Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 28/01/2026
12 Views
Episode No 04
کر رہی تھی۔بظاہر اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔پیسے جمع کر کے پاکستان جانا ۔مگر ابھی ایک ہولناک انکشاف اس کا منتظر ہی تھا۔زندگی دن با دن تنگ سے تنگ ہوتی چلی جارہی تھی۔وہ رات کو آٹھ بجے چھٹی کرتی شاپ سے باہر نکل کر کوٹ میں ہاتھ پھنسائے پیدل بس اسٹینڈ تک آئی تھی۔ ہر طرف برف کی موٹی چادر سی بچھی ہوئی تھی۔ایسے میں موٹا لیدر کا کوٹ پہنے وہ مسلسل کپکپاہٹ کا شکار تھی ۔دستانوں میں مقید ہاتھوں کو آپس میں مسلتی سخت سردی میں بس کا انتظار کر رہی تھی۔چند سنہری بالوں کی لٹیں گرم کیپ سے باہر پشت پر پھیلی ہوئی تھیں۔اوشن بلیو آنکھوں میں ادسی سی چھائی ہوئی تھی۔جبکہ ناک اور بھرے بھرے گال سردی کی شدت سے گلابی ہورہے تھے۔نرم سے ہونٹوں پر پپڑی سی محسوس ہورہی تھی۔اس کے لیے یہاں کی سردی ناقابل برداشت تھی۔۔ ’’سنو!‘‘وہ ابھی منتظر نگاہیں لیے وہیں کھڑی تھی۔جب پیچھے سے کسی نے ایسے پُکارا ۔ ’’ہانیہ آنکھوں میں تعجب لیے زرا چونک کر پلٹی تھی۔بھلا یہاں کون اگیا تھا اسے پُکارنے والا۔سامنےُمقابل کھڑے شخص کو دیکھ ہانیہ کا اُپر کا سانس اُپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا تھا۔ گرم کوٹ،گلے میں مفلر ڈالے ، وجیہہ سی شخصیت کا مالک آنکھوں میں معنی خیزی سی چمک لیے وہ کیفے والا بندہ ہی کھڑاتھا۔وہ اب اس کے ہونق زدہ چہرے کو پرشوق نگاہوں کے حصار میں لیے اس کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا۔ ’’اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟میرے خیال سے کیفے سے تمہاری سرشام ہی چھّٹی ہوجاتی ہے۔‘‘ لانگ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے وہ بڑے روعب دار آنداز میں حق سے سوال کر رہا تھا۔ہانیہ کا حلق تک ُخشک پڑ گیا ۔ ’’آپ ۔۔آپ میرا پیچھا کر رہے ہیں؟‘‘ہانیہ خود میں ہمت مجتمع کرتی بڑی مشکل سے الفاظ ادا کر سکی ۔ ’’نہیں!!‘‘دوسری جانب سے پر ُسکون آنداز میں جواب آیا ۔ ’’تو پھر!آپ یہاں کر رہے ہیں۔‘‘ہانیہ کو وحشت سی ہونے لگی ۔۔ ’’میں یہاں کیا کر رہا ہوں یہ آپ کا مسئلہ نہیں۔مگر آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ُمقابل کو ہانیہ کا سہما سہما ساآنداز مزہ دے رہا تھا۔جبھی لہجے کو زرا سخت بنا کر سوالیہ آنداز میں گویا ہوا۔ ’’میں!!ہانیہ بوکھلا گئی سی گئی ۔اِرد گرد میں نظر دوڑا کر دوسری جانب سے قریب آتی بس دیکھ ہانیہ حواس باختہ سی بس کی جانب ڈوڑ پڑی تھی۔شمعون نے فارس کو اشارہ کرتے اپنے قدم بھی ڈبل ڈیک کی جانب بڑھائے۔ہانیہ بس کی سیڑھیاں پھلانگتی عقب میں اس کی موجودگی محسوس کر تی خاموشی سے ایک سیٹ پر بیٹھ گئی ۔ شمعون بھی مزے سے اسٹیپس پھلانگتا اس کے ساتھ ہی آ بیٹھا تھا۔ہانیہ کا بس نہیں چلا۔ورنہ وہ چلتی بس سے ہی چھلانگ لگا ڈالتی۔ ’’کم آن یار!!اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔‘‘شمعون کو سمجھ نہیں آیا وہ لندن شہر میں تن تنہا ہونے کے باوجود اتنی سہمی سی کیوں رہتی ہے۔ ’’دیکھیں آپ میرا پیچھا کرنا بند کر دیں۔‘‘بے بسی سےآواز تک رندھ گئی تھی۔سمندر جیسی نیلی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا ۔شمعون کو اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھ ترس سا آیا ۔ ’’ہئےسوئیٹی!ڈانٹ کرائےبے بی۔۔میں صرف مزاق کر رہا تھا۔‘‘شمعون ایسے آنسو بہاتا دیکھ بہلانے والے آنداز میں بولا ۔جبکہ پلکوں کی باڑ توڑ کر چہرے پر پھسلتا آنسو ایسے بے بس کر گیا۔۔ پلیز!!وہ گھبرا کر چہرہ کا رُخ موڑ کر کھڑکی کی جانب کرتی اس سے کترا کر دُور ہوئی تھی۔جو آج اِس کے پیچھے آگیا تھا۔آج شدت سے اپنے تنہا ہونے کا احساس ہوا ۔ ’’اوکےاوکے!میں کچھ نہیں کر رہا۔پلیز رو نہیں یار۔‘‘وہ ہاتھ ہوا میں بلند کرتا سرینڈر کرنے والے آنداز میں گویا ہوا ۔کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ ہی سہمی سی نظر آرہی تھی۔ ’’اسٹاپ آتے ہی۔ہانیہ بھاگنے کے آنداز میں بس سے اُتری تھی۔شمعون بھی ساتھ ہی اس کی تقلید میں قدم اُٹھاتا اس کے پیچھے آیا ۔ ’’ہنی سنو تو یار!اس نے بے ساختہ اس کا ہاتھ پکڑاتھا۔ہانیہ نے ناگواری سے پہلے اپنا ہا تھ دیکھا اور پھر اس شخص کو جو اسقدر بے باکی سے اِس کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔ ’’چٹاخ!‘‘ ہانیہ کا ہاتھ ہوا میں ُبلند ہوا اور مُقابل کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔لندن کی ایک مصروف ترین شاہراہ پر اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں کھڑے وہ دونوں مجسمے محبت کی زبان سے ناُبلند تھے۔ ’’ہمتٍّ کیسے ہوئی آپ کی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔یہ لندن ہے تو آپ نے سوچا کیوں نا مشرق سے آئی لڑکی کی بے بسی کا فائدہ اُٹھایا جائے۔گوریوں سے دل بھر گیا،یا انہونے آپ جیسے کو منہ نہیں لگایا؟‘‘ہانیہ کی آنکھوں سے غصہٰ سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔وہ جو کب سے خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔اب بے بسی سے پھٹ پڑی تھی۔ ’’ہانیہ!تم غلط سمجھ رہی ہو۔‘‘شمعون کو اچانک اپنی غیرارادی میں سرزد ہوئے عمل پر شرمندگی ہوئی ۔۔ ’’میرا نام مت لیں آپ۔اور ہاں کمزور سمجھ کر فائدہ اُٹھانے کی تو غلطی بھی نہیں کرنا۔سمجھے۔۔‘‘انگشت شہادت اُٹھا کر تند لہجے میں بولتی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی ٹائینی ہاؤس کی جانب بڑھی تھی۔پیچھے وہ اونچا لمبا،مغرور سا مرد اس چھوٹی سی لڑکی کی جرأت پر حیران گال پر ہاتھ دھرے ہونق بنا کھڑاتھا۔اُس کی فق نظریں ُدور جاتی ہانیہ پر مر کوز تھیں۔جب پاس سے ایک آواز اُبھری جس نے ایسے حقیقت کی دنیا میں لاپٹکا تھا۔ ’’اوہ ہیرو کروالی مشرقی حسن سے عزت اب آجا میرے بھائی۔۔چل اپنے یارنے بہترین قسم کی بریانی بنائی ہے۔‘‘وہ شرارت سے بولتا کار اس کےنزدیک لایا تھا۔جبکہ وہ اس کی زومعنی آنداز میں مسکرانے پر خفت زدہ سا گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر براجمان ہوتا۔اس کی گردن پکڑ چکا تھا۔جو مسلسل قہقہہ لگا رہا تھا۔ ’’ویسےہاتھ کیسا ہے بھابھی کا ؟ہلکا ہے یا بھاری ؟‘‘فارس کی آنکھوں میں مسلسل شرارت ناچ رہی تھی۔شمعون نے ایسے گھور کر دیکھا جیسے بس اس کی بے عزتی ہوتی دیکھنے کا موقع چاہئے ہوتا تھا۔وہ سر جھٹک کر سیٹ پر سر گرا گیا۔ ’’عشق نے غالب نکماکردیا،ورنہ آدمی تھے ہم بھی بڑے کام کے۔‘‘شمعون کو سوچوں میں گمُ ،گال پر ہاتھ رکھ مسکراتا دیکھ وہ اُونچی آواز میں بول کر ایک زبردست قہقہہ لگا گیا۔شمعون گڑبڑا کر ہوش میں آیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ لائک نہ کرنے والوں آپ سے اللہ پوچھے گا۔۔۔دس قسطوں تک بھی یہی حال رہا نا تو 🧐
