MEIN TEHRA RAHA — EPISODE NO 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/12/2025
12 Views
EPISODE NO 01
نہیں۔۔ بلکہ آپ کو تو مجھ سے بھی کئی زیادہ خوبصورت لڑکیاں مل سکتی ہیں تو پھر میں ہی کیوں؟؟‘‘وہ زچ ہو گئی تھی۔جبکہ اسکی آنکھوں کا سخت تاثر پڑھ کر خود ہی نظریں چرا گئی . ’’درشہوار بیٹھیں پلیز!‘‘وہ ہونہی نظریں پھیر کر کھڑی رہی تھی۔ ’’درشہوار بیٹھ جاؤ۔۔۔۔‘‘تابش نے سختی کے باوجود رسانیت سے کام لیا تھا۔وہ بھی چارو نچار غصے سے گھورتی نشست سنبھال گئی تھی۔ ’’اب بولیں کہ آخر مجھ سے شادی کرنے میں پروبلم کیا ہے؟‘‘وہ چئیر چھوڑ کر اُٹھ کر اسکے نزدیک آتا تحمل مزاجی سے بولا۔جو جزبز سی فرار ہونے کی راہیں تلاش کرنے لگی تھی۔۔ ’’تابش پلیز وہیں رُک جاؤ۔۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں بولی تھی۔جودو قدموں کی دوری پرٹھر گیا تھا۔ ’’اوکے!تو تم بتاؤ یار آخر مسئلہ کیا ہے؟؟؟یہ بات تم اچھے سے جانتی ہو کے میں تمہیں اوّل دن سے پسند کرتا ہوں۔۔مگر اس کے باوجود فضول سے انکار کی وجہ جان جاسکتا ہوں۔‘‘تابش ٹیبل کے دوسرے کونے سے ٹیکا لگائے ناسمجھی سے سوالیہ انداز میں بولا۔ درشہوار نے بے ساختہ لب کچلے تھے۔ ’’کیا تم واقعی لاعلم ہو تابش۔۔‘‘وہ آنکھوں میں بے پناہ شکوئےسمو کر بولی تھی۔جو سپاٹ تاثرات سجائے کھڑا تھا۔ ’’مجھے کچھ نہیں معلوم درشہوار!تم بتاؤگی تو ہی پتہ چلے گا۔‘‘وہ بہت سفاکی سے بولا تھا،جس کے چہرہ پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ ’’بس میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔ تابش آپ کے پاس یہ جاب کرنا میری مجبوری ہے۔سو پلیز مجھے بخش دیں آپ۔۔‘‘تابش اس کی ایک ہی گردان پر زچ ہوگیا تھا۔جو چہرہ کا رخ پھیر تی دانت کچکچا کر بولی تھی۔ ’’درشہوار!درشہوار!سمجھتی کیوں نہیں ہو یار۔۔۔میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔اور یہ بات تم اچھے سے جانتی ہو۔سو پلیز۔میری محبت کا مزید تماشہ بنانا بند کرو۔۔۔‘‘وہ اس کی آنکھوں میں ُابھرتی ناگورای کو نظر آنداز کئے چئیر گھیسٹ کر نہایت ہی قریب آچکا تھا۔ ’’تابش ماضی میں جس طرح کی صورتحال کا سامنا میں اور تم کر چکے ہیں ۔اس کے بعد یہ محبت فضول ہے۔‘‘تابش نے ایک تاسف بھری سانس فضا کے سپرد کی تھی۔ ’’تم کم از کم میری محبت کو فضول نہیں کہ سکتیں۔۔‘‘وہ قریب ہوتا سختی سے بولا۔وہ پتھر بنی خاموش بیٹھی رہی تھی۔ ’’بس آپ میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔‘‘بلآخر وہ ہاتھ جوڑ گئی تھی۔ ’’اور پلیز ۔۔آئندہ میرے گھر رشتہ بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ غصےمیں نشست چھوڑ کر کھڑی ہوتی دروازہ دھکیل کر باہر نکل گئی تھی۔جبکہ پیچھے بیٹھا تابش کتنی ہی دیر تک خاموش بیٹھا رہ گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروں کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں اپنی مشکلات سے اکیلے لڑنا بڑا ہی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔مگر جب ہر جانب صرف آندھیرا ہی آندھیرا آپ کا منتظر ہو تو اپنی ہمت آپ ہی بننا پڑتا ہے۔۔شام کے پانچ بج کر پچیس منٹ پر ہاشمی گروپ اف کمپنیز کی عمارت سے باہر نکلتی وہ چند قدم پیدل چل کر اب بس اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ جبکہ چلچلاتی ہوئی دھوپ میں پسینے سے شرابور وجود لئے تھکن کے باعث کتنی ہی بار لڑکھڑا چکی تھی۔مگر ابھی ہمت نہیں ہاری تھی۔۔۔ دور سے قریب آتی بس کو دیکھ وہ تیز قدم اُٹھاتی جلدی سے بس میں چڑ گئی تھی۔۔جبکہ ڈرائیور نے کئی مسافرین کی ہمرائی میں ایک بار پھر سفر طے کرنا شروع کر دیا تھا۔جگہ نہ ملنے کے باعث بس ہینڈل تھامے جھٹکے کھاتی بس میں بامشکل خود کو سنبھالے ہوئے تھی۔دماغ مختلف سوچوں میں ُالجھا ہوا تھا۔ اسٹاپ آتے ہی سر پر دوپٹہ درست کرتی وہ اپنے گھر تک کا فاصلہ پیدل عبور کرتی گھر کے عین سامنے آکر ٹھری تھی۔گرمی کی تمازت سے چہرے سرخ اناری ہوگیا تھا۔وہ اپنی ہی سوچوں میں گم دروازہ پر کھڑی بیل پر بیل دئے جارہی تھی۔۔ کہ بے ساختہ ہی نظر گیٹ کے ساتھ کھڑی ڈبل کیبن پر پڑی تھی۔۔۔وہ ابھی کچھ سمجھتی کہ جبھی کسی نے دروازہ ایک جھٹکے سے کھول د یا تھا۔ ’’السلام علیکم باجی!جلدی آجائیں۔۔۔ بڑی بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔‘‘وہُ الجھےُ الجھے تاثرات سے حیرت میں ڈوبی ابھی کچھ پوچھنے ہی لگی تھی کہ کئیر ٹیکر کی آواز پر باقی کے الفاظ منہ میں کہیں گُم ہو گئے تھے۔ ’’کیا ہوا ماما کو؟‘‘حواس باختگی کے علم میں وہ گھبرا کر اندر کی جانب بھاگی۔۔گھر کے چھوٹے سے مہمان خانہ میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر صوفے پر کروفر سے براجمان تابش پر گئی تھی۔جو مسکرا کر اس کی ماں سے باتیں بنا رہا تھا۔ ’’ماما کیا ہو گیا تھا آپ کو؟‘‘وہ تابش کو نظر آنداز کرتی فکرمندی سے استفسار کرتی نزدیک آئی۔ ’’کچھ نہیں بیٹا!بس بلڈ پریشر ہائی ہوگیا تھا۔ تم تو جانتی ہو۔‘‘وہ اسے پریشان دیکھ رسانیت سے بولیں۔ ’’تو آپ نے مجھے کال کیوں نہیں کی۔۔‘‘وہ ترچھی نظرووں سےتابش کو گھُور کر بولی تھی۔۔جس نے آنکھ کا کونا دبا کر مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ۔ ’’بیٹا !میں تمہیں کال کرنے ہی لگی تھی کہ اچانک ہی تابش بیٹا آگئے تو پھر میں نےآپ کو پریشان کرناضروری نہیں سمجھا۔ ۔‘‘انہوں نے تفصیل پیش کی۔جو اسے بری طرح کھلی تھی۔ ’’ماما!کیا کرتی ہیں یار آپ۔۔کم از کم مجھے بتانا تو چاہیے تھا نا ں آپ کو۔۔‘‘وہ انہیں ٹھیک ٹھاک دیکھ لاڈ سے گلے میں باہیں ڈال کر تابش کو گھور کر مسکرائی۔جو گھٹنوں پر کہنیاں ٹیکا ئےماں بیٹی کی محبت ملاحظہ فرمارہا تھا۔ ’’کچھ نہیں ہوا میری جان تم فضول میں پریشان ہو رہی ہو۔‘‘وه نقاہت بھرے لہجے میں اس کا ماتھا چوم کر پیار سے بولی تھیں۔ ’’لڑکی!بس بہت ہوگئی میری خیر خیریت۔۔گھر میں مہمان آیا بیٹھا ہے زرا اس پر بھی تو نظر ڈالو۔۔‘‘وہ تابش کو مسلسل مسکراہٹ دباتا ،اور درشہوار کو نگاہیں چرُاتا محسوس کر زرا غصہٰ ہوئیں۔جو جان بوجھ کر نظر آنداز کر رہی تھی۔ ’’بن بلائے مہمانوں کو چاہیے اب ہم سے کافی مہمان نوازی کروالی ہے تو بہتر ہے کہ یہاں سے تشریف لے جائیں۔۔‘‘وہ نخوت سے منہ بسور کر بولتی تابش کو خاصی کیوٹ لگی تھی۔ ’’درشہوار!‘‘اُنہوں نے آنکھیں دکھائیں۔ ’’رہنے دیں آنٹی۔۔میرا اور درشہوار کا تو مزاق چلتا رہتا ہے۔‘‘وہ ٹھنڈی ہوتی چائے کا کپُ اٹھا کر لبوسے لگاتا نرمی سے بولا۔درشہوار نے اس شاطر انسان کی باتوں پر گھور کر دیکھا تھا۔جو شرارتً نظر بچا کر آنکھ کا کونا دبا کر اُسے مزید تپا گیا تھا۔۔۔ ’’ایسے کیسے بیٹا۔۔یہ تو حد سے زیادہ بدتمیز ہوتی جا رہی ہے۔۔وہ درشہوار کو خشمگیں نگاہوں سے گھور کر زرا ناراض ہوئیں۔جو تابش سے کچھ زیادہ ہی کھار کھانے لگی تھی۔ ’’نہیں نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں۔اب آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔تو بس میں چلوں گا۔‘‘کلائی پر بندھی بڑے ڈائل کی برینڈڈ گھڑی پر نظر ڈال اس نے جلدی سے جانے کے لیے پر تولے۔کیونکہ وہ مسلسل درشہوار کی گھورتی نگاہوں کا مرکز بنا بیٹھا تھا۔جس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسے اٹھا کر باہر نکال دیتی۔ ’’ایسے کیسے۔۔آپ بتاؤ بیٹا۔۔کیسے آنا ہوا۔میری طبیعت کی وجہ سے بات ہی نہیں ہو سکی۔‘‘وہ خیال آنے پر سوالیہ بولیں۔ ’’نہیں آنٹی پھر کبھی۔آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے۔۔‘‘وہ فی الحال اُٹھ کھڑا ہوا۔ ’’ایسے کیسے بیٹا بیٹھو۔۔بلکہ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔‘‘وہ خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی۔جبکہ وہ ایسے ایک نظر دیکھ واپس نشست سنبھال گیا۔جس کی نظروں میں ناگواری در آئی تھی۔ ’’جی بولیں۔‘‘ ’’درشہوار جاؤ۔۔تم جاکر کپڑے تبدیل کرلو بیٹا۔‘‘درشہوار ماں کو ناراض نظروں سے دیکھتی سر جھٹک کر چل دی۔ ’’بیٹا!میری زندگی کا اب کوئی پتہ نہیں رہا۔۔میں چاہتی ہوں کہ بس جلد
