Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
200 Views
Part 02
ماہین اور نومی ایک دوسرے کے مد مقابل بیٹھے مزے سے اپنی باتوں کے ساتھ سامنے رکھے انواع و اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں مشغول تھے۔۔ "ماہی کیا تم سچ میں اس شایان خانزادہ سے شادی کروگی۔۔"نومی نے ماہی کے خوبصورت سے چہرے پر نظر ڈال کر استفسار کیا۔۔ "اوہ کم ان۔۔کیا میں تمھیں شکل سے اتنی بیوقوف نظر آتی ہوں۔"ماہی نے نخوت سے نظریں پھیر کر سر جھٹکا۔ "نہیں شکل سے تو بہت ہی حسین ہو۔"نومی کے انداز پر ماہی قہقہہ لگا اٹھی۔۔ "وہ تو میں ہوں۔۔"ماہی نے اترا کر گھنگھر یالے بالوں کی لٹ کو انگلی میں لپیٹ کر کہا۔۔ "وہی تو یار سریسلی ماہی میں تو شاکڈ رہ گیا تھا۔تم کسی کی سیکنڈ چوائس کیسے بن سکتی ہو۔"نومی نے ذرا حیرانی کا اظہار کیا۔۔ "ہننہہ میں اپنا ایک ڈریس پہنے کے بعد اسے دوبارہ ہاتھ نہیں لگاتی۔میں شادی کرونگی وہ بھی اس خان سے۔شادی کے بعد اس کے گاؤں میں جا کر رہو نگی۔اپنی عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر اس بیوقوف سے شادی کروں گی اتنی بیوقوف نظر آتی ہوں تمھیں۔۔"ماہی کے لہجے میں تفخر بول رہا تھا۔۔ "تو پھر یہ سب کیا ہے۔"۔اب کہ نومی کو حالیہ صورتحال جاننے کا تجسس ہوا۔۔ "ہاہاہاہا!!کچھ نہیں بس میں اور شایان بہت اچھے دوست ہیں۔"ماہین اس کے جانچتے ہوۓ انداز پر خوب محظوظ ہوئی تھی۔۔ ہیلو ماہین !!ابھی وہ دونوں اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے۔کہ پیچھے سے ایک گھمبیر آواز گونجی۔۔ ماہین نے ذرا سا چونک کر گردن گھومائی۔تو نظر سیدھی دلکش شخصیت کے مالک شایان خانزادہ پر گئیں تھیں۔جس کی کرسٹل گرۓ آنکھیں نومی کو ہی غصّہ سے گھور رہی تھیں۔جبھی ماہی کی بھی نظریں اس کے ہمراہ کھڑی خوبصورت سی لڑکی پر پڑیں۔جس کی غیر معمولی حسن والی من موہنی سی صورت مہندی رنگ کے دوپٹہ میں جگمگا سی رہی تھی۔اور یہی دیکھ ماہین کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔ اوہ خان!!ہاۓ۔ ۔تم یہاں کیسے ؟؟نومی کی نظریں اس کہ برابر میں کھڑی سمبل پر تھیں۔۔ "ماہی تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔"شایان نے اسے نظرانداز کر سیدھا ماہی سے سوال کیا تھا۔۔ "وہی جو تم یہاں کرنے آۓ ہو۔۔"ماہی کا جواب خاصہ جتاتا ہوا تھا۔ شایان نے چونک کر اس کا بگڑا ہوا انداز دیکھا تھا۔اور پھر برابر کھڑی سمبل کو،جو شاید نومی کی نظروں سے خائف سی تھی۔۔ "تم بیٹھو وہاں جا کر۔میں دو منٹ میں آتا ہوں۔۔"شایان کے سرد لہجے میں اشارے کرنے پر سمبل ایک خاموش نظر ان تینوں افراد پر ڈالتی ایک دوسری ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔۔ شایان اب مکمل طور پر انہی دونوں کی جانب متوجہ تھا۔جبکہ ماہین نے ایک آئبرو اٹھا کر شایان کا غصّہ کی تمازت سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھا تھا۔جو قہر برساتی نظروں سے نومی کو گھور رہا تھا ۔ ۔"تم سے میں کل یونیورسٹی میں بات کرتا ہوں۔"نومی کو دیکھ کر شایان کی غصّہ سے رگیں تک تن گئی تھیں۔ماہین پر اس کے غصہ کا کوئی خاطر خوا اثر نہیں ہوا تھا۔جب کے وہ جانتی تھی کہ شایان، نومی سے کس قدر نفرت کرتا ہے۔۔اسے اپنی یونیورسٹی کا یہ عیاش قسم کا لڑکا ہر گز بھی پسند نہیں تھا۔۔ "ماہین کو ہنوز اس کے ساتھ مگن دیکھ اپنے آپ کو نظر انداز کئے جانے پر غصّہ سے کھولتا سمبل کی جانب بڑھ گیا۔جبکہ ماہین اس کی پشت گھورتی تفخر سے سر جھٹک گئی۔شایان نے قریب آکر سمبل کو دیکھا ۔جو ارد گرد کے لوگوں کو بڑی اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔شایان کو یکدم اس پر بھی غصّہ آیا تھا۔جو شایان کو کسی اور لڑکی سے بات کرتا دیکھ وہاں توجہ دینے کے بجاۓ ارد گرد کے منظر سے حظ اٹھانے میں مصروف تھی۔۔ "کیا ادھر ادھر نظریں گھوما رہی ہو۔ جاہلوں کی طرح پہلے کبھی ہوٹل نہیں آئیں کیا۔۔"شایان نے چیئر سمبھالتے غصّہ سے جھڑکا۔۔ سمبل جو اسے اپنی جانب آتا دیکھ جان بوجھ کر ادھر ادھر نظریں گھومانے لگی تھی کہ اس کا یہ انداز دیکھ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔جو ناجانے کیوں اتنا تیش میں تھا۔شاید ماہی کی وجہ سے۔جبکہ وہ غصّہ سے مینو کارڈ اٹھاتا دیکھ کچھ رہا تھا اور دماغ ابھی بھی پیچھے ہی کہیں ماہی اور نومی پر اٹک گیا تھا۔۔۔۔ "بیٹھی بیٹھی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو۔دوسرا مینو اٹھا کر دیکھو۔جو بھی کھانا ہے جلدی سے اپنے لئے آرڈر کردو۔ ۔اور گھر چلو یہاں قیام کرنے کا ارادہ ہے محترمہ کا۔"سمبل کو سمجھ نہیں آئی کہ شایان کو آخر اتنا غصّہ کیوں آرہا تھا۔نومی کے ساتھ ماہی کو دیکھ کر یا پھر نومی کی نظریں سمبل پر دیکھ۔۔نہیں ماہی کو اس لڑکے کے ساتھ دیکھ کر سمبل کے دماغ نے فوراً نفی کی تھی۔۔ "آپ کو جو منگوانا ہے۔منگوا لیں مجھ جاہل کو کیا پتہ یہاں کیا کیا ملتا ہے۔میں تو پہلی بار آئی ہوں ویسے بھی۔۔"سمبل کے لفظوں پر شایان ذرا چونک کر سیدھا ہوا تھا۔جو بھرپور اعتماد کے ساتھ مقابل کہ چہرے پر نظریں گاڑے بہت کچھ جتا گئی تھی۔شایان کو فوری اپنے سخت لفظوں کا احساس ہوا تھا۔وہ کہیں کا غصّہ کہیں نکال گیا تھا۔۔ایک گہری سانس بھر کر چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو کمپوزڈ کیا۔پھر ہاتھ کے اشارے سے ویٹر کو پاس انے کا اشارہ کیا۔جو وہیں چند قدموں کے فاصلے پر مودب سا کھڑا تھا۔ ویٹر کے قریب آنے پر شایان نے ایک بار پھر اس کی جانب نظر اٹھا کر دیکھا۔پر سامنے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی سمبل ارد گرد میں نظریں دوڑانے میں ہی مگن تھی۔۔ شایان نے بیرے کو آرڈر لکھاوا کر خود کو سمبل سے معذرت کرنے کہ لئے تیار کیا۔جانے انجانے میں وہ اس کا دل دکھا چکا تھا۔۔ "سمبل۔۔دیکھو میں بس غصّہ میں تھا۔۔تو یونہی منہ سے نکل گیا۔میرا مقصد تمہارا دل دکھانا یا پھر تمھیں تکلیف پہچانا ہر گز نہیں تھا۔۔"شایان نے اپنی کان کی لو مسل کر بڑی مشکل سے لفظوں کی توڑ جوڑ کر کہ معذرت کی تھی۔۔ "اس میں معذرت کی کیا بات ہے مسڑ شایان خانزادہ۔غصّہ میں تو اکثر منہ سے سچ ہی نكلتا ہے۔ جاہل تو میں ہوں۔اپنی ماسٹر کی ڈگری کو یونہی بیچ میں ادھوری چھوڑ کر بیٹھی ہوں۔تو اس میں تو دو راۓ ہیں ہی نہیں۔دوسری کی میں نے کبھی ہوٹلز کا ماحول نہیں دیکھا۔تو یہ بھی حقیقت ہے۔مجھ جیسی گاؤں کی رہنے والی کہاں ان اونچی بلڈنگوں میں رہنے والے لوگوں کی شان و شوکت سے واقف ہوگی۔۔"سمبل نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے شایان کو مزید شرمندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔ ابھی شایان اپنی صفائی میں کوئی جواب دیتا کہ اتنے میں ماہین وہاں آن دهمكی۔۔ "ہیلو!!کیا ہو رہا ہے۔ہیلو لڑکی۔کیا تم شایان کی دوست ہو۔۔"ماہین نے مزے سے وہاں ایک چیئر سمبھال کر جان بوجھ سمبل کو دیکھ معصومیت سے پوچھا۔۔ "میری چھوڑیں۔آپ بتائیں۔آپ محترمہ کون ہیں۔۔"سمبل کو اس کی دخل اندازی بہت ناگوار گزری تھی۔۔جبھی اس کا سوال نظر انداز کرتی۔سوالیہ انداز میں گویا ہوئی۔۔ "میں تو شایان کی یونیورسٹی فیلو اور بیسٹی ہوں۔۔۔"ماہین شایان کی جانب مسکرا کر دیکھ جتاتے لہجے میں گویا ہوئی۔۔ ان دونوں کے مابین ہوتی اس گفتگو میں شایان بلکل خاموش سا بیٹھا تھا۔۔ "تعجب کی بات ہے شایان ،کہ آپ کی یونیورسٹی کے پڑھے لکھے لوگوں کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ جب دو لوگ آپس میں مخاطب ہوں۔تو بغیر اجازت منہ اٹھا کر کسی کی پرائیویسی میں دخل نہیں دیتے۔۔۔"سمبل نے استہزاء سا مسکرا کر شایان کی جانب دیکھ ماہین کو مکمل نظر انداز
Comments
Leave a Comment
Noshi
Tue Jan 27 2026
Nice
Jh
Wed Jan 28 2026
Nice
