Mehkti Hayat Episodic Novel — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/01/2026
21 Views
Part 01
ہال میں روشنیوں کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔ رنگا رنگ لوگ ، تازہ گلاب کے پھولوں کی مہک اور بینڈ باجے کی ہلکی دھیمی آواز شادی کو شاہانہ بنا رہی تھی۔ وجدان نے نگاہ گھڑی پر ڈال، بے زاری سے لمبی سانس لی۔ دوست کی شادی تھی، آنا فرض بن گیا تھا، ورنہ ایسے ہجوم سے اسے کبھی خاص انس نہیں رہا۔ وہ ابھی گہری سوچ میں ہی گم تھا کہ اچانک ایک تیز جھٹکا سا محسوس ہوا۔اور کوئی نازک وجود اس سے بری طرح سے ٹکرایا تھا۔۔ناک کے نتھنوں سے مسحور کن خوشو کے ٹکراتے ہی ایک دلفریب سا احساس جاگ اٹھا تھا۔۔۔کولڈ ڈرنک کا گلاس اس کے سوٹ کی آستین سے ٹکرایا اور چھینٹیں کارپٹ تک پھسل گئیں تھی۔جبکہ مقا بل ہستی نے بمشکل خود کو گرنے سے سنبھالا تھا۔۔ آپ۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟آپ دیکھ کر نہیں چل سکتے؟ لڑکی کی آواز تیز، صاف اور بے باک تھی۔ وہ اپنے گلاس کو سنبھالتی ہوئی ایک قدم پیچھے ہٹی اور بھنویں چڑھا کر وجدان کی طرف دیکھا جیسے وہ جان بوجھ کر اس سے ٹکرایا ہو۔ وجدان نے پلکیں جھپکیں، لیکن الفاظ اس کی زبان تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ پری پیکر مزید برس پڑی۔ چلتے ہوئے تھوڑا دیکھ بھی لیا کریں۔ اب یہ داغ آپ دھوئیں گے یا میں؟ وجدان نے ابھی تک خاموشی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔جو تیکھے نین نقش لئے غصےٰ کے باعث سرخ پڑ رہی تھی۔ مس۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ رہنے دیں۔ آپ جیسے لوگوں کو معذرت کرنا ہی نہیں آتا۔ اس نے بات کاٹ دی، اور گلاس سیدھا رکھتے ہوئے اپنی سانس سنبھالی۔جبکہ وجدان بیچارہ تک ہونق بنا ہی کھڑا رہ گیا تھا۔۔ وہ مسلسل خود ہی بولے جا رہی تھی۔۔ اور اگلی بار کوشش کیجیے کہ اتنے بڑے ہال میں کسی سے نہ ٹکرائیں۔ وہ آخری جملہ اتنی ٹھہری ہوئی بے نیازی کے ساتھ کہا کہ اس میں طنز کم اور حقیقت زیادہ محسوس ہوئی۔ پھر وہ بغیر پیچھے دیکھے ہجوم میں گم ہو گئی، جیسے یہ معمولی حادثہ اس کی نظر میں اہم ہی نہ ہو۔ وجدان ایک لمحہ وہیں کھڑا رہ گیا۔۔۔۔بے یقینی، حیرت اور غیر معمولی کشش نے اچانک اس کا دل دھڑکایا تھا۔۔۔ وہ لڑکی۔۔۔۔ عجیب تھی۔ اس کے چہرے پر کوئی خاص میک اپ نہ تھا، مگر وہ بلا کی حسین تھی۔ نرمی اور جرات کا عجیب امتزاج۔ دھیمی مگر بے خوف چال، لمبے ریشمی بال جو کندھوں سے پھسلتے ہوئے کمر تک جاتے تھے۔ آواز کی کڑواہٹ ساتھ تھی مگر آنکھوں میں روشنی تھی۔۔۔۔مضبوط، چمکتی ہوئی۔ وجدان نے اپنے سوٹ کی آستین دیکھی۔۔۔۔صرف چند قطرے تھے مگر وہ ایک لمحے کے لئے انہیں پونچھنا ہی بھول گیا۔ دماغ میں ابھی بھی وہی تیز لہجہ، وہ بے ساختہ مڑتی گردن اور وہ آخری جملہ گونج رہا تھا۔جبھی وہ ایک بار پھر سامنے سے گزرتی دکھائی دی تھی۔۔ حیات! ادھر آؤ ذرا! وجدان نے بغور اسکا متوجہ ہونا نوٹس کیا تھا۔۔۔جو اپنے کزن سے ملتی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔۔۔ حیات۔۔۔۔ تیکھی مرچی۔۔۔۔وہ مسرور سا مسکراتا بالوں میں ہاتھ پھیر گیا ،جبکہ نگاہیں اسی دوشیزہ پر اٹک کر رہ گئیں تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شادی کی محفل جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی، ہال میں شور بلند ہوتا گیا۔ ڈھول کی آوازیں، قہقہے، کزنز کے چٹکلے اور کیمرے کی فلیشنگ روشنیوں نے تقریب کو بے حد زندہ بنا رکھا تھا۔ مگر وجدان کی توجہ بار بار اس طرف کھنچ جاتی جہاں وہ لڑکی لوگوں میں گھری بیٹھی کبھی بات کرتی، کبھی مسکراتی اور کبھی یوں لگتا جیسے محفل میں موجود سب کے مقابلے میں وہ ایک مختلف جہان سے آئی ہو۔ کہاں دیکھ رہے ہو جناب؟ کسی نے اس کے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ مارا۔ وجدان نے چونک کر دیکھا۔ یہ اس کا قریبی دوست، عفان تھا۔ بچپن کا ساتھی، اسکول کا ہم جماعت اور اب بھی کبھی کبھار ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا سلسلہ برقرار تھا۔ وجدان نے مصنوعی سنجیدگی سے گہری سانس لی۔ کچھ نہیں۔ عفان نے ہنسا، کچھ نہیں؟ تبھی سے نظر ایک طرف فریزر میں رکھے گوشت کی طرح جم گئی ہے؟ وجدان کو بے اختیار مسکراہٹ نے آ لیا۔ وہ لڑکی۔۔۔۔ کون ہے؟ عفان نے ناک سکیڑی۔ کون سی والی لڑکی؟ یہاں تو پورا سیٹ پڑا ہے۔۔ تفصیل بتاہ۔۔ ‘ وجدان نے نظریں تھوڑا سا جھکائیں، جیسے نام لینے یا نشان دہی کرنے سے شرمندگی ہو۔ چند لمحوں بعد اس نے ہنوز بیٹھے ہوئے لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔وہی جس سے اس کی ٹکر ہوئی تھی۔ عفان کی نظریں اسکے اشارے کے تعاقب میں اس طرف گئیں اور وہ فوراً پہچان گیا۔ اوہ۔۔۔۔ وہ! اس نے ساتھ ہی آنکھیں پھیلا کر ہلکی سی سیٹی بجائی۔ حسین ہے نا؟ وجدان کے لب ہلکے سے مڑے مگر اس نے اعتراف کا وہ دروازہ پوری طرح کھلنے نہ دیا۔ تم اسے جانتے ہو؟ جانتا؟ عفان نے خود کو سیدھا کیا۔ بھائی، وہ تو میری چچا زاد ہے۔ وجدان کے دل نے ایک سیکنڈ کو دھڑکنا روک دیا۔ چچا زاد؟ ویسے یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔۔ایک ہی شکل کی۔۔۔تم کس والی کی بات کر رہے ہو؟عفان نے پھر بھی ایک بار کنفرم کرنا چاہا تھا۔۔ حیات۔۔۔جس کا نام حیات ہے۔۔اس کی۔۔وہ فوراً سے بیشتر بولا تو وہ اوہ کرتا رہ گیا۔۔ پھر ہنسا۔ دیکھو، اگر تم رشتہ وغیرہ کی بات کرنا چاہتے ہو تو سیدھا کہہ دو۔ یہ گھما پھرا کر ہونے والی بات نہیں ہے۔ وجدان چونکا۔ رشتہ؟ ’’تو کیا صرف میری کزن کو دور سے تاڑ رہے تھے؟‘‘اس بار اس نے آڑے ہاتھون لیا تھا۔۔۔ ’’ہاں۔۔مگر گھر والوں سے پوچھنا پڑے گا نا یار۔۔‘‘وہ ذرا خفت ذدہ ہوا۔۔۔ ’’رک میں ابا سے بات کرتا ہوں۔۔تیری سیٹنگ آج ہی بنواؤنگا۔۔‘‘ یہ ایسے اچانک۔۔۔۔؟ وجدان نے ذرا ہچکچاتے ہوئے کہا مگر دل اندر ہی اندر اجازت دے چکا تھا۔ ’’ہاں تو۔۔۔چٹ منگنی،پٹ بیاہ۔۔اس سے پہلے کہ میری گوہر نیاب کزن کو کوئی اور لے اڑے۔۔اور فکر نہ کر تیرا سفارشی تیرا بھائی بنے گا۔۔‘‘وہ شوخ ہوا تو وجدان سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔ وجدان نے ایک لمبی سانس کھینچی۔ ٹھیک ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا پہلا سورج اپنی سنہری روشنی سمیت ہر جگہ اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا۔۔گھر میں زوروں شوروں سے شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔دونوں خاندانوں نے تسلی کے بعد جلد از جلد شاد ی کی تاریخ طے کرلی تھی۔۔مہندی کی خوشبو، پھولوں کے رنگ، اور شادی کی رنگین تیاریاں ہر کسی کے دل کو تڑپا رہی تھیں۔ بلآخر وہ دن بھی آگیا تھا۔جب وہ اپنی محبت کو پانے جا رہا تھا۔۔۔وجدان نے اپنی طرف سے کپڑوں کی آخری جانچ کی، سوٹ سیدھا کیا اور آئینے میں اپنی عکس دیکھ رہا تھا۔ ہر چیز مکمل تھی۔اسکی ماں بہنیں اُسکی بلائیں لے رہی تھیں۔جبھی سہرہ باندھائی کے بعد وہ بارات لے کر ہال میں پہنچ چکے تھے۔جہاں انکا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔۔۔ہر سو خوشیاں رقصاں تھیں۔۔۔ نکاح کی تقریب شروع ہوئی۔ قاضی صاحب نے شرکاء کو نکاح کی اہمیت سمجھاتے ہوئے دونوں خاندانوں کو دیکھایا۔ وجدان کی نظریں بار بار حیات کی طرف جاتی بے قرار تھیں۔۔جو پردے میں ہونے کے باعث اسکی نگاہون سے دور تھی۔۔۔ نکاح میں فارمل ڈسٹینسنگ کا اطمینان رکھا گیا تھا۔۔لیڈیز اور جینٹس کا بھی الگ الگ بیٹھنے کا انتظام تھا۔ گھر کے اصول کے مطابق، شادی سے پہلے ایک دوسرے سے ملاقات کی اجازت نہ تھی۔۔۔۔اسی لیے وجدان نے پہلی بار مکمل طور پر حیات کو قریب سے نہیں دیکھا تھا۔۔اتفاق کی بات تھی کہ وجدان کو حیا
