Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/09/2025
3 Views
Episode no 07
میکسی پر ایک نگاہ ڈالتی حیات زرا شرمندہ ہوئی تھی۔ چینج کرلوں!‘‘حیات کو اب اپنا ڈریس واقعی بہت ہیوی لگا تھا۔یہ ڈریس اس نے زرین کی خاص ہدایت پر پہنا تھا۔ ’’جی مہربانی ہوگی۔مجھے ویسے بھی زیادہ میک اپ کرنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں۔‘‘وہ اتنی بھی اور نہیں لگ رہی تھی جتنا شیر افگن ایسے فیل کروا چکا تھا۔ ’’اچھا!اب کی بار حیات جینز کے ساتھ لانگ کرتا اوراسٹولر نکالتی ایک ناراض نظر شیر افگن پر ڈالتی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی۔جبکہ جینز کے ساتھ فل سلیوز ٹی شرٹ پہنے وہ بالوں پر سیٹنگ اسپرے کرتا ،پاؤں میں وائٹ جوگرز ڈالے بالکل ریڈی تھا۔ایک نظر گھڑی پر ڈالی جہاں سوئیاں سات کا ہندسا عبور کر رہی تھیں۔ رات کا ملگجا سا آندھیرا جلتے اعصاب پر ٹھنڈی پھوار جیسا ثابت ہوا تھا،حیات کے انتظار میں صوفہ کم بیڈ پر نیم درازہوتا گلاس ونڈو کے پار سے نظر آتے چاند پر نظرے جمائے بیٹھا پر سوچ دکھائی دے رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " اب آپ آنکھیں کھول سکتی ہیں۔۔"وہ دبے قدموں ان کے قریب آتا گلے میں باہیں ڈال کر بولا تھا۔ "ارتضی میرا بچہ۔۔۔"وہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ ہی بیٹھا چکی تھیں۔۔ "آپ نے آنے سے پہلے مجھے بتایا کیوں نہیں۔"وہ ان کا ہاتھ چوم کر محبّت سے بولا۔ "بتادیتی تو اپنے پوتے کے چہرے پر پھیلی یہ خوشی کیسے دیکھتی۔"وہ ان کی انداز پر مسکرایا تھا۔ "یہ تو بہت اچھی بات ہے۔اب میں آپ کو کہیں جانے نہیں دونگا۔"وہ لاڈ سے بولا تھا۔ "میں بھی اب اپنے پوتے کے ساتھ اچھے خاصے دن گزارنے ہی آئی ہوں۔" "بہت اچھی بات ہے۔چلیں آپ ذرا بیٹھیں۔۔میں فریش ہوکر آتا ہوں۔"اپنا کوٹ اُٹھا کر بازو پر ڈالتا وہ اُپر کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ اب وہ اپنی نواسی کا نمبر ملا چکی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ابھی گاڑی سے اُترے ہی تھے کہ عقب سے آتی کسی نسوانی وجود کی آواز سن کر دونوں ہی چونک کر پلٹے تھے۔جہاں کوئی لڑکی تیزی سے اپنی گاڑی کا دروازہ بند کرتی مسکراتی ہوئی اُن کی جانب آرہی تھی۔ حیات نے ذرا ناگوار نظروں سے،اپُر سے لے کر نیچے تک اس کا جائزہ لیا تھا۔۔ٹائٹ جینز کے ساتھ شاٹ ٹاپ پہنے ہائی ہیلز میں مقید پاؤں کو تیزی سے اُٹھاتی اب خاصی نزدیک آچکی تھی۔ "ہیلو افگن کیسے ہو تم یار!!اور کہاں غائب رہتے ہو۔۔"وہ مسکرا کر بولتی اب اس کے گلے لگنے کو تھی جبکہ ساتھ کھڑی حیات کو اپنا فراموش کیا جانا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔جبھی وہ بھی اسی پھرتی سے ان کے بیچ میں حائل ہوئی تھی۔ "بات سنیں!!یہ میرے ہزبینڈ ہیں۔اور انہیں میرے علاوہ غیر محرم لڑکیوں سے بغل گیر ہونا پسند نہیں ہے۔تو آئندہ ذرا فاصلے رکھئیے گا۔"حیات نے شیرافگن کے گلے سے لگتی شہرناز کو بازو سے پکڑ کر ہاتھ بھر کے فاصلے پر ہی روک لیا تھا۔لہجے اور انداز میں جلن واضح تھی۔جبکہ افگن نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے حصار میں لیا تھا۔ "شہرناز!میٹ مائے وائف حیات شیرافگن ہاشمی۔"حیات کے چہرے کے بگڑے تاثرات پر نظر ڈالتا وہ مسکراہٹ ضبط کئے تعارفی لہجے میں بولا۔۔جبکہ دوسری جانب کھڑی شہر ناز تزلیل اور خجالت کے باعث سرخ پڑتے چہرے پر ہاتھ پھیرتی شرمندگی سے نظریں چراگئی تھی۔ "ہائے۔۔ شہرناز۔۔افگن کی یونیورسٹی فیلو۔۔"وہ رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ بڑھآتی ہوئی بولی تو حیات نے بھی ہلکے سے اس کا ہاتھ تھام کر جلدی سے چھوڑ دیا تھا۔ "میں چلتی ہوں۔ایکچوئیلی تمھیں دیکھا تو میں یونہی آگئی تھی۔میرے فرینڈز میرا ویٹ کر رہے ہونگے۔"حیات کے تاثرات دیکھتی وہ جس تیزی اور گرم جوشی سے وہاں آئی تھی۔اتنی ہی عجلت میں افگن سے دور سے ہیلو ہائے کرتی واپس پلٹ گئی تھی۔۔۔ "حیات یہ غلط تھا۔۔"ساتھ کھڑی حیات نے افگن کو مسکراہٹ ضبط کرتا دیکھ گھورا۔ "کیا غلط تھا؟"حیات نے ناگواری سے آئی برو اُٹھائے،تو وہ سر سے سر ٹکرا کر ہولے سے مسکراتا اپنے ساتھ لئے آگے بڑھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
