Meray Pass Tum Ho — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/01/2026
94 Views
Part 01
میرے پاس تم ھہ ازقلم ہماقریشی پارٹ نمبر ۰۱ کراچی کی بارش سے بھیگی ہوئی رات تھی۔ سڑکیں ٹھنڈی ہوا میں جلتے بلبوں کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ شہر کا شور تو بدستور قائم تھا مگر ابراہیم کے "کلفٹن منشن" میں ایک ایسی خاموشی چھائی تھی جس نے سب کے دلوں کو دہلا دیا تھا۔ منشن کے بڑے ہال میں سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ دیواروں پر لگے فانوس جل رہے تھے مگر روشنیوں کے باوجود ماحول پر ایک اندھیرا سا طاری تھا۔ گھر میں سوگ کے لئے آئے لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔وہ کچھ دیر قبل ہی اپنی لاڈلی بیوی کو سپرد خاک کر کہ آیا تھا۔۔دن دہاڑے شہر کے بیچ و بیچ ایک باوقار خاندان کی بہو کو اس طرح قتل کر دیا گیا تھا۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ دشمنی کس سطح تک جا پہنچی تھی۔بزنس کی دنیا میں اس کے بہت سے حریف تھے،مگر کوئی بھی اس نہج پر نہیں جا سکتا تھا۔ ابراہیم، جو اپنی سخت مزاجی اور جلالی طبیعت کے لیے پورے خاندان میں جانا جاتا تھا، ہال کے کونے میں کھڑا تھا۔ اس کے ماتھے کی رگیں پھول رہی تھیں، آنکھیں سرخ اور نم تھیں مگر آنسو نکلنے سے انکاری۔ اس کا دل اندر سے ٹوٹ چکا تھا لیکن مردانگی کی زنجیروں نے اسے کمزور ہونے نہیں دیا تھا۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ ابراہیم غصے میں سب کچھ تہس نہس کر کہ رکھ دینے کا عادی تھا۔ پری وش، جو کچھ ہی عرصہ پہلے اس منشن میں آئی تھی، سارا منظر دیکھ کر کانپ اٹھی۔ وہ جانتی تھی کہ ابراہیم کے غصے کی زد میں آنا کسی طوفان سے کم نہیں۔ اس کی نظریں جیسے ہی ابراہیم سے ٹکرائیں، اس نے جلدی سے نظروں کا زویہ بدل کر۔دو سالہ اسماعیل کو تھپکی دی تھی۔جو معصوم آج اپنی ماں کھو چکا تھا۔ وہ سب کی نظروں سے بچتی ،وہاں سے نکل آئی تھی۔جبکہ ابراہیم کی تیز نگاہوں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔ پری وش نے ہال کے دروازے کو دھکیل کر باہر قدم رکھا۔ منشن کے لان میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ بارش کی بوندیں ابھی تک کچن کے پاس کی کھڑکیوں پر ٹپک رہی تھیں۔ لان میں رکھے بڑے پودوں کے سائے ہوا کے جھونکوں میں کانپ رہے تھے۔ وہ بھاگتے ہوئے مین گیٹ تک پہنچی۔ باہر شہر کی روشنیوں کی جھلک دکھائی دے رہی تھی مگر اس کے قدم اب بھی کانپ رہے تھے۔ "اگر ابراہیم کو ذرا سا بھی شک ہوا تو؟ اگر وہ مجھے ہی ذمہ دار سمجھ بیٹھا تو؟" یہ خوف اس کے دل کو جکڑ رہا تھا۔ وہ رک کر دیوار کے ساتھ لگ گئی اور لمبی سانس لی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل کی موت کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔مگر پری وش کے دل میں ایک خوف سا بیٹھا تھا۔کہیں نہ کہیں وہ اس عورت کی موت کا زمہ دار خود کو سمجھتی تھی،ابراہیم پاگلوں کی طرح قاتل کو تلاش کر رہا تھا،یہاں تک کہ وہ بیٹے کو بھی فراموش کر چکا تھا۔جیسے اب پری وش سنبھالتی تھی۔۔ وہ اس لڑکی میں ماں کی ممتا ڈھونڈنے لگا تھا۔۔۔ ’’بے بی رونا نہیں ہے۔۔ابھی ہم کھیلیں گے!‘‘وہ آج صبح سے چڑچڑا ہورہا تھا۔جبھی وہ زور زور سے رونے لگا۔۔ابراہیم جو طیش میں گھر میں داخل ہوا تھا کہ لان میں اپنی بیٹے کی رونے کی آواز سن،اسکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے،وہ اتنا جانتا تھا کہ غزل کی موت کے بعد سے دادا جان کے ساتھ ساتھ ان کی لاڈلی نواسی بھی یہیں تھی جو، اسماعیل کو سنبھالتی تھی۔ ’’ یہ رو کیوں رہا ہے؟‘‘عقب سے کسی کی سخت آواز پر وہ بری طریقے سے اچھل گئی تھی۔ ’’وہ ۔۔وہ شاید اسے بھوک لگی ہے۔‘‘وہ گڑبڑا ئی۔ ’’ادھر دو اسے۔۔دادا ابو نے بھی کسے زمہ داری دے دی ہے۔جو خود کو نہیں سنبھال سکتی ،وہ میرے بچے کوکیا سنبھالے گی۔‘‘وہ چھین لینے کے آنداز میں اسے لیتا گھر کے آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ وہ پیچھے اپنا سا منہ لے کر رہ گئی تھی۔۔۔ ’’کھڑوس۔۔۔بڈھے کہیں کے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کی شام تھی۔ منشن کی بالکونی سے سمندر کی ہوا ہلکے ہلکے پردوں کو ہلا رہی تھی۔ لیکن اس ہوا میں سکون نہیں تھا، بلکہ ایک ادھوری کمی کی گونج تھی۔ ابراہیم کی بیوی کو گزرے چھ مہینے ہو چکےتھے، مگر منشن کی دیواروں پر اب بھی اس کی کمی چیخ رہی تھی۔ ابراہیم صوفے پر بیٹھا تھا، تھکا ہوا، بکھرا ہوا، اور اندر سے ٹوٹا ہوا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے گہرے ہو گئے تھے۔ سامنے اس کا دو سال کا بیٹا چھوٹے سے فرش پر رکھے کھلونے کو زور سے زمین پر پٹخ رہا تھا، اور پھر اپنی پوری طاقت سے رونے لگتا۔ ننھی سی جان کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ ماں کہاں چلی گئی ہے۔ اس کی زبان پر ابھی اتنے الفاظ نہیں تھے کہ وہ اپنے دکھ کا اظہار کر سکے، بس روتا تھا، ضد کرتا تھا اور ساری رات جاگتا تھا۔ ابراہیم نے کئی نینیز بدل ڈالیں۔ پہلے نینی دو دن میں بھاگ گئی کہ بچہ ضدی اور چڑچڑا ہے۔ دوسری نے کہا، "صاحب یہ بچہ ماں کے بغیر کچھ دن بھی نہیں رہ سکتا، میں نہیں سنبھال سکتی۔" تیسری، چوتھی، پانچویں۔۔۔۔ ہر ایک چند دن کے بعد ہاتھ کھڑے کر کے چلی جاتی۔ منشن کے عملے میں سب حیران تھے کہ اتنا بڑا گھر، اتنی سہولتیں، مگر ایک ننھے بچے کے رونے کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اس رات بھی ابراہیم کے کمرے میں وہی منظر تھا۔ بچہ بار بار اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ابراہیم کی قمیض کو پکڑ کر کھینچتا، پھر روتے روتے نیچے بیٹھ جاتا۔ اس کے آنسو فرش پر گر رہے تھے اور ساتھ ہی اس کا ہچکیوں بھرا بلکنا پورے کمرے میں گونج رہا تھا۔ ابراہیم نے اسے اٹھا کر اپنے کندھے سے لگایا۔ "چپ ہو جاؤ، اسماعیل بابا کی جان۔۔۔۔۔ بابا ہے نا۔" مگر بچہ اور زور سے رونے لگا۔ وہ اپنی ماں کی خوشبو ڈھونڈ رہا تھا، جو اب اس دنیا میں نہیں تھی۔دوسرا پری وش بھی اپنے ایگزامز کی وجہ سے گھر واپس چلی گئی تھی۔کچھ ابراہیم کا سرد رویہ تھا،جو وہ یہاں آنے سے گریز برتی تھی۔ ابراہیم کا دل کٹ کر رہ گیا۔ ایک جلالی اور مضبوط مرد جو بڑے بڑے فیصلے لمحوں میں کرتا تھا، اس وقت ایک معصوم کے رونے کے آگے بے بس کھڑا تھا۔ اس نے اپنی انگلیوں سے بچے کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی مگر بچہ ضد میں اس کے سینے پر ہاتھ مارنے لگا۔ ابراہیم کے دماغ میں ایک شور تھا۔ "میں بزنس میٹنگز کنٹرول کر لیتا ہوں، دشمنوں کا مقابلہ کر لیتا ہوں، لیکن اپنے ہی بچے کو کیسے سنبھالوں؟ کیوں نہیں سو جاتا یہ؟ کیوں ماں کو پکارنا نہیں چھوڑتا؟" نیند کی کمی نے ابراہیم کو اور زیادہ بے چین کر دیا تھا۔ وہ کئی راتوں سے جاگا ہوا تھا۔ کام کے معاملات بھی بکھر گئے تھے۔ ملازم سرگوشیوں میں کہتے، "صاحب بدل گئے ہیں۔۔۔۔ نہ پہلے جیسا اعتماد ہے، نہ پہلے جیسا سکون۔" اچانک بچہ روتے روتے ابراہیم کی گردن سے لپٹ گیا۔ اس کی ہچکیوں کے بیچ وہ نیند کے جھونکوں میں ڈھلنے لگا۔ ابراہیم نے اس کے ننھے وجود کو سینے سے لگا کر ایک لمبی سانس لی۔ آنکھوں سے بے اختیار دو آنسو نکل آئے۔ وہ جان گیا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ اب اس
