Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 28/01/2026
12 Views
Episode No 04
#وہ_اک_گماں_سا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_04 ’’ہانیہ ڈئیر !‘‘سفید جینز پر بلیو شرٹ پہنے وہ چھوٹے سے آئینہ کے سامنے کھڑی کافی شاپ جانے کے لیے تیار ہورہی تھی۔بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل باندھے وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔ ’’ہمم!‘‘ ’’ میں سوچ رہی تھی۔کہ تمہیں اس ہینڈسم سے ایک بار بات ضرور کر لینی چاہئے۔کیا پتہ وہ تمہیں لائک کرتا ہو۔‘‘جینی اس کے نزدیک آتی شرارتی لہجے میں بولی ۔ ’’کم ان جینی! مجھے اس شخص میں زرا بھی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ہانیہ کے چہرے پر ناگواری سی پھیل گئی تھی۔ ’’چلو خیر میں تو اس لیے کہ رہی تھیں،کیونکہ ٹینا بتا رہی تھی کہ وہ مسلم ہے۔‘‘جینی نے اس کے سپاٹ تاثرات پر نظر ڈال پتہ کی بات بتائی تھی۔ ’’جینی ہمیں جاب سے کافی لیٹ ہورہا ہے۔میرے خیال سے ہمیں نکلنا چاہیے۔‘‘ہانیہ اپنا کوٹ سنبھالتی ٹائینی ہاؤس کی سیڑھیاں پھلانگتی باہر آگئی تھی۔باہر ایک سرد فضا کے جھونکے نے طبیعت پر خوش کن اثرات مرتب کیے تھے۔۔ ویٹ ویٹ! میں بھی آرہی ہوں۔‘‘جینی بھی ساتھ ہی اس کے پیچھے آئی تھی جو تیز قدموں سے بس اٹیشن کی جانب جارہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناروے دنیا کا وہ خطہ جہاں سال کے چھ ماہ اُجالا اور چھ ماہ گھپ آندھیرا رہتا ہے۔یہ جنوری کے اختتامی اور اندھیرے کے دن تھے۔مگر اوسلو میں طلوع آفتاب کا وقت خاصہ مختصر تھا جو محض چھ گھنٹوں پر محیط تھا۔شدید برف باری کے باعث اوسلو کی سر زمین نےبرف کی موٹی سفید چادر اڑھ رکی تھی۔۔معملات زندگی اپنی روٹین کے مطابق اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی۔۔ناروے میں پاکستانی پانچویں بڑی کمیونٹی کے لحاظ سے موجود ہیں۔جن میں سے ایک وہ بھی تھی۔متناسب جسمامت اور درمیانے قد کاٹ کی مالک وہ قریباً چالیس کے لگ بھگ خاتون لوز جینز کے ساتھ کھُلی سی گھٹنوں تک آتی شرٹ پرگلے میں اسکارف ڈالے ہلکے سفیدی والے بالوں کا اونچا سا جوڑا بنائے اپنے دس سالہ بیٹے کا ہاتھ تھامے ناروے کی سڑکوں پر پیدل مارچ کرتی اسکول کی جانب جارہی تھی۔چہرے پر برسوں کی تھکن واضح تھی۔وہ اپنی عمر سے کئی گنا ضعیف نظر آرہی تھی۔کالی سیاہ آنکھوں میں ملال تھا یا پچھتاؤ آندازہ لگانا زرا مشکل تھا۔جبکہ اسکول کا بیگ کندھے پر ڈالے وہ دس سالہ بچہ آنکھوں میں بے پناہ اُداسی لیے اپنی ماں کی ہمراہی میں قدم آٹھا رہا تھا۔ ’’مام!اس کے لہجے میں ناگواری واضح تھی۔وہ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔ ’’جی میری جان!‘‘وہ جھک کر اس کے مُقابل آئی ۔جو کمزوری کے باعث اپنی عمر کے بچوں سے خاصہ چھوٹا لگتا تھا۔ ’’میں پڑھنا نہیں چاہتا ۔۔مجھے اسکول نہیں جانا‘‘اس کے لہجے میں ضد تھی۔وہ بیچ فوٹ پاتھ پر ہی ٹھر گیا تھا۔ ’’کیوں؟‘‘وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی تھکن زدہ لہجے میں استفساریہ لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’مجھے بابا چاہیے۔‘‘وہ بے ساختہ ہی رو پڑا تھا۔وہ ایک سرد آہ خارج کرتی کرب سے آنکھیں میچ گئی۔ ’’میری جان بابا جلد واپس آجائیں گے۔تم پریشان کیوں ہوتے ہو۔‘‘وہ دلاسہ دینے کے انداز میں خود ضبط کھو رہی تھی۔آنکھوں میں نمی واضح تھی۔ ’’جھوٹ بولتی ہیں آپ۔۔میں روز صبح ویٹ کرتا ہوں کہ وہ آج مجھے اسکول چھوڑ کر آئینگے جیسے پہلے لے کر جاتے تھے۔مگر وہ نہیں آتے۔‘‘وہ آنکھیں مسل کر گہری سانس بھر کر تیزی سے رونے لگا تھا۔ ’’نہیں رومی!پلیز ڈانٹ کرائے۔۔۔‘‘وہ اپنے کلاس فیلوز کو وہاں سے گزرتا دیکھ آنکھوں میں آنسو لیئے خاموش تو ہوگیا تھا مگر آنکھیں ا بھی بھی نم تھیں۔ ’’بیٹا!باباجلدی واپس آجائیں گے۔ویسے بھی وہ اتنی دور صرف تمہارے اور میرے لیے ہی تو گئے ہیں۔وہ وہاں صرف ہمارے لیے ہی تو دن رات محنت کر کے پیسا کما رہے ہیں۔‘‘جویریہ نے ایسے سمجھانا چاہا تھا۔جو روز ایک ہی سوال کرتا تھا۔وہ خاموش ہوتاخشک نگاہوں سے ایسے ہی تکنے لگا تھا۔۔ ’’چلو!اسکول سے دیر ہورہی ہے۔پھر ماما نے اپنی جاب بھی تو کرنی ہے ناں۔‘‘وہ ایسے بھلانے میں کامیاب رہی تھی۔اب وہ خاموش ہو گیاتھا۔مگر وہ اس معصوم کی زہنی کیفیت سے انجان تھئ۔اسکول کی باؤنڈری میں انٹر ہوکر وہ بچوں کے ساتھ کلاس کی جانب بھاگ گیا ۔ جبکہ وہ اسٹاف روم کی جانب بڑھی ۔ ناروے کےپبلک اسکول میں وہ بطور انگلش ٹیچر اسسٹینٹ جاب کر رہی تھی۔جو بڑی مشکلوں سے ملی تھی۔اب وہ اپنا اور بیٹے کا خرچ باآسانی اُٹھا رہی تھی۔ ورنہ گزشتہ سال ان پر بڑے کٹھن گزرے تھے۔۔ناروے دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک پر امن ملک ہے۔ آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھے۔مگر وہ کتنے ہی سالوں سے خود پر ضبط کیے زندگی کی گاڑی کو دھکا دے رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بلیک اینڈ وائٹ لکڑی کے بنے اسٹائلش سے اُُپن کچن میں مسلسل ایک ہی آواز سنائی دے رہی تھی۔زرا قریب آکر دیکھا جائے تو۔سامنے ہی سفید اپرن کمر پر باندھے تن ہوئے تاثرات کے ساتھ ماتھے پر بکھرے بالوں سے بے نیاز جہانگیر ہاؤس کا نخریلا اور بد مزاج لاڈلا سپوت بڑی توجیہی سےکافی پھینٹنے میں مصروف دکھائی دے رہا تھا۔جازب نظر چہرے پر سوچ کی لکیریں واضح تھیں۔جبکہ ماتھے پر پڑے ان گنت بل اس کے خراب مزاج کے گواہ تھے۔ کالی سیاہ آنکھوں میں سوچ کی گہری پرچھائیاں رقم تھیں۔تنے تاثرات کے ساتھ کافی پپھینٹتا وہ شہزادوں کی سی شخصیت والا پر کشش چہرے خاصہ دلکش لگ رہا تھا۔جبھی وہ کوئی آنکھوں کو گول گول چلاتا کچن کاؤنٹر کے نزدیک آیا ۔۔ ’’کیا کر رہے ہو ؟‘‘شمعون آواز پر چونک کر سوچوں کے محور سے باہر آیا۔مقابل آنکھوں میں اشتیاق لیے پورے وجود سمیت جھک چکا تھا۔ ’’کافی پھینٹ رہا ہوں ۔نظر نہیں آرہا ۔۔۔پیور پاکستانیوں والا سوال پوچھنا ضروری ہے کیا؟‘‘وہ اس کے فضول سے سوال پر بیزار ہوا تھا۔ ’’کیوں آج کافی والی نے کافی نہیں پلائی کیا۔‘‘فارس کو ایک دم شرارت سوجھی تھی۔۔آنکھوں میں معنی خیزی لیے وہ قہقہہ لگا گیا۔ ’’شٹ اپ!وہ زچ ہوتا گھور کر بولا۔کچھ دنوں سے اس کا پہلے ہی موڈ خاصہ اف تھا۔جبکہ وہ تھا کہ مسلسل ضبط آزما رہا تھا۔ ’’اچھا!اچھا! بھائی اب محنت کر رہی رہا ہے تو زرا میرے لیے بھی بنا لے کافی۔‘‘وہ گلے میں ہاتھ ڈال کر منت ترلے کرنے والے آنداز میں پچکارنے لگا۔شمعون نے گردن گھما کر آنکھیں چندھیا کر گھورا۔ ’’پیچھے ہٹ۔میں کوئی ملازم نہیں ہوں تیرا۔‘‘شمعون نے ہری جھنڈی دکھائی ۔ ’’اچھا!ُاس منحوس کو تو بڑی محبت سے کافی بنا کر پلائی جاتی ہے۔وہ بھی اسپیشل والی۔‘‘فارس کا دماغ گھوم گیا تھا شمعون نے مسکراہٹ دبائی۔ ’’وہ تو یار ہے میرا۔۔‘‘شمعون پر چھائی بیزاری زائل ہونے لگی تھی۔ ’’تو میں کیا تم دونوں کے باپ کا ملازم ہوں۔ایک کال کرتا ہے۔ فارس ہسپتال آجا۔ایک کال کرتا ہے فارس کافی شاپ آجا۔نہیں فل ٹائم ڈرائیور ہوں ۔۔کون ہوں میں بھائی؟‘‘فارس ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل کر غصہ سے بولا۔ ’’اچھا چل سائیڈ پر ہو۔۔بنا رہا ہوں۔‘‘وہ منہ باسور کر ایک کی جگہ تین کپوں کی کافی پھینٹنے میں مصروف ہوگیا ۔جبکہ دماغ کہیں اور ہی آٹکا ہوا تھا۔اب واقعی کوئی انتظام کرنا لازمی تھا۔ فار س صاحب کچن کاؤنٹر کی اُونچی سی کرسی پر بیٹھ کر کافی کا انتظار کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل پر مصروف ہو گے تھے۔ان کا غصٰہ بھی پانی کے ُبلبلُے کی مانند تھا۔جو پل میں پھوٹ جاتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ شام کو کیفے سے چھٹیّ کرتی سیدھی شوز اسٹور پر آئی تھی۔صد شکر تھا کہ پچھلے کئی مہینوں میں سے آج وہ جھکی شخص کافی شاپ پر نہیں آیا تھا۔وہ سارا دن ڈبل جابز
