Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
4 Views
Episode no 09
اس کی طبعیت صاف کر گئیں تھیں۔جو آنکھوں میں نمی لئے مسلسل شیر افگن کو دیکھ رہی تھی۔۔جو زرین بیگم کی گوہر افشائیاں بہت خاموشی اور ضبط سے سُن رہا تھا۔ ’’بیگم یہ بات آرام سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے۔۔بچی ہے دھیرے دھیرے سمجھ جائے گی۔‘‘شیر کی خاموشی محسوس کر بلآخر ناصر صاحب کو تنبیہ کرنی پڑی۔ ’’بچی نہیں ہے یہ۔۔۔سمجھدار ہے۔۔اور جب ایک امیر لڑکے کو اپنی باتوں میں لگا کر گھر سے بھاگ سکتی ہے تو باقی باتیں سمجھنے سمجھانے کے لئے ننھی کاکی نہیں ہے۔‘‘زرین کا لہجا انتہائی سخت تھا۔۔حیات کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔۔جبکہ وہ ستمگر مسلسل خاموش تھا۔ ’’زرین!‘‘ناصر صاحب نے سخت لہجے میں انہیں باز رہنے کی تلقین کی تھی۔ ’’سوری آنٹی آئیندہ خیال رکھونگی۔‘‘شیر افگن کے جھکے ہوئے سر ایک ناراض نگاہ ڈالتی وہ بھاگنے کے آنداز میں وہاں سے نکل گئی تھی۔۔جبکہ وہ نخوت سے سر جھٹکتی میز چھوڑ چکی تھیں۔ ’’تم کیوں اب تک یہیں پر بُت بن کر بیٹھے ہو۔۔جانتے ہو نا اپنی ماں کا رویہ۔۔سمجھا نہیں سکتے بچی کو۔۔‘‘ناصر صاحب کو اُس کی مسلسل خاموشی نے طیش دلايا تھا۔۔ ’’ڈیڈ مام بالکل دُرست کہ رہی ہیں۔،،بچی نہیں ہے وہ۔۔جو بات بات پر ننھی کاکیوں کی طرح رونا دھونا مچا دیتی ہے۔۔صبح صبح سارا موڈ خراب کردیا۔۔۔‘‘شیر غصہٰ سے نشست چھوڑتا اپنا کوٹ سنبھالتا ہوا۔۔بغیر ناشتہ کئے ہی واک اوٹ کر گیا تھا۔۔اصل غصّہ اُسے حیات پر تھا جو ہمیشہ ہی اپنی حرکتوں سے انہیں بولنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عباس پیلس میں اس وقت رات کے کھانے کا دور چل رہا تھا۔۔۔ارتضیٰ دادی بیگم کی وجہ سے آفس سے جلدی نکل آیا تھا۔۔جبکہ وہ ناراضگی جتاتی منہ پھیرے بیٹھی تھیں۔ ’’دادی جانی کیا ہوگیا ہے آپ کو؟پلیز ایسے نہ کریں کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘ارتضیٰ اُٹھ کر نزدیک چلا آیا تھا۔ ’’ارتضی ہم ابھی کھانا کھا رہے ہیں۔۔مگر یاد رکھیئے گا۔۔اس بار ہم اپنی بات منوائے بغیر یہاں سے کہیں نہیں جائے گے۔‘‘ان کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔جبکہ وہ پریشانی سے پیشانی مسل کر رہ گیا۔ ’’پلیز دادو!آپ کیوں مجھے مشکل میں ڈال رہی ہیں۔۔‘‘وہ منت کرتا زچ ہوگیا تھا۔ ’’بیٹا فضول کی ضد تو آپ لگا رہے ہیں۔۔آخر شادی کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔۔مجھ بُڑھی کی نجانے کب تک کی زندگی باقی ہے۔۔میں اپنی نظروں کے سامنے آپ کو آ پ کے گھر کا ہوتا دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘وہ جذباتی بلیک میلنگ پر اتُر آئی تھیں۔ ’’اچھا اچھا!ٹھیک ہے آپ پلیز ٹینشن نہ لیں۔۔ورنہ آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔‘‘وہ ان کا ضعیف ہاتھ اپنی ہاتھوں میں تھامتا فی الحال انہیں قائل کرنا چاہ رہا تھا۔ ’’اچھا آپ کھانا تو کھائیں۔‘‘اس بار وہ خاموشی سے کھانا شروع کر چکی تھیں۔۔جبکہ ارتٰضی نے ایک گہری سانس فضا کے سُپرد کی تھی۔ ڈائینگ پر موجود دادی اور ارتضیٰ بہت خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔معاً کسی کی چہکتی ہوئی آواز پر دونوں چونک کر متوجہ ہوئے تھے۔ ’’السلام علیکم!‘‘شیر افگن آفس کے رف سے حلیہ میں پشت پر کوٹ ڈالے۔۔آستین کو کہنیوں تک فولڈ کئےمسکراتا ہوا ڈائیننگ آئیریا میں داخل ہواتھا۔ ’’وعلیکم اسلام!بہت دیر لگادی شہزادے آنے میں۔۔۔ہمیں آج آئے ہوئے پورے دو دن ہوگئے ہیں۔۔‘‘دادی سے پیار لینے کے بعد وہ ارتضٰی سے ہائی فائیو کرتا ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’ایکچوئیلی دادی میں زرا مصروف تھا۔‘‘ارتضی ٰ کی شوخ بھری نگاہوں میں اپنی گھورتی ہوئی نگاہیں گاڑتا وہ ان کا ہاتھ چوم کر بولا تھا۔جس کی آنکھوں میں واضح شرآرت تھی۔۔ ’’دراصل دادی اس بیچارہ کی جب سے شادی ہوئی ہے۔۔یہ اپنی وائف کا ہی ہوکر رہ گیا ہے۔۔۔بہت ڈرنے لگاہے یہ ہماری بھابھی جان سے۔۔اب یقیناً انہوں نے اجازت دی ہوگی تو ہی یہ یہاں تشریف لایا ہے۔۔‘‘اس کی شرارت پرافگن نے اُسے گھور کر دیکھا۔تو وہ تفخر سے مسکرآیا ’’چلو اچھا ہے۔۔تمہیں لگامیں ڈالنے والی آگئی۔۔۔اب زرا اپنے دوست کے بارے میں بھی کچھ سوچیں بیٹا۔‘‘دادی کی توپوں کا رُخ ایک بار پھر ارتضٰی کی جانب ہوا تھا۔ ’’دادی ہم شیر افگن کی نئی نویلی شادی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔‘‘اس نے جلدی سے توجہ بھٹکانی چاہی تھی۔۔جو آج منوانے کی ٹھان بیٹھی تھیں۔ ’’جی جی دادی جان! میری شادی تو ہو ہی گئی ہے۔۔اب ارتٰضی کی شادی کی باری ہے۔۔میری نظر میں ایک سے ایک خوبصورت لڑکیاں ہیں۔۔آپ کہیں تو میں کوئی بات چلاؤں۔‘‘شیر افگن کی شرارتی رگ پھڑک چکی تھی۔ ’’بیٹے نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔میں تو کہتی ہوں تم کل ہی مجھے ان بچیوں کے گھر لے جاؤ۔۔۔اب بس میں جلد از جلد ارتضی کے سہرے کے پھول کھلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘وہ تو یکدم ہی جذباتی ہوگئی تھیں۔۔ ’’بالکل ٹھیک ہے دادی جانی۔۔بس میں زرا چائنہ سے ہوآؤ۔۔پھر بس اس بے لگام گھوڑے کو لگامیں ڈالنے کی تیاری کرتے ہیں۔۔‘‘شیر افگن آج فل موڈ میں تھا۔ ’’دادی آپ بھول رہی ہیں کہ یہ موصوف شادی کے بعد تن تنہا ہی منہ اُٹھا کر تشریف لے آئے ہیں۔۔۔۔زرا اس سے پوچھیں تو کہ ساتھ اپنی زوجہ محترمہ کو کیوں نہیں لایا ہے آپ سے ملاقات کروانے۔‘‘ارتضٰی نے بھی جھٹ بات کا رُخ بدلہ تھا۔دادی بیگم کی گردن کبھی ایک پوتے کی طرف تھی تو کبھی دوسرے کی جانب۔۔وہ دونوں ہی انُہیں بہت عزیز تھے۔ ’’شیر آپ دلہن کو ساتھ کیوں نہیں لے کر آئے۔‘‘وہ یاد آنے پر کڑے تیوروں سے استفساریہ لہجے میں گویا ہوئیں۔۔ ’’وہ دراصل دادی جانی آج زرا بیگم صاحبہ کے مزآج درُست نہیں تھے۔۔اور میں بھی سیدھا آفس سے یہاں آرہا ہوں۔۔ان شاء اللہ جلد آپ سے ملاقات کرؤنگا۔‘‘یکدم ہی نظروں کے سامنے حیات کا روتا ہوا چہرہ گھوم گیا تھا۔۔وہ یقیناً اُس کے صبح والے رویےسے بہت زیادہ ہرٹ ہوئی تھی. ’’اوہ ہو۔۔آپ لوگوں کی باتوں میں ہم کھانے سے غافل بیٹھے ہیں۔۔بس اب آپ دونوں کوئی بات نہیں کریں گے۔۔۔ورنہ ساتھ شیطان شامل ہوجاتا ہے۔‘‘وہ کھانے کے باؤل ڈھکے دیکھ تاسفی لہجے میں گویا ہوئیں تھیں۔ ’’دادی وہ تو الریڈی شامل ہوچکا ہے۔۔‘‘ارتضٰی کی معنی خیز بات پر جہاں افگن نے چئیر چھوڑنا چاہی تھی وہیں دادی مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامتی روک چکی تھیں۔۔جو غصےٰ سے قہقہہ لگاتے ارتضیٰ کو گھور رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا آندھیرا ہر جانب اپنے پَر پھیلا چکا تھا۔۔حیات نے ایک نظر اُٹھا کر گھڑی پر ڈالی جو ایک کا ہندسہ عبور کرچکی تھی۔۔حیات مسز ناصر کے رویے کے باعث آج سارا دن سے روم سے باہر نہیں نکلی تھیں۔۔اور نہ ہی افگن نے دن میں کوئی کال اور میسج کر کے اس کا حال احوال پوچھا تھا۔۔طبیعت پر اُداسی سی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ سُرخ رنگ کی کلیوں والی گھیردار فروک کے ساتھ ہم رنگ چوڑی دار پجامہ زیب تن کئے وہ صوفے پر پیر اُپر کئے اُداس سی بیٹھی تھی۔سلکی لنبے بالوں کو کھول کر پشت پر کُھلا چھوڑ رکھا تھا۔۔جبکہ آنکھیں مسلسل کمرے کے دروازہ پر ٹکی اس کی راہ تک رہی تھیں۔۔ جب انتظار انتظار ہی رہ گیا اور بھوک کے مارے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے تو وہ زبردستی خود کو گھسیٹتی دروازہ تک آئی تھی۔۔ ابھی دروازہ کا ہینڈل تھامنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا ہی تھا کہ وہ عجلت بھرے آنداز میں تھکا تھکا سا کمرے میں داخل ہواتھا۔۔۔دونوں ہی اس اچانک ٹکراؤ پر دو لمحو ں کے لئے ٹھر گئے تھے۔شیر نے لمحے کے ہزارویں حصے میں جانچتی ہوئی نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا تھا۔ جو کھلی کھلی سی رنگت میں مرجھایا ہوا سا گلاب لگ رہی تھی۔۔مگر فی الحال وہ اپنے تاثرات سخت کرتا
