Intiqam E Janaa Episodic Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/02/2026
50 Views
Episode No 02
#انتقامِ_جاناں #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_02 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیشے سے بنی چمچماتی بلڈنگ کے گلاس ڈور کو دھکیل کر آندر داخل ہوتا ، جیسے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔ آسمانی رنگ کا تھری پیس سوٹ، سفید شرٹ، اور کلائی پر بندھی گھڑی،ہر چیز اس کی شخصیت کی طرح نپی تلی تھی۔ چہرے پر سنجیدگی مستقل قیام تھی۔لفٹ کے بٹن پریس کرتا وہ سیدھا اپری منزل پر بنے آفس کی جانب گامزن تھا۔۔ وہ چلتے ہوئے رُکا نہیں تھا۔ سیدھا لفٹ سے نکل کر اپنے کیبن کی طرف بڑھا تھا۔ اسی لمحے مینیجر فائل تھامے تیز قدموں سے اس کے برابر آ گیا۔ “گڈ مارننگ سر،” اس نے قدرے محتاط مگر مستعد لہجے میں کہا، “آج آپ کی تین اہم میٹنگز شیڈول ہیں۔” مرتسم نے سر ہلکا سا ہلایا۔ نظریں سامنے تھیں، مگر توجہ پوری طرح مینیجر کی آواز پر تھی،جبکہ دماغ میں اور بھی بہت سی سوچیں جنم لے رہی تھیں۔ “پہلی میٹنگ دس بجے بورڈ روم میں ہے، اوورسیز کلائنٹس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس۔” مینیجر نے فائل کھولتے ہوئے کہا، وہ لوگ پراجیکٹ ٹائم لائن پر نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔” “ٹائم لائن نہیں بدلے گی،” مرتسم نے مختصر مگر واضح انداز میں کہا۔ “ انہیں بتا دیں کہ کوالٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔” مینیجر نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ویسے بھی مرتسم کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ “گیارہ بجے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ ہے، سر۔ بجٹ ری الاؤکیشن پر بات ہوگی۔” مرتسم کی پیشانی پر ہلکی سی شکن ابھری۔ “ میک شیور کیجئے گا کہ اعداد و شمار تیار ہوں۔ قیاس آرائی نہیں سننی۔” جی سر،” مینیجر نے کہا، “ اور دوپہر ایک بجے لیگل ٹیم کے ساتھ میٹنگ ہے۔ نیا کنٹریکٹ ڈرافٹ فائنل کرنا ہے۔” مرتسم کی رفتار اب بھی یکساں تھی۔ اس نے کیبن کے دروازے پر پہنچ کر کارڈ سوائپ کیا۔ دروازہ کھلا تو اس نے اندر قدم رکھا۔ مینیجر بھی ایک قدم پیچھے رک گیا، مگر بولتا رہا۔ “سر، میڈیا نے بھی آج انکوائری رکھی ہے” مرتسم نے پلٹ کر ایک نظر ڈالی۔ وہ نظر سوالیہ نہیں تھی، فیصلہ کن تھی۔ “میڈیا کو کہہ دیں، وقت ملے گا تو بات ہوگی۔ ابھی نہیں۔” کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے کوٹ اُتار کر کرسی کی پشت پر رکھا۔ کھڑکی کے پار شہر کی رفتار دھیمی پڑتی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔بلند عمارتیں، دوڑتی گاڑیاں، اور شور۔ مینیجر نے فائل بند کی۔ “ سر، کیا میں میٹنگ کے نوٹس ای میل کر دوں؟” “نہیں، ” مرتسم نے کرسی سنبھالتے ہوئے کہا، “پہلی میٹنگ کے بعد خود لے آئیے گا۔” مینیجر نے اثبات میں سر ہلایا اور باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی مرتسم نے ایک لمحے کو گہری سانس لی۔ سامنے رکھی میز، ترتیب سے سجی فائلیں، اور گھڑی کی ٹک ٹک۔الوینہ کا جواب نہ دینا اس کے حواس جھنجھنا گیا تھا۔مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ رخصتی اسی ماہ لے گا اور لازمی لے گا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اوئے ہوئے آگئیں اپنے شوہر نامدار کے ساتھ رو برو میٹنگ بھگتا کر۔کچھ رومینٹک ہوا۔یا بس ایسے ہی۔۔‘‘وہ دونوں اسے دیکھتے ہی معنی خیزی سے بولے۔جس نے دانت کچکچائے۔ ’’تمھارا ان رومینٹک بھائی صرف غیر ضروری باتیں ہی کر سکتا ہے۔‘‘اس نے منہ بسورتے سر جھٹکا۔ ’’لگتا ہے بھائی نے کلاس لے لی بچی کی۔‘‘وہ ساتھ ساتھ کلاس کی جانب بھی جا رہے تھے۔ ’’ کلاس ؟زور دار جھٹکا دیا ہے مجھے۔‘‘اس نے ناک بھونیں سمیٹیں۔ ’’کیسا جھٹکا؟‘‘دونوں یک زبان بولے۔ ’’رخصتی چاہیے موصوف کو۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی۔ ’’نہ کرو۔۔سچی؟‘‘دونوں زیادہ ہی ایکسائیٹڈ ہوئے تھے۔ ’’منہ تو بند کرو تم دونوں۔۔‘‘وہ خفا ہوئی۔ ’’ بھئی تو پھر تم نے کیا کہا؟‘‘وہ دونوں متجسس ہوئے۔ ’’میں نے کیا کہنا ہے۔ وہ خود ہی سب کچھ سوچے بیٹھے ہیں۔‘‘وہ افسردگی سے بولی۔ ’’تو ایسے ناک منہ کیون بنا رہی ہو۔ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانا ہے،اور پھر ہنی مون۔۔۔‘‘وہ دونوں ہی شوخی سے بولے تو الوینہ انھیں تاسفی نگاہوں سے دیکھتی اپنی کلاس لینے چلی گئی تھئ۔۔بھلا ان دو نمونوں سے کوئی جیت سکتا تھا۔ جبکہ وہ دونوں پیچھے بے ہنگم سا قہقہہ لگاتے اپنی اپنی کلاس کی جانب بڑھے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا کھانا معمول کے مطابق سب ساتھ ہی کھا رہے تھے۔جب اپنا کھانا مکمل کرنے کے بعد اس نے نپکن سے منہ تھپتھپاتے ذرا کھنکار کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ ’’ بی جان۔۔میں سوچ رہا تھا کہ اب میری اور الوینہ کی رخصتی ہو جانی چاہئے۔۔آپ کیا کہتی ہیں؟‘‘وہ اس قدر اچانک سے بولا تھا کہ الوینہ کے حلق میں نوالہ ہی پھنس گیا تھا۔جبکہ سب گھر والے حیرت و بے یقینی سے اسکا چہرہ تک رہے تھے۔ ’’مگر بیٹا ابھی تو الوینہ کی پڑھائی مکمل نہیں ہوئی ہے۔‘‘کبیر خان نے اپنے بھتیجے پلس داماد کو دیکھ سنجیدگی سے کہا،جبکہ الوینہ منہ ٹکائے ماں کو دیکھ رہی تھی۔ ’’تو تایا ابو پڑھنے سے کس نے منع کیا ہے۔ بٹ اب مجھے لگتا ہے رخصتی کو مزید نہیں ٹالنا چاہئے۔۔الوینہ کی پڑھائی کا ڈیڑھ سال ہے۔بلکہ اس کو ابھی بی ایس کے بعد ایم ایس بھی کرنا ہے تو یہ پڑھائی کے بعد آرام سے کرتی رہے گی۔‘‘ بی جان نے بڑی بہو کی طرف دیکھا تھا۔ ’’آپ کیا کہتی ہیں مرینہ؟‘‘ ’’میں تو شروع سے نکاح کو لٹکانے کے حق میں نہیں ہوں۔۔ مرتسم الوینہ کا شو ہر ہے ، وہ جب چاہے رخصتی کر سکتا ہے۔اور میرے خیال سے یہی سہی وقت بھی ہے۔‘‘ کبیر خان نے لب بھینچ لئے تھے۔ ’’پھر طے ہو گیا۔۔اگلے ماہ کی کوئی بھی تاریخ رکھ لیں رخصتی کے لئے۔‘‘ بی جان نے گویا اعلان کیا تھا۔ ’’کوئی مجھ سے بھی تو پوچھ لے۔‘‘اس بار وہ احتجاجً گویا ہوئی تھی۔ ’’نکاح کے وقت تمھارے دادا نے تمھاری رضامندی لی تھی نا ؟ اب بات ختم۔۔اب رخصتی تمھارے شوہر کی مرضی سے ہوگی۔ ‘‘مرینہ خان نے بیٹی کو گھورا تو وہ خاموشی اختیار کرتی سر جھکا گئی۔۔ ’’نہیں تائی اماں اسکی رضامندی بھی میٹر کرتی ہے۔بتاؤ تم کیا چاہتی ہو۔۔‘‘مرتسم نے اب اسکی جانب دیکھا۔سب ہی کی توجہ اب الوینہ کی جانب تھی۔ ’’ جب سب کچھ طے کرلیا تو مجھ سے پوچھنا کا احسان کیوں کر رہے ہیں۔۔‘‘وہ غصےٰ سے بولتی میز چھوڑ کر اٹھ گئی تھی،جبکہ کبیر خان نے گھور کر بیوی کو دیکھا، جو اسکی بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی رخصتی کر رہی تھیں۔ ’’آپ لوگ اس کی فکر نہ کریں میں سنبھال لونگا۔۔‘‘مرتسم باپ کا سنجیدہ چہرہ دیکھ اٹھ کر اسکے پیچھے گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں آکر آئینے کے سامنے کھڑی خود سے باتیں کر رہی تھی۔جبکہ وہ دستک دیتا سیدھا آندر آیا تھا۔ ’’ صبح پوچھا تو تھا میں نے تم سے۔اب یہ نخرہ کیوں؟‘‘وہ جیبوں میں ہاتھ پھنسائے عقب میں کھڑا سوال کر رہا تھا۔ ’’بہت بڑا احسان ہے آپ کا۔۔‘‘ وہ جل کر بولی تو مرتسم نے ایک گہری سانس خارج کرتے اسکا ہاتھ پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا تھا۔ ’’دیکھو الوینہ، تمھاری اور میری عمر میں کافی فرق ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اب مجھے اپنی بیوی اپنے روم میں چاہئے۔۔ بزنس سیٹ کئے مجھے دوسال ہوگئے ہیں۔میں مزید ویٹ نہیں کر سکتا۔۔ہاں آگر تم اجازت دو تو میں دوسری شادی شوق سے کر سکتا ہوں۔۔‘‘نرم لہجے میں بولتا آخر میں وہ زرا شرارت سے بولا تھا۔الوینہ نے گھور کر دیکھتے،اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کرایا تھا۔ ’’یہ آپ مردوں کو ہر مسلہ کا حل دوسری شادی ہی کیوں لگتی ہے؟‘‘وہ ناراضی
