Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 04
Written by:
Genre:
Published: 12/01/2026
75 Views
Part 04
بار کہوں آپ سے کہ پلیز!آپ بار بار میرے روم میں آکر مجھے ڈسٹرب نا کیا کریں۔‘‘ضامن کو سخت قسم کی کوفت ہوئی تھی۔ ’’ضامن یہ تمہاری صحت کے لیے اچھا ہے۔‘‘وہ بکرے کی یخنی کا پیالہ اس کی جانب بڑھا کر پیار سے بولی ۔جبکہ سرخ نگاہوں سے گھورتا کچھ سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ’’پہلی بات تو یہ کہ میں بیمار نہیں ہوں!چند ایک چوٹیں ہیں جو آج کل میں بھر جائیں گی تو پلیز مجھے صدیوں کے بیماروں کی طرح ٹریٹ کرنا چھوڑ دیں۔‘‘وہ پیالہ غصہٰ میں ایک جانب رکھ درشتگی سے پھنکارا جبکہ وہ اسٹیچو کی طرح اس کے سر پر سوار ہوگئی تھی اور اب ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ’’یار مسئلہ کیا ہے آپ کا؟جا کیوں نہیں رہیں؟‘‘ضامن ایسے خاموش کھڑا دیکھ زچ ہوا۔ ’’چلی جاؤنگی پہلے یہ سوپ فنش کرو۔‘‘وہ بھی سینے پر بازو لپیٹتے باضد ہوئی۔ ’’اچھا!اور اگر ناکرو تو؟‘‘وہ آئی برو اٹھا کر بولا۔ ’’تو پھر میں تمہیں اپنے ہاتھ سے پلاؤنگی اور اس کی پک بناکر ایف بی پر اپلوڈ بھی کرونگی۔۔ساتھ کیپشن ڈالونگی ایک روندو بچہ جو بیمار ہونے کے بعد دوائی اور کھانا کھانے میں ضدی بچوں کی طرح تنگ کر رہا ہے۔‘‘وہ مزے سے مسکراہٹ چھپاتی ایسے سلگا کر رہ گئی تھی۔ ’’دل نشین میں آپ کا لحاظ کر رہا ہوں پلیز جائیں یہاں سے!‘‘ضامن کو اب ایسے جھنجھلاہٹ سی ہورہی تھی۔وہ چاہنے کے باوجود سختی نہیں کر پارہا تھا۔ ’’پہلے سوپ۔‘‘دل نشین نے آنکھوں کے اشارے سے توجہ دلوائی۔ ’’مطلب آپ نہیں جائیں گی؟‘‘وہ زچ ہوا جس نے نفی میں گردن ہلا کر انکار کیا تھا۔جبکہ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔ ’’آپ کو تو بہت شوق ہے مجھے تکلیف پہنچانے کا ایک کام کرتا ہوں میں ہی یہاں سے چلا جاتا ہوں۔‘‘اٹھنے کی کوشش میں گھٹنے میں لگی چوٹ کے باعث ایک دم درد کی سرد سی لہر دوڑ گئی تھی۔ ’’آہ ہ!وہ کراہ کر واپس بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔دل نشین بوکھلا کر قریب ہوئی۔ ’’ضامن اگر اب مزید کوئی بکواس کی یا الٹی سیدھی حرکت کرنے کی کوشش کی ناتو یاد رکھنا میں بخشونگی نہیں۔چپ چاپ آرام سے بیٹھو۔‘‘دل نشین اس بار لہجے میں سختی سموئے انگشت شہادت اٹھائے وارن کرتے لہجے میں سختی سے بولی۔جو اس کا حق جماتا انداز دیکھ ایک لمحے کو ٹھر گیا تھا۔ ’’منہ کھولو!‘‘اس کے گھور کر حکم دینے پر ضامن نے خاموشی سے تھوڑا سا منہ کھولا تھا۔جبکہ دل نے آنکھیں چھوٹی کیے مشکوک انداز میں ایسے گھورا تھا جو کسی اور ہی خیالی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ ’’ڈفر اپنا منہ تو بند کرو!اور یہ پیالہ پکڑو۔۔اورخود سوپ پیو تاکہ زرا مسلز کام کریں۔صبح سے بستر پر جم کر بیٹھے ہوئے ہو۔۔ہلو جلو زر ورنہ پرزوں میں زنگ لگا جائے گا۔‘‘ایک حسین سا خواب ابھی حقیقیت کا روپ دھارنے ہی لگا تھا کہ دل نشین کی زرا سخت سی آواز پر چھناک کی اواز سے ٹوٹتا کرچی کرچی ہوگیا تھا۔وہ گڑبڑا کر ہوش میں آیا۔ ’’کیا!‘‘وہ ہونق سا بنا بیٹھا تھا۔ جو پیالہ پکڑے مسلسل ایسے تھامنے کے لیے کہ رہی تھی۔ضامن کو دو منٹ لگے تھے سچوئشن سمجھنے میں اور جب بات سمجھ آئی تھی۔وہ دانت پیس کر رہ گیا۔۔ ’’لائیے دیجیے میڈم!بہت مہربانی آپ جناب کی۔کہ آپ نے ناچیز کے لیے اپنے خوبصورت ہاتھوں کو زحمت دیتے ہوئے بالکل ایک سرکاری اسکول کی ماسٹرنی کی طرح اس روندو پلس بیمار ضدی بچے کے لیے یہ سوپ تیار کیا۔۔اور اب ڈنڈے کے بل پر زبردستی سوپ پیلانے میں کوشاں ہیں ساتھ انکار کرنے پر اپنے انداز میں پٹائی کی دھمکی بھی لگائی جا رہی ہے۔ بھئ واہ واہ!‘‘وہ سوپ کا پیالہ آہستگی سے اس کے ہاتھ سے لےکر طنزیہ لہجہ اپناتا جس تقریری آنداز میں گویا ہوا تھا عین ممکن تھا دل نشین کی ہنسی چھوٹ جاتی جس پر وہ ضبط کئے کھڑی تھئ۔ ’’شاباش!ضامن بخاری ایک بہت پیارا بچہ ہے۔جو اپنی مس کی ہر بات مانتا ہے۔گڈ بوئے۔۔چلو اب تھوڑی دیر میں ہم بالکل آپ جناب کے مزاج جیسی کڑوی کسیلی دوائی لیں گے اور پھر آرام کریں گے!‘‘وہ خالی باؤل اس کے ہاتھ میں تھامتی زرا مزاحیہ لہجے میں بولی کہ شاید اب ا سکا موڈ ٹھیک ہوجاتا۔مگر مقابل بھی انتہا کا ضدی تھا۔ ’’پلیز!آپ مزید اس بیمار بچے کی خاطر اپنی نازک سی جان جوکھم میں نا ڈالئے گا مس دو سال بڑی کزن صاحبہ۔۔ کیوں کہ بندا ناچیز پہلے ہی آپ کی کرم نوازشوں کے احسانوں کے بوجھ تلے کاٖفی دب چکا ہے۔اوراب ان ناتواں کندھوں میں مزید بوجھ آٹھانے کی سکت باقی نہیں رہی ہے۔برائے مہربانی ناچیز پر رحم کیجئےاستانی صاحبہ!!‘‘ضامن زبردستی لب کھینچتا مصنوعی مسکراہٹ سجاتا مزید طنز کرگیا تھا۔ ’’اس میں زحمت کیسی ۔۔اگر چھوٹوں کا دماغ اپنی جگہ سے ہل جائے تو ایسے واپس اس کی جگہ پر فٹ کرنا تو بڑوں کی زمہ داری ہوتی ہے نا ڈئیر کزن!‘‘دل نشین مسکرا کر قیاس کرتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔ ’’اور اگر چھوٹوں کو بڑوں سے محبت ہوجائے تو کیا بڑے چھوٹوں کی اس محبت کو اپنے بڑے سے دل کے کسی چھوٹے سے خانہ میں فکس نہیں کرسکتے؟‘‘وہ جو مسکرا کر چل دی تھی کہ پیچھے سے ابھرتی ضامن کی معنی خیز اواز پر ٹھر گئی تھیں۔جس کی جزبات چھلکاتی نگاہیں اسی کی پشت پر ٹکی ہوئی تھیں۔ ’’بعض اوقات بڑے چھوٹوں کی بہت سی خواہشات کو پوراکرنے کے قابل نہیں ہوتے۔‘‘‘وہ آنکھیں میچ کر پلٹتی سادہ انداز میں بولی تھی۔ ’’اور اگر میں کہوں کہ میں کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑوں گا تو؟‘‘باتوں کا رخ ایکدم تبدیل ہوگیا تھا۔ ’’میں یہ پیالہ رکھ کر آرہی ہوں۔پھر تم دوائی لے کر سوجانا ۔۔ابھی تمھیں آرام کی سخت ضرورت ہے۔‘‘وہ عجلت بھرے انداز میں بول کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔جبکہ پیچھے بیٹھا ضامن کتنی دیر خاموش ہی بیٹھا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ السلام علیکم! آج کی قسط کیسی لگی؟اور دادی بیگم کیا کرنے جا رہی ہیں؟؟کیا دل نشین اور ضامن کی راہیں الگ ہو جائیں گی یا پھر کہانی میں آئیگا ٹوسٹ؟؟🤔اپنی قیمتی رائے کا اظہار لازمی کیجئے گا۔
