Ghayal Episodc Novel — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/01/2026
683 Views
Episode No 02
#گھائل #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_02 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نیچے پہنچی جہاں اُسکے سُسر اسی کے منتظر تھے۔ ’’خوش آمدید بچے۔‘‘انھونے اس کو دیکھ ،خوش اسلوبی سے پکارا تھا۔جو مسکرا کر ان کے سامنے سر جھکا گئی تھی۔ ’’ان سے ملیئے یہ دونوں ہمارے گھر کی رونق،ہماری جان، ہمارے کیوٹ سے پوتے،ارمان سکندر،اور شامیر سکندر ہیں۔‘‘انھونے لگے ہاتھوں پوتوں کا تعارف کرایا تھا۔ ’’ہم تو ماما سے مل بھی لئے۔‘‘انھونے چہک کر کہا تھا۔اس تمام عرصے میں یزدان بالکل خاموش بیٹھا تھا۔جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو۔ ’’واقعی۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے شہزادے اپنی مام سے مل لئے ہیں۔‘‘وہ خوش اسلوبی سے بولے۔ ’’آپ بیٹھیں بیٹا۔‘‘وہ نشست سنبھال گئی۔جبھی سب نے ناشتہ شروع کیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شادی کو ایک ماہ گزر گیا تھا۔یزدان کا رویہ ہنوز ویسے ہی پہلے دن جیسا تھا۔وہ بالکل خاموش تھا۔البتہ تمکنت اپنے گھر والوں سے سارے تعلق توڑ چکی تھی۔وہ ویسے ہی اس سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ایسے میں اس سودے بازی کی شادی کی حقیقت اشکار ہونے کے بعد تو اسے ان سے کوئی تعلق رکھنا ہی نہیں تھا۔اس نے اسی کو اپنا نصیب مان لیا تھا۔البتہ اب وہ اب بچوں سے کافی اٹیچڈ ہو گئی تھی۔آگر یہی نصیب تھا تو یہی سہی۔۔ویسے بھی اس کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ماما ہم آنکھ مچولی کھلیتے ہیں۔‘‘وہ دونوں اسکی آنکھ پر پٹی باندھ کر گول گول گھوم رہے تھے۔جبھی کار پورچ میں یزدان کی گاڑ ی آ کر ٹھہری تھی۔اور اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ اسے کھیلتا دیکھ وہ خود بھی وہیں آگیا تھا ۔۔جو مسکراتی ہوئی ان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ ’’ ارمان ،شامیر کہاں ہو آپ۔۔‘‘وہ دونوں باپ کے اشارے پر خاموشی سے سائیڈ ہوگئے تھے،جبکہ وہ انھیں پکڑنے کی کوشش میں شامیر کو پکڑ چکی تھی۔ ’’پکڑ لیا۔۔‘‘مگر دونوں کی جگہ کسی اور کو محسوس کر وہ فوراً پیچھے ہوئی،اس سے قبل کہ وہ لڑکھڑا کر گر پڑتی،یزدان اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر سنبھال چکا تھا۔ ’’آرام سے۔۔‘‘اس آواز اور قربت وہ پل میں سُرخ پڑی تھی۔۔ ’’وہ میں۔۔‘‘وہ بُری طرح گڑبڑائی۔۔جبکہ وہ اسکی روشن آنکھوں میں جھانکتا ایک لمحے کو ٹھہر گیا تھا۔ ’’ماما نے بابا کو پکڑ لیا۔۔اب آپ کی باری۔‘‘اپنے بچوں کی آواز پر وہ دونوں ہی گڑبڑا کرہوش میں آئے تھے۔ ’’میں۔۔میں۔۔۔ڈنر کی تیار کرلوں۔۔‘‘وہ فوری وہاں سے رفو چکر ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کے کھانے کا اہتمام اچھے طریقے سے کیا گیا تھا۔پرتکلف ڈنر کے بعد سکندر صاحب نے بغوراپنے لاڈلے کو دیکھا تھا،جو بس بزنس میں گم ہوکر رہ گیا تھا۔ ’’پھر آپ دونوں نے کیا سوچا ہے؟‘‘وہ چونکا۔ ’’کس بارے میں بابا؟‘‘اس نے حیرت سے استفسار کیا۔ ’’بھئی نئی نئی شادی ہوئی ہے آپ کی۔ ہماری بہو کو کہیں ہنی مون پر لے کر جائیں۔‘‘ پانی پیتی تمکنت کو بری طرح سے پھندا لگا تھا۔ ’’اللہ خیر۔۔‘‘ ’’دھیان کہاں ہے آپ کا؟‘‘وہ یک دم ہی پریشان ہوتا اسکی کمر سہلا نے لگا تھا۔جس کا چہرہ مسلسل کھانسنے کے باعث سرخ انگارہ ہوگیا تھا۔ ’’وہ۔۔وہ میں۔۔‘‘ شدید بوکھلاہٹ میں اس نے کچھ کہنا چاہا،مگر یزدان کو مسلسل اپنی کمر تھپکتے دیکھ وہ سکندر صاحب کے سامنے بلاوجہ شرمندہ ہوگئی تھی۔ ’’بابا دیکھیں ماما کے گال کتنے ریڈ ہورہے ہیں۔بالکل میرے چکس کی طرح۔‘‘ شامیر مان کا سرخ چہرہ دیکھ ایکسائیٹڈ سا بولا تھا۔تو شاہ میر نے آج بغور اسکے چہرے کا جائزہ لیا تھا۔ ملائی جیسی نرم جلد،جو کھانسنے سے سرخ پڑ گئی تھی،جھیل جیسی آنکھین، نین کٹوروں میں پانی بھر آیا تھا،بھرے بھرے گلابی ہونٹ بلاشبہ وہ بے انتہا خوبصورت لڑکی تھی۔ ’’بابا میری طرح ماما کے چکس پر کس کرلیں،وہ ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘اس بار وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ برُی طرح سے سٹپٹائے تھے۔جبکہ سکندر صاحب کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا۔ ’’ڈیڈی۔۔۔‘‘یزدان نے تمکنت کو بوکھلا تے دیکھ ناراض نگاہوں سے دیکھا تھا،تو وہ لب دبا گئے۔ ’’خیر میں کہہ رہا تھا آپ دونوں کا ہنی مون کا کیا پلان ہے؟‘‘وہ ایک بار پھر سوالیہ گویا ہوئے۔ ’’ڈیڈی آپ کو معلوم تو ہے۔ میں ابھی بزنس میں الجھا ہوا ہے۔پھر ان دونوں کا اسکول بھی ہے۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح بہانہ گھڑ گیا۔ ’’بزنس کی تم فکر نہ کرو،ابھی میں زندہ ہوں،دوسری بات یہ بچوں کے ساتھ ہنی مون پر کون جاتا ہے؟‘‘انھونے بیٹے کو خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’آپ کو معلوم ہے میں اپنے بچوں کے بغیر کہیں نہیں جاتا۔‘‘اس نے اس بار ایک سپاٹ نگاہ ساتھ بیٹھی تمکنت پر ڈالی تھی،جو سر پلیٹ میں گھسیڑے کھانے میں مصروف تھی۔ ’’ بچے اپنے دادا کے ساتھ بہت خوش رہ لیں گے،تم اپنی بیوی کو وقت دو، اس کے ساتھ وقت گزاروں،اپنی فیملی آگے بڑھانے کا سوچو۔۔‘‘ تمکنت کی رنگ سرخ انگارہ ہوگئی تھی۔ ’’ میرے لئے میرے دو بیٹے کافی ہیں۔‘‘تمکنت کے دل پر گھونسا سا پڑا تھا۔اتنی تزلیل۔۔ ’’یزدان ۔۔۔‘‘انھونے بہو کو تاریک پڑتا چہرہ دیکھ، بیٹے کو گھور کر دیکھا تھا۔ ’’ڈنر کے بعد میرے روم میں آئیں۔تمکنت بیٹا آپ میرے لئے قہوہ بھجوا دیجئے گا۔‘‘اس بار وہ سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتے،اپنے روم میں چلے گئے تھے۔دونوں بچے بھی کھانا فنش کرتے میز چھوڑ گئے تھے۔تمکنت بھی گھبرا کر اٹھنے لگی تھی،جبھی اس نے اسکی کلائی تھام کر روک لیا تھا۔ ’’آپ کہاں جا رہی ہیں؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’وہ انکل کے لئے قہوہ۔۔‘‘اس نے نظریں جھکائے جواز پیش کیا۔ ’’بیٹھ جائیں۔۔پہلے کھانا ڈھنگ سے ختم کریں۔۔حالت دیکھی ہے اپنی۔ لگتا ہے کسی قحط زدہ علاقے کی رہائشی رہی ہو۔۔‘‘وہ ویسے ہی مزاحیہ آنداز میں بول گیا تھا۔جبکہ تمکنت کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے،وہ اسکی بے بسی اور غربت کا مزاق اُڑا رہا تھا۔۔ ’’ہئے۔۔۔واٹ ہیپنڈ۔۔۔رو کیوں رہی ہیں آپ؟‘‘وہ حیران ہوتا کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوا تھا،جو اب سر جھکائے کھڑی سو سو کر رہی تھی۔ ’’کیا ہوا ہے؟ آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘اس بار وہ سنجیدہ ہوا،اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’میری کوئی بات بری لگ گئی ہے۔۔اوکے سوری۔‘‘اس نے سرینڈر کرنے والے آنداز میں ہاتھ اٹھائے تھے۔تمکنت نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔عجیب شخص تھا ،دھوپ چھاؤں سا۔۔ ’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔بس ویسے ہی ماما کی یاد آگئی تھی۔‘‘اس نے بیدردی سے آنسو رگڑتے بہانہ گڑھا تھا۔ ’’سچ بول رہی ہیں؟‘‘اب وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ ’’ایک بات پوچھوں؟‘‘اس بار یزدان سنجیدہ تھا۔ ’’جی۔۔۔جی۔۔‘‘وہ ہکلائی۔ ’’آپ میرے ساتھ باہر جانا چاہتیں ہیں؟‘‘ اسکے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستے سوال کیا تھا۔ ’’ نہ۔۔نہیں تو۔۔۔‘‘وہ فوراً انکاری ہوئی۔اس نے اچھنبے سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’کیوں؟آپ میرے ساتھ باہر کیوں نہیں جانا چاہتی ہیں؟‘‘اس بار اس کی کمر کے گرد حصار قائم کرتا ،وہ سوالیہ گویا ہوا تھا۔تمکنت ایکدم ہوش میں آئی تھی۔دماغ میں شادی کی رات کے اس کے سارے تلخ جملے گھوم گئے تھے۔ ’’آپ کا مجھ سے یہ سوال نہیں بنتا۔‘‘وہ مضبوط لہجے میں بولی تو وہ بری طرح سے ٹھٹھکا تھا۔ ’’کیا مطلب ہے اس بات کا؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’چھوڑیں مجھے۔۔انکل انتظار کر رہے ہونگے۔وہ پر زور مزاحمت کرتی ، وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔جبکہ وہ سوچوں میں ڈوبا کھڑا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکندر صاحب اسٹڈی میں موجود تھے۔جبھی وہ کھٹکے کی آواز کے ساتھ آندر آیا تھا۔ ’’یس ڈیڈ۔۔۔آپ کو کچھ بات کرنی تھی؟‘‘وہ سوالیہ گویا ہوا۔ ’’بیٹھیں۔۔‘‘وہ ایک گہری سانس بھرتا چئیر گھیسٹ کر بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’بیٹا آپ تمکنت کو حقیقت بتا کیون نہیں دیتے۔۔وہ بچی بہت سادہ ،اور معصوم ہے۔اس طرح اس کے جذبات کی ناقدری نہ کرو۔تمھاری
Comments
Leave a Comment
Aneela
Sat Apr 11 2026
Ghayal novel pdf dy dein bhut zaberdast novel h
