Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/09/2025
15 Views
Episode no 01
ہوا ہے بیٹا؟کون ہیں آپ؟‘‘ناصر صاحب نے ایک نظر سرخ آنکھوں سے گھورتے شیرافگن کو دیکھ حیات سے سوال کیا۔ ’’انکل میں ۔۔۔میں حیات کاظمی ہوں۔میں اور شیر افگن ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔شیر کی وجہ سے میرے گھر والوں نے مجھے میرے گھر سے باہر نکال دیا۔اس نے مجھے اغوا کر لیا تھا تاکہ میری شادی کسی اور سے نہ ہو۔اور اب یہ کل رات سے میرا فون نہیں اُٹھا رہا۔‘‘حیات ناصر صاحب کے نرم لہجے پر ساری بات بتاتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ’’وہاٹ؟اے لڑکی کیا بکواس کر رہی ہو؟‘‘شیرافگن اپنے باپ کی آنکھوں سے غصے سے چنگاریاں نکلتی دیکھ یکدم بوکھلا کر دھاڑا ۔جبکہ حیرت ساتویں آسمان کو چھو رہی تھی۔ ’’بیٹا !آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘ناصر صاحب نے زرا ضبط کیا۔ ’’نہیں انکل میں اور افگن ایک دوسرے کو پسند کر تے ہیں۔شیر نے وعدہ کیا تھا کہ یہ مجھ سے شادی کریں گے،پلیز میری مدد کریں۔۔میں کہاں جاؤں۔۔‘‘وہ رو رو کر بین کرنے لگی تھی۔ ’’شیر کیا کہ رہی ہے یہ لڑکی؟‘‘اب وہاں پر زرین بیگم بھی آگئ تھیں۔جبکہ وہ سارے قصےٰ سے لاعلم تھیں۔ ’’ڈیڈ بکواس کر رہی ہے یہ۔میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں ہوں۔‘‘افگن حیات کا بازو پکڑ کر پیچھے کو دھکیل کر شدت سے غرایا۔حیات لہرا کر نیچے گری تھی۔ ’’شیرافگن۔۔‘‘ناصر صاحب اس معصوم کو زمین بوس ہوتا دیکھ غصہٰ سے غرائے۔ ’’یہ سب کیا ہو رہا ہےافگن،،کون ہے یہ لڑکی؟‘‘زرین نے بلیک شلوار قمیض میں ملبوس اُلجھے سے بالوں اور بکھرے وجود والی لڑکی کو دیکھ نخوت پن سے استفسار کیا۔ ’’میں نہیں جانتا موم یہ لڑکی کون ہے؟فضول میں الزام لگا رہی ہے مجھ پر۔‘‘شیر کو طیش آیا۔ ’’اُٹھیں بیٹا آپ۔۔‘‘حیات چھلی ہوئی کہنیوں سے نکلتا خون صاف کرتی دوپٹہ اُٹھا کر اُٹھی۔رُونے کے باعث سرُخ متورم آنکھیں خون چھلکا رہی تھیں۔ ’’شیر ساری رات کہاں تھے تم؟‘‘وہ غصےسے اُس کے مقابل آئے جس کی لال انگارا ہوتی آنکھیں شبِ بيداری کی چغلی کھا رہی تھیں۔ ’’وہ بابا میں دوستوں کے ساتھ تھا۔‘‘شیر نے نظریں چرا کر جواب دیا۔ ’’ڈرنک کی ہے تم نے۔‘‘چہرے پر کرختگی سی چھا گئی۔افگن نے خالی نگاہوں سے باپ کی بے یقین نگاہوں میں دیکھا۔۔ ’’نہ۔۔۔‘‘ ’’چٹاخ!‘‘ناصر صاحب کا ہاتھ اُٹھا اور اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔شیر نے شرمندگی سے نگاہیں جھکا لیں تھیں۔ ’’گارڈز گاڑی نکالیں!وہ ضبط سے گھومے اور ان کے حکم پر ساتھ کھڑے گارڈز فوراً حرکت میں آئے۔ ’’بیٹا ہم آپ کے گھر چل رہے ہیں۔تاکہ ساری باتیں واضح ہوسکے۔‘‘وہ حیات کے سر پر ہاتھ رکھ کر شفقت بھرے انداز میں بولے جو دیکھنے میں ہی کسی شریف گھرانے سے لگ رہی تھی۔ ’’انکل شیر نے مجھے کڈنیپ کیا تھا میرے بابا میری شکل تک دیکھنے کے روادار نہیں ہیں۔‘‘حیات ہچکیوں سے رو پڑی۔ ’’آپ ہمارے ساتھ چلیں۔۔آؤ تم بھی ساتھ۔‘‘وہ حکم سُناتے حیات کی ہمراہی میں گاڑی کی جانب بڑھے۔ ’’مام!شیر نے بے بسی نے انہیں دیکھا۔ ’’ساتھ آؤ ہمارے۔‘‘زرین کچھ سوچ کر بولیں۔ شیر افگن گاڑی میں بیٹھتی حیات اور ناصر کو دیکھ لب بھینچے دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا۔ساتھ زرین بیگم بھی فرنٹ سیٹ پر براجمان غصہٰ میں تھیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے ایک متوسط علاقے میں کچی پکی سڑکوں پر سے گزرتی ہاشمی خاندان کی گاڑیاں حیات کاظمی کے گھر کی گلی سے زرا فاصلے پر ٹھری تھیں۔جبکہ گلی میں ٹینٹ لگا ہوا تھا۔ایک عجیب جھمگٹا سا لگا ہوا تھا۔گاڑی میں بیٹھی حیات کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔انجانے سے خدشے نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔شیر افگن بیزاری سے گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔ ’’بابا!میرے بابا۔۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی۔ناصر صاحب باہر لگا رش دیکھ کچھ کچھ صورتحال سمجھ گئے تھے۔اور حالتِ حاضرہ ان کے بیٹے کی گھٹیا حرکت پر مہر لگانے کے لیے کافی تھے۔ ’’بابا!وہ ٹینٹ میں روتی ہوئی ماں بہنوں کو دیکھ بے یقینی سے اگے بڑھی۔جبھی کسی نے اس کا ہاتھ اپنے سخت ہاتھوں میں تھاما تھا اور سیدھا ٹینٹ سے باہر آگیا۔ ’’کیا کرنے آئ ہو تم یہاں۔چاچو کی جان لے کر بھی تمہیں سکون نہیں ملا کیا؟‘‘وہ آنکھوں میں بے انتہا غصہٰ لیے دکھ سے بولا۔ ’’شہریار!بابا۔۔‘‘وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی۔جبھی ناصر صاحب بھی ان کے نزدیک آئے۔ ’’بیٹا!کیا چل رہا ہے یہاں۔۔ہم حیات بیٹے کے والدین سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ناصر صاحب اسے قریبی محسوس کر قریب آتے تحمل سے بولے۔ ’’ہماری عزتوں کا جنازہ نکالنے کے باوجود آپ کے بیٹے کو سکون نہیں ملا جو میرے مرے ہوئے چچا کی روح کو تکلیف پہنچانے آگے۔‘‘شہریار کی آنکھیں ضبط سے سُرخ پڑ رہی تھیں۔ ’’اوہ ہمیں افسوس ہے۔مگر بیٹا آپ مجھے پوری بات بتائیے۔‘‘ناصر صاحب کے استفسار پرایک نظر ساکت کھڑی حیات کو دیکھ بولا۔ ’’پہلے آپ اس زلت کی پوٹلی کو یہاں سے لے جائیں۔اور اگر آپ کے بیٹے نے آپ کو پوری بات نہیں بتایئ ہے تو سُنیں۔‘‘ ’دو روز قبل ہمارا نکاح تھا اور کچھ روز بعد شادی ۔یہ بی بی تو شروع سے راضی نہیں تھیں مگر چچا کی خاطر یہ جیسے بھی مان گئیں تھیں۔مگر آپ کے بیٹے نے نکاح سے ایک روز قبل ہی ملنے کے بہانے بلا کر ایسے اغواکر لیا۔اور پھر نکاح میں لینے کے بجائے جب ہماری عزت کی دھجیاں اُڑ گئیں تو یہ واپس اسے ہمارے در پر چھوڑ گیا۔‘‘شہریار غصےٰ سے انگارا ہوتی نگاہوں میں نفرت سموئے لفظ چبا چبا کر بولا۔ ’’بیٹا ہوسکتا ہے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔میرا بیٹا تو حیات کو جانتا بھی نہیں ہے۔‘‘جو بھی تھا بیٹا کا دفاع تو کرنا ہی تھا۔ ’’بہت خوب انکل۔ان بی بی کے تکیہ کے نیچے سے آپ کے بیٹے کی تصویر ملی ہے اور آپ کہ رہے ہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘وہ طنزیہ مسکرایا۔ ’’اس سے پہلے کے کسی کی نظر آپ کی جانب اُٹھے پلیز لے جائیں ایسے یہاں سے۔‘‘ وہ حیات کا ہاتھ پکڑ کر دوسری جانب دھکیل کر بولا جو سیدھی قریب آتے شیر سے ٹکرائی تھی۔ ’’اوہ ہیرو ہلکا ہوجا۔اور گھر میں لے کر جا اپنی بہن کو۔میرا کوئی واسطہ نہیں ہے اس لڑکی سے۔۔‘‘ شیر کے الفاظ اس کے تن بدن میں آگ لگا گئے۔۔۔ ’’شیر۔۔‘‘ناصر صاحب کے گھورنے پروہ کمینگی سے مسکرایا۔ ’’چلو یہاں سے۔‘‘ فی الحال انہوں نے واپس جانے میں ہی عافیت جانی۔ ’’مگربابا! میں کیوں لے کر جاؤں اس کو۔ان کی بہن کو بھائی کے حوالے کریں۔‘‘ وہ مسکرا ہٹ ضبط کیے بولا۔جبکہ ناصر صاحب نے اس نازک صورتحال میں بھی اپنے بیٹے کی کمینگی پر لب بھینچے۔۔جبکہ مقابل کا زلت کے مارے چہرہ سرخ انگاری ہورہا تھا۔ ’’شیر یہ مزاق کا وقت نہیں ہے۔تمہاری غلطی کی وجہ سے کسی کی سالوں کی عزت مٹی میں مل گئی اور تمہیں مزاق سُوجھ رہا ہے۔‘‘ناصر صاحب کا دل کیا اپنے بیٹے کا منہ لال کردیں۔ ’’میں اس حیات وحیات کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گا۔فضول کے الزام لگا رہی ہے یہ لڑکی۔۔‘‘وہ پھر اپنے جلالی موڈ میں آیا۔ ’’شٹ اپ! بکواس بند کرو اپنی۔‘‘آج کی تاریخ میں ناصر صاحب کا ہاتھ ایک بار پھر اُٹھا تھا۔اور شیر افگن کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔ ’’حیات بیٹا۔‘‘ ’’میرے بابا! نہیں میرے بابا نہیں جاسکتے۔وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔۔ ابھی میں نے اُن سے معاف بھی مانگنی تھی۔نہیں پلیز نہیں۔۔۔۔۔۔‘‘وہ اچانک ہوش میں آتی سسکیوں سے بلک اُٹھی تھی۔ ’’وہ دیکھوں بھری تھالی کو لات مار کر اپنے عاشق کے ساتھ ساری رات منہ کالا کر آگئی بدبخت۔کس قدر دلیر ہے
