Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/09/2025
7 Views
Episode no 02
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہماقریشی #قسط_نمبر2 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی ولا کے بڑے سے ہال میں گہرا سَکوت چھایا ہوا تھا۔ایک جانب ناصر صاحب مولوی صاحب کے ہمراہی میں نکاح نامہُ پر کرانے میں مصروف تھے۔جبکہ دوسری جانب شیرافگن بلیک شلوار قمیض میں ملبوس وجیہہ سےچہرے پرتنے نقوش کے ساتھ اوشن بلیو سمندری آنکھوں میں سردگی لئے خاموش بیٹھا تھا۔۔ دوسری جانب ُاسی پلین بلیک شلوار قمیض سوٹ میں ملبوس حیات کاظمٰی بکھرے سے حلیے میں خالی خالی آنکھوں میں خوف،پریشانی اور دُکھ لئے خاموش بیٹھی تھی۔دو ہی راتوں میں زندگی میں اتنی دشواریاں پیدا ہوگئی تھیں ۔قسمت کہاں سے کہاں لے آئی تھی۔صرف ایک غلطی کی وجہ سے آج اس کا باپ ناراض ہوکر دنیا سے رُخ موڑ گیا تھا ۔مفلوج دماغ کے ساتھ وہ پچھلے دو گھنٹوں سے یونہی ساکت و جامد بیٹھی تھی۔جبھی مولوی صاحب کی بھاری آواز نے ماحول میں چھایا سکوت سا توڑا تھا۔۔۔ ’’حیات کاظمٰی ولد احمد کاظمٰی آپ کا نکاح شیرافگن ناصر ہاشمی ولد ناصر ہاشمی کے ساتھ بہ عوض ستر لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت دو گواہان کی موجودگی میں ہونا قرار پایا ہے کیا آپ یہ نکاح قبول ہے؟‘‘اُس کی سماعتیں تو شاید کہیں اور ہی تھیں۔کانوں میں اپنی ذات کے لیے عجیب عجیب سے لفظ گونجتے دماغ کی شریانے ہلا ئے دے رہے تھے۔ ’’بیٹا کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘ہنوز خاموشی برقرار تھی۔ ’’حیات بیٹا مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔‘‘ناصر صاحب کے،سر پر ہاتھ رکھنے پر وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔ ’’ایک نظر ہال میں موجود شیر کے علاوہ اجنبی چہروں پر ڈال وہ خاموشی سے اپنی زندگی کے تمام جملے حقوق اپنی زندگی برباد کرنے والے کے نام کر گئی تھی۔ ’’دوسری جانب شیر افگن نے بھی لٹھ مار آنداز میں نکاح قبو ل تو کر لیا تھا مگر دل ہی دل میں وہ بہت کچھ سوچے بیٹھے تھا۔۔۔ نکاح کے بعد مبارک سلامت جاری تھی زرین بیگم اپنی انا کا پرچم سر بلند رکھنے کی خاطر نکاح میں شریک نہیں ہوئیں تھیں۔کہ جبھی شیر افگن کی گھمبیر آواز نے ماحول میں چھائی وحشت زدہ خاموشی کا سکوت توڑا تھا۔ ’’چلو ڈارلنگ میرا کمرہ وہاں ہے۔‘‘ناصر صاحب نے چونک کر غصٰے سے اس کی جانب دیکھا تھا ۔ ’’شیر اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو خاموشی سے اپنے کمرے میں دفعہ ہوجاؤ۔‘‘وہ تنبیہہ انداز میں بولے۔ ’’وہیں تو جارہا ہوں ڈیڈ۔چلو حیات بیگم۔‘‘وہ فل اِن کا ضبط آزمانے کے موڈ میں تھا۔ ’’شیر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی۔ابھی تمہارا صرف نکاح ہوا ہے،رخصتی ہونی ابھی باقی ہے۔‘‘وہ مولوی صاحب کو اپنی جانب ہونقوں کی طرح دیکھتا پاکرنرم لہجے میں بولے۔اس سارے قصےٰ میں حیات بالکل خاموش بیٹھی تھی۔۔ ’’چلو اب اُٹھو بھی۔ابھی تو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے مری جارہی تھیں۔اور اب جم کر بیٹھ گئی ہو۔‘‘شیرافگن ناصر صاحب کی بات سنی اَنسی کرتا اس کے قریب آتا غصٰے سے دھاڑا۔۔۔۔ ’’شیر افگن!‘‘اُن کے لہجے میں وارنگ واضح تھی۔ ’’بس بابا! اب آپ کچھ نہیں بولیں گے۔اب یہ میرا اور میری بیوی کا ذاتی معاملہ ہے ۔۔میں جسے دل چاہے ڈیل کروں۔‘‘وہ بھی اب خود پر مزید ضبط نہیں کرسکا تھا۔جبھی ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں طیش لئے پُھنکارا۔۔ ’’اُٹھو تم۔‘‘ناصر صاحب مولوی صاحب کی موجودگی محسوس کر لب بھینچ گئے۔ ’’حیات بیٹا! شیرافگن کے ساتھ اُپر جائیں آپ۔‘‘فی الحال وہ مزید کوئی تماشہ نہیں چاہتے تھے۔حیات ٹرانس میں اُٹھتی دوطرفہ سیڑھیوں سے گزرتی اِس کے ساتھ کھینچتی چلی جارہی تھی۔جس کی ہاتھ پر پکڑ اُسے مزید خوفزدہ کئے دے رہی تھی۔۔۔۔ ’’شیر تم نے پہلے ہی مجھے بہت مایوس کیا ہے۔مگراب مزید کوئی ایسا کام مت کرنا کہ مجھے واقعی تمہیں بیٹا کہنے میں شرمندگی محسو س ہو۔‘‘وہ جانتے تھے وہ کس قدر غصے میں تھا۔اگر چہ وہ غصّے میں بھی کنٹرول کرنا جانتا تھا مگر وہ حیات کی حالت کے پیش نظر تنبیہ کرنا ہر گز نہیں بھولے تھے۔۔۔۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ کہیں غصے اور اپنی ماں کے کہنے میں اکر حیات پر ہاتھ نا اُٹھا دے۔جو پہلے ہی صدمے سے دوچار تھی۔ مگر وہ سنی انسی کرتا حیات کو کھینچتا ہوا سامنے لائن سے بنے کمروں میں سے چوتھے کمرے میں دھکیلنے کے انداز میں پٹختا داخل ہوا۔ایک جھٹکے سے دروازہ بند کر وہ فوری پلٹا تھا۔ ’’حیات اچانک جھٹکے پر لہرا کر زمین بوس ہوئی تھی۔اور بے یقینی سے نظر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا جو دن رات اُس کی محبت کے دم بھرتا تھا۔اور اب اس کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔ ’’جانتی ہو کون ہوں میں؟‘‘وہ اس کے مقابل پنجوں کے بل بیٹھ کر جبڑہ ہاتھوں کی مٹھی میں جکڑ کر چہرے پر سختی سے غرایا ۔وہ اب تک بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار تھی۔مقابل کی گرم سانسیں سیدھی اس کاچہرے پر پڑتی پورا وجود جھلسائے دے رہی تھیں۔ ’’شیر!میرے بابا!‘‘وہ ساکت آنکھوں میں خالی پن لیے ہچکیاں لیتی بے ساختہ اس کے سینے سے لگتی زاروقطار رونے لگی تھی۔اس اچانک افتاد پر وہ دم بخود سا خاموش ہو گیا ۔ ’’میرے بابا چلے گئے۔صرف تمہاری وجہ سے۔۔کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔کیوں ؟تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے ناں؟‘‘سوجھی ہوئی آنکھوں میں شکوے لیے وہ سراپا سوال تھی۔ بڑی بڑی کالی گھور سیاہ آنکھوں میں ڈھیروں شکوے قائم تھے۔جبکہ رونے کی شدّت سے تر چہرہ کپکپاتے ہونٹ اِس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا گئے تھے۔ اس کی حالت قابلِ رحم تھی ایسے ایکدم ہی اپنے ُبرے رویہ کا احساس شدت سے ہوا تھا،وہ صبح سے مسلسل روئے جا رہی تھی۔اس کا باپ بھی اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔مگر وہ بار بار ایسے کیوں مورد الزام ٹھرا رہی تھی ۔کہیں نا کہیں کچھ تو حقیقت تھی۔مگر کیا؟؟؟؟ ’’اٹھو یہاں سے۔‘‘وہ اپنی عادت کے برخلاف نرم لہجے میں گویا ہوتا کندھوں سے تھام کر اپنے مقابل لایا جو بامشکل اس کے کندھوں تک آرہی تھی۔ ’’شیر میرے بابا!مجھے ان کے پاس جانا ہے۔پلیز !مجھے ان کے پاس لے چلو۔‘‘وہ اس کی شرٹ کا گریبان نرمی سے دونوں ہاتھوں میں تھامتی التجائیہ لہجے میں بولی۔شیر نے آئی برو اٹھا کر اس کے ہاتھوں کی پوزیشن دیکھی تھی۔اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والوں کا تو وہ ہاتھ جڑ سے اُکھڑ دینے کی صلاحیت رکھتا تھا اور کہاں یہ چھٹانک بھر کی لڑکی اس قدر دیدہ دلیری سے نا صرف اس کا گریبان تھام چکی تھی۔بلکہ اب مسلسل اس کے سینے پر ہاتھ مارتی شکایتیں بھی کر رہی تھی۔۔ ’’انٹرسٹنگ!یہ لڑکی تو پورا بیوی مٹیرئیل ہے۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑاتا ہولے سے مُسکرایا ۔حیات ابھی تک اس کا سینہ ڈھول کی طرح بجا کر ہچکیاں بھرتی شکایتں درج کروا رہی تھی۔ ’’شش! خاموش ہو جاؤ لڑکی۔۔۔بہت سُن لی تمہاری ۔۔۔اب اگر واقعی اپنی خیر چاہتی ہو تو چپ چاپ سے اُس بیڈ پر جاکر سوجاؤ۔ ورنہ۔۔‘‘ شیر فوری اپنے لہجے کی نرمی پر قابو کر تنبیہ لہجے میں بولا۔۔۔اُس پر غصّہ ابھی بھی حاوی تھا۔ ’’شیر!وہ جو مسلسل شکوے شکایتیں کر رہی تھی۔کہ اس کے لہجے میں چھپی وارننگ پر لحظہ بھر کو تھم سی گئی۔ ’’کہا نا وہاں جا کر بیٹھ جاؤ۔اور باپ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اگر زیادہ محبت جاگ رہی ہے تو کل ڈرائیور کے ساتھ قبر پر چلی جانا۔‘‘وہ ناچاہتے ہوئے بھی نرمی سے بولا تھا۔ ’’سب میری غلطی ہے مجھے تمہاری محبت مین اتنا اندھا ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔‘‘وہ اب دو قدم پیچھے ہوتی کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھی خود کو
