Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/09/2025
3 Views
Episode no 07
میں بند ہوگئی تھی۔۔کسی نے اُسے اس قابل بھی نہیں سمجھا تھا کہ کم از کم ایسے آج بتاہی دیتے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "کنگریچولیشنز یار !!تو نے بتایا بھی نہیں۔۔۔"ارحم سے بغل گیر ہوتے ارتضی اور افگن دونوں ہی ذرا نارضگی سے بولے تھے۔ "ہاہاہا!یار اگر بتادیتا تو تم دونوں کے یہ حیران کن تاثرات کیسے دیکھتا۔"تھری پس میں ملبوس ارحم مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ "چل بھئی بہترین ہوگیا۔میں بھی ڈبل ہوگیا تو بھی. یہ ہمارا کھڑوس ہی سنگل رہ گیا ہے بس۔"افگن عادت شرارت سے بولا۔ "سدھر جا تو۔۔"ارتضی نے اُسے گھورا تھا۔جبکہ وہ دونوں ساتھ ہی کھڑے باتوں میں مشغول ہوگئے تھے۔ ہنستے مسکراتے ایک حسین سی شَام اپنے اختتام کو پہنچ گئی تھی۔جبکہ اپنے کمرے کی ونڈو کے پاس کھڑی عابثہ کی نم نگاہیں نیچے کھڑے افگن اور ارتضی پر ہی مرکوز تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھی رات کا وقت تھا مگر اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔اپنی طبیعت پر چھآئی اُداسی کے باعث وہ سو ہی نہیں پائی تھی۔۔مگر جو بھی تھا اُسے تو بچپن سے عادت تھی اپنی دُکھ تکلیف کو خاموشی سے پی جانے کی۔تو وہ ابھی بھی ناچاہتے ہوئے بھی اپنی ذات کی فراموشی فراموش کر گئی تھی۔۔۔ ’’ویسے آج کی ارتضیٰ سے ملاقات کیسی رہی تمہاری؟‘‘وہ بیڈ پر اُلٹی لیٹی خود کو کئی حد تک پرسکوں کرتی نیکسٹ اسٹیپ کا سوچ رہی تھی۔جبھی موبائل اسکرین روشن ہوئی تھی۔پاپ اپ ناٹیفیکشن میں کسی کا نام جگمگ کر رہا تھا۔۔ ’’بس ٹھیک تھی۔مگر وہ میری سوتیلی کزن نہیں آتی تو آج شاید بات اگے بڑھ چکی ہوتی۔‘‘وہ نخوت سے منہ بسور کر سیدھی ہوئی۔ ’’ہائے افسوس ہوا جان کر کے۔۔‘‘دوسری جانب سے مزاق اُڑیا گیا تھا۔ ’’یار بس بھی کردو اب۔۔‘‘فضول میں تم نے مجھے اتنی مشکل ٹاسک میں پھنسا دیا ہے۔‘‘وہ جیسے خود بھی زچ ہوئی تھی۔خود سے کسی غیر مرد سے بار بار بات کرنا اُسےپسند نہیں آیا تھا مگر جو بھی تھا وہ بس یہ شرط جیتنا چاہتی تھی۔ ’’ہمت رکھ میری چیتی۔۔ہمتِ مردا مددِ خدا۔‘‘دوسری جانب سے ہمت باندھی گئی تھی۔ ’’مگر میں ہمت ِمرد نہیں۔‘‘چن کر بات پکڑی تھی۔ ’’لفظوں کی گہرائی سمجھ بچہ ۔۔میرا اشیر واد تمہارے ساتھ ہے۔جا تو کامیاب ہوئی۔‘‘وہ ڈرامہ ،جبکہ مقابل اس سے بڑا ڈرامہ تھا۔ ’’ٹاٹا بڑی نیند آرہی ہے۔میں جارہی ہوں سونے۔۔کل سے بڑی محنت کرنی ہے مجھے۔‘‘وہ جمائی روکتی ایک میسج سینڈ کرتی موبائل سوئچ اف کر کے سوگئی تھی۔۔جبکہ وہ اس کے رت جگوں کی اصل وجہ سے بہت اچھے سے واقف تھا۔۔جبکہ دور کھڑی قسمت اُن کی خود ساختہ سوچ پر بڑے آنداز میں مسکرائی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "السلام علیکم دادی جانی " "وعلیکم اسللام!!ارتضی میرے بچے کہاں غائب ہیں آپ؟"دادی کی شفیق سی آواز سُن کر اس کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ سی پھیل گئی تھی۔۔آفس میں موجود وہ اپنے ہاتھ کام سے روک چکا تھا۔ "دادی میں تو گھر پر ہی ہوں۔"وہ ناسمجھی سے بولا تھا۔ "بیٹا آپ کہاں ہیں گھر پر۔۔۔ہم تو آپ کے گھر میں موجود ہیں۔"اس بار ارتضی کو خوشگوار سی حیرت نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ "سچ میں دادی جانی آپ گھر پر موجود ہیں۔"وہ تیزی سے اُٹھ کر کوٹ اسٹینڈ کی جانب بڑھا۔ "ہم نے اپنے پوتے سے کبھی جھوٹ بولا ہے۔"وہ میٹھی سی خفگی سے بولی تھیں۔۔اپنا کوٹ اُٹھاتا لفٹ کے زریع آفس سے باہر نکل آیا تھا۔۔ "تو بس آپ آنکھیں بند کریں۔اور جب آپ آنکھیں کھولیں گی تو میں آپ کے سامنے ہونگا۔"ڈرائیور کو اشارہ کرتا وہ مسکرایا تو اپنے پوتے کی خوشی کی تکمیل پر وہ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئی تھیں۔جبکہ دادی کو انتظار طویل نہ لگے وہ پشت پر سر گرائے باتیں کرنے میں مصروف ہوگیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرافگن روم میں داخل ہوا تو حیات کو شیفون کی لانگ میکسی زیب تن کئے تیز میک اپ میں تیار ہوتا دیکھ چونک گیا۔جو پشت پر پھیلے بالوں کو ہلکا سا کرل دئے ایک اسٹائل سے دوپٹہ کندھے پر سیٹ کر رہی تھی۔شیر اور ناصر صاحب کی محبت کا نتیجا تھا کہ وہ بہت جلدی ان سب کے درمیان ایڈجسٹ کر رہی تھی ۔مگر کون جانتا تھا وہ جس نرم مزاجی کو محبت سمجھ رہی تھی وہ تو کچھ اور ہی تھا۔ ’’کہاں جانے کی تیاری ہے۔وہ بھی اتنی تیاری کے ساتھ؟شادی کو اتنے دن بیت گئے تم کبھی میرے لیے تو اتنا تیار نہیں ہوئیں۔‘‘افگن نے آئی برو اُٹھا کر شکوہ کیا تھا۔ ’’ہونٹوں پر ڈارک شیڈ لپسٹک لگاتی حیات مسکرا کر اُس کی جانب پلٹی تھی۔’’آپ نے کبھی کہا ہی نہیں کہ حیات میرے لیے تیار ہوجاؤ۔ورنہ میں ضرور تیار ہوتی۔‘‘وہ لاڈ بھرے انداز میں مسکرا کر بولی تھی۔ ’’اوہ مطلب میں کہونگا تو تم تیار ہوگی؟شیر نے چہرے پر لہراتی ایک لٹ کان کے پیچھے اُڑس کر آئی برو اچکا کر سوالیہ انداز میں استفسار کیا۔ ’’ہاں!مگر خیر ابھی ہٹ جائیں میں بہت بزی ہوں ۔کیونکہ ماما نے مجھے تیار رہنے کا کہا تھا وہ مجھے اپنی کچھ فرینڈز سے ملوانا چاہتی ہیں۔‘‘وہ جلدی جلدی اپنی تیاری پر آخری نگاہ ڈالتی پیر میں پینسل ہیل پہننے لگی تھی۔ ’’کیوں؟تم کوئی عجوبہ ہو کیا؟‘‘پتہ نہیں کیوں اس کے ماتھے پر بل واضح ہوئے۔ ’’شیر افگن صاحب!زیادہ نخرہ دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘سینڈل کا اسٹیپ لگاتی وہ منہ کر بولی۔ ’’تمھیں کوئی ضرورت نہیں ہے کسی سے ملنے کی۔!سکون سے کمرے میں بیٹھو میں آفس سے جلدی اس لیے نہیں آیا کہ تم ایرے غیروں سے ملنے بیٹھ جاؤ۔‘‘شیر افگن کو بلاوجہ ہی طیش آیا۔ ’’مگر ماما!‘‘ڈریسنگ روم میں کھڑی انگلیوں میں رنگز ڈالتی حیات حیرت سے بولتی خاموش رہ گئی۔ ’’بس خاموش ہوجاؤ!ایک بار بول دیا نہیں تو مطلب نہیں۔یہ بات میں نے تمھیں پہلے بھی بتائی تھی۔کہ میری بتاؤں کے علاوہ تم کسی کی بات نہیں مانو گی۔۔ویسے بھی کچھ روز میں ولیمہ ہے ۔جیسے ملناکا زیادہ شوق چڑہ رہا ہے وہ ذرا انتظار کرے۔‘‘بیڈ پر بیٹھ کر پاؤں کو شوز سے آزاد کرواتا وہ سختی سے بولا۔ ’’مگر ماما مائینڈ کریں گی۔‘‘وہ بیچارگی سے بولی۔افگن نے نظر اُٹھا کر اسے گھورا تھا۔ ’’حیات ڈارلنگ آپ ریڈی ہو!‘‘زرین بیگم نفیس سی ساڑی کا پلو سنبھالتیں بڑی خوش مزاجی سے بولتی روم میں داخل ہوئی تھیںْ۔ ’’نہیں ماما!یہ فی الحال کسی سے نہیں مل رہی ۔کیونکہ یہ میرے ساتھ ڈنر پہ جا رہی ہے۔‘‘شیر افگن ماں کے مسکراتے چہرے پر ایک نظر ڈال کر سپاٹ سے آنداز میں بولا۔ ’’شیر بیٹے کیا ہوگیا ہے ۔میری فرینڈز نیچے میری بہو کا انتظار کر رہی ہیں۔اور پھر تم ہی تو چاہتے تھے کہ ہم اس کی عزت اپنے انداز میں کریں۔‘‘زرین کے لفظوں میں چھپا معنی وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ ’’ہاں !ٹھیک ہے مگر یہ ابھی میرے ساتھ جارہی ہے۔اپنی فرینڈز سے کہ دیں اب وہ سیدھا ولیمہ رسپیشن پر ہی کپل سے ملاقات کر لیجئے گا۔‘‘شرٹ کا اُپری بٹن کھول کر کھڑا ہوتا وہ نہایت ہی روکھے لہجے میں بولا تھا جبکہ حیات بیچارگی سے خاموش کھڑی تھی۔ ’’اوکے بیٹا!جیسی تمہاری مرضی!حیات کے زرق برق کے سوٹ میں جھلمل کرتے سراپے پر ایک تیز نگاہ ڈالتیں وہ روم سے باہر نکل گئی تھیں۔جبکہ حیات اب خاموشی سے لب کاٹنے لگی تھی۔شیر اس پر ایک نظر ڈال کر واشروم میں بند ہوگیا تھا۔ ’’اپنا یہ ٹیپ ٹاپ زرا کم کرو!ہم ڈنر پر جا رہے ہیں اپنے ولیمے پر نہیں۔‘‘کچھ دیر بعد جب وہ باہر آیا اور اس کو ایک ہی جگہ منجمند کھڑا دیکھا تو ذرا جتاتے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔اپنی روئل بلیو ہیوی
