Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 04
Written by:
Genre:
Published: 12/01/2026
75 Views
Part 04
نہیں تھا شام میں۔‘‘ناراضگی سے بولتا وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔ ’’ہاں تو نکاح تو ہوگا۔۔مگر آج نہیں دو دن بعد ہوگا۔۔اب بھلا تمہاری اس حالت میں ہم گھر میں شادیانے بجانے بیٹھ جائیں کیا۔اور ویسے بھی ہٹے کٹے جوان انسان ہو۔۔جلدی ٹھیک ہوجاؤگے۔‘‘قمروش بیگم نے ضامن کا درد کرتا کندھا تھپتھپایا نہیں تھا گویا سل مار دی تھی۔ ’’اففف!دادی آرام سے آپ کی طرح دیسی گھی نہیں کھایا ہم نے۔شہر کی ابرالودہ فضا میں پروان چڑھے ہیں ہم۔۔‘‘ضامن کندھا سہلا کر درد سے کراہایا۔ ’’بس !رہنے دو میاں!یہ جوہزاروں روپے کھانے پینے میںُ اڑا دیتے ہو کیا خاک دھول کھا کر آتے ہو جو زرا زر اسی چوٹیں برداشت کرنے کی بھی ہمت نہیں ہے۔‘‘قمروش بیگم تو فُل کھچائی کے موڈ میں تھیں۔جبکہ ساتھ بیٹھے مسکین نے دانت دکھائے۔ ’’تم کیا بیٹھے بیٹھے دانت نکالے جا رہے ہو۔چلو اٹھو جاکر اپنے باپ کو بلاؤ۔زرا ضروری بات کرنی ہے مجھے۔‘‘قمروش بیگم نے ساتھ بیٹھے مسکین کی بھی کمر ہلائی تھی۔۔ ’’جارہا ہوں دادی!آپ تو مجھ معصوم کا کندھا ایسے ہلا رہی ہیں جیسے پیڑ کا تنا ہلا رہی ہیں۔۔‘‘مسکین نے نازک کندھے کو سہلا کر شکوہ کیا۔ ’’جارہے ہو یا اٹھوں۔‘‘دادی صاحبہ تو اس عمر میں خاصی چاکو چوبند تھیں۔ ’’جا رہا ہوں۔۔‘‘مسکین منہ باسور کر بھاگا۔جبکہ وہ مزید بیزار سی شکل بنا کر بیٹھے ضامن کی کھچائی کرنے میں مصروف ہوگئیں تھیں۔جس نے کل کی ساری رات بخاری خاندان کو انگاروں پر لوٹا دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ہاؤس کے لان میں اس وقت ایک الگ ہی محفل لگی ہوئی تھی۔شام کے پانچ بج رہے تھے۔سورج کی جاتی ٹھنڈی کرنوں میں بخاری فیملی سعد کی فیملی کے ساتھ چائے سے لطف اٹھاتے خوش گپوں میں مصروف تھے۔جو محض ماں بیٹا بھی محیط تھی۔وہ ضامن کی خیریت پوچھنے کے ساتھ ساتھ اس رشتہ کے لئے ہاں بھی کہنے آئے تھے۔ ’’تو اماں جان آپ کا کیا خیال ہے۔میں تو کہ رہی تھی۔۔جب اس رشتہ کے لیے ہم سب راضی ہیں تو کیوں نا عید کے بعد شادی کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں؟سعد کی اگلے ماہ کی فلائٹ ہے۔ دل نشین کے کاغذات بھی بن جائیں گے۔پھر سعد جب چاہے گا سہولت سےدل ننشین کو اپنے پاس ُبلا لے گا۔‘‘ بلقیس بیگم نے سامنے اپنی اپنی نشستوں پر موجود افراد کو دیکھ اپنی رائے پیش کی۔پلر کی آڑ میں کھڑی دل نشین کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ ’’آپ کی بات درست ہے مگر!ابھی اتنی جلدی۔۔۔پہلے ہم صرف منگنی نا کرلیتے پھر سال ڈیڑھ میں شادی۔۔‘‘شہروز صاحب کو یہ جلد بازی خاصی کھل گئی تھئ۔ ’’نہیں بھائی صاحب ہماری بات تو پہلے ہی طے تھی کہ میں سعد کا نکاح جلدی کرنا چاہتی ہوں۔مگر جب نکاح ہوجائے تو رخصتی میں کوئی مضحائقہ نہیں ہے۔‘‘ان کے ماتھے پر زرا بل نمودار ہوئے تھے۔۔ ’’اہمم!بلقیس بیٹا بات کچھ یوں ہے کہ دو دن بعد تو ہمارے پوتی پوتے کا نکاح ہے۔تو ہم چاہتے ہیں کہ عید کے دوسرے دن بچوں کی رخصتی بھی کر دیں۔دل نشین کا عید کے بعد ابھی صرف نکاح کر لیتے ہیں۔‘‘بلقیس کو ضامن کی حالت دیکھ نجانے کیوں مگر اب یہ رشتہ کچھ بے ضرار سا لگ رہا تھا۔۔ ’’چلیں پھر ٹھیک ہے۔مگر رخصتی ہمیں سال کے اندر اندر ہی چاہئے۔کیوں کہ سعد کو بار بار چھٹیاں نہیں ملتیں۔‘‘وہ راضی ہوگئی تھیں۔جبکہ شہروز صاحب کی پیشانی پر بل واضح ہوئے تھے۔ ’’چلیں!اتنا خوشی کا موقع ہے۔ منہ تو میٹھا کریں ناں!‘‘نوشین جو اس گفتگو میں کب سے خاموش بیٹھی تھیں۔۔جلدی سے اٹھی تھیں۔جبکہ پلر کی آڑ میں کھڑی دلنشین اندر چلی گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معاف کیجئے گا اماں جان!مجھے یہ جلد بازی کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ٹھیک ہے وہ لڑکا اچھا ہے۔مگر میری ایک بات یاد رکھ لیں جب تک میں دلی طور پپر مطمئن نہیں ہوجاتا یہ نکاح نہیں ہوسکتا۔میں نے مسکین اور معصومہ کے معاملے سے آپ سے کچھ نہیں کہا کیونکہ دونوں گھر کے بچے ہیں مگر میں ایک بار پھر اپنی بچی کے لیے ایسی لاپرواہی نہیں کرونگا۔آخری کو میر ے بھائی کی اکلوتی نشانی ہے وہ۔۔‘‘شہروز صاحب پشت پر ہاتھ باندھے غصہٰ میں مسلسل َ ادھر سے ُادھر ٹھل رہے تھے۔ ’’شہروز ٹھنڈے ہوجاؤ!مجھے اپنی بچی کی خوشیاں تم سے زیادہ عزیز ہیں۔پہلے تم اورفیاض ساری چھان پھٹک کرلو۔پھر ہی کوئی بات پّکی کریں گئے۔‘‘انہوں نے رسانیت سے جواب دیا۔۔ ’’اور یہ جو آپ نے شام میں نکاح کے لئے زبان دے دی ۔۔اس کا کیا؟‘‘وہ سخت طیش میں تھے۔ ’’ابھی کوئی زبان نہیں دی۔۔صرف ایک بات کی ہے۔تم دیکھ بھال کرلو۔مگر جو بھی کرنا ہے زرا جلدی کرو۔کیونکہ تمہارا بیٹا ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔‘‘انہوں نے اشاروں کناروں میں سختی سے بات کی تھی۔ ’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘وہ چونکے تھے۔ ’’تمہارے بیٹے کے سر سے دل نشین سے شادی کرنے کا بھوت ابھیُ اترا نہیں ہے۔‘‘قمروش بیگم کے انکشاف پر وہ حیرت سے پلٹے تھے۔ ’’کیا مطلب ہے؟دماغ خراب ہوگیا ہے اس کا؟جب وہ بچی ایک بار منع کر چکی تو کس بات کی زبردستی ہے۔‘‘انہیں طیش ہی تو آگیا تھا۔ ’’آرام سے تم فکر نہیں کرو!میں نے سوچ لیا ہے اب کیا کرنا ہے۔اگر وہ دونوں میرے پوتی پوتا ہیں تو میں بھی انکی دادی ہوں۔۔‘‘وہ بہت کچھ سوچے بیٹھی تھیں۔ ’’مطلب!وہ سمجھے نہیں تھے۔ماتھے پر بل ڈالے آج وہ سخت طیش میں ہیں۔۔ ’’مطلب یہ کہ اب ان دونوں کی شادی ساتھ ہی ہوگی۔۔ضامن کے لیے تمہاری وہ دوست کی بیٹی کیسی رہے گی؟‘‘انہوں نے دماغ لڑا کر رائے لینے والے آنداز میں پوچھا۔ ’’کون نوید کی بیٹی حنا؟‘‘وہ کچھ سمجھ گئے تھے۔ ’’ہاں وہی!بس مسکین کے نکاح کے بعد رشتہ مانگ لو۔۔اور انہیں بتا دینا کہ ہم اسی ماہ میں نکاح کرنا چاہتے ہیں۔‘‘انہوں نے سر ہلا کر حکم بھی سُنایا تھا۔ ’’کیا ہوگیا ہے اماں جان!میری اور نوید کی یہ دلی خواہش ہے کہ دونوں بچے نکاح میں بدھن میں بندھ جائیں ۔مگر اتنی جلدی یہ سب اور کیا ضامن مان جائے گا؟‘‘ان کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہوا تھا۔۔ ’’وہ مانے گا یا نہیں اس کی زمہ داری میری ہے!تم زرا اپنے چھوٹے سپوت کی لگامیں کس دو۔۔دو دن بعد نکاح ہے اس کا معصومہ سے۔‘‘وہ سنجیدگی سے بولتیں ہداہت دینا نہیں بھولیں تھیں۔ ’’اماں جان اب بھی!اب تو آپ اپنے پوتے کی شادی کروانے لگی ہیں تو ان بیچارے بچوں کو بخش دیں۔۔۔‘‘انہیں قائل کرنی کی ایک ناکام سی کوشش کی گئی تھی۔مگر ماں کی گھورتی نگاہیں دیکھ وہ کندھےُ اچکا کر رہ گئے۔ ’’بچے نہیں ہیں دونوں جو تم سارے ان کی پریشانی میں باولے ہوئے جارہے ہو۔ویسے بھی کم عمری میں شادی کرنا سنتّ رسولﷺ ہے۔تم لوگوں نے اچھا ٹرینڈ بنا لیا ہے آدھی عمر گزار لی تو تیس چالیس میں جاکر شادی کرنا یاد آرہا ہے۔‘‘وہ اپنے سوئیٹر کا بٹن ٹھیک کرتیں ناگواری سے بول کرکھڑی ہوئیں۔ ’آپ کی بات ٹھیک ہے اماں!مگر دونوں اگ اور پانی ہیں۔۔کوئی ایک بھی سمجھدار ہو تو بات بن بھی جائے۔‘‘انہوں نے ایک لاجکل بات کی تھی۔ ’’تو کوئی بات نہیں!ہم جو زندھ بیٹھے ہیں انہیں سمجھانے کے لیے تم فکر چھوڑ دو۔۔جب دونوں اپنی اپنی زمہ داری سمجھیں گے تو خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘شہروز صاحب ان کے دلائل پر ایک گہری سانس بھر کر کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ضامن یہ لو یہ سوپ پی لو!میں نے اسپیشل تمہارے لیے بنایا ہے۔‘‘دل نشین صبح سے اسے منانے کے لیے کئی جتن کر چکی تھی۔جو روٹھی محبوبہ بنا بیٹھا تھا۔ ’’کتنی
