Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/09/2025
4 Views
Episode no 09
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی لکھاری ہما قریشی قسط نمبر ۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ کی مہمانوں سے کی گئی بد تمیزی کا یہ نتیجا نکلا تھا کہ فردوس منزل کے مکینوں نے عابثہ سے کلام کرنا ہی ترک کردیا تھا۔۔مگر عابثہ بخوبی واقف تھی کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔۔مگر اس بار وہ وہ تمام تر حالات کے لئے خود کو تیار کر چکی تھی۔اب آر یا پھر پار۔۔ بے بی کٹ بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔وہ اپنے حُلیے سے لاپرواہ آج بہت دنوں بعد روم سے باہر آئی تھی۔۔مزاج میں ایک الگ سی سر شاری چھائی ہوئی تھی۔نانی بیگم لاؤنج میں بیٹھیں مرتبان سے بادام پستے نکال کر کھا نے میں مصروف تھیں۔۔جبھی عابثہ کی گُنگناتی ہوئی آواز پر ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’میرا نام مو مو بابا مو مو‘‘ وہ اپنے مخصوص آنداز میں فردوس ہاؤس میں گنگناتی پھر رہی تھی۔جبھی نانی بیگم کی پاٹ دار آواز پر اس کے لفظوں کوبریک لگا تھا۔۔ ’’او ری بد بخت ہر وقت یہ فضول سے گانے نہ گنگنایا کر اپنے ساتھ ساتھ ہمارے کانوں کو بھی گنہگار کرتی ہے۔۔‘‘فردوس بیگم کا پارا ایک بار پھر ہائی ہوا تھا۔جبکہ وہ ایک جھٹکے سے ٹھرتی نزدیک چلی آئی تھی۔۔ ’’نانی جان !گانے کون گنگنارہاہے؟ ’’میں۔۔ ’’جہنم میں کون جائے گا؟ ’’میں۔۔ ’’تو فکر کس کو ہونی چاہئے؟ ’’مجھے۔۔‘‘ ’’تو آپ کیوں اس عمر میں اپنی بوڑھی ناتواں زبان گھسنے پر تلی ہوئی ہیں؟کیوں میری فکر میں دبلی ہوئی جارہی ہیں؟‘‘وہ انہیں بہت محبت بھرے آنداز میں کندھوں سے تھامتی ایک ہی باری میں سارے سوال جواب ختم کر گئی تھی۔ ’’ہٹ پیچھے سے۔چل جاکر کوئی کام کرلے۔پرائے گھر جائے گی تو جوتے کھائے گی ۔‘‘وہ ہاتھ پکڑ کر پیچھے دھکیلتیں اس کی طبیعت صاف کر گئیں تھیں۔ ’’لو بھلا پرائے گھر جاکون رہا ہے؟‘‘عابثہ سوچنے والے آنداز میں گویا ہوئی تھی۔ ’’اے لڑکی اس روز مہمانوں کے سامنے ہم تمہاری چرب زبانی برداشت کر گئے تھے۔۔مگر اس بار تم نے کسی کے سامنے اگر بدتمیزی کی بھی نہ تو ہم دن دیکھے گے نہ ہی رات بلکہ نکال باہر کھڑا کریں گے تمہیں۔‘‘وہ اس کے آنداز واطوار میں گھلی شوخی دیکھ تنبیہ کرنا ہر گز نہیں بھولی تھیں۔ ’’ہونہہ ۔‘‘وہ محض ناگواری سے سر جھٹک گئی تھی۔ ’’چل دفعہ ہو یہاں سے۔‘‘وہ غصے سے دانت کچکچا کر اُیسے سائیڈ لگاتیں کچن کی جانب بڑھیں تھیں۔جہاں ان کا ارادہ ادارک والا شہد تیار کرنے کا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی ولا کی چھت پر نمودار ہوتا سورج پورے جاہ و جلال کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔۔ہر جانب پھیلتی سورج کی ٹھنڈی کرنیں ماحول میں خوشگواریت سی پھونک رہی تھیں۔۔ایسے میں شیرافگن کے پہلو میں لیٹی حیات کی بند آنکھوں پر جب سورج کی ٹھنڈی کرنیں اٹکھلیاں کرنے لگی تو وہ بیزاری سے رُخ پھیر گئی تھی۔۔اوئل سردیوں کے دن تھے مگر شیرٹھرٹھرا دینے والی سردی میں بھی اے سی آن کرکے سونے کا عادی تھا۔حیات نے ایک جھرجھری کے ساتھ کمبل خود پر مزید کھنچ لیا تھا۔ ’’حیات!شیرافگن کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز کانوں میں پڑی تو وہ زرا بیزار ہوئی مگر آنکھیں ہنوز بند تھیں۔۔ ’’حیات اُٹھو یار!کافی وقت ہوگیا ہے۔۔مجھے آفس کے لئے نکلنا ہے۔۔‘‘وہ خمار زدہ آنکھوں میں سرُخی لئے اس پر جھکا مسلسل پکُار رہا تھا۔ ’’حیات!اُٹھو بھی۔۔اس بار شیر نے زرا جھنجھلا کر ایسے جھنجھوڑ دینے والے آنداز میں اُٹھایا تھا۔ ’’کیا کیا ہوا؟‘‘حیات ہڑبڑا کر ُاٹھ بیٹھی تھی۔۔جو آنکھوں میں خفگی لیے ایسے ہی گھور رہا تھا۔ ’’وقت دیکھا ہے گھڑی میں۔۔میں نے کل رات تم سے کہا بھی تھا یار کہ مجھے صبح جلدی اُٹھا دینا۔۔مگر یہاں ُالٹا حساب ہے۔۔۔یہاں میں بیگم صاحب کو اُٹھا رہا ہوں۔‘‘شیر افگن خفگی سے بولتا اس کے وجود پر ایک تاسفی نگاہ ڈالتا واشروم کی جانب بڑھا۔۔ ’’اوہ شٹ!افگن نے کہا بھی تھا مجھ سے۔۔۔ میں الارم لگانا کیسے بھول گئی۔۔‘‘حیات کی رات بھر کی ساری خماری بھک سے ہوا ہوئی تھی۔۔ماتھے پر ہاتھ مارتی وہ جلدی سے بستر چھوڑ کر اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ ’’افگن پلیز مجھے جلدی سے بتائیں آپ کونسا ڈریس پہننے گے؟‘‘شیرافگن کو ڈریسنگ روم میں جاتا دیکھ وہ جلدی سے پیچھے دوڑی تھی۔ ’’تم رہنے دو یار!تم سے کچھ نہیں ہوگا ۔میں خود ہی کرلونگا۔‘‘وہ سلائیڈ ڈور جھٹکےسے ایک طرف کرتا زرا خفگی سے گویا ہوا تھا۔ ’’ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟مانتی ہوں میری غلطی ہے۔۔آپ نے کہا بھی تھا۔۔مگر۔۔سوری ۔۔۔‘‘وہ منہ بسور کر مزید شکوہ کرنا چاہتی تھی۔۔مگر افگن کی گھورتی نگاہوں کو دیکھتی جھٹ معذرتی لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’کپڑے میں خود نکال لونگا۔۔جاکر جلدی سے ناشتہ ریڈی کرؤاں۔۔یہاں کسی کو وقت کی قدر ہی نہیں ہے۔۔جس کو دیکھو وہ اپنی مرضی کرنے پر تلُا ہوا ہے۔‘‘شیر افگن کو نجانے کس بات پر اِس قدر طیش آرہا تھا کہ وہ کچھ سنُنے کے موڈ میں ہی نہیں تھا۔۔ ’’اب جاؤ بھی۔۔۔‘‘وہ حیات کو وہیں جما کھڑا دیکھ جھنجھلایا۔ ’’جی۔۔جی۔۔‘‘حیات حواس باختہ سی اپنا حلُیہ درست کرتی گلے میں دوپٹہ ڈالتی نیچے بھاگی تھی۔۔جبکہ وہ مسلسل بڑبڑاہٹ کے ساتھ اپنی چیزیں نکالنے میں مصروف ہوگیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات شرمندگی سے لب چباتی کچن میں آئی تو سب سے پہلی نظر ناشتے کی ٹیبل پرسربراہی کرسی پر نشست سنبھالے بیٹھے ناصر صاحب اور ان کی زوجہ محترمہ پر ہی گئی تھی۔۔وہ اخبار منہ کے سامنے پھیلائے آج کی سُرخیوں پر نظر ڈالنے میں مصروف تھے۔۔جبکہ مسز ناصر کسی گہری سوچ میں ڈوبی جوس کا گلاس تھامے بیٹھی تھیں۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘حیات کی آواز پر وہ دونوں ہی چونک اُٹھے تھے۔۔جو شکن زدہ کپڑوں،اور بکھرے بالوں کا میسی جوڑا بنائے تذبذب کا شکار تھی۔مسز ناصر اس پر ایک اچٹتی سی ایک نگاہ ڈالتیں نگاہیں پھیر گئیں تھیں۔ ’’وعلیکم السلام بیٹا!سب خیریت تھی۔۔‘‘ناصر صاحب اس کے حلیے پر ایک نگاہ ڈالتے نرمی سے گویا ہوئے۔ ’’جی وہ ۔۔میں شیر افگن کا ناشتہ بنانے کے لئے آئی تھی۔‘‘مسز ناصر کی نگاہوں میں چھپی حقارت دیکھ وہ خوامخواہ ہی شرمندہ ہوئی جارہی تھی۔ ’’بیٹا آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں۔۔افگن کا ناشتہ کُک بنا لے گا۔۔آپ جلدی سے فریش ہو کر آئیں۔۔اور افگن کے ساتھ ناشتہ کیجئے گا۔‘‘ناصر صاحب کے لہجے کی نرمی پر اسیے کچھ دھارس سی ملی تھی۔ ’’جی انکل!‘‘وہ منمنا کر جلدی سے اُن کی نظروں سے غائب ہونا چاہتی تھی۔ ’’انکل نہیں بیٹا۔۔۔بابا کہیے۔‘‘وہ ٹوک گئے تھے۔ ’’سوری بابا!‘‘وہ جھٹ درستگی کرتے بولی تو وہ ہولے سے مسکرائے۔ "السلام علیکم!" ’’کیا باتیں ہورہی ہیں بھئی۔‘‘وہ پلٹنے کو تھی۔۔جبھی سامنے سے سیاہ رنگ پینٹ اور سفید شرٹ پر بلیك جیکٹ میں ملبوس کوٹ ہاتھ پر ڈالے، سلیقے سے بال سیٹ کیے وہ خوشبوئیں بکھیرتا اس کے نزدیک سے گزرتا اپنی چئیر سنبھال گیا تھا۔ ’’وعلیکم اسلام بر خوردار!کہاں غائب رہتے ہیں آپ آج کل؟‘‘حیات ابھی تک اپنی جگہ پر ہی کھڑی کشمکش کا شکار تھی۔ ’’بس یہیں ہوں ڈیڈ!ذرا کام کا پریشر ہے تو مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔۔۔‘‘وہ مگن انداز میں بولتا حیات کی جانب گھما۔۔ ’’حیات میرا ناشتہ کہاں ہے؟‘‘وہ حیات کو ہنوز اپنی جگہ پر ساکت کھڑا دیکھ زرا غصہ سے گویا ہوا تھا۔ ’’وہ میں۔۔۔‘‘شیر افگن کے تیز لہجے میں دریافت کرنے پر وہ یکدم گڑبڑا سی گئی تھی۔ ’’لڑکی تم رہنے دو۔۔جاکر اپنا حُلیہ درست کرو پہلے۔۔۔گھر میں ڈھیروں ملازمین ہیں۔۔اس گھر کے طور طریقے سیکھ لو زرا۔۔ایسے ملازماؤں جیسے لباس میں گھومنے کا اگر زیادہ ہی شوق ہے تو اپنے کمرے تک ہی محدود رہا کرو۔۔۔سمجھیں۔‘‘ا س سے پہلے کہ حیات اپنا جملہ مکمل کرتی وہ تیز کاٹ دار لہجے میں بولتی
