Intiqam E Janaa Episodic Novel Online Reading — Episode No 03
Written by:
Genre:
Published: 01/02/2026
77 Views
Episode No 03
انتقامِ جاناں ازہماقریشی قسط نمبر ۰۳ رات کا نجانے کونسا پہر تھا،جب اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔سر بھاری ہو رہا تھا۔و ہ نیم غنودگی کے باعث دوبارہ نیند کی وادی میں اتر گئی تھی۔۔ اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے، نیند کا غالبہ ختم ہوا تو اسے خود میں عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ شاور لے کر وہ نماز پڑھنے بیٹھ گئی تھی۔۔دل عجیب ہو رہا تھا۔۔۔ وہ یونیورسٹی کے وقت خاموشی سے یونیورسٹی چلی گئی تھی۔۔وہاں بھی اسکا دل گھبراتا رہا تھا۔۔ دل میں عجیب و غریب وسوسے آر ہے تھے۔ صبح ناشتے پر سب نے اسکی اتنی لمبی نیند کا پوچھا تو وہ بہانہ بنا گئی۔۔نجانے کل کا دن کیسا تھا۔اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔سب کچھ سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج ا سے مایوں بیٹھایا جا رہا تھا۔ بوٹل گرین لہنگے میں ملبوس وہ اداس اداس ہی حسین لگ رہی تھی۔۔مرتسم کے چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ تھی۔۔ وہ آج بے انتہا خوش تھا۔دونوں کو ساتھ بیٹھایا گیا تھا۔۔فنکش رات دیر تک چلتا رہا تھا۔ سب کزنس لڑکیاں رت جگے میں شغل لگا رہی تھیں۔جبکہ الوینہ بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ گئی تھئ۔اور سیدھی کمرے میں آکر بند ہوگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گھبرائی گھبرائی سی اسکی سیج سجائے بیٹھی تھی۔ بلڈ رنگ شرارے میں ملبوس وہ آج بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ہر نگاہ میں اس کے لئے ستائش تھی۔ سب اس کے نصیب پر رشک کر رہے تھے۔۔وہ ابھی بیٹھی ہی تھی کہ یکدم سر گھومتا محسوس ہوا تھا، دل عجیب ہو رہا تھا،وہ اُبکائی آنے کے باعث یونہی اپنا لباس سنبھالتی سیدھی واشروم بھاگی تھی۔اتنے میں مرتسم بھی دستک دیتا رُوم میں آیا تھا۔۔مگر الوینہ کو واشروم کے واش بیسن پر جھکا دیکھ وہ ذرا پریشان سا قریب آیا تھا۔۔ ’’کیا ہوا الوینہ!‘‘وہ بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا۔ ’’ کچ۔۔کچھ نہیں۔۔۔بس گھبراہٹ سے الٹی ہوگئی۔۔‘‘وہ خوفزدہ سی بولی تھی۔ ’’تم نے کھانا کھایا تھا؟‘‘اس نے اسکے ماتھے پر ہاتھ ر کھ کر اسکا نچڑا ہوا چہرہ دیکھا تھا۔ ’’جی کھا لیا تھا۔۔‘‘اب وہ ساتھ ہی کمرے میں آئے تھے۔۔مرتسم نے اسے بیڈ پر بیٹھا دیا تھا۔۔ ’’طبیعت زیادہ تو نہیں خراب ہو رہی؟ ڈاکٹر کو بلاؤں۔۔‘‘اسے اپنا سر دباتا دیکھ وہ تفتیش بھرے لہجے میں بولا تھا۔ ’’نہیں۔۔نہیں شاید تھکن ہوگئی ہے۔۔ بس اس لئے ۔۔‘‘ الوینہ اسے بتا نہیں سکی کہ وہ کچھ دنوں سے شدید اسٹریس کا شکار تھی۔ ’’آر یو شیور!‘‘اس نے ایک بار پھر تصدیق چاہی۔۔ ’’آگر آپ مائینڈ نہ کریں تو میں چینج کر کہ سوجاؤ مرتسم۔۔مجھے اس ڈریس میں گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔‘‘مرتسم کتنی ہی دیر خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا تھا۔ جو بے چین دکھائی دے رہی تھی۔۔مگر آج وہ جتنی خوبصورت لگ رہی تھی وہ اسکی د ل بھر کر تعریف کرنا چاہتا تھا۔مگر میڈم ایسا کوئی موقع دینے کو تیار نہیں تھیں۔ ’’ چینج کرلو میری جان۔۔اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔مجھے لگ رہا ہے تم نے ہماری شادی کی زیادہ ہی ٹینشن لے لی ہے۔ریلیکس ہوجاؤ، میں تمھیں کچھ نہیں کر رہا۔۔جن تھوڑی ہوں۔۔‘‘دھیرے سے اسکے گال سہلاتا،وہ خود ہی اسکے دوپٹے سے پنز نکالتا اب جیولری اتار رہا تھا۔۔ ’’میں خود۔۔۔‘‘ اسنے ذرا جھجھک کر کہا۔۔ ’’آہمم! میں کر رہا ہون نا۔۔تم ریلیکس کرو۔۔‘‘الوینہ کا دل و دماغ عجیب سی الجھن کا شکار تھا۔۔ایک دل کیا،کہ ابھی اس سے دل کی بات کہہ دے مگر پھر موقع کی نزاکت دیکھ وہ خاموش ہوگئی۔۔ ’’جاؤ چینج کرلو سویٹ ہارٹ۔۔‘‘اسکی پیشانی پر بوسہ دیتا ،وہ کب بورڈ سے ایک ڈریس نکال کر اسے تھماتا واشروم کا راستہ دکھا چکا تھا۔۔جبکہ وہ بوجھل دل،اور بوجھل قدموں کے ساتھ واشروم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ چینج کر کہ باہر آئی،جب تک مرتسم بھی کپڑے چینج کر کہ بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔۔اسے آتا دیکھ وہ ہولے سے مسکرایا،اور اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تھا۔۔ ’’اب ٹھیک ہے طبیعت۔۔‘‘اسے ساتھ ہی لٹاتا وہ نرم لہجے میں بولا،جبکہ وہ جھجھک کر ذرا فاصلے پر ہوئی۔مگر اس نے ایسا کرنے نہیں دیا تھا۔ ’’ آہمم یہیں پاس رہو۔۔‘‘اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا وہ ہلکی پھلکی باتیں کر رہا تھا۔جبکہ وہ خیالوں میں گم کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔۔اسے علم ہی نہ ہو سکا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن ولیمے کی تقریب کے بعد ہی سب رشتہ دار گھروں کو واپس چلے گئے تھے۔ مگر پچھلے دو دن سے ہی الوینہ کی طبیعت خراب چل رہی تھی۔۔اس کی ایک بھی نہ سنتے آج مرتسم اسے ہسپتال لے جا رہا تھا۔۔جو گھر میں کسی کو نہ بتانے پر زور دے رہی تھئ۔۔ان کی نئی نئی شادی تھی۔سب پریشان ہو جاتے۔۔جبکہ مرتسم لانگ ڈرائیو کا کہتے اسے ہسپتال لے آیا تھا۔۔ وہ دونوں ڈاکٹر صاحبہ کے سامنے بیٹھے تھے۔مرتسم کے آنداز میں بے چینی تھی تو الوینہ کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا۔ ’’ مبارک ہو یہ ٹو ویکس پریگننٹ ہیں۔۔کمزوری کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہے۔۔۔میں سپلمنٹس لکھ رہی ہوں۔۔آپ کو ریگولر ڈائٹ اچھی لینی ہے۔اور چیک اپ لازمی کرانا ہے۔۔۔‘‘ڈاکڑ پتہ نہیں کیا کیا بول رہی تھی،مگر ان دونوں کے چہرے ایسے تھے جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔۔سب سے پہلے ہوش مرتسم کو آیا تھا۔۔ ’’آپ نے صحیح سے چیک کیا ہے؟‘‘وہ گلہ کھنکھار کر بولا تو ڈاکٹر کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’جی۔۔مگر تسلی کے لیے ٹیسٹ لکھ دیا ہے میں نے۔۔‘‘ وہ ایک نظر الوینہ کو دیکھ اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر آگیا تھا۔۔ ’’مرتسم۔۔ یہ۔۔آپ کا ہی بچہ ہے نا۔۔۔اس رات آپ ہی میرے کمرے میں آئے تھے نا؟‘‘جو بات اتنے دنوں سے پریشان کر رہی تھی گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے سوال کیا تھا۔۔وہ کتنی ہی دیر ساکتِ نگاہوں سےا سے دیکھتا رہا۔۔پھر کچھ بھی کہے بغیر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔۔جبکہ الوینہ کو تو مانو وہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارے بچوں اتنی جلدی واپس آگئے؟‘‘بی جان نے انھیں دیکھ سوال کیا۔۔جبکہ الوینہ کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔ ’’مبارک ہو آپ کو۔۔‘‘مرتسم کے لب ولہجے پر سب ٹھٹھک گئے تھے۔ ’’خیریت بیٹا!‘‘سب نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ ’’ آپ پر دادی بننے والی ہیں۔۔‘‘ سب کے چہروں پر حیرت اور بے یقینی تھی۔۔ کتنی ہی دیر تو گھر کے سب بڑے، ایک دوسرے کو عجیب نظروں سے دیکھتے رہے پھر یکدم گڑبڑا کر ہوش میں آئے تھے۔ ’’ما شاء اللہ۔۔۔بہت مبارک ہو میری جان۔۔یہ تو بہت بڑی خبر ہے۔۔الوینہ رو کیوں رہی ہو میری بچی۔۔۔‘‘ مرینہ نے جیسے ہی آگے بڑھ کر بیٹی کو گلے لگایا تھا وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔نظریں مرتسم پر تھیں۔جو سپاٹ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ’’ارے بھائی منہ اٹھا کر خالی ہاتھ آگئے ہو۔۔مٹھائی کہاں ہے۔۔‘‘یاور صاحب نے بیٹے کو ڈپٹ پر گلے لگایا تھا جبکہ وہ خاموش تھا۔۔بالکل خاموش۔۔۔ ’’میں روم میں جا رہاہوں۔۔ڈاکٹر نے اس کا خاص خیال رکھنے کا کہا ہے۔۔میری تو کل کی ایمرجنسی میں دبئی کی فلائٹ ہے۔اور پھر شاید مجھے کچھ ماہ کے لئے آسٹریلیا جانا پڑے۔‘‘سب نے اچھنبے سے اسے دیکھا تھا۔جبکہ الوینہ کا دل کیا کہ اسے بس ابھی موت آجائے۔۔اس نے کچھ کہے بغیر ہی بہت کچھ کہہ دیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دن ہفتوں میں،اور ہفتے مہینوں میں تیزی سے بدل رہے تھے۔ مرتسم کو گئے نو ماہ ہونے کو آئے تھے۔۔ان نو ماہ نے سب نےا سے واپس آنے کو کہا تھا مگر وہ ہمیشہ کوئی بہانہ بنا دیتا
