MEIN TEHRA RAHA — EPISODE NO 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/12/2025
12 Views
EPISODE NO 01
#میں_ٹھہرا_رہا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_01 شہر کوکالی گھٹاؤں اور پانی سے بھیگے روئی کے سیاہ بادلوں نے اپنی چھاؤں میں ڈھک رکھا تھا۔شام سے ہی موسم آبرالود تھا۔آکاش پر سُرخی مائل رات کی چادر پھیلتے ہی سر زمین پر باراں چھم چھم برسنے لگا تھا۔تیز ہواؤں کے جھکڑوں کے باعث سرد رات مزید یخ بستہ ہوگئی تھی۔ایسے میں ہوسپٹل کے کوریڈرو میں اپنا سر تھامے بیٹھا شخص قسمت کی ستم ظریفی پر خاموش تھا۔کچھ دیر قبل ہی نرس دو خوبصورت سی جڑواں بچیوں کو اُس کی گود میں ڈال کر گئی تھی۔جو کچھ وقت پہلے ہی اس کی زندگی کا حصہٰ بنیں تھیں۔۔مگر کانوں میں باز گشت کرتے ڈاکٹر کے کچھ لمحے قبل کے لفظوں نے اِس کی زہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔ ’’سوری آپ کابیٹا مردہ پیدا ہوا تھا۔ہم بچے کو نہیں بچا سکے۔‘‘یہ وہ الفاظ تھے جو ایسے ان ننھی پھول جیسی نازک گڑیوں کو بھی گود میںُ اٹھا لینے کے باوجودد خوش نہیں ہونے دے رہے تھے۔۔۔ ’’تابی مجھے جڑواں بچیوں کا اتنا شوق ہے نا کہ بس!‘‘کانوں میں اُس دلربا کی شوخ سی آواز گونج گئی تھی۔بچیاں بالکل اپنے باپ کی کاپی تھیں۔وہ آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے مسُکرایا تھا۔جبھی ان میں سے ایک بچی نےچھوٹی سی آنکھیں کھولی تھیں۔اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب اِیسے اپنی سانسیں تھمتی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں۔معصوم گڑیاکی آنکھوں کاسبز رنگ عروہ کی دلکش آنکھوں کا عکس تھا۔۔۔ ’’تابش!‘‘وہ چونک کر متوجہ ہوا تھا آنکھوں میں ٹھرا پانی اُس کے غم کا گواہ تھا۔ ’’جی!‘‘بچیوں کی نانی جان کو قریب دیکھ وہ آنکھیں پونچھ گیا تھا۔ ’’تابش میری بیٹی کو یہ بات پتہ نہیں لگنی چاہیے۔‘‘ وہ ناسمجھی سے اِنہیں دیکھے گیا تھا۔ ’’کیا مطلب آنٹی!‘‘ ’’بیٹا نہیں رہا تو کیا ہوا اللہ نے دو بیٹیاں تو دی ہیں نا۔‘‘اُس کے نافہم تاثرات دیکھ وہ مزید گویا ہوئیں تھیں۔ ’’یہ دونوں تمہاری بیٹیاں ہیں۔اور بیٹا مردہ پیدا ہوا تھا۔اللہ کی امانت تھی۔اس نے واپس لے لی۔‘‘اُس کا دماغ ُان کی بات کی گہرائی سمجھنے سے قاصر تھا۔ ’’اس سے پہلے کہ وہ ہوش میں آجائے بچے کی تدفین کا انتظام کرو۔۔میں اپنی بچی کا دُکھ مزید نہیں برداشت کر سکتی ۔۔‘‘اتنا بول کر وہ پھپھک پھپھک کر رو پڑی تھیں۔۔جبکہ وہ سرد پڑتے ہاتھوں میں اپنی محبت کی نشانیوں کو لئے بیٹھا دنیا کا سب سے بد نصیب مرد ثابت ہوا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نا تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا ’’یہ آپ کیا کہ رہے ہیں بابا!آئی رئیلی رئیلی لو ہم۔۔۔‘‘وہ اپنے باپ کو جابر بنا دیکھ آنسوؤں سے رُوتی پیروں میں آبیٹھی تھی۔ ’’جب میں نے ایک بار کہ دیا بیٹے کے یہ شادی نہیں ہوسکتی۔۔تو بار بار ایک ہی بحث میں وقت کیوں ضائع کر رہی ہیں۔‘‘وہ اپنی نازو پلی بیٹی کی آنکھ میں آنسو نہیں برداشت کر سکتے تھے مگر جو وہ چاہ رہی تھی۔۔ایسا ممکن نہیں تھا۔ ’’بابا پلیز!میں مرجاؤنگی۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں تابی سے۔‘‘وہ مسلسل ہچکیاں بھر رہی تھی۔ ’’کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا میرا بچہ!ویسے بھی ہم آپ کو بہت عرصہ پہلے ہی اپنے دوست کے بیٹے کے ساتھ منسوب کر چکے ہیں۔‘‘ اس انکشاف پر وہ اپنے باپ کو بے یقینی سے ہی دیکھتی رہ گئی تھی۔ ’’بابا!‘‘الفاظ تھے کہ گلے میں ہی آٹک گئے تھے۔ ’’بیٹے ہم آپ کے باپ ہیں۔۔۔ہم کبھی آپ کا بُرا نہیں چاہیں گے۔۔اور آپ کیوں چاہتی ہیں کہ آپ کے باپ کا سرشرم سے ہمیشہ کا لیے جھک جائے۔‘‘انہیں فوری اپنے سخت لہجے کا احساس ہوا تھا۔ ’’ہم ایسا کبھی نہیں چاہتے بابا!مگر ہم اس کے بغیر نہیں جی سکیں گے۔‘‘وہ ایک بار پھر التجائیہ لہجے میں بولی۔ ’’بس!!!!!!!!یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔‘‘وہ حتمی آنداز میں بولتے رخُ پھیر گئے تھے۔ ’’بابا!‘‘ایک آخری التجا تھی۔۔جیسے وہ نظر آنداز کرتے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔جبکہ وہ کتنی ہی دیر بے یقینی کی سی کیفیت میں گھری بیٹھی آنسو بہاتی خاموش رہ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان میں بنی بیس منزلہ شییشے کی چمچماتی ہاشمی گروپ آف کمپنیز کی عمارت پر جب سورج کی تیز کرنیں پڑیں تو وہ مزید چمچمااُٹھی تھی۔بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس چہرہ پر سنجیدگی سجائے،بالوں کی آڑی مانگ نکال کر ترتیب سے بال سنوارکھے تھے۔لفٹ کے زریع اپنے فلور پر پہنچتا وہ جیسے جیسے اپنے آفس کی جانب بڑھ رہا تھا۔سبھی اسے صبح کا سلام پیش کرتے جا رہے تھے۔جبکہ وہ جو خاصی دِیر سے خود پر ضبط کئے حد درجہ اشتعال دبائے بیٹھی تھی۔اسے دیکھ ایک جھٹکے سے اپنی نشست چُھوڑتی وہ اس کے پیچھے گئی تھی۔ غصےٰسے لال بھبھو کاچہرے لیے پھولے تنفس سے قدم ُاٹھاتی وہ ماہ جبین حد درجہ اشتعال کے عالم میں ایک جھٹکے سے آفس ڈور دھکیلتی ہاشمی گروپ اف کمپنیز کے اکلوتے مالک کی ڈیسک کے عین سامنے آکر ٹھری تھی۔غصے کی تمازت سے چہرہ لال انگاری ہورہا تھا۔جبکہ وہ اسے دیکھ مسکر کر اپنا کوٹ اسٹینڈ پر ڈالتا۔ایک گہری سانس بھر کر اپنی چئیر پر پراجمان ہوا تھا۔۔ ’’آخر آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں مسٹر؟؟‘‘چہرے کے گرد بندھے پنک دوپٹہ کے ہالے میں دمکتی گنُدمی رنگت میں سُرخیاں سی گھل گئیں تھیں۔ناک کے نتھنے پھُلائے وہ سیدھا اس کے دل میں اُتر رہی تھی۔ ’’مطلب۔۔‘‘چئیر سے پشت لگائے بیٹھے تابش کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔ ’’مطلب یہ مسٹر تابش ہاشمی ۔۔کہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر رشتہ بھیجنے کی؟‘‘سینے پر بازو لپیٹے وہ تنفر سے پُھنکاری ۔۔مُقابل نے بڑی مشکل سے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔جس کا آنداز اوّل روز جیسا دبنگ تھا۔۔ ’’بالکل ویسے ہی جس طرح آپ میرے آفس میں بڑی دیدہ دلیری سے آکر سوال کر رہی ہیں۔‘‘ہاتھوں کی انگلیاں باہم آپس میں پھنسائے وہ زرا آگئے کو ہوتا ہوا شوخی سے بولا۔ ’’دیکھیں سر۔۔مجھے شادی بیاہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔اس کے باوجود بھی اگر آپ اس طرح کی چیپ حرکتیں کریں گے تو معذرت کے ساتھ مجھے یہ جاب چھوڑنی پڑے گی۔۔‘‘وہ نہایت ہی تیز لہجے میں ڈیسک پر دونوں ہاتھ جماتی درشتگی سے بولی ۔ ’’کیوں مس درشہوار ؟آخر ایسی بھی کیا خرابی ہے مجھ میں جو آپ مسلسل انکاری ہیں؟‘‘تابش نے سنجیدگی سے ماتھے پر بل ڈالے اسے گھور کر سوال کیا۔۔ ’’آپ میں کوئی خرابی
