Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
200 Views
Part 02
کیا تھا۔۔ دوسری جانب شایان بہت خاموشی سے اس تیسری خاموش جنگ عظیم کو دیکھ رہا تھا۔سمبل کے چہرے پر مسکان اور اطمینان تھا تو ماہین کا چہرہ اپنی بےعزتی اور ذلت کے باعث تپ اٹھا تھا۔ ماہین نے ایک غصّہ بھری نظر اٹھا کر شایان کو دیکھا جو اپنی اس جاہل گوار بیوی کو کچھ کہہ ہی نہیں رہا تھا۔اور پھر غصّہ سے دانت کچکچا کر سمبل کو دیکھا جس نے بڑی معصومیت سے سمائل پاس کی تھی۔۔ "ایک اور بات مس اکس،وائی،زی۔"سمبل اسے کچھ کہنے کے لئے لب کھولتے دیکھ ذرا آگے کو ہوتی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔۔ "یونیورسٹی میں لڑکوں سے بلاوجہ کی دوستیاں کرنا آپ جیسے فضول اور فارغ لوگوں کے کام ہوتے ہیں۔میں نا تو آپ کی طرح فارغ ہو اور ناہی پڑھی لکھی جاہل۔مجھے اپنی حدود کا علم ہے۔سمجھیں۔"سمبل کے لفظوں نے اسے آگ ہی تو لگا دی تھی۔۔ "شٹ اپ۔۔۔"ماہین ٹیبل پر ہاتھ مار کر دبی دبی آواز میں غرآئی تھی۔۔ "یہ کیا بدتمیزی ہے ماہین،یہ تم سمبل سے کس انداز میں بات کر رہی ہو۔۔"اس بار شایان نے غصّے سے دبی دبی آواز میں جھاڑا تھا۔۔ "میں بات کر رہی ہوں اور یہ جو بکواس تمہاری بیوی کر رہی۔وہ نظر نہیں آرہی تمھیں۔۔"ماہی ہر چیز فراموش کئےپھاڑ کھاتے لہجے میں بولی۔۔ اوہ تو آپ کو معلوم ہے کہ میں شایان کی دوست نہیں۔پھر بھی اتنی ایکٹنگ کر رہی تھیں۔۔"سمبل نے بھی جیسے آج اس سے سارے بدلے لینے کی ٹھان لی تھی۔۔ "سمبل بس بہت ہو گیا۔خاموش ہوجاؤ۔۔"شایان اب تک اپنے پچھلے رویہ کی وجہ سے خاموش تھا۔شایان کی آج ایک خوش فہمی تو دور ہوگئی تھی۔وہ جو اسے معصوم اور سیدھی سادھی سی کم گو لڑکی سمجھتا۔وہ تو پوری پٹاخہ تھی۔۔ "تمھیں تو میں بعد میں دیکھ لونگی۔جاہل گنوار۔۔"ماہین شایان کے ہمایتی انداز پر تلملا کر رہ گئی تھی۔ یہ کیا بدتمیزی تھی سمبل۔"شایان نے کڑے تیوروں سے اب اسے بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔۔ "میں نے کیا کیا ہے؟"سمبل نے حیرانی کا مظاہرہ کیا۔ شایان اسکی لاپرواہی اور بے نیازی پر چند پل اسے گھورتا رہا۔جبکہ وہ خاموش اس کی گھورتی نظروں سے غافل ادھر ادھر نظریں گھمانے میں مصروف تھی۔ "سر آپ کا آرڈر۔"ویٹیر نے قریب آکر اس کی توجہ دلوائی تو وہ سر جھٹک کر سیدھا ہوا۔۔ اب وہ دونوں ہی خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔۔ ______ واپسی پر دونوں کے بیچ ہی گہری خاموشی حائل رہی تھی۔سمبل کو واپس فلیٹ پر چھوڑ کر شایان پھر کہیں نکل گیا تھا۔جبکہ سمبل وقت گزاری کے لئے کچن میں رات کے لئے کچھ بنانے میں مصروف ہو گئی تھی۔۔ وہ مگن سی کڑاہی کا مصالحہ بھون رہی تھی کہ پیچھےآہٹ کی آواز پر چونک کر گھومی۔ کچن سے باہر جھانکا جہاں تھکا تھکا سا شایان خانزادہ رف سے حلیہ میں سوفے پر پیر پسارے بیٹھا تھا۔سمبل سر جھٹک کر واپس کچن کی جانب آتی اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ جبھی سائیڈ کاؤنٹر پر رکھا اس کا موبائل بج اٹھا۔سمبل کچن ٹوول سے ہاتھ صاف کرتی چولہا ہلکا کرتی وہیں کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ کال پک کر کہ موبائل کان سے لگایا۔تو دوسری جانب سے ایک چہکتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔جو اس کے بیزار سے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی۔۔ "میں بلکل ٹھیک ہوں۔تم بتاؤ تم کیسی ہو؟"سمبل اپنی بیسٹی کی کال آجانے پر اس سے باتوں میں مصروف ہو چکی تھی۔جو کچھ عرصے سے اپنی فیملی کے ساتھ دبئی کے ٹور پر تھی۔وہ شاید آج کل میں ہی واپس آئی تھی۔اور پاکستان واپس آتے ہی سب سے پہلا کام سمبل کو کال کرنے کا کیا تھا۔ہر چیز سے بیگانہ دونوں باتوں میں مصروف ہوگئی تھیں۔ _____ شایان کو وہیں بیٹھے بیٹھے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا۔کھانے کا پوچھنا تو دور کی بات اس نے تو پانی تک نہیں پوچھا تھا۔شایان کو یکدم غصّہ نے آن گھیرا تھا۔وہ تلملا کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کچن میں داخل ہوا۔جہاں کا منظر دیکھ اس کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے پھیل گئی تھیں۔۔ جبکہ سمبل اسے سامنے کچن کے دروازہ پر حیران و پریشان سا استازہ دیکھ ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔جس کہ چہرے کے اتار چڑھاؤ میں تبدیلی آئی تھی اور وہ غصّہ سے اسے گھورتا آگے بڑھا تھا۔سمبل کرسی چھوڑ کر گھبرا کر اٹھی تھی۔۔ _______ "ام خانم آپ نے شایان کو اطلاع کردی کہ وہ سمبل کے ہمرا کل ہی حویلی آجاے۔"آغا بھائی نے اپنی ماں کے کمرے میں داخل ہو کر سوال کیا۔۔ "ہاں!! بچہ ہم نے تو بول دیا۔تم تو جانتے ہو۔ہماری بات تو وہ ٹال جاتا ہے۔تم کہو ہمیں یقین ہے تمہارا کہا نہیں ٹالے گا۔"انہوں نے قرآن پاک چوم کر ایک طرف کو رکھتے جواب دیا۔۔ "یہ لڑکا بالکل باولا ہوگیا ہے۔ام خانم حویلی مہمانوں سے بھری پڑی ہے۔ابھی ولیمے میں بھی دو دن باقی ہیں اور وہ یوں نئی نویلی دلہن کو بغیر پوچھے گچھے شہر لے گیا۔"آغا جان نے ذرا خفگی سے غصّہ کا اظہار کیا۔۔ "آپ فکر نہیں کریں۔میں بات کرتا ہوں کہ کل ہی حویلی آئے۔ بھلا یہ کوئی خاندانی لوگوں کے طور طریقے ہوتے ہیں۔ابھی تو شادی ہوئی ہے۔پڑھ لیتی سمبل بعد میں۔یونیورسٹی کہیں بھاگی جا رہی ہے کیا۔"انہیں شایان خانزادہ کا رویہ ہر گز بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔ "ہاں بچہ دیکھ لو تم۔تمہاری بات تو سن لیتا ہے۔بس آرام سے کہنا غصّہ نہ کرنا۔ہم ولیمہ سے پہلے کوئی بد مزگی نہیں چاہتے۔اس کے غصّہ سے تو تم واقف ہی ہو۔"ام خانم نے اپنا دامن بچا کر انہیں تنبیہہ کرنا لازمی سمجھا تھا۔کیوں کے غصّہ کے تو دونوں ہی تیز تھے۔وہ بڑا تھے تو وہ سب سے چھوٹا اور لاڈلا خان حویلی کا سب سے ضدی بیٹا تھا۔۔ "جی ام آپ فکر نا کریں۔۔"آغا جان جیب سے اپنا موبائل نکالتے کمرے سے باہر نکل گئے۔تو وہ بھی عصر کی اذان کی آواز سن نماز کے لئے وضو کرنے کی غرض سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ اس عمر میں بھی وہ اپنے سارے کام خود ہی کرنے کی عادی تھی۔ان کا زیادہ تر وقت اللّه کے ذکر میں ہی گزرتا تھا۔اپنے حصّہ کے کام وہ سر انجام دے چکی تھیں۔ساری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکی تھیں۔گویا انہوں نے زندگی کے ہر رنگ سے لطف اٹھایا تھا۔اب بس وہ اپنی باقی کی زندگی اللّه کے ذکر میں گزارنہ چاہتی تھیں۔جبھی انہوں نے اپنی تمام تر ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے بڑے بیٹے کے کاندھوں پر ڈال دیا تھا۔جو وہ باخوبی نبھا رہے تھے۔۔ ______ جاری ہے۔۔
Comments
Leave a Comment
Noshi
Tue Jan 27 2026
Nice
Jh
Wed Jan 28 2026
Nice
