Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/09/2025
3 Views
Episode no 07
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #ہما_قریشی #قسط_نمبر_7 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "تم ریڈی نہیں ہوئیں؟"آفگن جونہی کمرے میں داخل ہوا تو اس کی سب سے پہلی نگاہ صوفے پر پیر اپُر کئے بیٹھی حیات پر گئی تھی جو کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔ "میرا دل نہیں چاہ رہا افگن۔اور پھرابھی ہمارا وليمہ بھی نہیں ہوا ہے۔تو مجھ کچھ عجیب لگ رہا ہے۔"حیات نے سنجیدگی سے کہا۔ "تو یار!پہلے بتانا چاہیے تھا ناں۔۔"کوٹ اتار کر صوفے پر رکھتا وہ ایک ناراض نگاہ ڈال کر مزید بولا۔۔جو منہ بسور کر رہ گئی۔ "اچھا!اب جلدی اُٹھو ذرا تیاری میں ہیلپ کراؤ میری۔"حیات جلدی سے پیر زمین پر رکھتی ڈریسنگ روم میں اس کے پیچھے پیچھے ہی آئی تھی۔ "آپ کا ڈریس تو ریڈی ہے۔آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں۔"وہ اس کا بگڑا موڈ دیکھ لب چباتی قریب ہی آگئی تھی۔جو شرٹ اتار کر ایک طرف رکھتا اپنا ڈریس اُٹھا رہا تھا۔ "افگن۔۔۔"جب وہ خاموشی سے جانے لگا تو وہ زبردستی اس کی راہ میں حائل ہو گئی تھی۔ "اب کیا مسٔلہ ہے یار۔"وہ چہرہ کا رُخ پھیرتا بیزار ہوگیا تھا۔ "مجھے آنٹی نے جانے سے منع کیا تھا۔تو بس اس لئے۔اگر میں آپ کے ساتھ گئی تو وہ مائنڈ کرتی ناں۔۔"حیات نے بیچارگی سے جواز پیش کیا۔ "تمہاری شادی مجھ سے ہوئی ہے یا آنٹی سے؟"وہ ایک آئی برو اُٹھا کر خشمگیں نظروں سے گھور کر بولا تھا۔ "یہ کیسا سوال ہے۔"وہ لب چبا کر رہ گئی۔ "سوال کا جواب چاہئے مجھے۔" "آپ سے۔" "تو پھر جو بکواس میں کیا کروں ناں۔تم اسے مانا کرو۔فضول میں لوگوں کی باتیں ماننے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں۔"افگن کے لہجے میں بلا کی سختی عود آئی تھی۔حیات ہونق بنی اس کا انداز دیکھ کر رہ گئی۔ "اب ہٹو سامنے سے۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔"نرمی سے اس کا بازو پکڑ کر ایک طرف کو کرتا وہ واش روم میں بند ہوگیا تھا۔جبکہ وہ ناسمجھی سے لب چبا کر رہ گئی۔آخر وہ اپنی ماں کے بارے میں اتنے سخت الفاظ کیسے استعمال کر سکتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کی پر رونق شام فردوس منزل کے آنگن میں خوشياں لے کر اُتر آئی تھی۔جہاں رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس خواتین و حضرات ایک بہترین شام سے لطف آندوز ہوتے خوش گپوں میں مصروف تھے۔آج عدیل صاحب کی شادی کی سالگرہ تھی۔درحقیقت تو یہ پارٹی ایک خاص مقصد کے تحت رکھی گئی تھی۔۔۔جس میں شہر کے بہت سے مہذب خاندان مدعو تھے جن میں سے ایک خاندان ارتضیٰ عباس کا بھی تھا۔جس کا واحد ممبر وہ خود بانفس نفیس وہاں موجودتھا۔ارتضیٰ عباس کے والدین دونوں پاکستان سے باہر مقیم تھے ۔جو چند سال پہلے ایک پلین حادثے میں اس در فانی سے کوچ کر گئے تھے۔جبکہ وہ خود اپنی دادی کے پاس رہنے کے باعث پاکستان ہی میں ہوتا تھا ۔ وہ ایک طرف کو رش سے زرا الگ تھلگ سیاہ رنگ تھری پیس سوٹ میں ملبوس چہرے پر وہی مغرورانہ مسکراہٹ لیے شیرافگن کے ساتھ کھڑا ہاتھ میں سافٹ ڈرنک کا گلاس تھامے باتوں میں مصروف تھا۔جبھی کسی صنف نازک کی اچانک پُکار کر وہ چونک کر پلٹا تھا۔ ’’ایکسکیوز می! عابثہ نےآج ہمت جمع کر باقاعدہ اس کھیل کی شروعات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ’’آپ اور یہاں۔۔‘‘اپنے روبرو سمپل سے پارٹی ڈریس میں ملبوس شناسہ چہرے کو دیکھ چونک تو وہ دونوں ہی گئے تھے۔مگر حیران کن سوال افگن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ارتضیٰ عباس کا آنداز سپاٹ تھا۔وہ پہچان گیا تھا یہ وہی لڑکی تھی جو اس روز رستوران میں اُن کے ساتھ آکر بیٹھ گئی تھی۔ ’’جی ایکچوئیلی یہ میرا ہی گھر ہے،آپ دونوں کو اس پارٹی کا حصہٰ دیکھا تو میں خود کو یہاں آنے سے روک نہیں سکی۔‘‘وہ دھیمی مسکراہٹ سے گویا ہوئی ۔جبکہ چہرے پر پریشانی کے تاثرات واضح تھے وہ بار بار اپنے ہاتھ مسل رہی تھی۔ ’’اوہ ڈیٹس گریٹ! تو آپ عدیل صاحب کی کیا لگتی ہیں؟‘‘اب کی بار سوال ارتضیٰ عباس کی جانب سے کیا گیا۔مگر اس کا حلیہ اس کے قول سے ہر گز بھی میل نہیں کھا رہا تھا۔ ’’میں ان کی۔۔۔‘‘ابھی وہ کچھ کہتی جبھی نزاکت سے قدم اٹُھا کر نزدیک آتی ہالہ نے اس کی بات بیچ میں ہیُ اچک لی تھی۔ ’’ارتضیٰ یہ ہماری ملازمہ ہے۔‘‘ہالہ اس کے الفاظ ادا ہونے سے پہلے ہی مسکرا کر بولتی عابثہ کو ہکا بکا کر گئی۔اس روز کا بدلہ بھی تو لینا تھا۔ارتضیٰ کو مسکراہٹ ضبط کرتے دیکھ عابثہ اس تعارف پر سیخ پا ہوئی تھی۔شیر افگن کے ہونٹ او کرنے والے آنداز میں گول ہوئے تھے۔ ’’ہالہ کتنی مزاحیہ ہو ناں تم!اصل میں ہالہ کو ماما ،مامی نے سڑک سے اُٹھایا تھا،تو کبھی کبھی یہ بیچاری احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔اسی لیے میں اس کو اسپیشل فیل کروانے کے لیے اس کے کام کر دیتی ہوں ،تو یہ مزاق میں کچھ بھی کہ دیتی ہے۔‘‘زبردستی مسکرانے کی کوشش میں عابثہ کی من گھڑت کہانی پر ہالہ کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔ ’’او مطلب آپ عدیل صاحب کی بہن کی بیٹی ہیں۔‘‘شیر سمجھنے والے آنداز میں اندازً بولا ۔ ’’آپ تو ایسے بول رہے ہیں شیر افگن صاحب جیسے آپ کو تو علم ہی ناں ہو۔‘‘ہالہ نے دانت کچکچائے تھے۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ عباس نے بغور دونوں لڑکیوں کا جائزہ لیا تھا۔ایک مہنگے سے لباس میں جدید تراش خراش والے چہرے پر میک اپ کیے الگ ہی خوبصورتی کا شاہکار تھی۔جبکہ دوسری والی اس کی بانسبت خاصےعام سے حلیہ میں موجود تھی۔ ’’خیر آپ سے مل کر اچھا لگ مس عابثہ۔۔‘‘ارتضیٰ رسمی مسکراہٹ سے مسکرا کر گویا ہوا۔ ’’مجھے بھی۔‘‘ہالہ کوئی جوابی کاروائی کرتی مگر مسکراہٹ پاس کرتی عابثہ اس کے پیر پر اپنی سینڈل رکھ کر اس کی بولتی بند کرواگئی تھی۔جب کے یہ خفیہ کاروائی ارتضیٰ عباس کی تیز نظروں سے ہر گز بھی مخفی نہیں رہی تھی۔ہالہ بہت مشکل سے ضبط کیے کھڑی تھی۔ارتضیٰ اور شیر افگن نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔ارتضیٰ کو اس روز کی ملاقات کی بانسبت وہ لڑکی خاصی الگ اور منفرد لگی تھی۔ شیرافگن کے اشارہ کرنے پر وہ دونوں مسکرا کر وہاں سے ہٹتے مزید بزنس پارٹنرز اور احباب سےملنے لگے تھے۔جبکہ وہ دونوں دھیمی آواز میں چونچیں لڑاتیں فردوس منزل کے آندرونی حصہٰ میں غائب ہوگئی تھیں۔ہالہ کا غصہٰ سے حال برا ہورہا تھا ۔جبکہ عابثہ اپنی ناکامی پر مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "گڈ ایوننگ لیڈیز اینڈ جینٹل مینز!!لان میں چلتی تیز ہواؤں کے باعث اپنے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستی عابثہ بھی چونک کر اپنے ماموں کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔جو ہاتھ میں مائک تھامے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواچکے تھے۔ "آج کی اس شام کو اپنی خصوصی شرکت سے چار چاند لگانے کا بہت شکریہ۔آج ہماری اپنی بیگم کے ساتھ اس طویل رفاقت کے پینتيس سال مکمل ہو گئے ہیں۔"ایک جانب اپنی بیگم اور دوسری جانب کھڑی اپنی بڑی بیٹی مینا کو اپنے بازو کے حصار میں لیا تھا۔ہالہ بھی انہی کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔ "آج ہم اپنی بڑی بیٹی مینا کی منگنی اپنے عزیز دوست کے بیٹے ارحم سلطان کے ساتھ کرنے جارہے ہیں۔۔"اُن کے الفاظ محفل میں گونجتے ہی ہر طرف تالیاں بجنے لگی تھیں۔جبکہ عابثہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرتا گالوں سے پھسل کر بے مول ہو گیا تھا۔۔جبکہ یہ منظر کسی کی نظروں سے مخفی نہیں رہ سکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں رنگ سیرمنی ہوگئی تھی۔سبھی خوش گپوں میں مصروف تھے۔جبکہ وہ آنسو ضبط کرتی روم
