Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Ep 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/10/2025
483 Views
Ep 06
مگر دماغ میں بہت سی سوچیں تھیں ،جو اُسے سانس نہیں لینے دے رہی تھیں۔۔۔۔ ’’کیسی ہو؟‘‘ایک نظر دیکھ یوسف نے پہل کی تھی۔۔ ’’ کیا؟‘‘اس نے تمسخر اڑاتی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔ ’’کیسی ہوں؟جس لڑکی کی ذات کو تم جیسا بزدل اور بے غیرت شخص سوالیہ نشان بنا کر چھوڑ جائے وہ کیسی ہو سکتی ہے بھلا؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔۔ ’’جانتا ہوں۔۔مگر میں نے تمھیں بہت ڈھونڈا،تم مجھے نہیں ملیں۔اس وقت میں غصےٰ میں تھا۔۔‘‘ وہ جس آنداز میں بولا تھا لائبہ نے طنزیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’غصےٰ میں تم،کسی کی بھی زندگی برباد کردوگے؟‘‘وہ ہلکا سا مسکرائی۔ ’’ مجھے احساس ہے۔۔مگر یہ سب تمھارے باپ کی وجہ سے۔میں صرف اسے تکلیف دینا چاہتا ہے۔۔مگر ہاں مجھے احساس ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔۔‘‘وہ اپنی غلطی مان رہا تھا۔۔ ’’جس باپ کو تم تکلیف دینا چاہتے تھے نا،وہ میرا نکاح پر نکاح کرا رہا تھا۔۔ وہ بھی اپنے ہی عمر کے آدمی سے۔۔اور جب میں نکاح کے لئے نہیں مانی،تو مجھے میری سوتیلی ماں نے ایک کوٹھے پر بیچ دیا۔۔ اور۔۔۔۔‘‘حقیقت بیان کرتے لائبہ کی آنکھیں سرخ پڑ گئی تھیں۔وہ رات نگاہوں میں گھوم گئی تھی۔جب سامنے بیٹھے شخص نے نشے کی حالات میں اس کی ہر پکار کو نظر آنداز کیا تھا۔۔۔ ’’اور۔۔۔‘‘یوسف کا سانس سینے میں اٹکا تھا۔۔۔یہ کیا کہہ رہی تھی وہ۔۔۔ ’’تمھارا باپ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟‘‘وہ حیران ہوا۔۔ ’’کیونکہ میں ان کی پہلی بیوی کی اولاد ہوں،جس سے انھونے شادی صرف پیسے کے لئے ہی کی تھی۔۔ وہ میرے وجود سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں ،جتبی میری ماں سے کرتے تھے۔۔ تم میرے ذریعے انھیں ازیت دینا چاہتے ہیں۔۔‘‘وہ کرب سے مسکرائی تھی۔۔آنکھوں سے آنسو جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔یوسف کا دماغ بالکل سن ہوگیا تھا۔۔ ’’یعنی جو شخص اپنی سگّی بیٹی کا نہیں،وہ کسی اور کا کیا ہو سکتا ہے۔۔‘‘یوسف کو شدید کرب نے آن گھیرا تھا۔۔ہونٹ دانتوں تلے دبائے،وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا لفظ ترتیب دے رہا تھا۔۔۔ دل ازیت سے پھٹا جا رہا تھا۔۔کہ جبھی لائبہ کی آواز پر وہ چونکا۔۔ ’’پوچھو گے نہیں کہ کوٹھے سے میں کہاں پہنچی؟‘‘یوسف نے خالی خالی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’’چلو میں بتا دیتی ہوں۔۔وہاں سے مجھے ایک امیر زادے کو بیچ دیا گیا۔۔اور اس نے میرے ساتھ وہی کیا، جو ایک گا۔۔۔۔۔۔‘‘ ’’شٹ اپ! چپ بالکل چپ! خبردار تم نے کوئی بکواس کی تو۔۔۔‘‘ اسکے ادھورے لفظوں کا مفہوم سمجھتے ہی یوسف شدت سے چنگھاڑتا اسے باز رکھ گیا۔۔۔جبکہ وہ اسکا سرخ پڑتا چہرے دیکھ استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔۔۔وہ سن نہیں سکا تھا اور وہ سہہ کر آرہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
