Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 04
Written by:
Genre:
Published: 12/01/2026
75 Views
Part 04
رپورٹس کلئیر تھیں مگر پھر بھی ضامن کے ہوش میں آنے سے پہلے کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا۔۔ ’’شہروز بھائی فجر کی اذان ہورہی ہے۔۔چلیں مسجد چلتے ہیں نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ کا شکر بھی۔۔اس نے ہمیں کسی بڑی ازمائش سے محفوظ رکھا۔‘‘فیاض صاحب نے ان کی توجہ شکر بجالانے کی طرف دلوائی تھی ۔جو ہر حال میں سب سے اہم تھا۔ ’’صبح کی پُھوٹتی پہلی کرن اور مسجدوں کے بلند و بالا مینار سےُ گونجتی اذان کی تیز صداؤں پر فیاض صاحب نے سر تھامے بیٹھے شہروز صاحب کو پکارا تھا۔وہ چونک کر متوجہ ہوئے۔۔۔ ’’ہاں!مگر دل نشین اکیلی ہے۔۔‘‘انہیں صبح کا سناٹا دیکھ اس کی فکر لاحق ہوئی تھی۔نوشین رات کو ہی واپس چلی گئیں تھیں۔مگروہ وہاں ٹھرنے پر باضد رہی تھی۔ ’’کوئی بات نہیں چاچو میں بھی وضو کر کے نماز کے لئے ہی جا رہی ہوں۔آپ بے فکر ہوکر جائیں۔۔‘‘دل نشین سپاٹ اندازز میں بول کر اپنا دوپٹہ درست کرتی اندر کی جناب بڑھی تھی۔جبکہ وہ لوگ قریب ہی مسجد کی جانب بڑھے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طویل اور کٹھن رات کے بیت جانے کے بعد بلاآخر ضامن بخاری کو ہوش آہی گیا تھا۔اطلع ملتے ہی سب فوری جنرل وارڈ کی جانب بڑھے تھے۔ماسوائے دل نشین کے۔۔جہاں وہ سامنے ہی ہسپتال کے بیڈ پر زار اونچا ہوکر لیٹا ہوا تھا،جبکہ سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔چہرے پر رگڑ لگنے کی وجہ سے سوجن ہورہی تھی،جبکہ اس کی پیاسی نگاہیں جس ہستی کو تلاش رہی تھیں وہ سرے سے غائب تھی۔ ’’ضامن بیٹا کیسی طبیعت ہے اب؟‘‘شہروز صاحب تو ایک طرف کو خاموش کھڑے ہوگئے تھے۔جبکہ فیاض صاحب نے اگے بڑھ کر خیریت دریافت کی تھی۔ ’’ٹھیک ہوں!پریشان نا ہوں پلیز!‘‘ضامن نے تکلیف سے کھچتے ہوئے جبڑے سے بامشکل مسکرانے کی کوشش کی تھی۔ ’’سر میں تو تکلیف نہیں ہے نا!ویسے تو ڈاکٹرز نے کہا ہے۔سب ٹھیک ہے ۔مگر پھر بھی تم بتاؤ کسی اچھے ہسپتال چلیں۔۔‘‘وہ رات میں ایسے ایک نظر دیکھ تو گئے تھے مگر دل ابھی بھی مطمئن نہیں تھا جبکہ ضامن کی ساری توجہ باپ پر تھی۔جو مخاطب ہی نہیں کر رہا تھا۔ ’’بابا!آپ نہیں پوچھیں گے۔‘‘وہ سمجھ گیا تھا وہ ساری رات کس ازیت سے گزرے ہونگے۔ ’’کیا پو چھوں تم سے!تمہیں کونسا بُڑھے باپ کی عمر کا خیال ہے۔تم وہی کرو جو تمہارا دل چاہتا ہے۔۔۔ہم کون ہیں تمہارے یا ہماری پروہ کرنے کی کیا ضرورت ہے تمہیں ہاں۔۔۔‘‘بلآخر رات سے خود پر ضبط کے پہرائے بیٹھائے وہ غم و غصہٰ کی ملی جلی کیفیت میں چیخ اٹھے تھے۔ ’’ بھائی صاحب!فیاض نے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔ ’’سوری!‘‘وہ محض شرمندگی سے ایک لفظ بولتا گردن جھکا گیا تھا۔ ’’کیا سوری ہاں!کیا اچار ڈالوں تمہارے سوری کا؟کچھ آندازہ ہے تمہیں تمہارے اس بائیک ریسنگ کے چکر میں ہم کس مشکل سے گزرے ہیں؟‘‘شہروز جو خودپر کئی دنوں سے ضبط کئے بیٹھے تھے۔۔غصہٰ میں پھٹ پڑے تھے۔ ’’آپ آئیں میرے ساتھ۔۔۔ بچے ہیں۔۔ہوجاتی ہیں غلطیاں۔۔ ۔۔‘‘انہوں نے قائل کرنا چاہا ۔ ’’بچے!بچے ماں باپ کو عمر بھر کاروگ دیے دیں۔اور ہم ساری زندگی انکی غلطیاں نظر انداز کرتے رہیں۔‘‘وہ شرمندگی سے جھکے سرکا زخم دیکھ فیاض صاحب سے اپنے ہاتھ چھوڑواتے طیش میں بولتے کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔ ’’ بیٹا تم فکر نہیں کرو۔۔تم آرام کرو۔باپ ہیں غصہٰ میں ہیں ابھی۔۔میں دل نشین کو بھیجتا ہوں تمہارے پاس۔‘‘وہ اس کا کندھا تھپتھپا کر باہر کی جانب بڑھے تھے۔ ضامن کو اپنے باپ کی حالت دیکھ اپنی بیوقوفی پر افسوس ہوا تھا۔وہ تو پہلے ہی ایک بیٹے کا صدمہ سہ کر بیٹھے تھے۔اب یقیناًانہیں دوسرے کو ا س حالت میں دیکھ شدید صدمہ پہنچا تھا۔آنکھیں زور سے میچتا وہ بیڈ پر سر گرا کر لیٹ گیا تھا،جبکہ جس کی وجہ سے وہ ان حالات میں تھا وہ تو نا جانے کہاں گم ہوئی بیٹھی تھی۔ضامن کو ایک بار پھر نئے سرے سے غصہٰ آیا تھا۔۔وہ پتہ نہیں ہسپتال آئی بھی تھی یا نہیں۔بدگمانیاں دل میں پنچے گاڑے بیٹھی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل نشین جو شکرانے کے نفل ادا کرتی اسی جانب آرہی تھی کے سامنے غصےسے باہر نکلتے چچا کو دیکھ ان کی جانب لپکی تھی۔ ’’چاچو!‘‘ ’’دل بیٹا!بھائی صاحب زرا غصہٰ میں ہیں۔تم ضامن کا خیال رکھنا۔۔بس کچھ دیر میں فارملٹیز پوری کر کے گھر کے لئے نکلتے ہیں ۔‘‘وہ ہونق بنی دل نشین کو ہدایت دیتے وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے۔ دل نشین لب چباتی متذبذب سی قدم قدم اٹھاتی دروازہ میں استادہ چند لمحوں کے لیے ٹھر گئی تھی۔کتنی ہی دیر وہ سجدے میں گری روتی رہی تھی۔کتنی دعائیں کی تھیں اس کے لیے۔چند لمحوں سے لئے نظروں کے سامنے ضامن کی سرخ نگاہیں گھوم گئیں تھیں۔مگر پھر سر جھٹکتی وارڈ میں داخل ہوئی۔جہاں اور بھی بیڈز موجود تھے۔مگر چاچو کی ریکوئسٹ پر وہ اس روم میں اکیلا ہی تھا۔مگر نظر جیسے ہی اس پر گئی تھی دل نشین کو ایک بار پھر سے رونا آیا تھا۔ یہ کیا کرلیا بیوقوف۔۔"مسلسل رونے کے باعث سرخ متورم آنکھوں میں افسوس لئے وارڈ میں داخل ہوتی اس کو پٹیوں میں جکڑا دیکھ بے ساختہ ہی لپکی تھی۔ "خبردار!!جو آپ میرے قریب بھی آئیں تو وہیں کھڑی رہیں۔ویسے بھی مجھے ہر ایرے غیرے سے محبّت بٹورنے کی عادت نہیں ہے۔"وہ ایک جھٹکے سے زرا سا اٹھتا سر میں اٹھتی تکلیف پر ضبط کئے درشتگی سے پھنکارا۔جس کے بھاگتے قدموں کو بریک لگا تھا۔۔ "کیا بچپنا ہے ضامن!!میں تمہاری سب سے اچھی دوست،تمہاری کزن ۔۔غیر کب سے ہوگئی۔۔"وہ بھی بغیر سننے انسنی کرتی نزدیک آئی جو غصّہ میں اپنا نقصان کر بیٹھا تھا۔ "نہیں دوست نہیں۔۔۔عمر میں بڑی محبّت جس کی سخت دلی کے باعث میں آج مر رہا ہوں۔۔"وہ سخت الفاظ میں بولتا دلنشین کا دل نوچ گیا تھا۔۔ "شٹ آپ ضامن !!"دو سال بڑی ہوں تم سے اگر بکواس کی تو ایک تھپڑ بھی لگا سکتی ہوں۔"وہ ہاتھ کی پشت سے بیدردی سے رخسار رگڑتی رندھی ہوئی آواز میں سختی سے بولی۔ "یہی تو ُدکھ ہے زندگی کا ۔۔۔کہ آپ مجھ سے دو سال بڑی ہیں۔"وہ کرب سے استہزایہ مسکرایا تھا۔ "ضامن!!!چلی جائیں یہاں سے اور اپنی زندگی میں خوش رہیں واپس نہیں آئیے گا۔۔"ہاتھ کے اشارے سے منع کرتا وہ سخت غصّہ میں دکھائی دے رہ تھا۔۔ دل نشین کی بس ہوئی تھی۔"میری بات تو !!" بس کہ دیا نا پلیز جائیں یہاں سے اور بابا کو بلائیں کہاں ہیں وہ۔‘‘ضامن کو اتنی دیر بعد دیکھ نئے سرے سے غصہٰ ایا تھا۔جو اس کے درشت رویہ پر افسوس بھری نگاہ ڈالتی پشت سے رخسار رگڑتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بس کہ دیا میں نے!اب سے تم یہ بائیک نہیں چلاؤ گے۔اور گاڑی کی چابی بھی مجھے دے دو۔بس اب یہ تمہیں جبھی ملے گی جب تم اپنے یہ فضول سے شوق چھوڑ دو گئے۔‘‘ وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوکرگھر واپس اگیا تھا۔بیڈ پر اس کے برابر میں بیٹھی قمروش بیگم اٹل لہجے میں بولیں تھیں۔ ’’دادی پلیز!میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جو آپ لوگ مجھ پر اس طرح کی پابندیاں لگا رہے ہیں۔‘‘ضامن کو جی بھر کر بیزاری ہوئی تھی۔شہروز صاحب تو صبح سے ناراضگی کے باعث اس کے کمرے کی جانب آئے ہی نہیں تھے۔ ’’لڑکے تم تو چھوٹے بچے سے بھی گئے گزرے ہو۔یوں زرا زار سی باتوں ہر بھلا کون روٹھتا ہے۔‘‘خشمگیں نگاہوں سے دیکھ انہوں سے فوری اڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ’’پلیز دادی میرے سر میں بہت درد ہے۔۔اور آپ پلیز جائیں نا !!!آج تو آپ کے پوتی پوتے کا نکاح
