Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/09/2025
7 Views
Episode no 02
بیگم ان کے دونوں بڑے بیٹے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔جبکہ ایک اہم ہستی عابثہ اسماعیل بھی ہے۔جو گھر کی نواسی ہونے کی حیثیت سے وہاں قیام پزیر ہے۔ ’’بڑے بیٹے عدیل صاحب کی چار بیٹے جبکہ دو بیٹیاں ہیں۔جو پڑھائی کی غرض سے ایک ایک کر کے باہر جاکر ساتھ شادیاں کر کے دیارِ غیر کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔دونوں بیٹیاں ایک ہالہ جو یونیورسٹی کے آخری سال میں ہے۔ جبکہ دوسری مینا میڈیکل کی پڑھائی مکمل کر کے اب ہاؤس جاب کر رہی ہے۔ ’’دوسرے نمبر والے حمدانی صاحب جن کو اللہ نے دو بیٹوں سے نوازہ ہے۔وہ اپنے بیوی اور ایک بیٹے بہو کے ساتھ گھر کے دوسرے حصہٰ میں رہتے ہیں۔البتہ ان کا بھی ایک بیٹا باہر رہتا ہے۔۔ آخر میں بچتی ہے ہماری آفت کی پر کالا عابثہ جو پڑھنے کے معاملے میں صدا کی چور ایک گورنمنٹ کالج سے مر مر کر بی اے پاس کرنے کے بعد اب اپنے کرائم پارٹنر سے بس شرطیں جیتنے میں مصروف ہیں۔مگر ان شرائط کا اس کی ذاتی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونے والے ہیں اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے نکلتا سورج ہاشمی ولا کی چھت پر پوری تمکنت کے ساتھ نمودار ہوا تھا۔ حیات کی نئی زندگی کی طویل ترین اور کٹھن رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی تھی۔وہ رات والی پوزیشن میں ہی جوں کی توں صوفے پر ہی براجمان تھی۔ ابھی کچھ لمحوں پہلے ہی اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ایک طرف کو سر ڈھلک جانے کے باعث کان سن پڑتا محسوس ہورہا تھا۔ جبھی نیند میں خلل ڈالتی دماغ کی شریانوں کو ہلادینے والی ہتھوڑے نما آواز نے چونک کر اُٹھنے پر مجبور کردیا۔ حواس باختگی کے عالم میں نگاہیں اِرد گرد میں چلائیں مگر شیر افگن صاحب گھوڑے گدھے بیچ کر کمفرٹر میں دبکے محو استرات تھے۔ائیر کنڈیشن کے باعث چلڈ کرتے روم میں سردی سی محسوس ہو رہی تھی۔جبکہ کمرہ کے دروازہ پر مسلسل دستک جاری تھی۔ وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آتی دروازہ کی سمت بھاگی تھی وہ جو کوئی بھی تھا آج دروازہ توڑ دینے کا متمنی تھا۔حیات نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا ْ۔ ’’زندہ ہو لڑکی؟جتنی دِیر سے میں دروازہ پیٹ رہی ہوں اور کل رات شیر افگن جتنے غصہٰ میں کمرے میں آیا تھا مجھے تو لگا تھا اب تک مر چکی ہوگی ۔‘‘زرین بیگم ساڑی کا پلو سنبھالتیں طنزیہ لہجے میں بولتی کمرے میں داخل ہوئیں تھیں ۔وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے دروازہ کھول کر ایک طرف کو ہو گئی تھی۔ ’’شیر نے کل رات کچھ کہا تھا تمہیں؟‘‘وہ کھوجتی نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتیں حیات کو گڑ بڑانے پر مجبور کر گئیں۔ ’’نہیں۔۔نہیں آنٹی۔‘‘حیات کو اپنا ملگجا سا حلیہ دیکھ شرمندگی ہوئی تھی۔ ’’ہمم!گڈ۔۔تم کل سے اب تک انہی کپڑوں میں گھوم رہی ہو۔گھر سے بھاگتے ہوئے کپڑے ساتھ نہیں لیے تھے کیا؟‘‘وہ سخت لہجے میں بہت کاری وار کر گئیں تھی۔حیات کی آنکھوں سے ایک انسو ٹوٹ کر گرتا اپنی اہمیت کھو گیا تھا۔ ’’اچھا اب مڈل کلاس لڑکیوں کی طرح صبح صبح یہ ٹسوئیں نا بہاؤ۔‘‘ان کے لہجے میں چھپی حقارت واضح محسوس کی جا سکتی تھی۔حیات نے جلدی سے آنکھیں خشک کیں۔ ’’شیر اب تک سو رہا ہے۔‘‘گھڑی میں وقت دیکھا جہاں صبح کے دس بج رہے تھے۔مگر لاڈ صاحب کو تو عادت تھی دن چڑھے تک نیندیں پوری کرنے کی۔ ’’خیر ہٹو لڑکی۔میں صبح صبح اپنا موڈ خراب نہیں کر سکتی۔شیر کو اُٹھاؤ۔ایسے بتاؤ کہ اس کے بابا آج آفس سے چھٹی پر ہیں اور نیچے اسی کا انتظار کر رہے ہیں۔جلدی سے چینچ کرکےہمیں جوائن کرے۔‘‘وہ ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھ حکم صادر کرتیں کمرے سے باہر نکلنے لگیں ۔۔ ’’اور ہاں ملازمہ کے ہاتھ ایک ڈریس بھجوا رہی ہوں۔وہ پہن کر زرا ڈھنگ سے تیار ہوکر نیچے آنا۔زبردستی کی ہی سہی مگر بہو ہو ہماری۔کچھ ہمارے اسٹنڈرز کا ہی خیال کرلو۔تم سے اچھے کپڑے تو ہمارے نوکر پہن لیتے ہیں۔‘‘وہ پلٹ کر مزید باتیں سناتیں کمرے سے نکل چکی تھیں۔جبکہ حیات کمرے کا دروازہ بند کرتی دروازہ سے لگ کر ہچکیاں بھرنے لگی تھی۔ ’’ کیا ہوا؟اِیسے رو کیوں رہی ہو؟‘‘ایسے وہیں بیٹھے بیٹھے ناجانے کتنی دیر بیت چکی تھی۔ اور شیر کب اُٹھ کر اس کے قریب پنجو کے بل بیٹھ چکا تھا۔وہ اس سارے قصے سے لا علم آنسو بہانے میں مصروف تھی۔ ’’میں۔۔‘‘وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئی تھی۔جبکہ وہ اوشن بلیو نیند سے بوجھل آنکھیں اسی پر ٹکائے بیٹھا بیزاری سے پوچھ رہا تھا۔ ’’ہاں تم!ایک تو کل سے تم مجھے ملی ہو نا مسلسل اپنی حرکتوں سے غصہٰ دلا رہی ہو مگر میں پھر بھی ضبط کر رہا ہوں۔اُپر سے تمہارے بونگے سوالات۔۔اُف!‘‘وہ جو اس لڑکی کو سبق سکھانے کا ارداہ رکھتا تھا ایک ہی رات میں زچ ہو چکا تھا۔ ’’وہ آپ کی ممی آئیں تھیں۔انکل نیچے ناشتے پر ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے ہم جلدی نیچے آجائیں۔‘‘حیات آنسو پونچھ کر رندھے ہوئے لہجے میں بولی۔ ’’تم تو مجھ سے محبت کرتی تھیں نا،پھر کیا تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ شادی کے پہلے دن شوہر کو کیسے اُٹھاتے ہیں۔‘‘اب وہ باقاعدہ التی پالتی مار کر بیٹھتا بالکل اسی انداز میں بولا تھا جس طرح کل سے وہ راگ الاپ رہی تھی۔یقیناً یہ لڑکی کسی بڑی سازش کا حصّہ تھی۔۔ ’’وہ ہاں !مجھے یاد ہے تمہاری پہلی صبح کی انسٹرکشنز مگر ابھی میں اپنے غم میں ہوں۔‘‘حیات پرمژدگی سی بولی۔ ’’اوہ!‘‘شیر کے ہونٹ گول ہوئے تھے۔ ’’اور باقی کی باتیں تو یاد ہیں نا چلو۔اُٹھ کر میرا اج پہننے والا ڈریس نکالوں میں بھی دیکھوں میری محبت میں تمہیں کیا کچھ یاد ہے۔‘‘وہ عجلت بھرے انداز میں بول کر کھڑا ہوتا خود واشروم میں گھس گیا ۔ منہ کھولے بیٹھی حیات گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔اسکے الفاظ کہیں منہ میں ہی رہ گئے تھے جبکہ وہ بوتل کے جن کی مانند غائب ہوچکا تھا۔ ’’مجھے کیا پتہ یہ کیا پہنیں گے،اس بارے میں تو ہماری کبھی بات نہیں ہوئی۔‘‘لبوں پر ہاتھ رکھے وہ پر سوچ نظر آرہی تھی۔جبھی واشروم کا دروازہ کھولتا شیر ایک ہاتھ سے بالوں میں تولیہ چلاتا باہر آتا اُسے ساکت پرسوچ کھڑا دیکھ حیرانی سے ٹھر گیا ۔ ’’تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو؟میرے کپڑے نہیں نکالے۔‘‘اس کے سوال پر وہ چونک کر ہوش میں آئی۔ ’’وہ میں سوچ رہی تھی کہ ہماری اس بارے میں تو کبھی بات ہی نہیں ہوئی۔مجھے کیا معلوم آپ کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔‘‘شیر کومعاملہ کی گھمبیرتا کا اندازہ اب ہوا تھا۔ ’’واقعی اتنی کام کی بات پر ہم نے کبھی بات ہی نہیں کی۔‘‘شیر حیرت سے منہ بناتا اس کے نزدیک آیا جو ہونق بنی کھڑی ۔ ’’نہیں!‘‘ ’’چلو آجاؤ !!پھر آج اس اہم موضوع پر تفصیلی بات کرلیتے ہیں۔۔‘‘وہ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتا اپنے حصار میں لیے کمرے سے منسلک ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا ۔وہ ناسمجھی سے اس کے ساتھ وہاں کھنچی چلی آئی ۔مگر کمرے سے ایک دوسرے کمرے میں داخل ہوتے اسکی آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔جہاں وہ ورڈ روب کا سلائیڈنگ ڈور سرکاتا ہر چیز واضح کر گیا تھا۔ سامنے لگے دیوار گیر آئینہ میں اپنا وجود بہت معمولی سا لگا تھا۔کپڑوں کے ڈھیر میں سے ہینگر نکال نکال کر وہ جانے کیا سمجھا رہا تھا۔نیچے کے حصے میں شوز پئیر کی اتنی ساری کلیکشن دیکھ وہ واقعی تھم سی گئی تھی۔ ’’جبکہ اب وہ اس کا ہاتھ پکڑے دوسرےحصہٰ
