Mehkti Hayat Episodic Novel — Part 02(Last Part)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/01/2026
21 Views
Part 02(Last Part)
بھنور میں وہ کچھ بھی سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ حیات کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ خوفزدہ تھی، اور وہ لمحہ اس کے لیے ایک طرح کی شدید تناؤ اور اضطراب پیدا کر رہا تھا۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وجدان کی آنکھوں میں یہ غصہ کیسے قابو پائے گا۔ وجدان حیات کو آپ اس طرح خوفزدہ نہیں کر سکتے۔۔کونکہ آپ دونوں کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔‘‘وہ غصےٰ سے بولا۔ ’’شٹ اپ۔۔۔یہ بیوی ہے میری۔۔اور تم کون ہوتے ہو بیچ میں بولنے والے۔۔اپنا منہ بند رکھو۔۔بہن کی یہان تک حفاظت کرلی۔بس کافی ہے۔‘‘وہ جان بوجھ کر چڑانے والے آنداز میں بولتا ڈری سہمی حیات کی طرف پلٹا۔۔ ’’ٓور تم۔۔چلو میرے ساتھ۔۔ شریف گھر کی لڑکیاں اس طرح غیر مردوں کے ساتھ گھومتی اچھی نہیں لگتی ہیں۔‘‘وہ ذرا طیش میں غرایا تھا تو حیات کی سٹی گم ہوئی تھی۔۔ؤ حیات خوف اور حیرت سے خاموشی سے چل رہی تھی۔ ہر قدم پر دل کی دھڑکن تیز، سانسیں بے قابو، اور جسم میں لرزش۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے۔ وجدان نے غصے میں کار کے دروازے کھولا، اور حیات کو زبردستی بیٹھا دیا۔ بیٹھو! اس کی آواز میں سختی، اضطراب، اور پچھلے تین ماہ کی تلخی شامل تھی۔ حیات نے سر جھکایا اور خوفزدہ سی خاموشی اختیار کی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر کچھ بولے گی، تو وجدان کا غصہ اور شدت بڑھ جائے گی۔ کار میں بیٹھتے ہی وجدان کی نظریں اس کی طرف جم گئیں۔ دل میں ایک طوفان تھا۔۔۔۔پچھلے تین ماہ کی تلخی، غصہ، اور مایوسی، سب اس لمحے پھوٹ پڑے۔ ’’آئندہ تم مجھے اپنے بابا اور بھائی کے علاوہ کسی غیر مرد کے ساتھ کہیں آتی جاتی نظر نہ آؤ۔۔مت بھولو کہ تم ابھی بھی میرے نکاح میں ہو سمجھیں۔‘‘وہ ناچاہتے ہوئے بھی غرایا۔۔جبکہ وہ سہم کر سیٹ سے چپک کر بیٹھ گئی تھی۔۔ وجدان نے گاڑی چلائی، دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔ ہر لمحہ ایک دوسرے کے لیے جذبات اور اضطراب کا طوفان بن چکا تھا۔ وجدان کی نظریں مسلسل حیات پر تھیں، دل میں غصہ اور مایوسی، اور حیات کی خاموشی، خوف، اور شرمندگی کا امتزاج۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جاؤ۔۔۔اور یہ آنسو بہانہ بند کرو۔ایسے رو رہی ہو جیسے پتہ نہیں کونسے ظلم کے پہاڑ تور دئیے ہیں تم پر۔‘‘وہ سیخ پا ہوا تھا۔ ’’آپ۔۔۔مجھ پر چلا نہیں سکتے۔‘‘وہ ہمت کر کہ بولی تھی۔۔وجدان نے پہلی بار اسکی لرزتی آواز سنی تھی۔ ’’میں تم پر چلا نہیں رہا ہوں۔صرف سمجھا رہا ہوں۔۔اپنی چادر درست کرو۔۔اور گھر میں جاؤ۔۔۔ فضول کا ڈرامہ۔۔‘‘وہ جلدی سے گاڑی سے نکلتی بھاگنے کے آنداز میں گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔جبکہ وجدان گہرا سانس بھر کر گیا تھا۔ ’’پاگل لڑکی۔۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑایا۔۔پھر کچھ یاد کر زیر لب مسکرایا۔۔۔وہ واقعی معصوم سی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو دن بعد، حیات کے گھر سے خلع کے کاغذات موصول ہوئے تھے۔ حیات نے رو رو کر حال برا کر لیا تھا۔۔لیکن اس کے باپ اور بھائی مزید اس رشتے کو لٹکانے کے حق میں نہیں تھے۔۔ دوسری طرف، وجدان جو دو دن سے مسلسل حیات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ہر لمحہ اس کے دل میں خالی جگہ محسوس ہو رہی تھی، ہر خوشی بے رنگ لگ رہی تھی۔ دل میں ایک عجیب سا غصہ اور احساسِ ملکیت پیدا ہو گیا۔۔۔۔یہ اس کی بیوی تھی، اور وہ کسی اور کے ہاتھوں اس کا فیصلہ نہیں ہونے دے سکتا تھا۔کہ خلع کہ کاغذات دیکھ اسکا غصہٰ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ وہ فوراً گاڑی لے کر حیات کے گھر پہنچا۔ قدم تیز، دل دھڑک رہا، اور ہاتھ میں فیصلہ مضبوط۔ یہ میری بیوی ہے، وہ اپنے انداز میں پختہ لہجے میں بولا۔ میں نے اسے اپنی مرضی سے چھوڑ رکھا تھا، لیکن اب۔۔۔۔ اب وہ میرے ساتھ جائے گی۔ حیات کی آنکھیں حیرت سے پھلی ہوئی تھیں۔ گھر والے ششدر، اور حیات کے دل میں خوف اور خوشی کی آمیزش تھی۔کیونکہ سچ تو یہی تھا کہ نکاح سے لے کر اب تک وہ اس شخص کو اپنے دل میں ایک مقام دے چکی تھی۔۔فطری لگاؤ تھا۔۔آج اس نےا سے بے عزت کیا تھا۔۔ مگر وہ بھی غلط فہمی کا شکار ہوا تھا۔وہ اول روز سے رشتہ نبھانا چاہتی تھی۔مگر کسی نے بیچ کی راہ نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔۔ ’’حیات کہیں نہیں جائے گی۔‘‘یہ اس کے والد صاحب تھے۔ ’’حیات میرے ساتھ جائے گی۔۔چلو حیات۔‘‘ ’’بابا۔۔۔‘‘ ’’ہاتھ چھوڑو میری بیٹی کا۔‘‘وہ چیخے۔ ’’بابا۔۔۔میں۔۔۔میں وجدان کے ساتھ۔۔۔۔ساتھ جانا چاہتی ہوں۔‘‘وہ کپکپاتے لہجے میں پہلی بار اپنے حق میں کچھ بولی تھی۔۔وجدان کے دل کو تھوڑی دھارس ملی تھی۔۔ورنہ وہ دو دن سے یہی سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ وہ اسے کیسے منائیے گا۔۔ ’’میری بیٹی تمھارے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔۔مگر اب آگر تم نے اسے کوئی تکلیف دی تو یاد رکھنا،میں تمھیں بخشونگا نہیں۔‘‘انھونے باور کرانا ضروری سمجھا تھا۔ ’’ آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی انکل۔۔سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ میں سمجھ نہیں سکا۔۔اور حیات کے ساتھ زیادتی کر بیٹھا۔لیکن یہ رشتہ اللہ نے بنایا ہے تو یقیناً یہی میرے اور حیات کے حق میں بہتر ہے۔۔۔ مجھے معاف کر د یجئے گا۔۔اور اپنی بیٹی کی طرف سے بے فکر ہوجائیں آپ۔۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بولتا حیا کے چہرے پر ایک ہی نگاہ ڈالے بغیر وہ اپنی بیوی کی ہمراہی میں وہاں سے نکل آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’میں جانتا ہوں کہ میں نے تمھیں بہت دکھ دیا ہے۔۔‘‘وہ دونوں اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھے۔۔حیات نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی۔جبکہ وہ اسکے پاس گھٹنوں میں بیٹھا تھا۔ ’’مجھے حیا سے پہلی نظر کی اٹریکشن محسوس ہوئی،اور میں نے اسے نکاح میں لینا چاہا۔۔مگر وہ جو بھی غلط فہمی ہوئی۔اسے یکدم سے اس روز میرے دل نے قبول نہیں کیا تھا۔۔اور میں تمھارے ساتھ زیادتی کر بیٹھا۔۔‘‘وہ دھیرے دھیرے بول رہا تھا۔جبکہ وہ دم سادھے سن رہی تھی۔ ’’پلیز مجھے معاف کردو یار!میں اپنی ہر غلطی کا ازلہ اپنی بے پناہ محبت سے کرونگا۔‘‘وہ مخمور لہجے میں بول رہا تھا۔۔حیات کی پلکیں لرز گئی تھیں۔ ’’حیا کا بے باک آنداز میں بھایا تھا،لیکن تمھاری معصومیت نے مجھے اپنا اسیر کرلیا ہے۔پلیز اب کبھی مت رونا۔۔مجھے تمھارے آنسو تکلیف دیتے ہیں۔‘‘وہ بہت محبت سے بول رہا تھا۔جبکہ اسکا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ ’’معاف کردیا نا؟‘‘اس نےا سکی آنکھوں میں جھانکا۔ ’’آپ نے مجھے سب کے سامنے روم سے باہر دھکا دے دیا تھا۔‘‘اتنا بول کر وہ آنسوؤں اور ہچکیون سے رو پڑی تھی۔۔وجدان بری طرح سے گڑبڑاتا ہوا ،اس کے گرد حصار ڈال کر اپنے سینے سے لگا گیا۔ ’’ائی ایم رئیلی سوری سویٹ ہارٹ! پلیز مجھے معاف کردو ۔۔‘‘وہ محبت سے بول رہا تھا۔۔جبکہ وہ مسلسل سوں سون کر رہی تھی۔ ’’ہمارا ولیمہ بھی کینسل ہوگیا تھا۔‘‘ایک اور غم۔ ’’دوبارہ ارینج کرلیں گے۔‘‘اس کے ماتھے پر ہولے سے ہونٹ رکھے تھے۔ ’’ہم کہیں گھومنے بھی نہیں گئے۔‘‘اس بار وجدان کے لب مسکرائے تھے۔ ’’کل ہی ہنی مون کی ٹکٹس بک کرواتا ہوں۔‘‘اس بار اسکا چہرہ اپنے سینے سے نکالتا وہ شرارتی لہجے میں گویا ہوا تھا جو شرما کر پھر سے اسکے سینے سے لگ گئی تھی۔ ’’آئی لو یو یار! ہمیشہ ایسے ہی رہنا۔۔کیوٹ اور معصوم سی۔۔تاکہ میرے بچے بھی ایسے ہی پیارے پیارے ہوں،بالکل اپنی مما کی طرح۔۔‘‘وہ شرارت سے بولا تو جو جھینپ کر مسکرا دی۔۔۔جبکہ زندگی انھیں دیکھ کر مسکرائی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد۔۔۔۔
