Yeh Ishq tum na karna ( Episodic Novel ) — Ep 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 30/10/2025
483 Views
Ep 06
یہ عشق تم نہ کرنا ازہماقریشی قسط نمبر 6 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ کو وہاں رہتے ہوئے ایک ہفتہ مزید گزر گیا تھا۔۔وہ اس وقت بچی کو گود میں اٹھائے،اسے مسلسل جھلا رہی تھی۔۔جو آج حد سے زیادہ چڑ چڑی ہورہی تھی۔۔ ’’لائبہ بیٹی! یہ حیا اتنا رو کیوں رہی ہے؟‘‘ وہ ابھی سو کر اٹھی تھیں ،کہ حیا کی آواز سن کر باہر آئیں۔۔۔شاہزل تین دن سے اسلام آباد کسی بزنس وزٹ پر گیا ہوا تھا۔ ’’پتہ نہیں آنٹی! سوچ رہی ہوں۔اسے ڈاکٹر کے یہاں لے جاؤں۔‘‘وہ ذرا خود بھی پریشان ہوئی۔۔ ’’ہاں چلو میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔‘‘وہ بھی ذرا پریشان ہوئی۔کیونکہ اسکا رونا تکلیف دہ تھا۔ ’’نہیں نہیں! آپ گھر ہی رہیں۔باہر بہت گرمی ہے آپ کی طبیعت نہ خراب ہوجائے ،میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔‘‘اس نے فوری بیچ کا راستہ نکالا تھا۔ ’’چلو میں ڈرائیور سے بول دیتی ہوں۔‘‘وہ ساتھ ہی قدم اٹھاتی باہر تک آئی تھیں۔۔جبکہ لائبہ دوپٹہ درسُت کرتی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مس آر یو اوکے؟‘‘یہ اس کی نئی سیکریٹری تھی۔جو ایک باپردہ لڑکی تھی۔۔شدید گرمی میں بس وغیرہ میں سفر کرنے کی وجہ سے اسکی حالت خراب ہوگیی تھی۔۔وہ جب سے آفس آئی تھی اسے مسلسل الٹیاں ہو رہی تھیں۔اس وقت بھی وہ آفس لاؤنچ میں صوفے پر بیٹھی تھی۔چہرہ دوپٹے سے چھپا رکھا تھا۔۔ ’’یس۔۔۔یس سر!‘‘ وہ نقاہت زدہ آواز میں بولی تھی۔۔یوسف کو اسکی حالت ناساز لگی تھی۔ ’’میڈم! آئی تھنک آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ہمیں ہسپتال چلنا چاہئے!‘‘اس نے فورس کیا۔۔ ’’سر آپ پلیز امینہ کو بلا دیں۔۔‘‘ یوسف نے خیال آنے پر باہر دیکھا،مگر امینہ وہاں موجود نہیں تھی۔ماسوائے ایک دو لڑکیوں کے ،اور وہ کس قدر نک چڑی تھیں، یوسف بخوبی جانتا تھا۔۔ ’’ مس نور آپ پلیز میرے ساتھ ہستپال چلیں۔۔امینہ شاید آف پر ہیں۔‘‘ اسے بھی اپنا سر گھومتا محسوس ہو رہا تھا۔۔وہ بہت ہمت کر کہ یوسف کے ساتھ گاڑی تک آئی تھی۔جبکہ اسٹاف ایک نظر دیکھنے کے بعد دبی دبی سرگوشیاں کرنے لگے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مگر ڈاکٹر یہ اتنا رو کیوں رہی ہے؟‘‘لائبہ نے ذرا پریشانی سے پوچھا تھا۔۔ ’’ پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں۔پیٹ درد کی وجہ سے بچے اکثر شدید روتے ہیں۔ آپ بچی کی فیڈر وغیرہ کا خیال رکھیں،کوشش کریں کہ وہ اچھے صاف ہوں۔۔‘‘لائبہ ذرا پریشانی کے عالم میں باہر آئی تھی۔ یوسف جو باہر ویٹنگ ایریا میں بیٹھا تھا کہ اپنے سامنے یوں اچانک سے لائبہ کو دیکھ دنگ رہ گیا تھا۔۔۔جبکہ اپنی دھن میں آتی لائبہ بھی بری طرح سے چونکی تھی۔۔اور ٹھہر سی گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تم؟؟؟تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اور یہ؟ یہ حیا۔۔۔یہ حیا ہے نا۔۔یہ تمھارے پاس کیا کر رہی ہے؟‘‘یوسف کو ایک لمحہ لگا تھا،شاہزل کی بیٹی کو پہنچاننے میں۔۔کیونکہ وہ کافی بار ملاقات کر چکا تھا۔ ’’میں۔۔۔میں تمھارے کسی بھی سوا ل کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔‘‘وہ حد سے زیادہ سنجیدگی سے بے رخی سے بولی تھی۔۔ ’’تم میرے سارے سوالوں کے جواب دینے کی پابند ہو ؟ اس نے دانت کچکچائے۔ ’’ہٹیں میرے راستے سے۔۔‘‘وہ غصےٰ سے بولی تھی۔ساتھ ہی قدم باہر کی جانب بڑھائے۔بیشتر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ دیکھ، وہ ساتھ ساتھ قدم اُٹھاتا، اسے کے پیچھے آیا تھا کہ اسے شاہزل کے گھر کی گاڑی میں بیٹھتا دیکھ ،وہ مٹھیاں بھینچ گیا۔۔اپنی اور شاہزل کی تمام بتایں یاد کر اس کا خون کھول گیا تھا۔۔وہ اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے ، کسی اور مرد سے نکاح کا سوچ رہی تھی۔بلاآخر جس بات مردانہ انا پر آئی تو اس کی غیرت جوش مار ہی گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا تھا گڑیا کو؟‘‘ شاہزل کچھ دیر قبل ہی گھر لوٹا تھا کہ اپنی ماں سے سب سن کر وہ پریشان ہوگیا تھا،کہ اب حیا اور لائبہ کو دیکھ اس کی جان میں جان آئی تھی۔ ’’کچھ خاص نہیں سر! بس ہلکا سا پیٹ درد تھا۔۔‘‘وہ نرم گوئی سے بولی تھی۔۔ ’’اوہ! کیسا ہے میرا بچہ! بابا کی جان۔ ناراض ہے۔۔بابا اپنے بیٹے کو اکیلے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔اسی لئے بیمار ہوگیا میرا بیٹا!‘‘ وہ اب اپنی بیٹی سے لاڈ کرنے میں مصروف ہوگیا تھا۔جبکہ لائبہ مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔جبھی کسی کی مرادنہ آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم !‘‘وہ سب ہی چونکے تھے۔۔وہ لوگ اس وقت لاؤنچ میں ہی کھڑے تھے۔ ’’وعلیکم السلام! خوش آمدید! آج آپ نے ہمارے گھر کا رخ کیسے کر لیا؟‘‘ شاہزل اسے دیکھ ذرا شرارت سے بولا۔جبکہ اس تمام عرصے میں لائبہ کے لبوں پر قاتلانہ مسکراہٹ رقص کر گئی تھی۔۔ ’’بس مجھے ابھی علم ہوا کہ میری منکوحہ! میری بغیر اجازت تمھارے گھر رہائش پذیر ہیں۔۔بس انھیں ہی اپنے ساتھ لے جانے آیا تھا۔۔۔‘‘شاہزل نے حیرت و بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’واٹ؟تمھاری منکوحہ؟ تم نے نکاح کب کیا؟ اور تمھاری منکوحہ میرے گھر میں کیا کرے گی یار؟‘‘اس کا دھیان لائبہ کی طرف گیا ہی نہیں تھا۔ ’’ جلد اب تمھیں اکھٹا ولیمے کا کھانا کھلاؤنگا۔۔ اور میری منکوحہ یہ ہیں۔۔‘‘اُس کے اشارے پر وہ بری طرح سے چونکا تھا۔۔ ’’یہ؟؟ مس لائبہ؟ تمھاری منکوحہ؟ یہ کیا مزاق ہے یار!‘‘ اس نے تعجب کا اظہار کیا۔ ’’مزاق کی کیا بات ہے۔۔شی از مائی وائف!‘‘ وہ بے حد مطمئن لہجے میں بولتا اس کے پاؤں تلے زمین کھینچ گیا تھا۔۔جبکہ لائبہ کی نگاہیں اُسی کے چہرے پر مرکوز تھیں۔۔جو اب بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔سادہ سے شلوار سوٹ میں وہ کھلی کھلی سی لگ رہی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مس لائبہ کیا یہ درست کہہ رہا ہے؟‘‘ اب وہ لائبہ کی جانب گھوما تھا۔۔ ’’جی!‘‘یوسف کو حیرانی ہوئی۔وہ اتنی جلدی کیسے مان سکتی تھی۔بھلا۔۔ ’’اوہ! تو پھر آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟‘‘اسے اپنے پرپوز کرنے پر افسوس ہوا۔ ’’کیونکہ یہ مجھ سے ناراض ہو گئی تھی۔۔اور میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا کہ کہاں غائب ہوگئی۔۔خیر باقی کی تفصیل تجھے بعد میں دونگا۔۔فی الحال اپنی بیٹی سنبھال کیونکہ میں اپنی بیوی کو ساتھ لے جا رہا ہوں۔۔‘‘وہ جس آنداز میں بولا تھا۔۔شاہزل چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ سکا۔۔التبہ چہرہ بجھ سا گیا تھا۔۔ ’’لائبہ بیٹی آتی جاتی رہنا۔۔مجھے تو ایک سہارہ سا مل گیا تھا۔۔‘‘اس بار خاموش بیٹھی ماہ رخ بیگم نے بیچ میں مداخلت کی تھی۔جبھی یوسف کا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔ ’’ہیلو! مس ماہ نور کو ان کے گھر سیفلی پہنچا دیا نا تم نے۔۔اوکے!‘‘وہ آفس کے ڈرائیور کو ہدایت دے کر آیا تھا۔۔جبکہ لائبہ کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ ’’چلیں!‘‘وہ اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ ’’ہمم! میں اپنا بیگ لے آؤں۔۔‘‘وہ اسے خشک نگاہوں سے دیکھتی اپنے روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مام ہم پاکستان کیون نہیں جا رہے؟‘‘ وہ خفا ہوئی۔ ’’کیونکہ تمھاری وہ بہن ہمارے پاس نہیں ہے۔۔اور وہ شخص بار بار اس لڑکی کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔‘‘وہ زچ ہوئیں۔۔ ’’اوہ گاڈ!ٹھیک ہے،پھر میں پاکستان جا رہی ہوں تاکہ یوسف سے شادی سے انکار کی وجہ پوچھ سکوں۔۔‘‘ وہ غصےٰ سے بولی۔ ’’ابھی ضرورت نہیں ہے۔‘‘انھونے باز رکھنا چاہا۔ ’’کیوں ضرورت نہیں ہے؟‘‘ وہ غصہٰ ہوئی۔ ’’ دیکھ رہے ہو اسفند یار اپنی بیٹی کو؟‘‘اس بار انھونے طنز کیا۔۔ ’’تم دونوں ماں بیٹی نے مجھے پاگل کردیا ہے،میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ۔‘‘وہ شدید ناگواری کے عالم میں گویا ہوتے وہاں سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔۔جبکہ وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی خاموشی سے انجان راستوں پر گامزن تھی۔۔۔پسنجر سیٹ پر بیٹھی لائبہ بالکل خاموش تھی۔۔گویا یوسف کی موجودگی اس کے لئے کوئی معنی نہ رکھتی ہو۔۔
