Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
55 Views
Part 02
کی شاپنگ بھی نہیں کی تھی۔تو بس جب انسان کا موڈ اچھا ہو تو دنیا کی ہر شے خوبصورت لگنے لگتی ہے۔وہ جو ملگجے سے کپڑوں میں الجھے بالوں سے ونڈو کے پاس کھڑی لان کی گھاس پر نظریں جمائے کھڑی تھی۔اچانک دماغ مین آتے آئیڈئے کے تحت پھرتی سے پلٹی تھی۔ دو قدم نزدیک آکر سائیڈ ٹیبل پر رکھا موبائیل آٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگاتی مقابل کا کال پک کرنے کا انتظار کرنے لگی تھی۔ ’’ہیلو!مسکان آج فری ہو تم؟‘‘دوسری جانب سےُ ابھرتی باریک سی آواز پر اس نے ڈائریکٹ سوال کیا تھا۔ ’’ہاں!نہیں کچھ خاص کام نہیں تھا۔وہ میں کہ رہی تھی۔اگر فری ہو تو مجھے پک کرلو۔میں نے عید کی شاپنگ کرنی ہے۔‘‘وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتی آئینہ کے سامنے آکھڑی ہوئی۔سامنے نظر آتا اپنا عکس دیکھ نگاہوں میں چھم سے ضامن کا عکس گھوم گیا تھا اس عکس میں اپنا آپ کتنا مکمل سا محسوس ہوا تھا۔اس سے پہلے کے وہ سوچوں میں گم ہوتی جلدی سے سر جھٹکتی مسکان کی جانب متواجہ ہوئی۔جو اگلے آدھے گھنٹے میں پہنچنے کا وعدہ کرتی کال بند کر چکی تھی۔ ’’افف!اس کوڈنگ کے چکر میں تو میں نے خود پر بالکل دھیان دینا ہی چھوڑ دیا ہے۔جب تک میڈم آئیں گی میں زرا شاور ہی لے لو۔‘‘اوشن بلیو آنکھوں کے نیچے ہلکے اور میدے کی سی رنگت میں پیلاہٹ گھلتی دیکھ وہ تاسف سے خود ساختہ سرگوشی کرتی وارڈروب کی جانب بڑھی۔۔۔۔ اگلے بیس منٹ میں وہ جلدی سے شاور لے کر ڈریس چینج کرتی ہلکے گیلے بالوں کے تولیہ میں لپیٹے واشروم سے ابھی باہر آئی تھی۔سر سے تولیہ اتار کر چئیر پر ڈالاجبکہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر بالوں کو ڈرائیر کر کے پشت پر کھلا ہی چھوڑ دیا تھا۔۔۔موسم کی مناسبت سے پرنٹڈ سلک کی گھٹنوں تک کوچھوتی شرٹ اور ساتھ کھلے پائنچوں کا ٹراؤزر پہنے لنبے سلکی کمر کو چھوتے بالوں کو پشت پر پھیلائے چہرے پر ہلکا سا نیچرل میک اپ کئے اب وہ بالکل جانے کے لئے ریڈی تھی۔گلے میں سلک کا دوپٹہ ڈالتی اب وہ مسکان کو ریڈی ہونے کا میسج کرتی ابھی پلٹی ہی تھی کہ کوئی بہت خاموشی سے کمرےکا دروازہ کھول کر آندر داخل ہوا تھا۔وہ چونک کر پلٹی تھی مگر مقال کو دیکھ تاسف بھری سانس فضا کے سپرد کرتی وہ ٹھر گئی ۔۔۔۔ ’’جو سامنے اپنے مخصوس پینٹ شرٹ ڈریس پر جیکٹ پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کئے جوگرز میں مقید پاؤں کو دھیرے سے آٹھاتا اس کے نزدیک آرہا تھا۔۔ ’’کہاں جانے کی تیاری ہے؟‘‘ضامن اپنی شوخ طبیعت کے باعث آنکھوں میں معنی خیزی سی شرارت لئے قدم قدم چلتا اس کے قریب آتا اس کی تیاری کا تفصیلی جائزہ لے کر سوالیہ انداز میں بولا۔ ’’تم سے مطلب!‘‘وہ چاہ کر بھی اپنے لہجے میں چھپی ناگواری کو چھپا نہیں سکی تھی۔ ’’ارے آپ کے سارے مطلب مجھے سے ہی تو وابستہ ہیں۔‘‘جبکہ وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے قدم اس کمرے کی جانب بڑھنے سے روک نہیں سکا تھا۔ ’’ضامن میرا دماغ اور موڈ دونوں غارت مت کرنا۔۔۔۔سکون سے جانے دو مجھے۔‘‘وہ اس کی شرارتی نظریں نظر آنداز کئے تیز لہجے میں بولی ۔۔ ’’واقعی!ویسے میرا موڈ بھی بڑا خوشگوار ہے۔کیوں نا آپ اور میں ڈیٹ پر نکل جاتے ہیں؟‘‘ضامن مزید نزدیک آیا تھا۔ ’’ضامن بد تمیزی نہیں کرو۔کتنی بار کہا ہے فاصلے پر رہ کر بات کیا کرو۔‘‘وہ دو قدم دور ہوتی بوکھلا ئی سی گھور کر بولی۔اس کی آنکھوں سے جھلکتی محبت ایسے ہمیشہ خوف میں مبتلہ کر دیتی تھی۔ ’’اچھا !اچھا!‘‘وہ اس کی جھجھک محسوس کر پیچھے ہوا۔اس کا مہکتا چہرہ دیکھ ضامن کا موڈ آپ ہی ٹھیک ہوگیا تھا۔ ’’اچھا یہ بتائیں!آپ نے شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘وہ ایسے ڈریسنگ روم میں آنٹر ہوتا دیکھ دروازہ پر ہی ٹھر گیا تھا۔ ’’ہاں!سوچ لیا۔۔۔بس کپڑے بنانے ہیں باقی نکاح کی تو ساری تیاری ہے۔‘‘دلنشین کے اس قدر دلنشین اقرار پر ضامن کو لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔ ’’کیا سچ میں دلنشین؟آپ اس شادی کے لئے تیار ہیں؟‘‘ضامن کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا اپنی خوشی کا اظہار کن لفظوں میں کرے۔ ’’ظاہر ہے ۔۔۔بھلا بچوں کی شادی پر مجھے کیوں اعتراض ہوگا۔‘‘دلنشین کو اس کے آنداز پر ہنسی آئی مگر پھر بھی اس کی بات کا مطلب نظر آنداز کئے سپاٹ آنداز میں گویاہوئی۔ ’’اچھا!ان دو نمونوں کی بات کر رہی ہیں۔۔‘‘ضامن کی خوشی جھاگ کی مانند بیٹھ گئی تھی۔ ’’ظاہر ہے اور کس کی شادی ہونی تھی بخاری ہاؤس میں۔۔‘‘دلنشین رخ پھیرے ایسے چڑانے کی غرض سے بولی تھی۔کیونکہ اس کے چہرے پر واضح ہوتے اتار چڑھاؤ ایسسے مزہ دے رہے تھے۔ ’’میری اور آپ کی۔۔‘‘وہ جو پاؤں میں سینڈل ڈالنے کی غرض سے بیڈ کے کونے پر بیٹھ کر جھکی تھی کہ اپنے پیروں میں اچانک سے بیٹھتے ضامن کو دیکھ گڑبڑاگئی۔کندھے سے لٹکے بال ضامن کے سینے کوٹچ کر رہے تھے۔جبکہ وہ اس کے خاصہ نزدیک آکر بیٹھ گیا تھا۔ ’’ضامن کیا بدتمیزی۔۔۔۔ ’’شش!پہلے یہ بتائیں کہ آپ نے اپنے اور میرے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘وہ ہاتھ بھر کا ٖفاصلہ بنا کر لہجے میں شدت سمو کر بولا تھا۔دلنشین کو اس کی جزبات جھلکاتی آنکھوں سے خوف سا آیا تھا۔ ’’تم۔۔۔۔میرا مطلب ہے ہم۔۔۔مطلب میں اور تم۔۔‘‘بے رابطہ سا جملہ ادا کرتی وہ گڑبڑا گئی تھی۔سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا جواب دے۔ ’’جی میں بھی آپ کی اور اپنی بات کر رہا ہوں۔۔‘‘اس کی گہری سیاہ آنکھیں دلنشین کی سمندری آنکھوں میں ڈوبتی سی محسوس ہوئی تھیں۔کئی لمحے سرک گئے تھے دونوں مینں سے کسی سے کوئی حرکت نہیں کی تھی۔جبھی سامنے دروازہ سے کوئی ڈھڑام سے داخل ہوا۔دلنشین گھبرا کر کھڑی ہوئی۔۔ ’’دل نشین آپی!نیچے آپ کی وہ یونی والی دوست مسکان آپی آئی ہیں۔اور جلدی سے آپ کو نیچے بلا رہی ہیں۔۔‘‘مسکین شہروز نے ہمیشہ کی طرح غلط وقت پر انٹری ماری تھی۔جبکہ دلنشین حواس باختی میں کوئی بھی جواب دیے بغیر ہی اپنا بیگ سنبھالتی کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔ ’’ویسے ضامن بھائی آپ زمین پر بیٹھ کر کیا کر رہے ہیں؟؟‘‘مسکین کے اندر چھپا جاسوس انگڑائی بھرنے لگا تھا ۔جبکہ وہ دانت پیس کر کھڑا ہوا۔ ’’پیسے گر گئے تھے وہ ڈوھونڈ رہا تھا۔‘‘وہ نادیدہ سی مٹی جھاڑ کر کھڑا ہوتا چڑ کر بولا۔ ’’تو مل گئے کیا؟‘‘مسکین نے دانت نکوسے۔ ’’ہٹوں یہاں سے اور جاکر زرا معصومہ کی پسند نا پسند پر نظر رکھو۔اتنی پیاری بچی تم جیسے بندر کے حوالے کر رہے ہیں ۔زرا خیال رکھنا۔‘‘وہ ایسے ڈپٹ کر بولتا۔۔کمرے ے باہر نکل گیا۔پیچھے وہ دلنشین کی محبت میں مجنوں بنا سیڑھیاں پھلانگتا اب اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا یار!گھر میں بس وہی ٹینشن والا ماحول بنا ہوا ہے۔۔۔ضامن کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔جبکہ دادی کو زبح کرنے کے لیئے دونوں بچے مل گئے ہیں۔‘طارق روڈ ڈولمین مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھی وہ دونوں اس وقت باتوں میں مصروف تھیں۔ ’’تو یار کردو نا ہاں!اتنا ہینڈسم تو ہے تمہارا کزن۔۔‘‘مسکان ایسٹرو سے منگو سلش کا سپ لیتی شرارت سے بولی۔ ’’شٹ اپ!یار میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔‘‘دل کو ناگوار گزرا تھا۔مال میں اس وقت عید کی وجہ سے حد سے زیادہ رش تھا۔ ’’تو پھر تم کیا چاہتی ہو۔‘‘اب وہ سنجیدگی سے اس کی جانب متوجہ ہوئی۔ ’’میں کچھ بھی نہیں چاہتی۔۔میں بس یہی چاہتی ہوں وہ میرا پیچھا چھوڑ کر کسی اچھی سی لڑکی کو دیکھ کر اس سے شادی کرلے۔‘‘دل نشین
