Meray Pass Tum Ho — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/01/2026
94 Views
Part 01
کے سامنے ہے۔۔اپنے بچے کو ماں کی کمی کے باوجود سنبھالنا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ نینیز بدلنے سے یہ خلا نہیں بھرنے والا۔ یہ ذمہ داری اسے خود نبھانی ہوگی۔ کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔ بچے کی ہلکی سی سانسیں ابراہیم کے دل پر نقش چھوڑ رہی تھیں۔ ’’تم نے جانے میں بہت جلدی کی ہےغزل۔۔مگر میرا تم سے وعدہ ہے،میں تمھارے گناہگاروں کو موت کے گھات اتاردونگا۔۔‘‘ منشن کے باہر بارش کی بوندیں کھڑکی پر دستک دے رہی تھیں۔ کراچی کی رات ایک بار پھر طویل ہو گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منشن کا ڈرائنگ روم روشنی میں ڈوبا ہوا تھا مگر وہاں بیٹھے لوگوں کے چہروں پر درد اور اضطراب واضح تھا۔ ابراہیم کا چہرہ اب بھی بے ترتیب تھا ۔۔ رات بھر کی نیند کی کمی، بیوی کی موت کا غم، اور ایک ننھے بچے کی سنبھال نے اسے ادھ مری ہوئی حالت میں چھوڑ دیا تھا۔ اس کی آواز شاذ و نادر ہی کسی کے لیے نرم ہوتی۔ ولیدخان۔۔ خاندان کے سربراہ، ایک ایسے دور کے آدمی جو شہرت، دولت اور روایات میں مضبوطی رکھتے تھے ۔۔ آج بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں نرمی تو کم تھی مگر اندر ایک فیصلہ پختہ تھا۔ انہوں نے لمبی سانس لی اور آہستگی سے کہا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ابراہیم خان آپ کی حالت دیکھ کر میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔‘‘وی متوجہ ہوا۔ ’’حکم۔۔۔‘‘وہ ساتھ ساتھ اسماعیل کو بھی تھپک رہا تھا۔۔جو باپ کے بغیر ایک لمحہ نہیں رہتا تھا۔ ’’بچہ کی زمہ داری ،کوئی چھوٹی زمہ داری نہیں ہوتی،میرے خیال سے اب آپ کو دوسری شادی کرلینی چاہئے۔‘‘پری وش جو،ان کے ساتھ ہی آئی تھی اسماعیل کی تلاش میں ٹھلتی ہوئی وہیں ؤگئی تھی۔ ’’پری بچے،اسماعیل کو سنبھالیں،اور بیٹھ جائیں۔‘‘وہ خوش ہوتی،اسے گود میں لر کر بیٹھ گئی تھی۔جبکہ ابراہیم نے ایک سرسری سی نگاہ ڈالی تھی۔پھر ولید صاحب کے لفظوں پر غور کر کہ چونکا تھا۔ ’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بابا گرینڈ پا۔۔میں غزل کے علاوہ کسی کو سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘اس نے لب بھینچ لئے،آنکھیں سرخ پڑ گئی تھیں۔ ’’دیکھو ابراہیم تمھاری یہی حالت رہی تو ہم دوشمن کا پتہ کیسے لگائیں گے۔ہم نے اپنی دو جوان اولادوں کا غم سہا ہےجوان بیٹے اور بیٹی کو کندھوں پر اٹھانا آسان نہیں تھا۔مگر آپ لوگوں کی خاطر ہم یہ کڑوا گھونٹ بھی پی گئے تھے۔ مگر۔۔۔‘‘پری وش غور سے سن رہی تھی۔ماں کی یاد آتے ہی اسکی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔۔اسکی ماں کا بھی تو قتل ہوا تھا۔اور باپ نے دوسری شادی کرلی تھی۔وہ زیادہ تر نانا کے پاس رہتی تھی،اور بابا اپنی دوسری اولاودں کے ساتھ مگن ہوگئے تھے۔ ’’میں غزل سے بے وفائی نہیں کرس کتا،اور کیا بھروسہ سوتیلی ماں،میرے بچہ کو ماں کاپیار دے سکے یا نہیں۔‘‘وہ اتنا غلط بھی نہیں تھا۔ ’’اسی لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کا اور پری وش کا نکاح کردیا جائے،پری وش سے زیادہ اچھی پرورش اسماعیل کی کوئی نہیں کر سکتا۔‘‘ابراہیم نے حیرت سے گرینڈ پا کو دیکھا۔ ’’وہاٹ ،یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔یہ بچی!‘‘ابراہیم نے بغور بیس سالہ پری وش کو دیکھا تھا۔۔جو غصےٰ سے سرخ پڑتی کچھ کہنے کے لئے منہ کھول رہی تھی۔۔ ’’نانا جان میں آپ کے رنڈوے پوتے سےہر گز بھی شادی نہیں کرونگی۔ایک تو رنڈوا اُپر سے ایک بچے کے باپ بھی ہیں۔اور پھر یہ کتنے بڈھے ہیں۔‘‘بیس سالہ پری وش کے لبوں سے اس قدر سخت الفاظ سُن کر چوتیس سالہ ابراہیم کا چہرہ سُرخ پڑ گیا تھا۔جبکہ ولید صاحب نے ناگواری سے اسکی مداخلت برداشت کی تھی۔۔۔ ’’آپ خاموش رہیں۔‘‘انھونے نواسی کو باز رکھا۔ ’’میں کیوں خاموش رہوں۔میں اس رنڈوے شخص سے کیوں شادی کروں۔‘‘یہ لفظ کچھ عرصہ قبل ہی اسنے اپنی سوتیلی مان کے منہ سے سنا تھا۔ ’’پری وش خاموش رہیں،میں آپ کے باپ سے اجازت لے چکا ہوں،اسےکوئی اعتراض نہیں،اور اچھی لڑکیاں یوں منہ کھول کر انکار نہیں کرتی ہیں۔‘‘وہ تنبہ بولے،جبکہ ابراہیم اس کے لفظ پر غصےٰ سے سیخ پا ہوا تھا۔ ’’میں اس رنڈوے سے شادی۔۔۔‘‘لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔ ’’گرینڈ پا سمجھا دیں اپنی لاڈلی نواسی کو اب تو اس کی شادی اسی رنڈوے سے ہوگی،اور میرے باقی بچوں کی اماں بھی یہی بنے گی۔وہ باہر پالا بڑا تھا،مگر فطرتً سخت مزاج کا حامل شخص تھا۔۔ ’’یہ بھول ہے آپ کی کیونکہ آگر کسی نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں گھر سے بھاگ جاؤنگی۔اسکے لفظوں کے نشتر سیدھے مردوں کے دل میں جا کھبے تھے ،ولید صاحب کا جاہ و جلال لوٹ آیا تھا۔۔ ’’پری وش خاموش رہو۔۔ابراہیم نکاح خواہ کا انتظام کرو،نکاح اور رخصتی،آج اور ابھی اسی وقت ہوگا،ہمیں اس لڑکی سے بغاوت کی بو آرہی ہے۔اور کال ملاؤ ان کے بابا کو،اپنی بیٹی کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کردیں،اس سے قبل کہ یہ براداری میں ہماری ناک کٹوا دے۔‘‘پری وش نے شکوہ کناں نگاہوں سے اپنے جان سے پیارے نانا کو دیکھا تھا،جواسے اپنی چہیتی بیٹی کہتے تھے،اور آج پوتے کے سامنے باغی بنا دیا تھا۔ ’’میں یہ نکاح نہیں کرونگی۔‘‘وہ باضد تھی۔ ’’اپنی نواسی کو تیار کرادیں،مجھے اپنی بیوی مکمل بناؤ سنگھار کے ساتھ چاہئے۔۔‘‘وہ غصےٰ سے بولا تھا،وہ عورت ذات کے ساتھ سختی کا قائل نہیں تھا،مگر پری وش نے اسے ضد دلائی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پارٹ 02 روشنیوں سے جگمگاتے اس بڑے سے ہال میں سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ پری وش کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ سامنے نانا جان کے اصرار پر قاضی صاحب بیٹھے تھے، اور کاغذ قلم کے ساتھ نکاح کے رسمی جملے پڑھ رہے تھے۔ خاندان کے چند قریبی لوگ گواہ بنے بیٹھے تھے، اسکا باپ مہمان بنا بیٹھا تھا۔وہ کس سے التجا کرتی۔۔ پری وش کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے، وہ بار بار اپنے نانا جان کی طرف دیکھ رہی تھی، جیسے التجا کر رہی ہو کہ اسے وقت دیا جائے، کچھ سوچنے دیا جائے۔ مگر نانا جان کا چہرہ فیصلہ شدہ تھا، ان کی آنکھوں میں سختی اور دل میں اپنی نواسی کے تحفظ کی فکر غالب تھی۔ ابراہیم خاموشی سے بیٹھا تھا، چہرے پر عجیب سی سنجیدگی، جیسے وہ بھی حالات کا قیدی ہو۔ قاضی صاحب نے جب رضامندی چاہی تو اس کے ہونٹ بمشکل ہلے۔ "قبول ہے۔۔۔دوسری جانب ابراہیم نے سپاٹ لہجے میں نکاح قبول کیا تھا۔۔" پری وش کا دل زور سے دھڑکا، اس کے لب کانپنے لگے۔ وہ سسکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، مگر نانا جان نے اس کا ہاتھ دبا کر نکاح نامے پر دستخط کروائے۔ کمرہ قہقہوں یا خوشی کے نعروں کے بغیر، ایک سنسان، بوجھل خاموشی میں ڈوبا رہا۔ نکاح مکمل ہوتے ہی پری وش نے دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچھنے چاہے، لیکن وہ رکی نہیں، بہتے ہی چلے گئے۔ دل میں ہزاروں خدشات پنجے گاڑ کر بیٹھے تھے۔ابراہیم کے غصےٰ کا سوچ کر دل کانپ رہا تھا۔۔۔ ابراہیم نے ایک لمحے کو اس کی طرف دیکھا، لیکن کچھ نہ کہا۔ نانا جان نے سکون کا سانس لیا، جیسے اپنی ذمہ داری پوری کر لی ہو۔ مگر پری وش کے لئے یہ لمحہ ایک کرب، ایک بے بسی کی داستان تھا۔ وہ روتی رہ گئی۔۔۔ مگر اسے ابراہیم کے سنگ رخصت کر کہ اسکے کمرے میں پہنچاتے سب اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے تھے،نانا جان بھی جان بوجھ کر اپنے ولا واپس آگئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں ہلکی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی، گلاب کی پتیاں قالین پر بکھری تھیں ۔ یہ
