Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/09/2025
15 Views
Episode no 01
یہ لڑکی۔کیسے دلیری سے اپنے عاشق کے ساتھ باپ کے جنازہ پر آگئی ہے۔‘‘حیات اچانک اندر داخل ہوئی تھی۔وہ شہریار اور ناصر صاحب کی آڑ میں ہونے کے باعث ابھی تک کسی کی نظروں میں نہیں آئی تھی۔کسی خاتون کی نظر اس پر پڑتے ہی وہ توبہ توبہ کرنے لگی۔جو باپ کے سرہانے کھڑی ہچکیوں سےرونے لگی۔ ’’کون لایا ہے اس بدبخت کو یہاں۔۔۔۔دور کردو ایسے میری نظروں کے سامنے سے ورنہ میں ایسے جان سے مار ڈالوں گی۔‘‘حیات کی والدہ رنج اور غصے کی ملی جلی سی کیفیت میں چیخی تھیں۔سبھی لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ ’’حیات جاؤ یہاں سے۔‘‘ ’’شہریار میرے بابا۔۔مجھے معافی مانگنی تھی۔تم بولو ناں مجھے معاف کر دیں۔۔۔پلیز۔۔۔‘‘ ’’تمہاری بات سُنتے ہیں ناں وہ۔۔۔بولو ناں تم۔‘‘وہ رُونے لگی تھی۔جبکہ وہ مسلسل ہاتھ سے پکڑ کر اسے باہر دھکیلنا چاہ رہا تھا۔۔۔ ’’جاؤ یہاں سے۔پلیز اِس لڑکی کو یہاں سے لے جائیں۔اور کبھی یہاں لے کر نہیں آنا۔بھلے سے ہم مربھی جائیں ۔۔جب بھی نہیں۔۔‘‘وہ حیات کو زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹ کر لاتا ناصرصاحب کے حوالے کر غصے سے بولا۔ ’’چلو یہاں سے۔‘‘ ’’بابا۔۔‘‘ ’’خاموش ہوجاؤ۔‘‘ناصر صاحب حیات کو زبردستی لیے وہاں سے نکل آئے تھے۔جو مسلسل مزاحمت کرتی اپنے باپ اور سگے رشتوں کو پکُار رہی تھی۔جو پل میں اُسے پرایا کر گئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روشنیوں کے شہر کراچی پر سے سورج اپنی الوداعی کرنیں سمیٹتا بلڈنگوں کے پار غروب ہونے کو تھا۔ڈھلتے سورج کی رخصت ہوتی کرنوں سے لاتعلق وہ ہائیپر اسٹارکے فوڈ کورٹ میں موجود باتوں میں مصروف تھے۔۔ ٍ’’چل ایک شرط لگاتے ہیں۔‘‘وہ آنکھوں میں معنی خیزی سی شرارت لیے مسکراٍ کر بولا۔ ’’ہاں بولیں آپ۔‘‘وہ ہم تن گوش ہوئی۔ ’’یہ تصویر دیکھ رہی ہو۔‘‘اس نے ہاتھ میں پکڑی تصویر اس کے سامنے کی،تو اس نے متعجب نگاہوں سے دیکھا۔ ’’اس بندے سے شادی کرنی ہے۔‘‘وہ جو محِو ہوکر اس کی بات سُن رہی تھی۔گھبرا کر چونک اُٹھی۔ ’’دماٖغ ٹھیک ہے تمہارا۔کیا بکواس کر رہے ہو۔‘‘وہ غصے سے چیخی ۔ ’’کام ڈأون لڑکی!!کام ڈأون!!پہلے مکمل بات تو سُن لو۔‘‘ُمقابل کی آنکھوں میں شرارتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ ’’بولو۔‘‘اس نے سنجیدہ تاثرات سے پوچھا۔ ’’شرط یہ ہے کہ تم کو اس گھمنڈی شخص سے شادی کرنی ہے۔سمجھو تم شرط جیت گئی۔تو میں مان جاؤ گا ۔میری شیرنی واقعی ناقابلِ شکست ہے۔تم جوکہو گی بندہ تمہاری رضا میں تیار۔‘‘اس کا منہ حیرت کی زیادتی سے کُھلا کا کھُلا رہ گیا تھا۔ ’’یو چیٹر۔۔۔اس کا رشتہ بچپن سے اس کی کزن سے طے نہیں ہے؟‘‘اس نے تصویر کا تنقیدی نظروں سے جائزہ لیتے پر سوچ آنداز میں کہا۔ ’’ہاں ہے تو۔۔مگر ابھی صرف رشتہ طے ہوا ہے شادی نہیں۔‘‘وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔ ’’اور اگر میں انکار کروں تو۔۔‘‘اس نےبھنوئیں اچکائے۔ ’’تو میں سمجھ لوں گا کہ تم ایک بزدل کھیلاڑی ہو۔تم کہتی ہو نا تم آج تک کسی سے شرط نہیں ہاریں تو اس بات کوثابت بھی پیش کرو۔‘‘وہ آج اس کا امتحان لینے بیٹھا تھا۔ ’’اوہ !!دیکھو دنیا والوں مجھ سے پروف مانگ کون رہا ہے۔جو بچپن سے مجھ سے ہارتا آرہا ہے۔‘‘وہ اعلانیہ آنداز مین طنزیہ بولی۔ ’’ابے چل وہ تو بچپن کی باتیں تھیں۔‘‘وہ ایک دم گڑبڑایا۔۔ ’’ناں ناں بچپن میرا تھا۔تم مجھ سے نو سال بڑے ہو۔‘‘اس نے فوراً تصحیح کی۔ ’’ہاں صرف نوسال بڑا تھا۔ابّا نہیں تھا ،تمہارا۔‘‘وہ بدمزہ ہوا۔ ’’ہاں تو پھر مان لو۔تم بچپن سے مجھ سے شرط ہارتے آرہے ہو۔‘‘اس نے مزہ سے کہا۔ ’’اچھا دفعہ کرو اس بات کو۔یہ بتاو شرط لگا رہی ہو پھر؟اس نے بات گھُما ئی۔ ’’ھمم!!‘‘وہ ایک آنکھ میچ گئی۔ ’’جلدی بولو،گھمنڈی ہیرو سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو یا نہیں۔۔۔منظور ہے یا نہیں۔‘‘ وہ اس کی ہاں کا منتطر تھا۔جو پہلی بار کوئی شرط لگانے سے پہلے اتنا سوچ رہی تھی۔ ’’منظور۱!!! وہ یکدم چہک کر گویا ھوئی۔ ’’ڈن ہوگیاپھر۔۔۔چلو بیٹا جی اب تم فٹافٹ گھر کے لئے نکلو ۔اس سے پہلے کے تمہاری گمشدگی کا اعلان مسجد کے میناروں میں گونج اُٹھے۔‘‘وہ گھڑی میں وقت دیکھتا شرارت سے بولا۔ ’’ہاں !!جاہی رہی ہوں۔‘ایک تو سارے سوتیلے رشتے میرے ہی نصیب میں آنے تھے۔‘‘وہ بھی بڑبڑا کر جلدی سے اُٹھی۔ ’’ویسے ایک بات تو بتاؤ؟؟‘‘وہ جاتے جاتے ایک دم پلٹی تھی۔ ’’ہاں بولو؟؟وہ موبائل ایک جانب رکھ متوجہ ہوا۔ ’’میری اس بلینئیر سے شادی میں آپ کا کیا فائدہ ہے جناب۔‘‘وہ تفشیشی آنداز میں بولی۔ ’’آہاں!!!سب بتا دوں بیٹا۔۔۔ہاتھ پیر کٹوا دوں؟؟‘‘وہ ہاتھ ُاٹھاکر سر کے پیچھے رکھتا مزے سے بولا۔ ’’دفعہ ہو اب ملاقات ہوگی۔۔ولیمے کے کھانے پر۔‘‘وہ شرارت سے مسکرائی ۔ ’’اللہ حافظ بے بی۔۔گھمنڈی ہیرو ۔اتنا آسان ٹاسک نہیں جتنا تم سمجھ رہی ہو۔‘‘اس نے آگاہ کرنا ضروری سمجھا۔ ’’یہ تو وقت بتائے گا۔شے اور مات کے اس شرارتی سے کھیل میں جیت کس کا مقدر ٹھرے گی۔۔‘‘وہ شرارت سے مسکراتی ہوئی نکلتی چلی گئی۔جبکہ ہوٹل میں بیٹھے وجود نے اس کی مسکراہٹ ہمیشہ برقرار رہنے کی دل سے دعا کی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تمہارا نکاح ابھی ہوگا۔اور اسی وقت ہوگا۔چاہے تم راضی ہو یا نہ ہو۔‘‘ناصر ہاشمی کا چہرہ غصےٰ سے لہو رنگ ہو رہا تھا۔حیات کی زبانی باقی تمام روداد سن اُنہیں اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ اس لڑکی پر بھی غصہٰ آیا تھا۔ ’’مگر بابا میں نے کیا کیا ہے؟جو آپ مجھے اتنی بڑی سزا سُنا رہے ہیں؟‘‘وہ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتا زچ ہوگیا۔ ’’واہ برخوردار!اب یہ بھی میں بتاؤں ۔آپ کو؟‘‘وہ طنزیہ مسکراہٹ سے بولتے ایسے جھنجھلانے پر مجبور کر گئے۔ ’’بابا پلیز ایک بار میری بات تحمل سے سُنیں۔میں نے کچھ نہیں کیا۔جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ویسا تو کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘وہ بلآخر زچ ہوکر صفائیاں پیش کرنے لگا ۔ ’’شیرافگن تمہیں میرا فیصلہ منظور ہے یا نہیں؟‘‘وہ جبڑے بھینچ کر رہ گیا۔ ’’پاپا وہ شاطر لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔‘‘بلاخر وہ سارے لحاظ بالائے طاق رکھتا غصہٰ سے چیخ اُٹھا۔ ’’خاموش بدتمیز۔۔باپ ہوں تمہارا ۔۔بہت اچھے سے واقف ہوں تمہاری عیاش طبیعت سے۔ بیٹی کے غم میں اس کا باپ مر گیا اور تم کہ رہے ہو وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ ‘‘ان کے چہرے پر حقارت ہی حقارت تھی۔ شیر افگن ہاشمی سب برداشت کر سکتا تھا مگر اپنے باپ کی آنکھوں میں اپنے وجود کے لیے حقارت نہیں۔ ’’مطلب آپ کو یقین ہے کہ یہ سب میں نے ہی کیا ہے۔‘‘یکایک اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوگئے تھے،ایک کمینگی سی مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کیا تھا۔ ’’افسوس!کہ تم جیسا عیاش اور آوارہ لڑکا میری اولاد ہے۔‘‘ ان کے چہرے پر ملال عود آیا۔ ’’چلیں اب تو نکاح بھی ابھی ہوگا۔اور رخصتی بھی۔ کیونکہ اب میں واقعی مزید صبر نہیں کر سکتا۔‘‘وہ ذومعنی مسکراہٹ کے ساتھ بولتا انکا فخر سے بلند سر مزید شرم سے جھکا گیا۔ ’’ناصر صاحب یہ آپ کیا کہ رہے ہیں۔اب ہم اپنے اتنے خوبرو بچے کی شادی اس چھوٹے سے محلہ میں رہنے والی ٹھرڈ کلاس لڑکی سے کریں گے کیا؟‘‘ساڑی کا پلو درست کرتیں وہ بلا اجازت کمرے میں داخل ہو چکی تھیں۔انہیں یقین تھا کہ شیر افگن کبھی نہیں مانے گا مگر یکا یک اس کایا پلٹ پر وہ مزید ضبط نہیں کر سکی تھیں۔ ’’خاموش ہوجائیں زرین بیگم۔۔ایسا نہ ہو آج میں سب رشتے اور لحاظ بھول جاؤں۔یہ سب آپ ہی کی بے جا ڈھیل کا نتیجہ ہے۔‘‘وہ غصے میں اگ بگولہ ہوگئے تھے۔زرین بیگم کو ایک دم چپی سی لگی تھی۔ ’’ماما!فکر کیوں کر رہی ہیں۔۔وہ تھرڈ کلاس لڑکی شادی ہوکر تو ایسی گھر میں آئے گی نا،بس چُن چُن کر بدلے لیجئے گا۔‘‘یہ الفاظ محض
