Wabasta Tere Name Say — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/01/2026
120 Views
Episode No 01
وابستہ تیرے نام سے ازہماقریشی قسط نمبر ۰۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بابا پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔۔میں یہ نکاح نہیں کر سکتی۔میں کسی اور کے نکاح میں ہوں۔‘‘وہ جمال صاحب کے گھٹنوں پر ہاتھ دھرے بیٹھی رو رو کر اپنی صفائی بیان کر رہی تھی۔ ’’دیکھو رابی میری جان،میں نے تمھیں بہت لاڈوں سے پالا ہے۔لیکن میرے لاڈ پیار کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔میں تمھارا رشتہ پکا کر چکا ہوں۔اب تمھاری شادی وہیں ہوگی جہاں میں نے طے کی ہے۔‘‘جمال آفندی صوفے پر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھے رعب دار لہجے میں باور کرانا نہیں بھولے تھےجبکہ پیچھے کھڑی انکی بیوی گل بانو،پریشانی کے عالم میں بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔ ’’بابا میرا یقین کریں ،میں نے آپ سے چھپ کر اپنے یونیورسٹی فیلو سے نکاح کرلیا تھا۔‘‘وہ چیخ چیخ کر سچ بیان کر رہی تھی۔ ’’اچھا تو تمھارا نکاح نامہ کہاں ہے؟ کوئی ثبوت پیش کرو۔۔یہ کونسا ہے جو اچانک سے سامنے آیا ہے۔تمھاری یونیورسٹی ختم ہوئے دو سال ہونے والے ہیں۔تمھارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا ہے۔‘‘اس بار وہ بیٹی پر گرجے تھے۔ ’’آپ۔۔۔۔آپ کیوں مجھ سے گناہ کروانے پر آمادہ ہیں بابا۔‘‘وہ انکے ہاتھ تھام کر اپنی پیشانی رکھتی،سسک اُٹھی تھی۔ ’’کل تمھارا نکاح اور رخصتی دونوں ہیں۔اب میں کوئی بکواس نہیں سنوں گا۔۔‘‘انھونے بیٹی کو بری طرح سے جھڑک دیا تھا۔جبکہ وہ روتی رہ گئی تھی،اور اسکے والدین نے نکاح پر نکاح کراکر اسے رخصت کردیا تھا.. ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو ہینڈسم!‘‘وہ شوخ لہجے میں بولتی مقابل کے ساتھ آبیٹھی تھی۔جو خاموش سے اپنی نشست پر بیٹھا تھا۔پوری کلاس ابھی خالی تھی۔وہ ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے کلاس میں آکر بیٹھ گیا تھا۔جبکہ وہ بھی شرارت سے ساتھ ہی ڈیسک پر آبیٹھی تھی۔ ’’ہائے۔۔‘‘ہمیشہ کی طرح روکھے آندازے میں لفظ ادا کئے گئے تھے۔ ’’تم پیدائشی سڑو ہو،یا میری شکل دیکھ کر منہ پر بارہ بج جاتے ہیں؟‘‘یہ انکا فرسٹ سمسٹر تھا۔اور اس تمام عرصے میں بلال کی عجیب و غریب سی حرکتوں کے باعث وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کی جانب را غب ہوگئی تھی۔ ’’آپ کا مسلہ کیا ہے محترمہ؟ ہر وقت میرا پیچھا کیوں لئے رہتی ہیں؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا تھا جو جینز کی پینٹ پرلان کی شرٹ کے ساتھ ڈینم جیکٹ پہنے بالوں کو پشت پر بکھرائے چمکتی آنکھوں میں شوخی لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ ’’میں تم سے دوستی کرنا چاہتی ہوں بس۔۔‘‘وہی شرارت سے بھروپور شوخ لہجا۔اب کلاس میں مزید اسٹوڈینٹس بھی آنے لگے تھے۔اور سب کی دلچسپ نگاہوں ان دونوں کے وجود کا ہی طواف کر رہی تھیں۔ ’’مگر کیوں؟‘‘اس بار وہ رخ پھیر گیا تھا۔اور نگاہیں سامنے مرکوز کر رکھی تھیں۔ ’’بس ویسے ہی،مجھے تمھارے جیسی ڈیسنٹ پرسنالٹی کے بوائیز کافی پسند ہیں۔‘‘وہ ہنوز شرارت کے موڈ میں تھی۔ ’’مگر ہمارے یہاں لڑکے اور لڑکی کی دوستی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔‘‘وہ ایک بار پھر نگاہوں کا زاویہ تبدیل کر چکا تھا۔ ’’اوہ شریف بچہ۔۔۔‘‘وہ قہقہہ لگا گئی۔۔اتنے میں کلاس میں پروفیسر آگئے تھے۔۔ جبھی وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔۔جبکہ بلال کی تمام تر توجہ سامنے وائٹ بورڈ پر چلتے پروجیکٹر کی سلائیڈز پر مرکوز تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر ِ کراچی کے پوش علاقے میں قائم عالمگیر ہاؤس کی سُرخ اینٹوں سے بنی عمارت کی پتھروں سے بنی روش سے آندر جائیں تو حنان عالمگیر کے جاہ جلال کی آوازیں درو دیوار تک ہلا رہی تھیں۔ ’’ بی جان! گستاخی کی معذرت چاہتا ہوں،مگر کیا واقعی ہمارے گھر کی بہن بیٹیاں اس طرح کے حُلیے میں بازاروں میں گھومتی ہیں، جو چچا جان نے اپنی صاحب زادی کو اتنی آزادی دی ہوئی ہے۔‘‘اس کی نگاہ اپنی چچا ذاد پر گئی تھی۔جو مال میں اپنے دوستوں کے ساتھ خود سے لاپرواہ حلیے میں گھوم رہی تھی۔ ’’حنان میرے شیر! وہ تمھارے چچا کی اولاد ہے۔۔ ہمارا اس بچی پر کوئی حق نہیں ہے۔جب جمال کو ہی کوئی مسلہ نہیں ہے تو۔‘‘اُنھونے نرم خوئی سے سمجھانا چاہا۔۔وہ انکی بہن کی پوتی تھی۔دو الگ خاندان تھے۔اور خاندانی تنازعہ کے باعث آفندی خاندان سے اب انکا ملنا ملانا نہ ہونے کے برابر ہی تھا۔۔ ’’خیر مجھے اس لڑکی کو اس طرح شاپنگ مال میں دیکھ کر شدید غصہٰ آیا تھا۔۔اب آپ کی چچا جان سے بات ہو تو ذرا انھیں انکی بیٹی کے کرتوتوں سے ضرور باخبر کر دیجیے گا۔‘‘وہ درشت لہجے میں گویا ہوتا وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔جبکہ وہ ہال میں پڑے جھولے پر بیٹھیں، پرسوچ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ اسکا غصہٰ بخوبی سمجھتی تھیں۔ بھلے وہ منہ سے کچھ نہیں کہتا تھا۔مگر وہ بخوبی جانتا تھا کہ وہ اسکی بچپن کی منگ تھی۔۔اور اسے یہ حقیقت بتانے والی وہ خود تھیں۔کجاکہ وہ منگنی بچپن میں ہی ٹوٹ گئی تھی۔مگر پھر بھی شاید وہ اسے ابھی تک اپنی منگ ہی سمجھاتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’سُنو! وہ کیفٹیریا میں اکیلا بیٹھا کتابوں سے دل لگی میں مصروف تھا جبھی وہ بھی اس کے ساتھ آکر بیٹھی تھی۔۔ ’’جی کہئے!‘‘اس نے نگاہ اُٹھا کر دیکھنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ’’یار میری طرف دیکھ کر بات کیا کرو۔یہ کیا بس کتابوں کو گھورتے رہتے ہو۔‘‘اُس نے منہ بسورا۔۔ ’’ پلیز آپ مجھ سے اس طرح سے بات نہ کیا کریں۔۔‘‘وہ ازلی کھردرے لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’ بھلا کس طرح؟‘‘وہ آنکھوں میں شوخ سی چمک لئے ،ہاتھ تھوڑی تلے ٹیکا گئی تھی۔ ’’ اس طرح،بے باک لڑکیوں کی طرح۔۔۔لڑکیاں یوں خود سے کسی غیر محرم مرد سے مخاطب ہوتی اچھی نہیں لگتیں ہیں۔‘‘اس نے باور کرانا ضروری سمجھا۔ ’’اوہ۔۔۔تو اب تم مجھے بتاؤ گے مسٹڑ سڑو۔۔‘‘اس نے تیز نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’میں کسی کو مفت کے مشورے دینے کا اہل ہر گز نہیں ہوں۔‘‘اس نے خشک لہجے میں کہتے نشست چھوڑ کر قدم کلاس کی جانب بڑھا دئیے تھے۔۔ ’’سڑو کہیں کا۔۔‘‘وہ زیر لب بڑبڑائی۔ ’’ویسے ہے تو ہینڈسم۔۔‘‘اس کی سہلیاں ساتھ آکر بیٹھتی شرارت سے بولیں تھیں۔ ’’سو تو ہے۔۔ہاہاہا۔۔‘‘ساتھ ہی قہقہہ لگاگئیں۔۔جبکہ پلر کے عقب میں کھڑے بلال نے جلتی نگاہوں سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔جو اب آپس میں کھسر پھسر کرتی ، بات بہ بات قہقہہ لگا رہی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاہ رنگ تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ اس وقت ایک آفیشل ڈنر میں جانے کے لئے ریڈی ہوتا خود کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔۔ آئینے میں نظر آتے عکس کو عقابی نگاہوں سے جانچتے اسکی نگاہوں میں وہی منظر چل رہا تھا۔جہاں وہ حسن پری، اس سے ٹکرانے پرَ اسے سُو سُو باتیں سناتی اپنے راستے ہو گئی تھی۔۔ ’’تمھارا کچھ کرنا پڑے گا لڑکی۔۔‘‘وہ خود سے بڑبڑاتا ،اب خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔ لگ بھگ چھ فٹ کی بلند قدامت،ہلکے بھورے بالوں کو پیچھے سیٹ کر رکھا تھا،ہلکی گندمی رنگت وہ وجاہت شجاہت کا پیکر ایک خوبرو مرد تھا، گہری سیاہ آنکھیں،جب میں ہمہ وقت سنجیدگی قائم رہتی تھی۔بلاشبہ وہ اس خاندان کا سب سے خوبصورت اور اور دلیر مرد تھا۔۔مگر آج کل اسکا دل جس دلربا میں اٹکا ہوا تھا،اس نے اسکے اوسان جھنجھا کر رکھ دئیے تھے۔۔۔ ’’وقت آجانے دیجیے میڈم۔۔۔ہم آپ کو اپنے طریقے سے سارے طور طریقے سیکھا دیں گے۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑاہٹ سمیت وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اماں آج کھانے میں کیا بنایا ہے؟‘‘وہ ابھی یونیورسٹی سے واپس لوٹا تھا۔جہاں اسکی ماں کھانا بنانے میں مصروف تھی۔ ’’بیٹا تمھاری پسند کے الو کے پراٹھے بنا رہی ہوں۔جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر آجاؤ۔‘‘ وہ مسکرا کر انکے ماتھے پر بوسہ دیتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا
