Mehkti Hayat Episodic Novel — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/01/2026
21 Views
Part 01
ت کی جڑواں بہن بھی بس ایک دو بار ہی نظر آئی۔۔جیسے وہ دیکھ کر سر جھٹک گیا۔۔اسکا آنداز بھی بالکل حیات جیسا ہی تھا۔۔شاید وہ دونوں بہنیں ہی ایک جیسی بولڈ طبیعت تھیں۔۔مگرا س نے خاص دھیان نہ دیا تھا۔۔ اس نے حیات کی بس اس تقریب میں ہلکی سی جھلک دیکھ رکھی تھی۔۔اور اس کے بعد انھیں دوبارہ ملنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔کچھ ہی دیر میں نکاح ہوگیا تھا۔۔اور وہ دعاؤں اور نصیحتوں سمیت اپنے پیا کے دیس سدھار گئی تھی۔۔وہ آج اپنی محبت کو رخصت کروا کر اپنے ساتھ لاتا۔۔دلی اطمینان محسوس کر رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات کو اسکی کزنس نے اسکی خواب گاہ میں پہنچا دیا تھا۔۔جہاں وہ ڈری سہمی سی خود میں سمٹی سی بیٹھی تھی۔۔پھولوں کی مہک، ستاروں کی طرح جلی لائٹس، سفید چادر اور نرم سیج۔۔۔۔ہر چیز جیسے اس کے خواب کی عکاسی کر رہی ہو۔ حیات سیج پر بیٹھی ہوئی تھی، سر جھکا کر پھولوں کی خوشبو سونگھ رہی تھی، اور ہاتھ آپس میں مسلتی وہ شدید تذبذب کا شکار تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نزدیک آتا اسے کے قریب بیٹھ گیا تھا۔۔اور وہ خود میں سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’حیات تمھیں معلوم ہے آج میں کتنا خوش ہوں۔۔اس روز تمھیں اس شادی میں دیکھ۔میں تم پر اپنا دل بری طرح سے ہار گیا تھا۔‘‘وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر قریب کرتا مخمور لہجے میں بولا،جبکہ سہمی سہمی سی حیات اسکی بات پر چونکی۔ ’’کس۔۔۔کس دن؟‘‘پہلی بار کچھ منہ سے ادا ہو اتھا۔ ’’کم آن یار اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔مجھے تمھارے وہی والا روپ پسند ہے۔جس طرح کولڈرنک مجھ پر گرنے پر تم مجھ پر برس پڑی تھیں۔۔مجھے وہی بولڈ اور بنداس حیات چاہئے۔۔‘‘ اسکا چہرے پر سے مکمل گھونگھٹ ہٹاتا وہ نرم خوئی سے بولا تو حیات بر طرح چونکی تھی۔۔ ’’وہ کولڈرنک۔۔۔ حیا نے مجھے آپ کی اور اسکی ٹکر کے بارے میں بتایا تھا۔۔وہ میں نہیں۔۔۔حیا تھی۔۔میں جڑواں بہن۔‘‘اس نےا سکی غلط فہمی دور کی۔وجدان کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ ’’کیا؟ کیا کہا تھا تم نے؟‘‘وہ فوراً سے بیشتر مصہری سے اٹھ کھڑا ہو اتھا۔ ’’میں۔۔۔‘‘وہ اسکے سخت تاثرات دیکھ ہکلائی۔ ’’تم وہ لڑکی نہیں ہو؟ جس سے میری اس روز شادی میں ٹکر ہوئی تھی؟‘‘ ’’نہیں۔۔وہ تو حیا۔۔۔‘‘اس کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔ ’’شٹ اپ۔۔۔یہ کیا بکواس ہے؟‘‘وہ چلایا تھا۔ ’’وجدان۔۔۔آپ چیخ کیوں رہے ہیں؟‘‘وہ تو پہلے ہی ڈری ہوئی تھی۔۔مزید سہم سی گئی تھی۔ ’’لڑکی ،میں تم سے نہیں تمھاری بہن حیا سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔تمھارا نام آگر حیات ہے تو ا سر روز سب اسے کیوں حیات بول رہے تھے؟‘‘وہ اپنے بال نوچنے کے در پر تھا۔ ’’آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔ہماری شکلیں بالکل ایک جیسی ہیں تو اکثر لوگون کو مغالطہ ہوجاتا ہے۔ تو وہ غلط نام پکار لیتے ہیں۔۔مگر میں حیات ہوں۔۔آپ نے ابو سے میرا نام لیا تھا نکاح کے لئے۔۔‘‘وہ ہچکیوں سے رو پڑی تھی۔ ’’شٹ اپ۔۔۔‘‘وہ اپنے بال نوچ رہا تھا۔۔۔یہ کیا ہوگیا تھا۔۔اسے اب سمجھ آیا تھا کہ یہ لڑکی تھی تو انتہائی ڈرپوک اور دبو قسم کی تھی۔۔اور ابھی بھی بیوقوفوں کی طرح رو رہی تھی۔۔وجدان کو اسکے آنسو دیکھ مزید طیش نے آن گھیرا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ To be Continued....
