہ دوُڑی چلی آئی تھی۔ ’’ گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہے۔۔آنٹی اور انکل کہاں گئے ہیں؟‘‘وہ زار تفشیش بھرے لہجے میں بولی تھی۔ ’’بی بی جی وہ تو بیگم صاحب کی چھوٹی بہن کےشوہر کی اچانک طبیعت خراب ہوجانے کے باعث ملک سے باہر جاپان گئے ہیں۔۔‘‘ملازمہ کے انکشاف پر اس کا منہ حیرت کی زیاددتی سے کھل گیا تھا۔ ’’کیا مگر کب؟؟اور مجھے کسی نے کیوں نہیں بتایا؟‘‘حیات کو اب سچ مچ ٹینشن ہونے لگی تھی۔ ’’بی بی وہ تو صبح آپ کے اُٹھنے سے پہلے ہی چلے گئے تھے۔۔ہمیں کیا معلوم کہ آپ کو اس بارے میں معلوم نہیں ہے۔۔‘‘ملازمہ زرا آنکھیں بھنوئیں سمیٹ کر بولی تھی۔۔وہ زرین بیگم کی خاص ملازمہ تھی۔ ’’تو کیا میں اس وقت گھر میں اکیلی ہوں۔‘‘وہ پریشانی سے لب چبانے لگی تھی۔۔اتنا بڑا محل جیسا گھر۔۔ڈھیروں ملازمین کی فوج اور وہ بالکل تن تنہا اکیلی تھی۔حیات کو یکدم ہی بے چینی نے آن گھیرا تھا۔ ’’تم۔۔تم کب تک ہو یہاں پر؟‘‘حیات کو خوف نے آن گھیراتھا۔۔دل کیا شدّت سے دھاڑے مار کر رونا شروع کر دے۔ ’’بی بی ہم تو رات تک یہیں ہیں۔۔۔آپ کا رات کا کھانا بنا کرہی اپنے کواٹر میں جائیں گے۔‘‘وہ بے نیازی سے بولی۔۔جبکہ اُس کے منہ پر بارہ بج چکے تھے۔ ’’تم ایک کام کرو۔۔ّآج میرے ساتھ یہیں رُک جاؤ۔‘‘وہ تھوک نگل کر بہت منت بھرے لہجے میں اِلتجا کرنے لگی تھی۔ ’’کیا!یہ آپ کیا کہ رہی ہیں بی بی۔۔نہ بابا نہ۔۔چھوٹے بابا اور بڑی بیگم صاحبہ مجھے جان سے مار دیں گی۔۔رات ہوجانے کے بعد ہمیں گھر میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘‘وہ فوری اپنا دامن بچاتی سائیڈ پر ہوگئی تھی۔ ’’مگر۔۔ ’’مگر کچھ نہیں بی بی۔۔کام بہت ہے آج گھر میںُ کک بھی چھٹی پر ہے۔۔تو میں جارہی ہوں۔۔‘‘وہ حیات کاظٰمی کو آرڈر سُناتی اپنے کاموں کی فہرست کے بابت آگاہی دیتی ملازمہ کم اور مالکن زیادہ لگنے لگی تھی۔۔ جبکہ وہ تذبذب کا شکار انگلیاں موڑتی ہال میں ہی کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔اب اُسے دن دھاڑے ہی گھر میں خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔کجاکہ ابھی آدھا دن اور پوری رات باقی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔
