Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
55 Views
Part 02
سے شادی ۔۔۔جیسے تم محبت سمجھ رہے ہو وہ محض وقتی آٹریکشن ہے اور بس کچھ نہیں۔۔‘‘بلاخر دلنشین ایسے کالر سے پکڑتی دکھ سے چلائی تھی۔جس کی آنکھوں میں جنون ہچکولے لے رہا تھا۔ ’’یہ وقتی کشش نہیں ہے دلنشین یہ محبت ہے میری۔۔۔بلکہ محبت بھی نہیں یہ عشق ہے میرا اور آپ ایسے یوں وقتی جزبات کا نام دے کر میرے سچے جزبوں کی توہین نہیں کرسکتیں۔۔‘‘منہ پر ہاتھ پھیر کر خود پر ضبط کرنے کی ناکام سی کوشش تھی۔ ’’ ہاں تو پھر میں کیا نام دوں تمہارے اس پاگل پن کو جو اپنے سے عمر میں دو سال بڑی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوکر ہر حد پار کرنے کے لیے جنونی ہوتا چلا جارہا ہے۔۔۔بولو کیسے یقین کروں تم پر۔۔۔کیا گرنٹی ہے کہ تم کچھ سالوں بعد مجھ سے بیزار نہیں ہوگے۔بتاؤ کیا ثبوت ہے اس بات کا کہ تم میرا ساتھ بیچ راستے میں نہیں چھوڑو گے۔‘‘بلاآخر دل کے خوف کو زبان پر لاتی چلائی تھی۔۔۔جبکہ وہ ساکت ہوئی نگاہوں سے بس ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ’’اوہ!تو آپ کو اپنی پہلی محبت کی طرح مجھ پر بھی شک ہونے لگا ہے کہ کہیں میں بیچ منجھدار میں آپ کا ساتھ نا چھوڑ دوں۔۔‘‘وہ دکھ سے ہنستا ہوا دو قدم پیچھے ہوا۔جبکہ وہ خاموش رہی۔ ’’اب بس! جتنی تزلیل کروانی تھی نا اپنی محبت کی وہ میں کرواچکا۔۔۔اب آپ اپنی پسند کے کسی بھی ایسے شخص سے شادی کرلیں جو تا عمر آپ کا ساتھ نبھائے ،کیونکہ میں تو آپ کو چھوڑ جاؤنگا۔۔‘‘وہ استہزایہ مسکرایا تھا۔۔دلنشین اس کے چہرے پر دکھ کے سائے دیکھ لب کاٹ کر رہ گئی۔۔۔۔ ’’جائیں کرلیں اپنی مرضی کے کسی بڑی عمر کے آدمی سے شادی ۔۔اب میں کبھی آپ کے راستے میں ہر گز نہیں آؤنگا۔۔۔اور ہاں ہمارے بیچ ایک اور بہت خوبصورت رشتہ حائل تھا ۔دوستی کا رشتہ۔۔۔ ،مگر میں ضامن بخاری آج سے آپ کے اور اپنے درمیان کا ہر رشتہ ختم کرتا ہوں۔اب نا دوستی رہے گی اور نا ہی محبت ۔۔آپ کو آپ کی مرضی مبارک۔۔‘‘سپاٹ آنداز میں گہری سفاکی سے دلنشین کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے وہ بہت پتھر دلی سے بولتا کمرے کا دروازہ ڈھڑام سے بند کرتا باہر نکل گیا تھا۔جبکہ خاموش کھڑی دلنشین کتنی دیر تک اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں سکی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ہاؤس کا شیرازہ چھ سال قبل ایک پلین حادثے میں بکھر کر رہ گیا تھا۔ اس اچانک رونما ہونے والی تباہی نے سب کی زندگیوں میں ناختم ہونے والی تشنگی سی بھر دی تھی۔ رشتوں کی تشنگی چاہنے اور منوانے کی تشنگی۔جو وقت کے ساتھ مزید تجاوز اختیار کرتی جا رہی تھی۔اس تناؤ بھرے ماحول میں قمروش بیگم نے ہمت باندھی تھی اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کو بھی سمیٹا تھا۔جو دکھوں کے بوجھ تلے کہیں گم سا ہورہا تھا۔ ’’وہ جنوری کی ایک بھیانک رات تھی جب ٖ ناصر بخاری اپنے بڑے بیٹے اور بہو کی ہمراہی میں ضامن کے بڑے بھائی کو ساتھ لیے عمرے کا فریضہ ادا کر نے لیئے پلین سے روانہ ہوئے تھے۔مگر اللہ کا گھر دیکھنے سے پہلے ہی پلین حادثے کی وجہ سے خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔اچانک ٹوٹنے والی قیامت نے سب کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ’’دل نشین یوں اچانک اپنے دونوں ماں باپ کو کھو کر پاگل سی ہوگئی تھی۔جبکہ قمروش بیگم شوہر جوان بیٹا بہو اور پوتے کی ناگہانی موت پر حواس کھو گئیں تھیں۔وقت سب سے بڑا مرہم ہے اور وقت رہتے ہر گھاؤ بھر ہی جاتا ہے۔وقت گزرہ تو انہیں ہی سب کو سنبھالنا پڑا ۔ضامن کی والدہ نے جوان سال بڑے لاڈلے بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرپائی تھیں۔اور ایک سال میں ہی بیس سالہ ضامن اور نو سالہ مسکین کو باپ پر چھوڑ کر اس جہاں فانی سے کوچ کر گئیں تھیں۔۔۔بس پھر جب سے ہی دادی اپنے سب بچوں کی ایک اچھی دوست دادی ماں ہر رشتہ بن گئی تھیں۔تاکہ وہ اپنے ماں باپ کی کمی نا محسوس کر سکیں مگر بھلا ماں کی کمی کو کون پورا کر سکتا تھا،اس سارے قصہٰ مین سب سے زیادہ ازیت کا شکار دلنشین کا جود تھا۔جس کے ماں باپ پیارے دادا اور بہترین دوست کزن اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ضامن اس کا دوست تھا مگر بہروز کے بعد وہ اس کے زیادہ قریب ہوگئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ضامن کو اپنی یہ پیاری سی کزن اچھی لگنے لگی تھی۔جو گھر میں بہت خاموشی سے سب کا خیال رکھتی تھی۔ ’’ ایسے اپنے یونی فیلو سے محبت ہوگئی تھی۔جس کا علم مرحوم ماں باپ کو بھی تھا۔مگر اب یہ پسند عشق کی منزلیں طے کرنے لگی تھی۔قمروش بیگم نے نکاح مین جلد کی تھی۔ڈگری مکمل ہوتے ہی دونوں کی رخصتی تھی۔۔۔مگر قسمت ایک بار پھر ایسے ازمانے کو تھی ۔بعد میں پتہ لگا وہ لڑکا نشئی ڈرگز اڈیکٹ تھا۔۔جس سے محض نکاح کے ایک سال میں علیحدگی ہوگئی تھی۔۔۔بس جب سے دلنشین نے خود کو پڑھنے تک محدود کر کے ایک خول میں سمیٹ لے لیا تھا۔اور اب ضامن تھا جو اس کا یہ خول ٹوڑنا چاہتا تھا جس کی کرچیاں شاید ایسے اندر تک زخمی کر دیتیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔ السلام علیکم! پڑھ کر پلیز نائس ،نیکسٹ سے اجتناب کریں😬🤐۔اتنی محنت سے لکھ رہی ہوں تفصیلی رائے تو بنتی ہے❤😍
