Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/09/2025
15 Views
Episode no 01
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_ایمن_قریشی #قسط_نمبر_1 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی نہ اپنا رنج نہ اپنا دکھ نہ اوروں کا ملال شبِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر کچھ اس طرح بھی گزرا تھا شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی عداوتیں تھیں ، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی عجیب ہوتی ہے راہِ سخن بھی دیکھ نصیر وہاں بھی آ گئے آخر جہاں رسائی نہ تھی اوائل دسمبر کی ٹھرٹھراتی سردیوں میں رات کا آخری پہر چل رہا تھا۔سرد ہواؤں کے تیز جھکڑوں نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ٹھنڈ کی شدت اِس قدر تھی کہ سڑکوں پر رش نہ ہونے کا برابر تھا۔مگر ٹھر ٹھرا دینے والی سردی میں شہر کے نجی ہسپتال میں خاموش بیٹھے وجود کو اپنی رگوں میں خون جمتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔زندگی خود سے دور اور بہت دور جاتی محسوس ہوئی تھی۔ ہسپتال کے کوریڈور میں موت کا سا سناٹا تھا۔زندگی سے تھکا ہارا تن تنہا شخص ٹکٹکی باندھے آپریشن ٹھیٹر کی جلتی لال بتی کو دیکھتا سانس روکے بیٹھا تھا۔جبھی وحشت زدہ ماحول کی خاموشی کو چیرتی ایک ننھی سی جان کی چیخ نے سکوت سا توڑا۔۔رُخ موڑ کر اپنے بیٹے کو دیکھ وہ آنکھیں پھیر گیا جو ابھی صرف ایک ماہ کا تھا۔مگرسخت سردی اور بھوک کے باعث بیدار ہوتا وہ بلکنے لگا۔جبھی سفید کوٹ میں ملبوس ڈاکٹرز منہ پر سے ماسک ہٹاتے اس کے نزدیک آئے۔ ’’ڈاکٹر ہاؤ از شی ناؤ؟‘‘لہجے میں ایک اُمید سی تھی مگر ڈاکٹر کے چہرے پر چھائی خاموشی اُسے چیخ چیخ کر موت کا عندیہ دے رہی تھی۔۔۔ ’’آئی ائیم سوری مسٹر۔۔۔شی اِز نو مور۔۔‘‘محض چار الفاظ ادا کرتا ڈاکٹر اِس کے وجود میں چلتی آخری سانسیں بھی کھینچتا ہوا اس کا وجود ساکت کر گیا ۔جبکہ وہ معصوم اپنی ماں کو کھو کر اب تیز آواز میں رُورُوکر اپنے نقصان پر ماتم کناں تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیو یورک شہر میں جون کے ماہ میں ورلڈ بائی سیائیکل ڈے منایا جاتا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں سائیکل سوار سروں پر ہیلمٹ پہنے تیزی سے پیڈل مارتے جیتنے کی لگن میں ایک دوسرے کے پیچھے چھوڑتے بھاگے چلےجارہے تھے۔چالیس مائلز کی اس ریس میں کتنے ہی برجز،اسٹریٹز،اور دریاؤں کو پار کرتے لوگوں کا ایک جمع عفیر تھا جو کئی کلو میٹر کی اس ریس میں ان کے ساتھ ساتھ نظر آرہا تھا۔۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے وہ نیو یورک اسٹریٹ پر کان میں لگے بلیو توتھ کے زریع پاکستان میں کال پر موجود دادی صاحب سے بات کرتا سائیکل سواروں کی ریلی کو دیکھ چند لمحوں کے لیے ٹھر گیا تھا۔ اسٹریٹ پول کے ساتھ کھڑے ہوتے ارتضیٰ عباس نے یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا۔جبھی کان میں گونجتی ایک شفیق سی آواز نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ’’ بیٹاآپ پاکستان کب واپس آئیں گے؟‘‘ارتضیٰ نے لب بھینچے ایک گہری سانس کھینچ کر فضا کے سپرد کی ۔ ’’بہت جلد۔۔ان شاءاللہ جلد ملاقات ہوگی۔‘‘وہ الوادعی کلمات ادا کرتا مگن سے آنداز میں خوابوں کے شہر کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرتا تمام فکروں پریشانیوں سے غافل ہوچکاتھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پلیز!جانے دو مجھے یہاں سے۔۔کل میرا نکاح ہے۔بات سمجھنے کی کوشش کرو۔"بند گھپ آندھیرے کمرے میں وہ رُو رُو کر مقابل سے اِلتجا ئیں کر رہی تھی۔ ’’تمہیں تو ہم چھوڑ دیں گے۔مگر پہلے یہ بتاؤ اس کے بدلے مجھے کیا فائدہ۔‘‘وہ سرد سی سرگوشی میں بولتا اِس کی سانسیں خشک کر گیا۔ٹھنڈے یخ بستہ ہاتھوں کو جوڑتی وہ گڑگڑا کر اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ’’میرا بھائی۔وہ وہ آ پ کو سب دے گا۔جو آپ بولو گے۔پلیز مجھے چھوڑ دو۔‘‘وہ سسکی بھر کر رہ گئی۔ ’’چھوڑ دونگا۔مگر شرط جیتنے کے بعد۔‘‘وہ مکاری پن سے بولتا اس پر جھکا تھا۔جبکہ وہ ہذیانی سی ہوکر پاگلوں کی طرح چیخ چیخ کر اپنوں کو پکارنے لگی تھی۔زندگی کھیل نہیں ہوتی اس بات کا آندازہ ہوتے ہوتے بہت دیر ہوچکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون کے اختتامی دنوں میں ہاشمی ولاکی چھت پر مکمل جاہ و جلال سے طلوع ہوتا سورج اپنے جوبن پر تھا۔بادلوں سے مبرہ نیلے اکاش میں پنکھ پھیلائے اونچی پرواز بھرتے پرندے آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے متمنی تھے۔بظاہر منزل قریب سے قریب تر تھی ۔مگر پروں کی تھکان واضح ثبوت تھی کہ آسمان کو چھولینے کی چاہ میں بھری گئی پرواز بڑی کٹھنائیوں کے بعد ہی منزل مقصود تک پہنچنےمیں کامیاب ہوسکتی ہے ۔منزل سے بہت قریب مگر منزل تک پہنچنے میں ناکام اب وہ واپس زمین کی جانب گامزن تھے۔کیوں کے در حقیقت پرواز چاہے جتنی بھی اُونچی بھر لی جائے مگر آشیانے تو زمین پر اور زمین زادوں سے ہی آباد ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی ولا کے قد بالا لوہے کے بھاری صدر دروازے پر تعینات باوردی گارڈز مسلسل ہچکیاں بھرتی ،روتی ،سسکتی ماہ جبین کو ولا کے سامنے سے ہٹانے میں مصروف تھے۔جو مسلسل ولا میں داخل ہونے کا راگ الاپتی التجائیں کر رہی تھی۔کہ جبھی برق فتاری سے آتی شیر افگن کی فورچنر کو وہاں دیکھ صدر دروازہ کھول دیا گیا۔گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان شخص کی دیکھنا تھا اور وہ پری پیکر آپے سے باہر ہوگی ۔صدر دروازے سے انٹر ہوتی گاڑی بڑی سی گول کیاری کے گرد گھومتی ہاشمی ولا کے وسط میں بنی بلڈنگ کے دروازے کے عین سامنے جاکر ٹھری تھی۔۔۔ گاڑی سے قدم باہر نکال ڈیمج پینٹ اور بلیو شرٹ میں ملبوس شیرافگن خُماری سے لبریز آنکھوں میں تعجب لیے گوگلزاتارتا کشمکش کا شکار بڑی توجیہی سے رُوتی بلکتی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔گارڈز مسلسل روک تھام میں کوشاں نظر آرہے تھے ۔مگر وہ تھی کہ اپنے اِرد گِرد سے بیگانہ اب باقاعدہ شیر کا نام ُپکارنے لگی تھی۔کہ جبھیُ اس کے اشارے پر اِس لڑکی کو اندر آنے کی اجازت ملتے ہی وہ کرنٹ کھا کر تیزی سے بھاگ کر سیدھی اس کے سینے سے لگتی ہاتھ تھام چکی تھی۔جبکہ کرنٹ لگنے کی باری شیر افگن کی تھی۔ ’’شیر۔۔۔یہ لوگ مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔پلیز سمجھاؤ انہیں کہ میں۔۔میں۔۔‘‘روتی بلکتی لڑکی کے باقی کے الفاظ کہیں منہ میں ہی گُم ہوگئے تھے۔ ’’پیچھے ہٹوں لڑکی۔۔۔۔۔‘‘وہ اُسے دھکیل کر اچانک ہی شدت سے دھاڑا تھا۔حیات لہرا کر بے یقینی سے دو قدم پیچھے کو ہوئی۔جبکہ شیر کا سر چکرانے لگا تھا۔ ’’کون ہو تم؟اور کیا تماشا لگایا ہوا ہے؟‘‘اس لڑکی کی جرأ ت پر اس کی آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگا تھا۔ ’’شیر!!کیا ۔۔۔کیا کہ رہے ہو تم۔۔پلیز ایسا مزاق نہیں کرو ابھی۔۔میں بہت پریشان ہوں جانتے تو ہو تم۔‘‘وہ آنکھوں میں ُاداسی لیے روپڑی ۔ ’’لڑکی کون ہو تم؟اور یہ کیا ڈرامہ لگایا ہوا ہے؟‘‘ شیرافگن دو قدم نزدیک آتا اپنی سُرخ آنکھیں اُس کی لال آنکھوں میں گاڑتا جبڑا پکڑ کرچیخا۔حیات کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھیل گئیں تھیں۔ ’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟کیوں شور مچا رکھا ہے؟‘‘ابھی وہ مزید کچھ کہتی کہ جبھی ناصر صاحب شور شرابہ سُن کر باہر آئے تھے۔ ’’انکل انکل!پلیز میری مدد کریں۔‘‘وہ اچانک سے روتی ہوئی ان کے قریب آئی تھی۔ ’’کیا
