Intiqam E Janaa Episodic Novel Online Reading — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 31/01/2026
100 Views
Episode No 01
#انتقامِ_جاناں #ازہما_قریشی #قسط_نمبر_01 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اللہ نے چاہا تو وہ تمھیں بیٹی دے گا۔۔اور یہ سب کچھ اس کے آگے آئیگا،اس دن تمھیں احساس ہوگا کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ بُرا کرنا کیسا ہوتا ہے۔‘‘اُس نے حیرت و بے یقینی سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا،جو اپنی ہی ہونے والی اولاد کے لئے منہ سے بد دعا نکال رہی تھیں۔ساتھ ساتھ آنسو بہاتیں،اپنے ہونٹوں پر لگا خون صاف کر رہی تھیں۔’’کیا بکواس کر رہی ہو؟ کیسی عورت ہو،اپنی ہی اولاد کے لئے بد دعائیں کر رہی ہو۔‘‘بیٹی کا سُن اُنکے دل کو دھچکا سا لگا تھا۔تمھیں یہ خوش فہمی ہے کہ میں تمھاری اولاد پیدا کرونگی؟‘‘انھونے نفرت آمیز نگاہوں سے شوہر کو دیکھا تھا،جو انکی بات سن ایک لمحے کو ٹھہر گئے تھے۔۔ ’’اپنی بکواس بند کرو ۔۔‘‘وہ چلائے جبکہ وہ انکی تڑپ پر استہزائیہ مسکرائی تھیں۔کیونکہ عنقریب ان کے تمام دکھوں کا مداوا اس شخص کی اولاد کرنے والی تھی،وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ جس اولاد کو بددعائیں دے رہی تھیں۔۔وہی ان کے لئے سب سے بڑی آزمائش بن جائے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کی نرم دھوپ خان مینشن کے وسیع لان سے ہوتی ہوئی ڈرائنگ روم کے موٹے پردوں سے چھن چھن کر اندر آرہی تھی۔ ڈبل اسٹوری سفید بنگلے کا یہ وہ وقت تھا جب پورا گھر ایک ہی جگہ جمع ہوتا تھا۔اور وہ تھا صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کی خوشبوؤں کا راج تھا۔ فرائیڈ ایگ، ساسیجز، پراٹھے، اور دیگر لوازمات سجے تھے۔ مرتسم خان نے کچھ دیر قبل ہی ناشتے کی میز پر گھر والوں کا جوائن کیا تھا۔۔مرد حضرات بچوں کو ناشتہ کرتا دیکھ آفس کے لئے نکل گئے تھے۔جبکہ مرتسم کا ارادہ حورم کو اپنے ساتھ ہی یونیورسٹی ڈراپ کرنے کا تھا۔۔اسکی یونی اسکے آفس کے راستے میں ہی پڑتی تھی۔۔ ’’مرتسم تھورا مسکرا ہی لو۔۔ہر وقت سڑو بن کر کیوں بیٹھے رہتے ہو؟‘‘ یہ اسکی کزن پلس منکوحہ الوینہ خان تھی۔۔جو حد سے زیادہ شرارتی طبیعت کی مالک تھی۔۔مرتسم جیسے سنجیدہ مزاج بندہ بس اسی کی گوہر افشائیاں برادشت کر لیتا تھا۔۔ ’’لڑکی کتنی بار کہا ہے تمھیں تمیز سے بات کیا کرو،شوہر ہے تمھارا۔۔‘‘ بی جان نے ہمیشہ کی طرح پوتی کو گھورا تھا۔جبکہ اسکے باقی دونوں کزنس کھی کھی کرنے لگے تھے۔ ’’تم تو چپ کرو موٹے۔‘‘اس نے جھٹ بال کی لٹ سنوارتے دونوں کو گھورا،جبکہ اس بار مرتسم مسکراہٹ دباتا چہرہ جھکا گیا۔۔اس کے چہرے کے تبدلتے رنگ خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔۔ متناسب قد کاٹھ،گندمی رنگت،شولڈر کٹ بال،اورگہری سیاہ آنکھیں جن پر عینک ٹکا تھا۔آسمانی رنگ لباس میں دوپٹہ لاپرواہی سے گلے میں ڈالے بیٹھی اب وہ خائف نگاہوں سے ماں کو دیکھ رہی تھی،جو ہمیشہ کی طرح سنجیدہ بیٹھی تھیں۔۔ ’’الوینہ آپ میرے ساتھ آجائیں۔۔مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔یہ دونوں ڈرائیور کےساتھ یونیورسٹی چلے جائیں گے۔‘‘مرتسم نےا سے ساتھ ہی اٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔جبکہ اسکے دونوں چچا کے بچوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں معنی خیز اشارے کا تبادلہ کیا تھا۔ ’’جی۔۔‘‘وہ بھی شرافت سے اُٹھی تھی۔۔دونوں ساتھ ہی چلتے کار پورچ تک آئے تھے۔جہاں چوکیدار نے اُنھیں گاڑی میں بیٹھتا دیکھ فوراً سے گیٹ کھولا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آپ دونوں کو یونیورسٹی نہیں جانا ہے؟‘‘ بی جان کی نظریں اب اپنے دونوں شرارتی پوتوں پر تھیں۔ ’’بس جارہے ہیں بی جان۔۔ابھی تو بھائی اور وہ چڑیل دونوں رومانس کر رہے۔۔۔‘‘ابھی ان کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی تھے،جب بی جان کی چھڑی سیدھی کمر پر آ لگی تھی۔ ’’بے غیرت شرم نہیں آتی بہن اور بھائی پر الزام لگاتے ہوئے۔‘‘انھونے دونوں کو گھرکا،تو اس سے قبل کے معاملہ سنجیدہ ہوتا ،وہ دونوں فوراً سے بیشتر وہاں سے نکلے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خان مینشن میں بختیار خان اور ندرت خانم کے تین بیٹے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔۔بڑے بیٹے کبیر خان،انکی زوجہ مرینہ خان،جنھیں اللہ نے شادی کے سالوں بعد الوینہ خان سے نوازہ تھا۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی ،جبکہ چھوٹے بیٹے یاور خان،انکی زوجہ دلشاد بیگم جن کا اکلوتا بیٹا مرتسم خان تھا۔،اور سب سے چھوٹے المیر خان اور انکی زوجہ نشاط بیگم جنھیں اللہ نے دو بیٹوں کی نعمت سے نوازہ تھا۔ ضیغم خان اور عاشر خان۔۔ بڑے خان کے گزر جانے کے بعد سب ہی ایک چھت کے نیچے ہنسی خوشی رہائش پذیر تھے۔۔آج سے پانچ سال قبل بڑے خان نے اپنی زندگی میں ہی اپنی اکلوتی لاڈلی پوتی کو مرتسم خان کے ساتھ نکاح میں باندھ دیا تھا،جو انکے خاندان کا سب سے بڑا چشم و چراغ ،سنجیدہ مزاج اور معاملہ فہم پوتا تھا۔۔ سب گھر والے راضی تھے۔۔بس بس الوینہ خان کی ڈگری مکمل ہونے کا اتنظار تھا،تاکہ دونوں کی رخصتی کا فرئضہ سر انجا م دیا جا سکے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی ایف ٹی سی پل سے گزرتی گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔۔جبکہ کافی دیر سے خاموش بیٹھی الوینہ کو اب اس خاموشی سے کوفت سی ہونے لگی تھی۔جبھی وہ ذر منہ بسو کرا سکی جانب گھومی۔۔ ’’مرتسم اب بول بھی دیں۔کیا بات ہے۔مجھے تو اتنی کرئیوسٹی ہو رہی ہے کہ آگر آپ مزید خاموش رہے تو مجھے کچھ ہوجائے گا۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح اپنی جلد باز طبیعت کے پیش نظر تیز تیز بولتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔ ’’کم آن کیا ہوگیا ہے یار!ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔بس ویسے ہی تمھارے ساتھ وقت گزارنے کا دل چاہ رہا تھا۔‘‘وہ مسرور لہجے میں بولا تھا۔۔الوینہ نے نظر بھر کر اپنے ہمسفر کو دیکھا تھا۔ جو سیاہ رنگ تھری پیس سوٹ میں ملبوس،سلیقے سے بال بنائے ، عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اب دھیرے سے کچھ گنگنا رہا تھا۔۔ جبکہ سنجیدہ چہرے کے تاثرات ا سکی ہمراہی میں ہمیشہ ہی نرم ہوجاتے تھے۔سرمئی آنکھوں کی چمک ہی نرالی تھی۔۔۔ ’’اوہ اچھا۔۔مجھے لگا پتہ نہیں کیا ہوگیا۔۔جو آپ سب کے سامنے مجھے اتنی عجلت میں اٹھا کر لائیں ہیں۔۔‘‘اب وہ ریلیکس ہوکر پیچھے ہوکر آرام دہ آندا زمیں بیٹھ گئی تھی۔ ’’افف! ایک تو یہ تم لڑکیاں ہر معاملے میں آور تھنکنگ شروع کردیا کرو۔۔‘‘اس نے ذرا گھور کر دیکھا تو وہ ہلکا سا قہقہہ لگا گئی۔ ’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے بھئی۔‘‘اس نے شکوہ سے دیکھا تو وہ مسکراہٹ چھپا گیا۔۔ ’’اوہ کیا واقعی۔۔‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔۔ ’’خیر میں یہ کہہ رہا تھا،کہ مجھے تمھاری ڈگری مکمل ہونے سے پہلے رخصتی چاہئے۔۔‘‘وہ اتنا اچانک بولا کہ وہ ایک لمحے کو سکتِ میں آگئی تھی۔ ’’وہاٹ؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مرتسم؟ جبکہ ہماری رخصتی سے تو میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی طے پائی ہے نا۔۔‘‘اس نے حیرت ذدہ نگاہوں سے مقابل کو دیکھا تھا۔ ’’ہے تو مگر یار تمھاری ڈگری کا ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے۔۔اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہو رہا۔۔مجھے اسی سال ر خصتی چاہئے۔‘‘اب وہ سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ ’’آپ مذاق کر رہے ہیں نا؟‘‘اس نے شکی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’اس میں مذاق کی کیا بات ہے یار۔۔کیوں تم ایسا نہیں چاہتیں؟‘‘اب وہ سائیڈ مرر سے باہر بھی دیکھ رہا تھا۔ ’’چاہتی ہوں مگرا بھی نہیں۔‘‘اس نے لب چبائے۔ ’’مسلہ کیا ہے؟ ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔۔تمھیں بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آنا ہے۔‘‘ اس نےا س بار ذرا سخت نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’اور بابا۔۔‘‘اس نے لب چبائے۔ ’’تم ہامی بھر لو۔۔باقی سب کو میں منا لونگا۔۔‘‘اس نے بیچ کی راہ نکالی۔ ’’میری تعلیم ڈسٹرب ہوجائے گی مرتسم۔۔‘‘اس نے ایک اور بہانہ گھڑا۔ ’’نہیں ہوگا یار! ٹرسٹ می۔۔اور آگر تم شادی
