Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/01/2026
0 Views
Episode No 05
کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوئی تو زہن مختلف قسم کی سوچوں کے تانے بانے بننے میں مصروف تھا۔ دو دن بعد مناہل اور اس کے شوہر کی پاکستان کی فلائٹ تھی۔اور آ قصیٰ بس کل ہی یہاں سے شفٹنگ کا ارادہ رکھتی تھی۔یہاں سے کچھ دوری کی مسافت پر سیف کے دوست کی فیملی آباد تھی۔جو پہلے بھی ا سے وہاں رہنے کی پیشکس کر چکے تھے۔مگر وہ خود ہی احتیاط برت رہی تھی۔اب وہاں شفٹ ہونا مجبوری تھی۔وہ وہاں محض چند روز کے لیے گیسٹ بن کر جارہی تھی۔جبکہ اس کا ارادہ جلد ہی وہاں سے بھی کہیں اور شفٹ ہونے کا تھا۔۔ وہ سوچوں میں گم ُتھی۔جب کسی نے ڈور بیل بجائی تھی۔وہ زہن جھٹک کر ُاکتا کر دروازے کی جانب بڑھی۔دروازہ کھولا تو پچھلی بار کی طرح وہاں کوئی زی روح موجود نہیں تھی۔بلکہ ایک باکس رکھا ہو ا تھا۔آقصیٰ الجھ کر باہر آئی تھی۔اللہ جانے کون جھکی شخص تھا،جو ہاتھ دھو کر اس کے تعاقب مین پیچھے ہی پڑ گیا تھا۔ان فضول سے نمبروں میں چھپے معنی کو سمجھنے سے قاصر تھی۔بلکہ یوں کہنا درست رہے گا۔کہ وہ جاننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ ایک گہری سانس بھر کر فضا کے سپرد کر تی وہ باکس گھر کے اندر لے آئی تھی۔ہمیشہ کی طرح باکس میں ایک پیپر فولڈ ہوا رکھا تھا۔تجسس پہلے سے زیادہ مزیدتجاوز اختیار کر گیا تھا۔ پیپر کھولا تو اس میں ’’ڈینجر‘‘لفظ لکھا ہوا تھا۔آقصیٰ حیرت کی زیادتی سے منہ کھولے حیران پریشان رہ گئی ۔۔ ’’پہلے زندگی میں کم خطرے تھے جو اب لو لیٹر بھی دینجرس ملنے لگے ہیں۔‘‘وہ خود ساختہ سی شرارت سے بڑبڑا کر اندر زیان کی آواز پر اندر کمرے کی جانب بڑھی۔پیچھے کوٹ کی جیبوں مین ہاتھ ڈال کر کھڑا شخص پلٹ گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ایک دن آ پ ہم کو یوں مل جائیں گے پھول ہی پھول راہوں میں کھل جائیں گے میں نے سوچا نا تھا،ہممم ہممم۔۔۔۔ ایک دن زندگی اتنی ہوگی حسین جھومے گا آسما ں گائے گی یہ زمین میں نے سوچا نا تھا۔۔۔۔ ’’چپ کر جا بھائی چپ کر جا۔۔۔‘‘شارق اتنی دیر سے اس کی بے ُسری آواز سُن سُن کر پریشان ہوتا بلاخر چیخ اُٹھا ۔ ’’کیوں چپ کر جاؤں بھئ۔۔اب میں خوش بھی ناہوں۔آج کی تاریخ میں باقاعدہ ایک نازک سی خوبصورت سی لڑکی مجھے شرما کر دیکھ کر اپنا راستہ بدل گئی۔اففف!آج تو میں ہواؤں میں ہوں۔‘‘براق خیالوں میں اس حور کے ساتھ ڈانس کرتا پھولے نہیں سما رہا تھا۔ ’’اوہ بھئ نکل میرے کمرے سے!!کہیں اور جا کر یہ لیلیٰ مجنوں والاڈانس کر۔۔‘‘شارق کو عجیب ہی چڑ ہورہی تھی۔ ’’ہاں بھئ تمہیں تو بیٹھے بیٹھائے دلہنیاں مل گئی۔مجھ جیسے شدہ سنگل کا تمہیں کیوں خیال آنے لگا ۔۔‘‘‘وہ فورا ًہی نادیدہ آنسو پونچھ کر منہ بنا کر بولا۔ ’’نکلو میرے کمرے سے۔‘‘شارق نے آٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کو دھکا دیا۔اتنے میں کوئی مسکرا کر کمرے میں داخل ہوا۔۔ ’’کیا ہوا؟‘‘شارق پھاڑ کھاتے لہجے میں مسکراتی ثانیہ کو گھور کر بولا۔جو وائٹ جینز پر بلیو ٹاپ پہنے نزاکت سے چلتی ان کے نزدیک آ ئی۔ ’’کچھ نہیں !ویسے براق تم تھکتے نہیں ہو ہر وقت جوکرکی طرح کرتب دکھا دکھا کر۔‘‘اس کے تمسخر بھرے آنداز پر شارق کی پیشانی پر بل واضح ہوئے۔ ’’کوئی کام تھا۔‘‘براق کو تیز نظروں سے گھورتا وہ سنجیدگی سے مخاطب ہوا۔جو مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی۔ ’’ہاں!۔۔۔وہ ایکچوئیلی میں کہ رہی تھی کہ میری دوست نے شادی پر صرف مجھے انوائٹ کیا ہے۔تو تمہیں بن بلائے مہمان بن کر جاتے ہوئے زرا اکورڈ نہیں لگے گا۔‘‘ثانیہ نے سپاٹ آنداز میں سیدھی سی بات کی۔ ’’نہیں!داد جان نے تمہارے ساتھ شادی پر جانے کی میری زمہ داری لگائی ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔اس کے علاوہ کوئی کام ہے تو جلدی بولو میں مصروف ہوں۔۔‘‘ وہ زرا عجلت بھرے لہجے میں بولا۔ ’’نہیں!جب تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے تو مجھے کیا پروبلم ہوگا۔‘‘وہ ایسے اور شرارتی نظروں سے گھورتے براق کو تیز نظروں سے دیکھ پیر پٹخ کر الٹے قدموں واپس پلٹ گئی۔ ’’اب نکلوں تم بھی یہاں سے۔‘‘براق ایک قہقہہ لگانے کو تھا جبھی شارق ڈھڑام سے اس کے منہ پر دروازہ بند کرتا بڑبڑاتا ہوا پلٹ گیا۔ ’’ویسے کوئٹہ جاکر مجھےبھول نہیں جانا۔۔وہاں کوئی حسینہ اگر تم پر لائن مارے تو اس کی لائن میرے نمبر سے ملادینا۔‘‘دروازے کے پار سے اؤنچی ہانک لگاتا وہ شارق کی مزید گوہر افشاائیاں سنے بغیر دوڑ لگا گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آقصیٰ آپ یہاں کیسے؟‘‘وہ اجنبی جینز کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے قدم قدم چلتاآقصیٰ کےنزدیک آتا مصنوعی حیرانگی سے بولا۔آقصی ٰ چونک کر متوجہ ہوتی ایک گہری ٹھنڈی سانس فضا کے سپرد کرتی آنکھیں گھما کر رہ گئی۔ ’’زیان ضد کر رہا تھا۔تو بس میں نے سوچا ایسے زرا باہر کی سیر کروالاتی ہوں۔مگر یہ پاک جانے کے لیے بضد ہے۔ ۔‘‘گرم کوٹ ،مفلر،ہاتھوں میں دستانیں پہنی آقصیٰ نے زرا جھنجھلا کر کہا ۔ویران سے چہرے پر تھکن بھرے تاثرات واضح دکھائی دے رہےتھے۔جب سے زیان کی طبیعت خراب ہوئی تھی،وہ اس کو بہت پریشان کرنے لگا تھا۔ ’’ ماما کو کیوں تنگ کر رہے ہو چیمپ!‘‘وہ مسکرا کر قریب جھک کر زیان کی پھولی سی ناک پر انگلی مارتا ایسے گود میں اُٹھا چکا تھا۔جس نے ناگواری سے اس اجنبی کو گھورا ۔جو فضول میں فری ہونا چاہ رہا تھا۔ ’’ماما!!زیان نے چھوٹے بچوں کی طرح اس کی جانب ہاتھ بڑھا ئے تھے۔مطلب صاف تھا ۔اسیے اس اجنبی کا گود میں آٹھانا ہر گز بھی پسند نہیں آیا ۔ ’’زیان!!آقصیٰ نے آنکھیں دکھائیں۔مقابل نے آقصیٰ کے تاثرات دیکھ مسکراہٹ ضبط کی۔ ’’چلیں آجائیں۔آج میں آپ کو لندن شہر کی سیر کرواتا ہوں۔آپ تو بس چار گلیوں میں ہی گھومتی رہتی ہیں۔‘‘اس کی آنکھوں میں آقصیٰ کو دیکھ الوہی سی چمک عود آئی تھی۔ ’’نہیں !نہیں! میں بس گھر جارہی ہوں۔اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہت شکریہ!‘‘آقصیٰ نے جلدی سےمروت نبھائی۔وہ اس کا مسیحا تھا اسی لیے اب تک وہ اتنا تمیز سے پیش آرہی تھی ۔ورنہ ٹائیگر کی رپورٹر کس قدر بد دماغ تھی اس بات سے تو آدھا شہر واقفیت رکھتا تھا۔ ’’ارے آقصیٰ جی تکلف کیسا۔اب تو ہم دونوں اچھے دوست بن گئے ہیں۔‘‘آقصیٰ نے اچھنبے سے سامنے کھڑے لمبے چوڑے مرد کو دیکھا ۔جس کی سحر انگیز شخصیت کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لینے کی طاقت رکھتی تھی۔مگر نجان کیوں وہ اتنا فری ہو رہا تھا۔ ’’مگر میں آپ کے ساتھ!!آقصیٰ کو زرا جھجھک سی ہوئی۔ٹائیگر کے بعد بہت سے لوگوں نے اس کی جانب قدم بڑھا ئے تھے۔مگر وہ اپنے خول میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ’’نو اگر مگر!گھبرائے نہیں۔ میرے ساتھ آجائیں۔پکا میں بھوت نہیں ہوں۔۔‘‘اب ہلکی ہلکی سی برف باری پھر سے شروع ہو چکی تھی۔گرم کپڑوں میں ملبوس وہ تینوں لندن کی سڑکوں پر اپنے حصہٰ کی خوشیاں تلاشنے میں مصروف نظر ارہے تھے۔مگر کون جانتا تھا کہ قسمت کچھ اور ہی سوچے بیٹھی تھی۔آقصٰی کے قدم پہلی بار کیسی اجنبی کی جانب آٹھے تھے۔اس شخص میں ایک کشش سی تھی جو کبھی اسے انکار کرنے ہی نہیں دیتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ مزید اقساط کے لیے چینل کا وزٹ کریں۔۔اور ہاں ہما قریشی ناولز چینل کو سبسکرائب کرنا بالکل نہ بھولئیے گا۔۔اور ہاں کہانی پر چھوٹا سا تبصرہ بھی ہوجائے؟
