Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
55 Views
Part 02
کے لہجے کی بیزاری عیاں تھی۔ ’’لیکن دلنشین زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔تم دونوں میں صرف دو سال کا فرق ہے۔۔اور آج کل تو اس فرق کو کوئی دیکھتا بھی نہیں ہے۔‘‘مسکان نے رسانیت سے ایسے سمجھانا چاہا۔ ’’تم نہیں جانتی یار!یہ عمر ہی ایسسی ہوتی ہے انسان کو ہر خوبصورت شکل اچھی لگنے لگتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس سے محبت کر بیٹھا ہے۔جبکہ یہ محض وقتی اٹریکش کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی۔‘‘دلنیشن کا اپنا ہی فلفسہ تھا۔ ’’یار ! ضروری تو نہیں نا۔ضامن اور تم بچپن سے ساتھ ہو۔وہ تمہارے ساتھ سیریس ہوگا جبھی تو اتنی بڑی بات کر رہا ہے۔اور جب نکاح ہوجائے گا تو اس پاک بندھن میں بندھ کر تم دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہوجائے گی۔‘‘مسکان نے قائل کرنا چاہا۔ ’’نہیں کرو یار!میں یہ باتیں کرنے نہیں آئی۔تم تو مسئلہ کا حل بتانے کے بجائے مزید میرا مائینڈ ڈائیورٹ کر رہی ہو۔‘‘وہ زچ ہوئی۔تو مسکان کندھے اچکاتی خاموش ہوگئی۔ ’’تو بس اپنی نہ پر اڑی رہو۔۔ ضامن خود ہی تھک کر اپنے قدم روک لے گا۔‘‘مسکان نے بڑا سمپل سا حل بتایا تھا جبکہ وہ سلش پر نظرے جمائے سوچوں میں گم ہوگئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ہاؤس کے لاؤنج میں اس وقت سناٹا سا چھایا ہوا تھا۔گھر کے سبھی بچے بڑے ایک ساتھ نشست لگا کر بیٹھے خاموش تھے۔کیونکہ ابھی قمروش بیگم شیشے کی چھوٹی سی ٹیبل پر جار میں رکھے خشک میوہ جات کھانے مین مصروف تھیں۔اور اس دورانیہ میں کسی کی دخل آندازی انہیں خاصی ناگوار گزرتی تھی۔ ’’جتنے پروٹوکول کے ساتھ دادی جان بادام اخروٹ کھاتی ہیں۔اتنے پروٹوکول کے ساتھ تو ہمارے ملک کے صدر صاحب بھی کھانا نہیں کھاتے ہونگے۔مطلب اتنا اطمینان!‘‘معصومہ نے پاس کھڑے مسکین کے کان میں گھس کر مسکرا کر سر گوشی کی۔ ’’شٹ اپ!منہ بندھ نہیں رکھ سکتیں تم۔وہ تو پہلے ہی تپا ہوا تھا۔آنکھیں نکال کر چیخ پڑا۔جبکہ وہ گول گول آنکھیں چلاتی ایسے گھور کر گئی۔ ’’ہاں! بھئی تو اب ایک ایک کر کے بتاتے جاؤ!کہ کس کے ساتھ کیا مئسلہ ہے۔کیونکہ پچھلے کئی دنوں سے تم سب نے میری زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ایک کی سن کر بیٹھو تو دوسرا چلا آتا ہے۔‘‘دادی بیگم نے شیشہ کا بڑا سا جار بندکر کے بلآخر اجازت دے ہی دی تھی۔جبکہ ضامن کی نددیدی نظریں جار پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔جس پر صرف دادی کی ملکیت تھی۔ ’’دادی سب سے پہلے آپ معصومہ دی گریٹ کا مئسلہ سنیں!‘‘معصومہ فوری میدان میں کودی۔دل نشین جو دل کی بات کہنے کے لئے لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی۔لب بھینچے خاموش رہ گئی۔ ’’لڑکی تمہارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں۔جلدی سے اپنا مسئلہ بیان کرو۔‘‘دادی وقت کی بڑی پابند تھیں۔ ’’دادی جانی میرا مسئلہ بڑا معمولی سا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ مجھے اس مسکین شکل انسان سے شادی نہیں کرنی۔‘‘معصومہ عادت سے مجبور تقریری انداز میں بولی۔ ’’اچھا!اس کے علاوہ اگر کچھ کہنا ہے تو جلدی کہو۔تمہارا وقت ختم ہونے میں صرف دو منٹ ہیں۔‘‘دادی کی نظریں دیوار گیر گھڑی پر ہی مرکوز تھیں۔ ’’نہیں دادی!بس یہی کہنا تھا مجھے۔‘‘وہ نئے باب کٹ بالوں کو پیچھے جھٹکتی ادِا بے نیازی سے بولی۔ ’’دادی میرا بھی سیم یہی مسئلہ ہے کہ مجھے اس بندریا سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ صوفے کے پاس کھڑا مسکین بھی جلدی سے بولا تھا۔جبکہ شہروز صاحب کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ ڈالیں۔ ’’اور تم دونوں کو کچھ نہیں کہنا؟‘‘اب ان کی عقاب سی نظریں خاموش کھڑی دلنشین اور صوفے ہر چڑھ کر بیٹھے ضامن پر ہی تھیں۔ ’’پہلے آپ ان دونوں کا مسئلہ سلجھا دیں۔‘‘ضامن ہنوز خاموش تھا جبکہ جواب دلنشین کی جانب سے موصول ہوا تھا۔ ’’ان دونوں کا مسئلہ تو ایک ہی صورت حل ہو سکتا ہے۔جب آپ دونوں شادی کے لیئے راضی ہونگے۔کیونکہ اس عید مجھے اپنے کسی ایک پوتے کے سر پر سہرا لازمی سجتا ہوا دیکھنا ہے۔فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘دلنشین نے سنجیدہ سے بیٹھے ضامن کو دیکھ مٹھیاں بھینچیں۔ ’’دادی میں شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔آپ جہاں چاہیں میری شادی کروا سکتیں ہیں۔‘‘دلنشین دل پر جبر کرتی سختی سے اپنا جواب سنا کر وہاں سے نکل آئی تھی۔جبکہ خاموش بیٹھا ضامن سن سا ہوگیا تھا۔وہ جو اپنا مسئلہ دادی کے گوشے گزار کر ریلکس سا بیٹھا تھا کہ وہ ضرور کوئی نا کوئی حل نکال لیں گی۔مگر دلنشین کی جانب سے موصول ہوتے جواب پر وہ بالکل خاموشش رہ گیا۔ ’’چلو جی!ان کا مسئلہ تو حل ہوگیا۔۔نوشین زرا رشتہ والی کو کال ملا کر کسی اچھے خاندان کے لڑکے کا تو پتہ کرو۔۔بس اب جلد از جلد اس لڑکی کو بھی اس کے گھر کا کرونگی‘‘وہ پاس خاموش بیٹھی نوشین کو حکم سناتیں اب باقاعدہ ضامن کی جانب گھومیں تھیں۔ ’’تم بتاؤ لڑکے!اب تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ ’’میرا کوئی خیال نہیں ہے دادی۔۔‘‘وہ غصہٰ میں سر جھٹک کر بولا ۔ ’’کیوں ساری زندگی ہمارے سر پر ہی سوار رہنے ہے کیا؟شادی کرو اور اپنا گھر بساؤ۔‘‘وہ بھی ان چاروں کی بے جا ضد کے باعث تپی بیٹھی تھیں۔ ’’مگر مجھے شادی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘وہ غصہٰ میں دکھائی دے رہا تھا۔ ’’دادی انہیں چھوڑیں پہلے ہمارا مئسلہ تو سلجھا دیں۔‘‘مسکین کو ضامن کا نخرہ ایک آنکھ نہیں بھایا ۔ ’’ہاں! تم دونوں جاؤ اور نکاح کی تیاری کرو۔۔کل خیر سے چاند نظر آجائے گا،بس اتوار کی شام تم دونوں کا نکاح ہے۔‘‘فیصلہ کن لہجے میں بولتیں وہ دونوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ گئیں تھیں۔ ’’دادی!پلیز! مجھ معصوم پر آپ یہ ظلم تو ناکریں۔۔‘‘معصومہ نے دھائی دی۔ ’’نوشین سمجھا لو اپنی لڑکی کو۔۔ہمیں یوں منہ بھر بھر کر بولنے والی لڑکیاں بالکل نہیں پسند۔‘‘پاس بیٹھی نوشین گھبرا کر ہوش میں آئیں۔ ’’میں سمجھاتی ہوں اس کو۔۔معصومہ چلو!تمہارے بابا انتظار کر رہیں ہونگے۔‘‘وہ زبردستی ایسے ہاں سے لے گئیں تھیں۔ ’’سوچ لو تمہیں کیا کرنا ہے۔ورنہ ہم سچ میں ان دونوں کی شادی کروا کر ہی دم لیں گے۔اب بھلے سے تم ہم پر کیس ہی کیوں نا کروادو۔‘‘قمروش بیگم آنکھوں پر لگا نظر کا عینک درست کرتیں دھمکی امیز لہجے میں بولیں۔ ’’جو دل چاہے وہ کریں۔۔مگر اب میں وہ کرونگا جو مجھے ٹھیک لگے گا۔۔‘‘مگر ضامن بھی غصہٰ میں بول کر سنی انسی کرتا وہاں سے واک آوٹ کر گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں کو رگڑ کر گرمائش کا احساس پیدا کرتی دلنشین سخت جھنجھلاہٹ کا شکار تھی۔غصہٰ میں وہ اپنی زندگی کے سب سے کٹھن فیصلہ کے لیے ہامی تو بھر آئی تھی۔مگر دل عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا۔ ’’گلاس ونڈو کے پار سے نظر آتے گھر کے سوئمنگ پول پر نظریں ٹکائےوہ ابھی ماضی میں گم ہونے ہی لگی تھی کہ جبھی کوئی آندھی طوفان کی طرح دروازہ دھڑام سے کھول کر داخل ہوا تھا۔ ’’یہ کیا بد تمیزی ہے ضامن!‘‘وہ اچانک پلٹتی ماتھے پر بل ڈالے ناگواری سے بولی۔ ’’یہ بد تمیزی ہے!اور آپ جو ابھی دادی کے سامنے بکواس کر کے آئی ہیں۔وہ کیا تھی؟‘‘وہ بے ایکدم سے اس کے چہرے کے قریب چہرہ لاکر غرایا تھا۔دلنشین کی پیشانی پر بل واضح ہوئے۔ ’’آرام سے بات کرو۔دو سال بڑی ہوں تم سے۔تمیز کے دائرہ میں رہ کر۔‘‘دلنشین اس کے بگڑے تاثرات کو کسی بھی خاطر میں لائے بغیر انگشت شہادت آٹھاتی درشتگی سے پھنکاری۔ ’’ شٹ اپ!بڑی ہوں ،بڑی ہوں۔۔تو کیا کروں جو میں آپ سے دو سال چھوٹا ہوں تو۔۔‘‘ضامن سخت طیش بھرے لہجے میں بولتا بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتا درشتگی سے بولا۔ ’’ضامن!تم میری بات کیوں نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔نہیں کر سکتی میں تم
