Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
55 Views
Part 02
Bheegi Si Hawa Ho Tum By Huma Qureshi Part 02 "مسکین!!!"معصومہ صدیقی کی چنگھاڑتی آواز نے بخاری ہاؤس کی در و دیوار تک ہلا دی تھیں۔ "کیا مسئلہ ہے چڑیل؟کیوں چلا رہی ہو۔ " وہ جو ابھی کرکٹ کھیل کر واپس لوٹا تھا۔معصومہ کو سرِشام گھر میں دندناتا ہوا گھستا دیکھ دانت پيس کر بولا۔ "تم یہ بتاؤ۔۔کہ تم دادی کو اس شادی کے لئے کب منع کروگے۔کیونکہ میں تم جیسے چمپو بندر سے ہر گز بھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔"معصومہ مزے سے بازو سینے پر لپیٹے بولی۔ "اپنی شکل دیکھی ہے تم نے کبھی آئینہ میں۔۔کالی چڑیل بندریا۔۔کسی جنگل کے ضعیف پیڑ کی بھٹکی ہوئی اتما جیسی لگتی ہو۔"وہ بھی تپ اٹھا۔ "شٹ آپ!یو چمپو۔۔معصومہ صدیقی تمہاری اس کلاس کی کرش سے تو ہزار درجہ بہتر ہے۔جس کے تم آگے پیچھے گھومتے ہو۔نہنہ!کل آئی تھی گھر پوچھنے ۔۔ مسکین گھر پر ہیں؟"تازہ تازہ باب کٹ بالوں کی چھوٹی سی لٹ انگلی پر لپیٹے پیر جھلا کر بولتی وہ فائزہ کی آمد کی بھی اطلع دے چکی تھی۔جیسے وہ کل دروازہ سے ہی رخصت کر چکی تھی۔ "ہنہنہ !!تم سے ہزار درجہ خوبصورت ہے وہ ۔۔آئی بڑی چڑیل!چل چل جا یہاں سے۔اور میں آج شام ہی دادی سے بات کرونگا کہ مجھے اس بھوتنی سے شادی نہیں کرنی بس ختم بات۔"وہ اسے پیچھے دھکیل کر سیڑھیاں چڑھا۔۔۔ فی الحال مسکین اس فضول سی بحث میں ہر گز بھی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ "میں کونسا تم سے شادی کرنے کے لئے مری جارہی ہوں۔تم سے اچھا تو وہ میرا کلاس فیلو زيان ہے۔بھئی دادی مجھے نہیں کرنی اس چمپو سے شادی۔"پیچھے سےہانک لگاتی بلآخر زچ ہوتی دادی جانی کے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔جو اس سارے قصہ کی واحد ذمہ دار تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ہاؤس کے سبھی بچوں کی طرح وہ بھی اس گھر کی لاڈلی تھی۔اور چونکہ مسکین کی والدہ اور نوشین بیگم اپس میں بہنین تھیں تو سب ہی کو وہ بہت پیاری تھی۔جن کا گھر بخاری ہاؤس سے ذرا فاصلے پر تھا۔ "دادی!!وہ دھڑم سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔ "اے لڑکی!مسٔلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟انے جانے کی تمیز نہیں ہے تمھیں؟"وہ جو کوئی پرانی ہندوستانی مووی دیکھنے میں مصروف تھیں۔ اس اچانک آند پر ماتھے پر بل ڈالے آنکھوں پر عینک درست کرتیں سختی سے بولیں۔ "دادی آج آپ کو معصومہ صدیقی کے حق میں ہر حال فیصلہ سنانا ہی ہوگا۔۔"وہ منہ بنا کر سراہنے کے قریب آتی جزباتی آنداز میں گویا ہوئی۔۔۔ "اچھا!!جلدی بولو ذرا!"مداخلت ذرا ناگوار سی گزری۔ "میں اس مسکین سے شادی نہیں کرؤنگی۔"پھر وہی بات۔ "آئے لڑ کی چلو اٹھو!اور نکلو میرے کمرے سے خبردار جو دوبارہ اس مدعے کو لے کر اس کمرے کا رخ بھی کیا ہو تو۔"وہ ایک ہفتہ سے ایک ہی گردان ُسن ُسن کر تھک چکی تھیں۔ "دادی۔۔۔۔"ٹخنوں تک کو آتی جینز کی پینٹ اورُ اپر سفید جارجٹ کی ٹی شرٹ پہنے بالوں کی اونچی پونی ٹیل باندھے وہ سخت بیزار دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ مگر دوسری جانب کھدر کےتھری پس پر اونی سویٹر پہنے بیٹھی دادی کو وہ خاصی بری لگی تھی۔۔ جبھی انہوں نے سخت نگاہوں سے گھورا۔۔معصومہ کہ ابھی تک وہیں ٹکے رہنے پر انہونے سختی سے دیکھا تو وہ پیر پٹختی وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمان برابربلڈنگوں کے پار غروب ہوتا سورج اپنی تیز کرنیں سمیٹتا فلک پر کالی چادر ُاڑھانے کو تھا۔ایسے میں ریڈ کلر کی چمچماتی ہوئی اسپورٹس کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کاشف خوشگوار موڈ میں میوزک پلیئر کی تیز آواز پر ریپ سانگ انجوئے کرتا ساتھ ساتھ خود بھی ریپر بنا ہواتھا۔جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ضامن اینگری بڈ موڈ میں ڈرائیونگ میں مصروف تیز اسپیڈ میں فراٹے بھرتا شاہراہ فیصل کے پل سے گزر رہا تھا۔بلیو جینز پر اسکن ٹائٹ ٹی شرٹ پر جیکٹ پہنے چہرے پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے وہ سخت غصہٰ میں دکھائی دے رہاتھا۔چوڑی پیشانی پر پڑے بلوں میں اس کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کے باعث مزید اضافہ ہوا تھا جو اس کا غم سننے کے بجائے اپنی مستیوں میں مگن تھا۔ضامن نے گہری سیاہ آنکھیں آٹھا کرر ایک نظرایسے دیکھا اور پھرصبر کا پیمانہ لیبریز ہوتے ہی کھٹ سے میوزک بند کر گیا۔ ’’یہ کیا تھا؟‘‘کاشف جو لے میں مدہوش سا خود بھی ریپر بنا ہوا تھاسانگ بند ہوتے ہی چونک کر ٹھرتا سوالیہ آنداز میں بولا۔ ’’میں یہاں تجھ سے اپنا مسئلہ بیان کرنے آیا ہوں۔۔کب سے انتظار کر رہا ہوں کہ تو اب یہ منہوس گانا بند کرے گا اب کرے گا۔مگر نہیں تیرے آندر کا مراسی رخصت ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔‘‘ضامن جو سخت غصہٰ سے بھرا بیٹھا تھا ایک دم ہی چیخ پڑا۔غصہٰ کے باعث اسٹیرنگ تھامے ہاتھوں کی ہری اور نیلی رگیں بھی نمایاں سی ہونے لگی تھیں۔ ’’اوکے!کول ڈاؤن!بتا بھائی ہوا کیا ہے؟آخر ایسی کیا بات ہے جس کی وجہ سے میرا یار اتنا غصہٰ میں ہے۔‘‘وہ پچکارنے والے آنداز میں خوش آمدی آنداز میں بولا۔ ’’وہی بات ہے یار اور بھلا کیا مسئلہ ہوگا۔۔دلنشین مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی اب بتا میں کیا کروں کہ وہ میری محبت پر یقین لے آئے؟‘‘بلآخر وہ پریشانی سے کار ایک جھٹکے سے روڈ کی سائیڈ پر روکتا اسٹیرنگ پر سر گرا کر بیٹھ گیا تھا۔ ’’تو یار اب میں کیا کروں! تو سمجھا نابھابھی کو۔۔ دیکھ تو ان کا سب سے اچھا سا دوست ہے۔وہ تیری بات ضرور مانیں گی۔‘‘کاشف کو اب زرا معاملے کی گھمبیرتا کا آندازہ ہوا تھا۔ ’’نہیں مان رہی نا یار!یہی تو سارا مسئلہ ہے۔بس ایک ہی رٹ لگا کر بیٹھی ہے کہ میں اس سے عمر میں چھوٹا ہوں۔ہماری شادی نہیں ہوسکتی۔‘‘ضامن سر اٹھا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا بیچارگی سے بولا۔ ’’اچھا چل ریلیکس کر اور آج تو جا کر دادی سے فائنل بات کر،پھر دیکھ وہ کیا کہتی ہیں۔‘‘کاشف کی رائے ایسے کسی حد تک معقول لگی ۔ ’’ ہمم!چل دیکھتا ہوں۔۔ابھی بتا کہاں جانا ہے۔۔۔اور یہ شہریار کہاں غائب ہے؟‘‘پر سوچ انداز میں جواب دیتے اس کے خطا ہوتے اوسان کچھ قابوں میں آئے تھے۔ساری رات وہ عجیب کشمکش کا شکار رہا تھا۔اور صبح گھر سے بغیر ناشتہ کئے نکلا وہ ابھی تک واپس نہیں لوٹتا تھا۔۔ ’’یار!دراصل عید کے بعد اس کی بہن کی شادی ہے تو بیچارہ اکلوتا بھائی سب انتظامات کرنے میں لگا ہوا ہے۔مجھے بھی بلا رہا تھا مگر تیری وجہ سے پھر میں گیا ہی نہیں۔‘‘کاشف نے اب ہلکی آواز میں کوئی سانگ پلے کرتے تفصیل سے آگاہ کیا۔ ’’تو باس ہم دونوں کیوں یہاں پر مکھیاں مار رہے ہیں۔چل چلتے ہیں پھر اسی خبیث کے پاس۔‘‘اپنے تاثرات پر قابو کرتا وہ کار کو ریئورس گیر میں ڈالتا اب شہریار کے گھر کی جانب روانہ ہوچکا تھا۔کیونکہ گھر جانے کا مطلب تھا وہ غصہٰ مین کچھ الٹا سیدھا ہی کر بیٹھتا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد سے ضامن اور دلنشین کا سامنا نہیں ہوا تھا۔رات کے جانے کون سے پہر وہ گھر لوٹتا تھا اور صبح کسی کی بھی نظروں میں آٗے بغیر ہی گھر سے باہر نکل جاتا تھا۔وہ تو پہلے ہی گھر دیر سے لوٹنے کا عاددی تھا مگر اب تو جیسے بہانہ ہی مل گیا تھا۔آج کراچی کا موسم بہت سہانہ تھا ہلکی ٹھنڈی دھوپ کی کرنیں طیعبت پر خوش کن اثرات مرتب کر رہی تھیں۔کئی روز سے طبیعت پر چھائی ادسی زائل ہونے لگی تھی۔ایک دو دن میں عید کا چاند نظر آنے والا تھا اور اس نے ابھی تک اپنی عید
