Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/01/2026
0 Views
Episode No 05
#وہ_اک_گماں_سا #ہما_قریشی 05 ہانیہ تنے ہوئے تاثرات کے ساتھ ٹائینی ہاؤس کی دو سیڑھیاں پھلانگ کر انٹر ہوتی ایک جھٹکے سے سامنے بنے چھوٹے سے واشروم کی جانب بڑھی تھی۔ کچھ سردی کی شدت تھی اور کچھ رُونے کے باعث مترنم سی آنکھیں سُرخ ہورہی تھی۔ غصے کی شدت سے چہرہ ابھی تک تمتما رہا تھا،بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ اس بیہودہ انسان کا کچھ کر ہی ڈالتی۔چہرے پر گرم پانی کی چھینٹے مار کر ٹاول سے منہ تھپتھپاتی وہ دو قدم چل کر کچن کی جانب آئی تھی۔جہاں جینی سنک کے پاس کھڑی فش صاف کرنے میں مصروف تھی۔ کیا ہوا سوئیٹ ہارٹ؟اتنی ریڈ ریڈ کیوں ہو رہی ہو؟کہیں کیسی ہینڈسم نے پر پوز تو نہیں کر دیا؟‘‘جینی ایسے ٹائینی ہاؤس میں بنے سیکنڈ فلور کی دو سیڑھیاں پھلانگ کر اُپر چھوٹے سے لیونگ روم کے صوفے پر چڑھ کر بیٹھتا دیکھ شرارت سے بولی۔ ’’ہمت تو کرئے زرا کوئیِ منہ ہی ٹور ڈالونگی۔جیسے دیکھو تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کرنا چاہا رہا ہے۔‘‘وہ سر پیچھے پھینکتی اردو میں بڑبرائی۔ ’’یہ تم اپنی زبان میں ،اپنے بھوتوں سے بات نہیں کرنے بیٹھ جایا کرو۔‘‘وہ شائستہ سی انگریزی میں ناراضگی سے بولتی اپنے کام کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔ ’’بیوقوف!اب اگر زرا سا بھی عقل اور غیرت مند ہوگا تو میرے پیچھے آنے کی غلطی ہر گز نہیں کرے گا۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑاتی چھوٹی سی گلاس ونڈو سے باہر ہوتی برف باری دیکھنے لگی تھی۔جو روئی کے گالوں کی طرح زمین پر گرتی ایک تہ سی بناتی جا رہی تھی۔ہانیہ کوزندگی اُداس ،خاموش وحشت بھری سی محسوس ہوئی تھی بالکل لندن کی اس رات کی مانند۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی اس کے لبو پر خباثت بھری مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔کھُلی آزاد فضا میں سانس لیتے ہی ایک خوشگواریت کا احساس سا جاگ اٹھا تھا۔ سوٹ کیس کی ٹرالی گھیسٹ کرائیر پورٹ کا احاطہ عبور کرتے ہی وہ گاڑی کے پاس آیا تھا۔جہاں اس کا ڈرائیور پہلے ہی اس کا منتظر تھا۔ ’’ویلکم بیک سر!اس کے لیے پچھلی نشست کا دروازہ کھول کر وہ مودب آنداز میں گویا ہوا ۔ُاس کے لبو پر ایک مسکراہٹ سی بکھر گئی تھی۔ وہ خوش تھا ۔جیسے شکاری شکار لگنے کے بعد پر جوش ہوتا ہے۔اس کی خوشی بھی کچھ خاص مختلف نہیں تھی۔ ایک نظر باہر ڈالی تو نگاہوں میں کئی منظر واضح ہوئے تھے۔نگاہوں میں اس پری پیکر کا معصوم سا سراپا چھم سے لہرایا تھا۔ اب بس انتظار تھا۔اس سے ملاقات کا انتظار۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہانگیر ہاؤس میں اس وقت سب ڈائینگ ٹیبل پر موجود خاموشی سے کھانا نوش فرمانے میں مصروف تھے۔جبھی ثانیہ کی آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ ’’دادا جان! مجھ آپ سے اجازت چاہیے تھی۔‘‘ثانیہ نے گلا کھنکھار کر بات کا آغاز کیا۔ ’’جی بیٹے بولیں۔‘‘جہانگیر صاحب کے علاوہ اس کے ماں باپ بھی اس کی جانب متوجہ ہوئے۔جو ہر بات صرف اپنے دادا سے ہی شئیر کرتی تھی۔ ’’وہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی یونی فیلو کی شادی پر جانا چاہتی ہوں۔‘‘شارق اور براق نے ناسمجھی سے ایسے دیکھا تھا جو اب لب چپا رہی تھی۔ ’’تو جائے اس میں اجازت لینے والی کونسی بات ہے۔‘‘جہانگیر صاحب نے نرم نگاہوں سے دیکھ مسکرا کر کہا۔عائلہ بیگم نے سر جھٹکا۔جانتی تھیں اب وہ اگے کیا بولے گی۔ ’’ایکچوئیلی میری وہ دوست یہاں نہیں بلکہ کوئٹہ میں رہتی ہے۔‘‘ اب کے جہانگیر صاحب کے تاثرات میں تناؤ سا پیدا ہوا۔ ’’تو مطلب آپ اکیلے دوسرے شہر جانا چاہ رہی ہیں۔‘‘وہ جیسے نتیجے پر پہنچے تھے۔ ’’جی!‘‘ ’’مگر آپ جانتی ہیں ناں میں ایک اکیلی لڑکی کے دوسرے شہر جانے کے ہر گز بھی حق میں نہیں ہوں۔‘‘وہ سنجیدگی سے گویا ہوئے۔ ’’مگر!دادا جان وہ میری بہت اچھی دوست ہے۔اگر میں نہیں گئی تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی۔‘‘وہ معصومیت سے گویا ہوئی۔ ’’شادی کب ہے؟‘‘وہ ہاتھوں کو باہم آپس میں ملائے سنجیدگی سے گویا ہوئے۔براق اور شارق نے کینا طور نظروں سے اس میسنی کو گھورا ۔ ’’اس منتھ کے اینڈ میں۔‘‘ ’’شارق!ْ‘‘وہ کسی سوچ کے زیر اثر ُاسے مخاطب کر بیٹھے،جیسے ثانیہ ویسے ہی اج کل چڑیل لگ رہی تھی۔ ’’آپ اپنے سارے کام نمٹالیں ۔ثانیہ کو شادی پر آپ لے کر جائیں گے۔‘‘دادا صاحب کا کہنا تھا اور شارق کے حلق میں نیولا اٹک گیا ۔ ’’مگر دادا جان مجھے تو دبئی میٹنگ اٹینڈ کرنے جانا تھا ناں۔‘‘شارق کا منہ کسی روندو بچے کی طرح نظر آرہا تھا۔براق اندر ہی اندر شارق کی حالت سے حظہ اٹھا رہا تھا۔ ’’آپ بے فکر ہوکر ثانیہ کے ساتھ جائیں۔اس بار میٹنگ اٹینڈ کرنے براق جائے گا۔‘‘اور اب باری تھی براق کے حلق میں پانی اٹکنے کی۔ ’’اہہمم!!‘‘براق نے بہت مشکل سے جہانگیر صاحب کی بات ہضم کی تھی۔ ’’مگر دادا میں کیسے۔۔میں تو ابھی بہت چھوٹا ہوں۔‘‘وہ پچیس سالہ نوجوان فوراً کاکا بن گیا تھا۔ ’’کتنے چھوٹے ہیں آپ برخوردار!فیڈر ساتھ لے جائیے گا۔‘‘براق کی اس قدر تازی بے عزتی پر ڈائیننگ پر موجود سب ہی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ کھل گئی تھی۔وہ زرا کھسیا کر رہ گیا۔جبکہ شارق تو ابھی تک صدمے میں تھا۔ ’’دادا ابو۔۔اٹس ناٹ فئیر!‘‘وہ سینے پر ہاتھ لپیٹ پر رخ پھیرتا ناراض ہوگیا تھا۔ ’’ثانیہ بیٹا آپ اپنی تیاری کرلیں۔شارق آپ کے ساتھ آئیگا۔‘‘جہانگیر صاحب سب کے زمہ ان کے کام لگا کر میز چھوڑ گئے تھے۔ ’’تمہاری بد دعا لگی ہے۔کالی زبان والے۔‘‘شارق بڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔جبکہ ثانیہ تفخر سے مسکرا رہی تھی۔شارق کو تو ایسے دیکھ کر ہی غصہٰ آرہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نئی صبح اور ایک نئی ُامنگ اور ہر نئی ُامنگ میں ایک نئی تَرنگ وہ چہرے پرمژدگی لیے صوفے کی پشت پر چہرہ ٹکائے اُدسی سے گلاس ونڈو کے باہر دیکھ رہی تھی۔آج ایسے دبئی گئے دو کی جگہ پورے چار دن گزر چکے تھے۔جبکہ وہ کتنا بھی مصروف کیوں نا ہو ہر تھوڑی دیر کے وقفے کے بعد وہ اسے کال کرنا ہر گز نہیں بھولتا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے کال کر کے اپنی صبح کی واپسی کا فلائٹ کا بتایا تھا۔وہ کچھ دِیر کے لیے اس سونے کے پنجرہ سے آزاد سکون کی زندگی ازادی سے گزارنا چاہتی تھی۔مگر وہ مجبور تھی کیونکہ اس کے ساتھ قدم قدم پر گارڈز موجود تھے۔وہ تو ازادی سے سانس تک لینے کی روادار نہیں تھی۔کجا کہ کچھ لمحے تنہائی کے کیا ہی میسر آنے تھے۔ ’’میڈم!‘‘وہ سوچوں میں ُگم تھی جبھی ایک سوٹڈ بوٹد لڑکی نے قریب آکر ُایسے پکارا ۔ ’’جی۔‘‘وہ چونک کر ہوش میں آئی تھی۔پشت پر پھیلے کالے سیاہ بال اس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔ ’’سر کی کل صبح کی فلائٹ کینسل ہوگئی ہے۔وہ آج رات ہی کی فلائٹ سے واپس آرہے ہیں۔‘‘اس کی اطلع پر وہ بد حواس سی ہوگئی تھی۔ ’’تو۔۔‘‘ایسے مقصد سمجھ نہیں آیا تھا۔ ’’سر چاہتے ہیں ہ آپ شام تک ان کے آنے سے پہلے فریش ہوکر یہ ڈریس پہن کر ریڈی ہوجائیں۔‘‘اس نے پیکٹ میں موجود ایک ڈریس اس کی جانب بڑھایا ۔ ’’اوکے!آپ جائیں۔‘‘وہ اس کا مطلب سمجھ کر گہری سانس بھر کر رہ گئی۔پیکٹ کھول کر چیک کیا جس میں ایک خوبصورت سی گھیر دار انارکلی فراک موجود تھی۔جبکہ ساتھ میں میچنگ جیولری کے ساتھ ساتھ سینڈلز بھی موجود تھے۔۔اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے۔مگر وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہوئی تھی۔اور خاموشی سے واپس اپنی سابقہ پوزیشن میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آقصیٰ زیان
