Meray Pass Tum Ho — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/01/2026
94 Views
Part 01
کام بھی کچھ پرانے ملازمین نے ولید صاحب کے کہنے پر کیا تھا۔جو بھی تھا ، تھی تو نواسی ہی۔۔ مگر دلہن خود، پری وش، سہمی ہوئی دوپٹے کے پلو کو مٹھی میں بھینچے بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے، چہرے پر آنسوؤں کی نمی اور آنکھوں میں خوف جھلک رہا تھا۔ وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھتی، جیسے وہاں سے ابراہیم کی پرچھائیں نمودار ہوتے ہی اس کا دل بند ہو جائے گا۔ ابراہیم کی سخت مزاجی، اس کی آنکھوں کی وہ تیز چمک اور غصے سے بھری آواز، پری وش کے دل پر خنجر کی طرح چلتی تھی۔ نانا جان کی ضد اور حالات کی تنگی نے اسے مجبور کیا تھا کہ وہ یہ رشتہ قبول کرے، مگر اب وہ سوچ رہی تھی کہ کیا وہ کبھی اس شخص کے سامنے سر اٹھا کر جی پائے گی؟ باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ دل نے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول دیا۔ پری وش نے جلدی سے اپنے دوپٹے کو ذرا سا درست کیا اور لرزتے ہوئے ہاتھوں سے سائیڈ ٹیبل پر رکھی نائف اٹھا کر دوپٹے میں چھپا لی تھی۔ دروازہ کھلا۔ ابراہیم کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھیں پری وش پر ٹک گئیں۔ لمحے بھر کو اس کے قدم رکے، مگر چہرے پر وہی سختی قائم رہی۔ پری وش کا دل حلق میں اٹک گیا۔ اس نے نظریں جھکا لیں، دل میں دعا کی کہ شاید یہ رات کسی معجزے کی طرح خاموشی میں گزر جائے۔ وہ چاہتی تھی کہ ابراہیم کچھ نہ کہے، کچھ نہ کرے۔۔۔ کیونکہ اس کے غصے کا تصور ہی اسے لرزا دینے کے لیے کافی تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Part 02 ابراہیم کے قدموں کی چاپ جیسے پری وش کے کانوں میں بجلی بن کر گر رہی تھی۔ وہ بستر پر ایک کونے میں سمٹی بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں نیچی، سانسیں بے ترتیب۔ جیسے ہی ابراہیم قریب آیا تو کمرے کی خاموشی اور بھی وزنی ہو گئی۔ وہ ایک لمحے کو ٹھہرا، پھر گہری سانس کھینچ کر اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبہ نکالا۔ ہاتھ کے اشارے میں سختی تھی، جیسے فرمان جاری کر رہا ہو۔ اس نے ڈبہ اس کے سامنے اچھالنے کے انداز میں بڑھایا، “یہ لو۔۔۔۔ منہ دکھائی کا تحفہ۔” پری وش کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ چونکی مگر نظریں اٹھانے کی ہمت نہ کر سکی۔ گردن مزید جھک گئی، جیسے زمین میں سما جانا چاہتی ہو۔ اس کی انگلیاں دوپٹے کے کونے کو اور بھی زور سے مسلنے لگیں۔ ابراہیم نے لمحہ بھر کو اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی، مگر وہ سر جھکائے اتنی بے بسی سے بیٹھی تھی کہ اس کے اندر ایک انجانی خلش سی جاگ اٹھی۔ اس کے ماتھے کی رگ ابھرنے کے باوجود وہ کچھ بولا نہیں۔ کمرے کی فضا میں خاموشی طاری ہو گئی۔ صرف پنکھے کی گھوں گھوں اور دل کی دھڑکن کی آوازیں باقی رہ گئیں۔ ابراہیم نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔ “یہاں ڈرامے کی ضرورت نہیں، پری وش۔ تم اب میری بیوی ہو۔۔۔۔ اور یہ حقیقت تمہیں قبول کرنی ہوگی۔” پری وش نے اپنے ہونٹ دانتوں میں دبائے، آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی ابھر آئی۔ وہ اب بھی ڈبے کو ہاتھ بڑھا کر لینے کی ہمت نہ کر سکی۔ ابراہیم کے چہرے پر سختی تو تھی، مگر کہیں نہ کہیں اس کی جھکی گردن اور سہمے ہوئے وجود کو دیکھ کر ایک ناگواری کے ساتھ ساتھ ہلکی سی بے چینی بھی سر اٹھا رہی تھی۔ ’’سر اپر کرو،جتنی زبان باہر چل رہی تھی،اب میرے سامنے چلاؤ ذرا۔۔‘‘وہ اسکا جبڑا سختی سے ہاتھ میں جکڑتا ناگواری سے بولا تو،پری نے جھٹ،چھری اپنی کلائی پر رکھ لی تھی۔۔ ’’آگر آپ نے مجھ پر غصہٰ کیا تو۔۔میں ۔۔میں اپنی جان لے لونگی۔‘‘ابراہیم ذرا گڑبڑا کر پیچھے ہوا۔ ’’یہ کیا بدتمیزی سے؟پاگل ہوگئی ہو۔۔رکھو اسے واپس۔۔‘‘ابراہیم کو اس لڑکی کی حماقت پر طیش آیا تھا۔ ’’نہیں۔۔آپ ۔۔آپ مجھے ماریں گے۔۔‘‘ ’’وہاٹ؟لڑکی تمھارا دماغ خراب ہے۔ہمارے خاندان میں آج تک کسی نے ،کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا،اور میں تمھیں مارونگا۔‘‘ابراہیم کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لے۔۔ ’’میں۔۔‘‘وہ یونہی بیٹھی تھی۔۔جبھی دروازہ ناک ہوا تھا۔ ’’کون؟‘‘ ’’وہ سر ،اسماعیل بابا بہت رو رہے ہیں۔‘‘باہر سے ملازم کی آواز آئی تھی۔ ’’پری یہ نیچے رکھو،میں اسماعیل کو لے کر آرہا ہوں۔وہ ڈر جائے گا۔‘‘پری وش کا سہما آنداز اور کانپنا دیکھ اس بار وہ نر پڑا،شاید وہ زیادہ ہی سختی کر گئے تھے،اور وہ تھی بھی تو کم عمر۔۔ پری وش نے ہاتھ نیچے ضرور کرلئے تھے،مگر کانپنا ابھی بھی جا ری تھا۔۔ ’’سنبھالو اسے۔۔‘‘ابراہیم اسماعیل کو اسکی گود میں ڈالتا خود ڈریسنگ روم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔تاکہ وہ تھوڑا ریلیکس ہوجائے۔۔۔اور ایسا ہی ہو اتھا۔وہ چلا گیا تھا،تو خوف زائل ہوتا گیا۔اسے گود میں لئے بیٹھی اب وہ اس کے ساتھ کھیلنے لگی تھئ۔ڈریسنگ روم کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا ابراہیم نرم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا،شاید نانا جان کا فیصلہ ٹھیک تھا،اسکا بیٹا اسکے ساتھ ہنس کھیل رہا تھا۔ ’’رات بہت ہوگئی ہے،اسکو بھی سلاؤ اور تم چینج کر کہ سو جاؤ۔‘‘وہ اسماعیل کو گود میں لینے قریب آیا تووہ بری طرح سٹپٹائی تھی۔اور خوف سے پیچھے ہوئی۔ ’’کھا نہیں رہا تمھیں۔اتنے ڈرامے کیوں کر رہی ہو؟ ‘‘وہ ناگواری سے بولا تو وہ کھسیا کر رہ گئی۔۔۔ساتھ ہی قدم ڈریسنگ روم کی جانب بڑھائے،اور جلدی سے خود کو آند ر بند کرلیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ To be continued
