Ghayal Episodc Novel — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/01/2026
683 Views
Episode No 02
اورا سکی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ لیکن میں نےاسے کبھی تمھاری موجودگی میں ہنستا مسکراتا نہیں دیکھا۔بلکہ تمھاری شکل دیکھ کر تو وہ ایسی ہوجاتی ہے جیسے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔‘‘اس بار یزدان نے ناراض نگاہوں سے باپ کو دیکھا تھا۔ ’’ہاں آپ کی بہو کو ڈنڈے اور بلیڈ کی مار دیتا ہوں نا میں،جو وہ مجھے دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یزدان کو اس کا خود سے بھاگنا اور گھبرانا یاد آیا تھا۔ ’’مار صرف ہاتھ کی نہیں ہوتی،لہجوں اور رویوں کی بھی ہوتی ہے،اور وہ مار سیدھا انسان کے دل پر لگتی ہے،تم ہمیشہ بچوں کا ذکر کر کہ اسکی حق تلفی کرتے ہو۔۔مت بھولو اپنی اولاد کے ہوجانے کے باوجود بھی میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لئے پیار و محبت کم نہیں ہوتا۔ اولاد اس رشتے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے۔تم نے اسے ازیت دے رکھی ہے کہ یہ بچے تمھاری پہلی بیوی کی اولاد ہیں۔۔وہ انھیں ماں بن کے پالنے کی کوشش کر تو رہی ہے اور کیا جان لوگے اسکی؟‘‘اس بار انھونے بیٹے کو طبیعت سے لتاڑا تھا۔ ’’کم آن بابا۔۔میرے بچے سات سال کے ہیں۔اور ویل ٹرینڈ بھی۔وہ کوئی چھوٹ بچے نہیں ہیں جنھیں وہ صاحبہ پال پوس کر جوان کرنے میں سرگرداں ہیں۔میرے بچے پہلے ہی سب سیکھے سیکھائیں ہیں۔‘‘اسے باپ کا یوں کہنا برا لگا تھا۔تمکنت کی طرف سے بھی دل خراب ہوا تھا،شاید اس نے ہی ڈیڈی کو شکایت لگائی تھی۔۔ ’’بچے بچے ہوتے ہیں۔اور تم نے دیکھا نہیں ہے وہ تمکنت سے کتنا اٹیچڈ ہوگئے ہیں۔وہ بھی بچوں کو بھرپور وقت دیتی ہے۔بلکہ وہ سارا وقت ہی ان بچوں کو دیتی ہے۔مگر کب تک۔۔جہاں تک میں تمھیں جانتا ہوں۔یقیناً تم نے اس بچی کو اسکا حق نہیں دیا ہے ابھی تک۔‘‘وہ بڑے ہی بلنٹ آنداز میں بولے تھے اور وہ بری طرح گڑبڑایا تھا۔ ’’ڈیڈی یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے۔‘‘اب وہ دیوار کو دیکھ رہا تھا۔ ’’مانتا ہوں۔ مگر میں آخری بار بتا رہاہوں اس بچی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔یتیم بچی ہے وہ۔۔آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔تم سے سوال کرنے والے اسکے باپ بھائی نہیں ہیں تو اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ تم اسکی حق تلفی کروگے۔۔اللہ کو کیا جواب دو گے۔‘‘انھونے بیٹے کو آئینہ دکھایا تھا۔ ’’ڈیڈی۔۔‘‘اس بار اس نے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’تم نے کہا تھا کہ تم ہماری کلا س کی لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ ان بچوں کو اپنی اولاد والا پیار کبھی نہیں دے سکتی۔اسی لئے میں نے اتنی مشکل سے یہ بچی کو چننا ہے۔ساری زندگی محرومیاں دیکھی ہے اس نے،ماں، باپ کے پیار کو ترسی ہوئی ہے۔رشتوں کے نام پر سودے باز لوگوں سے پالا پڑا ہے اسکا۔مجھے لگا تھا کہ یہ بچی میرے پوتوں کی آنکھوں میں وہ حسرت دیکھ کبھی ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیگی۔اور دیکھو میرا آندازہ بالکل ٹھیک تھا۔آگر تم ان کے باپ ہو تو وہ بھی ان کی ماں بن گئ ہے تو۔تو کیا تم اسے اپنی بیوی بھی نہیں سمجھ سکتے؟‘‘یزدان خاموش ہو گیا تھا۔ ’’آگر اس نے اپنی اولاد ہوجانے کے بعد، میرے بچوں کی حق تلفی کی تو؟‘‘اس کے اپنے شک و شبہات تھے۔ ’’تمھاری اولاد تمھارے رشتے کو مزید مضبوط کرے گی،اور جب تم اسے یہ یقین دلاؤ گے کہ اس دنیا میں اسکا سب سے بڑا محافظ میں ہوں تو وہ تم سے کبھی دور جانے یا بے و فائی کا سوچے گے بھی نہیں۔۔میں بہت اچھے سے جانتا ہوں تمھیں۔تمھارے دل میں عورت ذات کو لے کر جو شک بیٹھا ہوا ہے اسے نکال باہر پھینکو،ورنہ تم بہت پچھتاؤ گے۔ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی ہے۔‘‘انھونے بیٹے کو آئینہ دکھایا تھا،تو وہ خاموش ہوگیا۔۔آنکھیں سرخ پڑ گئی تھیں۔یہ سچ تھا کہ اسے اس عورت ذات نامی بلا پر ذرہ برابر ٹرسٹ نہیں تھا۔ ’’اب جاؤ روم میں۔۔بچی انتظار کر رہی ہوگی۔‘‘وہ جو قہوہ لئے دروازے پر ہی کھڑی تھی۔۔گڑبڑا کر سائیڈ میں ہوگئی تھی۔۔یزدان اپنی دھن میں وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔جبکہ وہ چند سیکنڈز بعد خود کو کمپوزڈ کرتی روم میں آگئی تھی۔ ’’آگئی میری بیٹی۔۔جیتی رہو۔۔اور یہ کیا ہر وقت کام کرتی رہتی ہو۔میرا بچہ گھر میں اتنے ملازمین ہیں۔ان سے کہا کرو،اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اپنے شوہر کو دیا کرو۔اور بچو ں کی طرف سے آپ نے کوئی ٹینشن نہیں لینی ہے۔وہ بڑے ہیں۔انھیں اپنا آپ سنبھالنا آتا ہے۔‘‘اس کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ سمجھانے والے لہجے میں بولے تھے۔ ’’اوکے انکل۔‘‘ ’’انکل نہیں بیٹے۔ڈیڈی کہا کرو۔‘‘وہ مسکرا کر وہاں سے نکل آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
Comments
Leave a Comment
Aneela
Sat Apr 11 2026
Ghayal novel pdf dy dein bhut zaberdast novel h
