Mehkti Hayat Episodic Novel — Part 02(Last Part)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/01/2026
21 Views
Part 02(Last Part)
یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔؟ یہ تم نہیں ہو سکتی! تم میری پسند کی نہیں ہو۔۔۔۔ تم وہ نہیں ہو جو میں نے سوچا تھا۔۔۔۔! اس کے الفاظ میں نفرت، حیرت اور دھچکا سب شامل تھے۔ حیات نے آہستہ سے قدم پیچھے ہٹا، مگر وجدان کے جذبات کی شدت نے اسے روک دیا۔وجدان کے دل نے ایک عجیب سی دھچکا محسوس کیا۔۔۔۔نہ خوشی، نہ سکون، صرف غصہ اور مایوسی کی لہر۔ وہ بغیر سوچے سمجھے، جذبات کے بھنور میں آکر، اپنی تمام طاقت سے، حیات کے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے روم سے باہر دھکیل دیا۔ باہر نکلو! مجھے برداشت نہیں۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا! اس کی آواز میں غصہ تھا،۔۔ حیات کے قدم زمین پر لڑکھڑا گئے۔ وہ سیج سے باہر گری، جیسے پوری دنیا نے اچانک اس کے ساتھ دشمنی کر دی ہو۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں، اور وہ بے بس سی زمین پر بیٹھ گئی۔ اس لمحے کمرے سے باہر ہال میں موجود مہمانوں کی نظریں فوراً اس طرف جا کر جم گئیں۔ کیا ہوا؟ کسی نے دھیمی آواز میں کہا، مگر باقی سب خاموش ہو گئے۔ حالات کا عجیب سا سکوت ہوا۔۔۔۔پچھلے چند لمحوں کی ہنگامی کیفیت نے ہر دل کو وجدان نے دروازہ زور سے بند کر دیا۔ اور وہ سانس تک روک گئی تھی۔۔۔ کمرے کی خاموشی میں صرف اس کے غصے کی گھنگھراتی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ حیات زمین پر بیٹھ کر شرمندگی اور شدت کے ساتھ رو رہی تھی۔۔۔۔پانی کی بوندیں اس کے چہرے پر گر رہی تھیں، اور ہر بوند کے ساتھ اس کی معصومیت مزید نمایاں ہو رہی تھی۔ میں۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ میں نے تو صرف۔۔۔۔ اس کی آواز گھٹ کر ٹوٹ گئی۔ وجدان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔۔دل میں غصے اور حیرت کا ایک طوفان اٹھا ہوا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیسے ایک غلط فہمی نے اس کے خواب اور امیدوں کو توڑ دیا۔ حیات نے اپنے سر کو گہرائی سے جھکایا، ہاتھوں سے آنکھوں کی نمی پونچھنے کی کوشش کی، مگر دل کا درد رک نہ سکا۔ وجدان نے اپنے دل کے اندر کی آگ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہا تھا۔۔ حیات زمین پر بیٹھ کر خاموش ہو گئی، ہر آنکھ میں شرمندگی، ہر سانس میں رنجش، اور ہر دل میں دھڑکنے والی حقیقت کہ آج کا دن، جو خوشیوں سے بھرا ہونا چاہیے تھا، اب اس کے لیے ایک خواب کی طرح شکست خوردہ محسوس ہو رہا تھا۔۔ یہ لمحہ، یہ پہلی ملاقات، پہلی رخصتی کی کیفیت، اور پہلی غلط فہمی۔۔۔۔سب کچھ ایک ایسے پیچیدہ جذباتی بندھن میں جڑ چکا تھا جسے وقت کے ساتھ حل ہونا تھا، مگر ابھی کے لیے صرف درد، حیرت، اور دل شکستہ خاموشی بچی تھی۔ حیات نے زمین پر بیٹھے بیٹھے اپنی آنکھیں بند کیں، دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ لگتا تھا ہر لمحہ کچھ ٹوٹ جائے گا۔ وہ ہلکی ہلکی سانسیں لے رہی تھی، ہاتھوں میں کپڑے کی لپیٹ، اور دل میں شرمندگی اور خوف کا طوفان۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کرتی ہے، مگر جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ ’’وجدان۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے؟‘‘کسی نے ہال سے بھاگ کر وجدان کی ماں کو اطلاع دی۔۔جو بھاگی بھاگی سی آئی تھیں۔اور فوراً سے حیات کو اٹھایا تھا۔۔دروازہ پیٹ پیٹ کر وہ تھک گئی تھیں۔مگر ان کے بیٹے نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔۔ حیات کی آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔ وہ بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ہر رشتہ دار کی باتیں اور سرگوشیاں اس کے دل پر بارش بن کر گر رہی تھیں۔ میں۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا آنٹی۔۔میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔ وہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔ وجدان کی والدہ نے اسے اپنے کمرے میں لے جا کر کرسی پر بٹھایا۔ بتاؤ بیٹی، کیا ہوا؟ سب کچھ سچ سچ بتاؤ۔ حیات نے گہری سانس لی اور سر جھکا کر سب کچھ بیان کرنا شروع کردیا۔۔ وجدان کی والدہ نے سر پکڑ لیا۔ یہ کیسے ہوا؟ بیٹے کو۔۔۔۔ پھر فوراً وجدان کے دروازے کی طرف چلیں۔ بیٹے! وجدان! دروازہ کھولو! ان کی آواز میں تشویش اور غصہ دونوں شامل تھے۔ وجدان شاور کے نیچے کھڑا تھا۔ پانی اس کے بالوں اور چہرے پر بہ رہا تھا، جسم کانپ رہا تھا مگر ذہن شدید اضطراب میں مبتلا تھا۔ وہ اندر سے ہلچل، غصہ، اور پچھتاوے کی کیفیت سے جل رہا تھا۔ دروازہ کھولنے کی طاقت نہیں تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا پہلا سورج بھی ابھی پوری طرح کمرے میں نہیں آیا تھا کہ گھر میں عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی۔ شادی کے ہال میں جو رنگین محفل، قہقہے، اور خوشیوں کی گونج تھی، اب صرف سناٹا اور دھندلی روشنی رہ گئی تھی۔ ولیمہ کا پروگرام اچانک کینسل کر دیا گیا تھا۔ یہ ممکن نہیں۔۔۔۔ مہمانوں میں سے کسی نے کہا، مگر کسی کی آواز میں وہ خوشی یا حیرت نہیں تھی جو عام شادی کے دن محسوس ہوتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی صبح ہوتے ہی حیات کے والدین کو طلب کیا گیا تھا۔۔۔اور وجدان سرخ چہرہ لئے بیٹھا تھا۔ ’’انکل میں حیات سے نہیں حیا سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔آپ کی دوسری بیٹی میرے ٹائپ کی نہیں ہے۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔۔حیات کے کلیجے پر چھریاں چل گئی تھیں۔ ’’پلیز مجھے معاف کردیں۔۔مگر میں یہ رشتہ نہیں نبھا سکتا۔۔کیونکہ میں حیا سے۔۔‘‘وہ کچھ بولنے لگا تھا۔ ’’شٹ اپ۔۔خبر دار آگر اب تم نے دوبارہ میری بہن کا دل دکھانے کی کوشش کی۔اور میں تم جیسے کو دیکھنا بھی پسند نہ کروں بے غیرت انسان۔۔۔چلو حیات۔۔یہ شخص تمھارے قابل ہی نہیں ہے۔چلیں بابا۔۔‘‘حیا درشتگی سے وجدان مرتضیٰ کو جھڑک کر روتی سسکتی حیات کو اپنے ساتھ لے گئی۔۔جبکہ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچتا وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔۔کیونکہ اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین ماہ گزر چکے تھے۔ وجدان نے خود کو کام میں مصروف کر رکھا تھا، اور اپنی بیوی حیات کی خبر لینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ۔۔دن سست روی سے گزرتے جا رہے تھے۔۔ اس دن وہ اتفاقاً مال آیا ہوا تھا۔ اپنے دوست کی سالگرہ کے لیے گفٹ لینے کا ارادہ تھا،۔۔ جب وہ گفٹ شاپ کے باہر پہنچا، تو اس کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جس نے اسے ایک دم چونکا دیا۔ حیات، سفید چادر میں لپٹی، کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی تھی، اور کسی بات پر ہنس رہی تھی۔ وہ چہرے کی رونق، ہلکی مسکان، اور خوشی سے جھوم رہی تھی۔۔ یہ منظر دیکھ وجدان کی آنکھوں میں مرچیں سے مچنے لگی تھیں۔۔جو بھی تھا وہ لڑکی اس کے نکاح میں تھی۔۔۔ یہ۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ وجدان نے دل ہی دل میں کہا۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا، اور خون کی ہر شریان میں غصے کی آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ فوراً قدم بڑھاتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ حیات! یہاں تم کیا کر رہی ہو؟ اور یہ کون ہے؟ اس کی آواز میں غصہ، حیرت، اور تھوڑی سی تلخی سب شامل تھی۔ ’’حیات اس کی آواز پر چونک کر پلٹی اور سامنے کھڑے وجدان کو دیکھ۔غیر معمولی طور پر عارف کے پیچھے چھپی تھی۔ ’’یہ میرے کزن ہیں۔۔ میں یونیورسٹی سے واپسی پر یہاں کچھ سامان لینے آئی تھی۔ وہ میرے ساتھ آیا۔۔۔۔ صرف یہی۔۔۔۔ لیکن وجدان نے اسے روک دیا۔ اس کی آنکھیں آگ کی طرح جل رہی تھیں، اور جذبات کے
