Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/09/2025
7 Views
Episode no 02
ہی کوسنے لگی تھی۔شیر طیش میں پلٹا تھا۔یہ لڑکی بار بار وہاں وار کر رہی تھی جہاں اس کی بر داشت کی آخری حد تھی۔ ’’لڑکی خاموشی سے بیٹھ جاؤ بالکل۔۔اب اگر مجھے زرا سی بھی تمہاری رونے دھونے کی آواز بھی آئی نا تو نیچے لے جا کر بھوکے کتوں کے آگے ڈال دونگا۔‘‘وہ تن فن کرتا اس کے مقابل صوفے پر زرا جھکتا غصٰے سے غرایا۔حیات کی سسکیوں کو یکدم ہی بریک لگا تھا۔وہ تیز مزاج تھا اس بات کا اُسے باخوبی علم تھا مگر اتنا غصے والا تھا اس بات کا اندازہ اسے آج ہو رہا تھا۔ ’’گڈ گرل! بس یونہی خاموش رہو۔اچھی لگ رہی ہو۔‘‘حیات کو فوری حکم کی تکمیل کرنے پر وہ دل سے مسکراتا اپنا نائٹ ڈریس لے کر واشروم کی جانب بڑھا ۔جبکہ اب وہ بغیرآواز رو رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اے لڑکی کہاں سے بھاگی جارہی ہو؟‘‘فردوس بیگم نے اُسے گھر میں اوچھل کود کرباہر جاتےدیکھ کڑے تیوروں سے پوچھا۔ ’’میں؟‘‘ ’’تو کیا تمہارے فرشتہ۔۔‘‘وہ چونکنے والوں میں سے تھیں کیا؟" ’’پتہ نہیں نانواس کا جواب تو آپ کو فرشتہ ہی دے سکتے ہیں۔فی الحال میں چلی بن کر ہوا۔۔۔‘‘وہ بے نیازی سے شانے اچکا کر انہیں ہکا بکا چھوڑ گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہوئی تھی۔ ’’نہایت ہی بد تمیز لڑکی ہے۔ناجانے کس پر چلی گئی ہے۔‘‘فردوس بیگم بڑبڑا کر رہ گئیں تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ُ’’تم ابھی تک سوگ منا رہی ہو۔‘‘وہ بلیک ٹراؤزر ٹی شرٹ میں ملبوس باہر آیا تو حیات کو ہنوز روتا ہوا پایا۔ ’’میرے بابا اس دنیا سے چلے گئے۔تو میں کیا خوشیاں مناؤں۔شادیانے بجاؤں؟‘‘حیات کو اس کا اجنبی رویہ بری طرح کھلا تھا۔ ’’مرضی ہے تمہاری مگر پلیز اپنا میلو ڈرامہ زرا ہلکی آواز میں جاری رکھو۔میں سونے لگا ہوں۔‘‘وہ چادر منہ تک تان کر لائٹ بھجا کر نائٹ بلب کی روشنی میں آنکھیں موند گیا۔ جبکہ بے اواز روتی حیات اب خاموش ہوگئی تھی۔شیرافگن کا رویہ ناقابلَ یقین تھا۔نجانے وہ اس سے آخر کس بات کا بدلہ لے رہا تھا جو اس کی محبت میں اپنا سب گنوا بیٹھی تھی۔یہاں تک کے معاشرے میں اپنی عزت بھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہالہ بے بی؟‘‘وہ چمپ لگا کر بستر پر محو استرات وجود پر کسی بلا کی مانند نازل ہوتی موت کا فرشتہ معلوم دے رہی تھی۔ ’’اللہ!کیا کیا ہوا۔۔کراچی میں اتنا شدید زلزلہ یا اللہ رحم!‘‘ہالہ تو نیند سے ہڑبڑا کر اُٹھتی ہول کر رہ گئی تھی۔ ’’اور ایکٹنگ کے بیس روپے کٹ۔۔‘‘اُس نے منہ بسور کر رمارکس دیے ۔ ’’تم تھیں دھرتی کے بوجھ۔۔ہر وقت میرے سر پر کیوں سوار رہتی ہو؟‘‘آنکھوں کی خمُاری لمحوں میں ہوا ہوئی تھی۔ ’’سر دیکھا ہے اپنا ایکسرے مشین اگر میں نے اپنا ڈھائی کلو کا ہاتھ رکھ دیا ناں تو اگلے سال تک بستر کو پیاری ہوجاؤ گی۔‘‘ہاتھوں کے نادیدہ ڈولے واضح کر دھماکی دی گئی۔ ’’ابے چل دفعہ ہو یہاں سے۔۔‘‘نہایت ہی گستاخ لہجا تھا۔ ’’توبہ توبہ فردوس عاشق اعوان۔۔سوری سوری نانی جان۔۔کیا فائدہ آپ کی اس گوری چمڑی کا شہر کی مہنگی ترین یونیورسٹی میں پڑھنے کا تمیز، تہذیب کی تو یہ ’’ت‘‘سے بھی ناواقف ہے۔۔‘‘ببل گم منہ میں ڈال کر وہیں سے اونچی آواز میں مرغے کی طرح بانگ لگانے والے آنداز میں ہانک لگاتی وہ مزے سے بولی۔ ’’تم تو اسی غم میں مر جانا۔۔ماں باپ تو مر کر چلے گے اس بلا کو ہمارے سروں پر مسلط کر گئے۔‘‘ہالہ عادتً چڑ گئی تھی۔ ’’آہاں آج آیا ناں۔۔۔اونٹ سوری سوری اونٹنی پہاڑ کے نیچے۔‘‘اپنی بات کا خود ہی لطف اُٹھایا تھا۔ ’’ یو جاہل گورنمنٹ کالج کی بی اے پاس۔۔‘‘ہالہ اُس کے قیاس پر سلگ کر رہ گئی تھی۔ ’’ٹیکنولجی کا یہ جدید دور تو بنا ہی میرے لیے تھا۔ساری گوہر افشائیاں اس میں ریکارڈ ہوچکی ہیں۔اب بتا بکرے کی ماں تو آخر کب تک خیر منائے گی۔‘‘بلند بانگ بے ہنگم سا قہقہہ لگاتی وہ اس کے چودہ طبق روشن کر گئی۔ ’’کیا بد تمیزی ہے یہ روکو زرا!‘‘ہالہ جھٹ پٹا کر اُٹھی تھی۔ ’’آہاں قریب نہیں آنا ورنہ بڑے بڑے اسپیکرز میں لگوا دوں گی۔‘‘کھیل ہمیشہ ایسا کھیلوں کہ اپنے ہاتھ ہمیشہ صاف رہیں ایسا عابثہ صاحبہ کا کہنا تھا۔۔ ’’عابثہ میری بہن میری گڑیا۔۔بتا کیا چاہیے وہ رہی الماری جو چیز چاہیے وہ لے لے۔۔‘‘ہالہ نے جھٹ پینترا بدلہ تھا۔ ’’یہ چیز اُسے کہتے ہیں ہینگ لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا ہی چوکھا۔بیٹا بھول جا ؤاب یہ سارا سامان تو اب میرا ہوا مگر میری ایک شرط بھی ہے۔‘‘وہ شرارت سے مسکراتی مدعے پر آئی۔ ’’ہاں بولوں میری بہن مجھے سب منظور ہے۔‘‘ہالہ کو تو سب منظور تھا مگر اپنی عزت کا فالودہ ہونا قطعی منظور نہیں تھا۔ ’’ارتضی عبّاس کا نمبر دو۔۔‘‘ ’’ہیں؟مگر تمہیں کیا کرنا ہے اس کے نمبر کا۔۔‘‘اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’ابے سوتیلی ماموں زاد تو میری سوتیلی ماں لگی ہے کیا۔جو سب تجھے بتا دوں۔۔سیدھے سے بتا رہی ہے یا بھیجوں یہ وائس کلپ فیملی گروپ میں ۔۔تاکہ وہ تمہارا یو۔کے رٹن کزن بھی تمہاری شیری بیانی سے محظوظ ہو سکے۔‘‘وہ بھی ساری لگامیں ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔ ’’بکواس نہیں!! دے رہی ہوں۔واٹس اپ چیک کرو اپنا۔‘‘دانت کچکچا کچکچا کر کہتی وہ نمبر سینڈکر چکی تھی۔ ’’ہائے کتنی پیاری ہو تم گوری بھوتنی۔۔۔اللہ تمہیں مزید چٹا سفید کرئے۔‘‘نمبر دیکھتے ہی آنکھیں خوشی سے چمکیں کام ختم مطلب یہاں رُکنا فضول ہی تھا۔ ’’ایک منٹ پہلے میں زرا میسج کر کے چیک کروں۔۔بندہ اوریجنل تو ہے ناں۔۔‘‘شک کی نگاہ سے اور وہ بھی میڈم نہ دیکھیں امپاسیبل۔جبکہ یہ بات محض چڑانے کے لیے کہی گئی تھی۔ ’’ارے واہ تسی گریٹ ہو۔یہ تو بالکل کنچا پیس ہے۔‘‘اس کی ٹپوری زبان کے جملے عروج پر تھے۔آنکھوں میں شرارتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ ’’وہ ریکارڈنگ ڈلیٹ کرو جلدی سے شاباش!‘‘‘ہالہ ہوش میں آتی ڈوڑ کر قریب آئی تھی۔ ’’اتنی بھی کیا جلدی ہے کردونگی۔پہلے زار عالیہ کو ہدایت کردوں اگلے ایک ماھ تک ہالہ بی بی جو بھی نیا ڈریس لائیں وہ میرے وارڈروب کا حصہٰ بن جانا چاہیئے۔‘‘ہالہ کا منہ حیرت کی زیادتی سے کھلا گیا تھا وہ کھسیا کر دانت کچکچا کر رہ گئی۔ ’’مطلب تم نے کیا سمجھا تمہارے یہ بیہودا آدھے اور استعمال شدہ کپڑے پہنوں گی میں؟‘‘اس کے لفظوں میں طنز تھا۔ ’’نکلوں میرے کمرے سے اور دیکھا لو مزید جتنی اوقات دیکھا سکتی ہو۔۔مس سیکنڈ ہینڈ۔۔‘‘ہالہ کا ضبط کا پیمانہ جونہی لبریز ہوا تھا وہ چیل کی تیزی سے اس کے نزدیک آتی نازک سی کلائی تھام کر باہر دھکیل چکی تھی۔جبکہ وہ تپا کر زبان چڑاتی پلک جھکتے میں غائب ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب تو ان سے ملیے یہ ہیں فردوس منزل کی رونق ۔یہ اس کی زاتی رائےہے۔جبکہ فردوس منزل کے مکینوں کے لیے وہ کسی کالی بلی سے کم ہر گز نہیں تھی۔شمس صاحب کی دوسری بیوی کی بیٹی کی بیٹی عابثہ اسماعیل !شرمین اور اسماعیل صاحب کی آنکھوں کا تارا جو بہت مختصر سی زندگی لکھوا کر لائے تھے۔ماں کے بعد شرمین بیگم کی ساری زندگی سوتیلی ماں کے رحم کرم پر بڑی کٹھن گزری تھی۔خدا خدا کر کے اسماعیل صاحب زندگی میں آئے تھے اور پھر اب وہی زندگی ان کی بیٹی کا مقدر ٹھری تھی۔۔مگر ایک منٹ !یہاں بات عابثہ اسماعیل کی ہورہی ہے ناکہ شرمین بیگم کی۔۔۔باقی تو آپ سمجھ دار ہیں ہی تو چلیں پڑھتے ہیں کہ کس طرح عابثہ اسماعیل نے اپنے سوتیلے ننھیالیوں کی ناک میں دم کر کے رکھا ہے۔۔ فردوس منزل میں شمس صاحب کے بیوہ فردوس
