Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 04
Written by:
Genre:
Published: 12/01/2026
75 Views
Part 04
Bheegi si Hawa Ho Tum Part 04 By Huma Qureshi ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلنشین ہاتھ میں موبائل تھامے سوچوں میں ُگم ہی کھڑی تھی۔جبھی اس کا موبائل ایک بار پھر رنگ ہوا تھا۔چونک کر بلنک کرتی اسکرین کو دیکھا جہاں پھر سے کوئی ان نان نمبر شو ہورہا تھا۔ماتھے پر بل واضح ہوئے تھے۔مگر یہ نمبر سابقہ نمبر سے مختلف تھا۔ایک گہری سانس بھر کر کال ریسو کی ۔۔موبائل جیسے ہی کان سے لگایا تو کسی انجان کی آواز ُابھری۔ ’’ہیلو!مس دلنشین بات کر رہی ہیں؟‘‘دوسری جانب سے کسی کی بڑی گھبرائی ہوئی سی آواز سنائی دی تھی۔ ’’جی بات کر رہی ہوں۔۔‘‘وہ زرا متعجب ہوئی تھی۔ ’’واٹ!کیا بکواس ہے یہ ۔۔آپ ضامن کو فون دیجئے۔۔۔۔‘‘مقابل کی بات سن کر وہ گھبرااٹھی تھی۔ ’’میں۔۔ میں آرہی ہوں۔۔۔آپ پلیز ہسپتال کا نام بتائئے۔۔۔‘‘دلنشین گھبراہٹ میں بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر سر پر ڈالتی جلدی سے دادی کے کمر ے کی جانب بھاگی تھی۔ ’’دادی !دادی!چاچو!‘‘وہ گھبراہٹ میں بھاگتی ہوئی تیز آواز میں سب کو پکارنے لگی تھی۔اس وقت عموماً سبھی لوگ اپنے کمروں میں چلے جایا کرتے تھے۔ ’’اللہ خیر!دلنشین بیٹا ۔ایسے کیوں چلا رہی ہو؟کیا ہوگیا ہے تمہیں؟شہروز صاحب گھبرا کر کمرے سے باہر آئے تھے۔ ’’وہ چاچو ضامن ۔۔۔‘‘ ’’کیا ہوا ضامن کو؟‘‘ایسے روتا دیکھ وہ گھبرا کر سیڑھیاںُ اترے۔ ’’ضامن کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔آپ پلیز جلدی ہوسپٹل چلیں۔‘‘وہ مسلسل بوکھلاہٹ کا شکار تھی۔ ’’یا اللہ خیر!کیسے ہوگیا ۔۔۔میرا بچہ ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘اپنے کمرے سے باہر آتیں قمروش بیگم لڑکھڑا گئی تھیں۔۔ ’’جی جی امی سب ٹھیک ہیں۔۔۔آپ پلیز آرام سے بیٹھیں۔۔۔‘‘شہروز صاحب نے انہیں سنبھال کر دلاسہ دیا۔ ’’دل نشین بیٹا تم آؤ میرے ساتھ۔۔۔مسکین تم دادو کا خیال رکھنا بیٹا۔۔‘‘وہ باپ تھے کچھ لمحوں کے لئے خود گھبرا گئے تھے۔مگر ابھی حوصلہ کرنا ضروری تھا۔ ’’شہروز میرا بچہ ہسپتال میں ہے۔میں بھی ساتھ جاؤنگی۔‘‘وہ باضد ہوئیں۔۔ ’’پلیز!امی آپ ضد نا کریں۔ابھی میں دیکھ لونگا۔‘‘وہ روتی ہوئی دل نشین کو اشارہ کرتے باہر نکل گئے تھے۔ ’’یا اللہ میرے بچہ کو اپنے امان میں رکھ۔‘‘پیچھے وہ ہال کے صوٖفوں پر بیٹھتیں مسلسل دعائیں کررہی تھیں۔جبکہ مسکین نے جلدی سے فیاض صاحب کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل نشین شہروز صاحب کی ہمراہی میں حواس باختہ سی شہر کے سرکاری ہسپتال آئی تھی۔جہاں لوگوں کا ایک ہجوم سا تھا کوئی اللہ کا نیک بندا ضامن کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد خود غائب ہوگیا تھا۔ ’’ضامن ۔۔۔ضامن بخاری کس فلور پر ہیں۔جنہیں روڈ ایکسیڈینٹ میں لایا گیا ہے۔۔‘‘رسپیشنسٹ نے انہیں فوری ایمرجنسی دیپارٹمنٹ کی جانب بھیجا تھا۔ ’’ڈاکٹر میرا بیٹا کیسا ہے؟‘‘ وہ کافی دیر سے ایمرجنسی میں تھا ۔۔۔وہ جو ابھی فلور چڑھ کر پہنچے تھے کہ ڈاکٹر کو ماسک اتار کر باہر آتادیکھ وہ بوکھلاہٹ میں ان کی جانب لپکے۔۔ ’’آپ ضامن بخاری کے والد ہیں؟‘‘ڈاکٹر نے تصدیقی آندا زمیں پوچھا۔جو شکل سے ہی پریشان حال دکھائی دے رہے تھے۔ ’’جی ۔۔جی ڈاکٹر۔‘‘انہیں سخت گھبراہٹ ہورہی تھی۔ایک بار پہلے بھی تو وہ اپنا جوان بیٹاگنوا چکے تھے۔ ’’ایکسیڈینٹ بہت زیادہ شدید نہیں تھا۔مگر زمینی رگڑ لگنے کی وجہ سے جسم میں اندرونی چوٹیں آئیں ہیں۔۔ویسے تو ہیلمٹ کی وجہ سے سر کی بچت ہوگئی ہےمگر ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں سر میں کوئی شدید چوٹ نا آئی ہو۔۔جب تک رپورٹس نہیں آتیں فی الحال ہم کچھ نہیں کہ سکتے۔‘‘ڈاکٹر کے اتنے سخت الفاظ سن دل نشین کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی تھی۔آج وہ جس بھی حالت میں تھا صرف اسی کی وجہ سے تھا۔ ’’میں۔۔۔کیا میں اپنے بیٹے سے مل سکتا ہوں۔۔‘‘وہ تو بالکل خاموش ہی ہوگئی تھی۔جیسے کچھ کہنے کو باقی ہی نہیں رہا ہو۔ ’’نہیں!ابھی وہ بے ہوش ہیں۔کچھ دیر بعد انہیں وارڈ میں شفت کردیا جائے گا۔پھر آپ مل سکتے ہیں۔۔‘‘ ڈاکٹر پروفیشنل آنداز میں بولتا ہوا وہاں سے جا چکا تھا۔۔ ’’دل نشین میرا بیٹا!‘‘ ’’بھائی صاحب کیا ہوا ضامن کو وہ ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر صدمے میں تھے کہ دفتعاً اپنے قریب سے کسی بہت ہی اپنے کی اواز سی ُابھری تھی۔دوسری جانب سے فیاض صاحب اور نوشین تیزی سے بھاگتے ہوئے ان کی جانب آرہے تھے۔ ’’پتہ نہیں ٹھیک ہے بھی یا نہیں!ابھی ڈاکٹرز کچھ نہیں بتارہے۔‘‘وہ سرخ پڑتی آنکھیں میچ کر ضبط کیےنڈھال سے نظر آرہے تھے۔ ’’بھائی صاحب آپ فکر نا کریں!وہ ٹھیک ہوگا۔ہم ایسے کسی پرائیویٹ ہسپتال میں لے کر چلتے ہیں۔وہاں یہاں سے بہتر علاج ہوگا ہمارے ضامن کا۔‘‘نوشین بیگم نے دلاسہ دلانے کے ساتھ رائے بھی پیش کی تھی۔ ’’نہیں نوشین! علاج یہاں بھی ہو ہی رہا ہے۔ابھی کہیں لے جانا بیوقوفی ہے۔پہلے رپورٹس آنے دو۔‘‘فیاض صاحب نے مزید انہیں کچھ کہنے سے باز رکھا تھا۔جو اب دل نشین کی جانب متوجہ ہوئیں تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مسکین میرا بچہ زرا بہن کو فون ملا!کیسا ہے میرا ضامن۔۔۔میرا تو سوچ سوچ کر دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔‘‘قمروش بیگم مسلسل کچھ نا کچھ بڑبڑائے جا رہی تھیں۔جبکہ مسکین ضامن کی خیریت انہیں پہلے ہی دے چکا تھا۔ ’’دادی بھائی ٹھیک ہیں۔۔۔بس بابا کہ رہے ہیں ہم کچھ دیر میں آجائیں گے۔‘‘مسکین نے اب زرا جھوٹ سے کام لیا تھا۔کیونکہ زیادہ ٹینشن دینے سے ان کا بلڈ پریشر بڑھنے کا خدشہ تھا۔ ’’یا اللہ تیرا شکر!مگر تم ایک بار میری بات تو کرواؤ ضامن سے۔‘‘انہیں اب کی بار زرا چڑ سی ہوئی تھی۔ ’’دادی!دادی میری پیاری دادی۔۔ضامن بھائی کو نیند کا انجیکشن لگا یا گیاہے۔۔۔وہ اب صبح ہی آٹھیں گے۔‘‘مسکین ان کے قریب بیٹھتا بہلانے والے انداز میں بولا۔ ’’ابھی تو تم کہ رہے تھے بس وہ لوگ واپس آرہے ہونگے۔۔‘‘دادی نے مشکوک آنداز میں گھورا۔۔ ’’ہاں۔۔۔نہیں میرا مطلب تھا آپی لوگ آجائیں گے۔۔بھائی تو اب صبح ہی آئیں گے نا یار دادی ۔۔‘‘جھوٹ اور سچ کی کہانی سناتا وہ خود بھی گڑبڑا گیا تھا۔ ’’سچ بول رہے ہو نا؟‘‘قمروش بیگم کو ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تھی۔ ’’جی بالکل سچ!‘‘وہ مزید بولا تھا۔۔جبکہ اب نیند میں جھومتی معصومہ بھی ان کے پاس ہی آگئی تھی۔جیسے فیاض صاحب سوتے سے اٹھا کر بخاری ہاؤس میں چھوڑ گئے تھے۔۔ ’’معصومہ بیٹا تم کیوں آگئیں؟‘‘دادی نے ایسے پنک کلر کے نائٹ ڈریس میں جھومتا دیکھ پوچھا۔ ’’وہ دادی آپ پریشان ہیں نا!کیا ہوا ضامن بھائی کو؟‘‘وہ قریب ہی بیٹھ گئی تھی۔مسکین نے کوفت سے نظریں گھمائیں۔۔ ’’بیٹا بھائی اب بالکل ٹھیک ہے۔۔۔جاؤ شاباش تم جاکر سوجاؤ۔۔‘‘انہیں اس کا اس حالت میں کمرے سے باہر آنا زرا معیوب لگا تھا۔ ’’مگر دادی!آپ سیڈ تو نا ہو نا ضامن بھائی آتے ہونگے۔۔‘‘وہ دادی کا ضعیف سا ہاتھ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں تھامتی دلاسہ دینے والے آنداز میں بولی۔ ’’ہاں میرا بچہ آپ ٹھیک کہ رہی ہو۔۔۔۔مگر رات بہت ہو رہی ہے نا۔۔جاؤ آپ جاکر آرام کرو۔۔‘‘انہون نے ایسے زبردستی کھڑا کیا تھا۔جو فل نیند میں ٹن تھی۔معصومہ کی نیند کا یہ عالم تھا کہ اس کے کان پر اگر ڈھول بھی پیٹ دیا جاتا تو وہ ٹس سے مس نا ہوتی۔۔مگر ابھی نا جانے وہ کیسے آٹھ گئی تھی۔ ’’مسکین بیٹا تم بھی اپنے کمرے میں جاؤ ۔ میں جاگ رہی ہوں۔‘‘قمروش بیگم نے اب مزید ایسے بھی پریشان کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ’’نہیں ددای!مجھے نیند نہیں آئے گی۔۔میں آپ کے ساتھ یہیں ہوں۔۔آئیں ہم کمرے میں چل کر انتظار کرتے ہیں۔‘‘وہ انہیں ہال کے صوفے پر سے آٹھا کر اندر کمرے میں چلا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ہسپتال میں جلے پیر کی بلی کی مانند انتظار کرتے کرتے پوری رات بیت چکی تھی۔بس فجر میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔صد شکر تھا کہ
