Ghayal Episodc Novel — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/01/2026
905 Views
Episode No 01
#گھائل از ہماقریشی قسط نمبر 1 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یزدان ۔آپ پہلے سے شادی شدہ ہیں؟‘‘دلہن بنی تمکنت نے حیرت و بے یقینی سے استفسار کیا تھا۔میرے دو بچے بھی ہیں۔‘‘اس انکشاف سن کر تو وہ لڑکھڑا کر رہ گئی تھی۔۔شادی کی پہلی رات اسکا شوہر نہ صرف اپنی شادی بلکہ سات سال کے جڑواں بچوں کا تذکرہ بڑے آرام سے کرتا اسے دہلا کر رکھ گیا تھا۔’’اتنا بڑا دھوکا۔‘دھوکا کیسا آپ کے گھر والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔میرا نہیں خیال کہ آپ کو اس طرح سے رئیکٹ کرتا چائیے۔‘‘اس پر آسمان توڑتا وہ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوشبوؤں سے مہکتے ،پھول پنکھڑیوں سے سجے اس شاہانہ ماسٹر بیڈروم کی گول شیپ بیڈ کے عین وسط میں دلہن بنی بیٹھی،وہ ماہ جبیں شرمائی گھبرائی سی مسلسل اپنی انگلیاں مسل رہی تھی،جبھی کھٹکے کی آواز کے ساتھ کوئی کمرے میں داخل ہوا تھا۔وہ بھاری قدموں کی دھمک چھوڑتا نزدیک تر چلا آرہا تھا۔۔اُسکا چہرہ گھونگٹ کی آڑ میں مکمل چھپا ہوا تھا،جبکہ وہ آنے والے وقت کی گھبراہٹ کے باعث مزید خود میں سمٹ سی گئی تھی۔وہ بھاری قدموں کی دھمک چھوڑتا قدم قدم چلتا نزدیک تر چلا آرہا تھا۔۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔ ’’سُنو لڑکی!‘‘ آواز میں بلا کی سردگی تھی،وہ بے ساختہ دل تھام گئی۔ ’’پہلے اپنے منہ پر سے یہ تنبو تو ہٹاؤ۔‘‘وہ ذرا خفا ہوا،مقابل کا دل سہمی چڑیا کی طرح لرزہ تھا۔گھبرا کر خود ہی اپنا گھونگھٹ پلٹ دیا تھا۔اور مقابل اس حسن کی مورت کو دیکھنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ ’’میں نے یہ شادی صرف ڈیڈ کے اسرار پر کی ہے۔ورنہ میرے لئے میرے دو نوں بچے ہی بہت ہیں۔‘‘یہ کیسا انکشاف تھا،اس نے جھٹکے سے گردن اُٹھا کر مقابل کھڑے شخص کو دیکھا،وہ وجاہت و شجاہت کا پیکر تھا۔ ’’بچے۔‘‘لبوں نے بے آواز سرگوشی کی تھی۔ ’’اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو؟ تمھارے گھر والوں نے تمھیں میرے بچوں کے متعلق آگاہ نہیں کیا؟‘‘اس نے آئی برو اُٹھائے،بلاشبہ وہ لڑکی بے حد خوبصورت تھی،مگر وہ ان حسین چہروں کی حقیقت سے خوب واقف تھا۔۔ ’’نہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘آنکھوں سے نکلتے آنسو گالوں پر بہتے چلے گئے تھے۔ ’’کچھ انوکھا نہیں کہہ رہا ہوں۔حقیقت بیان کر رہا ہوں۔اور ہاں خبردار جو اس کمرے کی کوئی بھی بات باہر گئی،یا تم نے میری اولاد کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک کرنے کی کوشش بھی کی تو۔‘‘وہ انگشت شہادت اٹھا کر سخت تنبیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔ساتھ ہی شیروانی کے بٹن کھینچ کر کھولتے ایک طرف کو رکھی تھی۔ ’’اب کیا ساری رات بت بن کر گزارنی ہے۔اُٹھو یہ لباس چینج کرو،اور پلیز یہ کمرہ سمیٹوں،مجھے ان سب چیزوں سے سخت قسم کی کوفت ہو رہی ہے۔‘‘وہ شدید بیزاری ظاہر کرتا، خود واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔۔وہ لڑکی کتنی ہی دیر سکتہ کی سی کیفیت میں گہری رھی تھی۔ پھر اپنی تمام تر تیاری کے ساتھ بیڈ سے اُٹھتی وہ قدم قدم چل کر سنگھار آئینے کے عین سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔ آئینے میں نظر آتا اپنا بنوا سنورا سا عکس دیکھ ،اسکی جھیل جیسی گہری آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔دل میں ایک ہوک سی اُٹھی تھی۔۔دل تکلیف سے پھٹا جا رہا تھا۔۔کیا واقعی پھپھی جان ٹھیک کہتی تھیں؟ کہ وہ ایک سبز قدم،سیاہ بخت لڑکی ہے؟ وہ نجانے اور کتنی دیر یونہی رُوتی رہتی جبھی کھٹکے کی آواز پر وہ چونکی،جو سفید کرتا شلوار میں ملبوس شاید سونے کے ارادے سے بیڈ کی جانب بڑھ رہا تھا۔پھر ایک لمحے کو ٹھہرا۔ ’’لڑکی تم ابھی تک ایسی ہی کھڑی ہو؟ کیا ساری رات یہیں کھڑے ہوکر ٹیسوئے بہانے کا ارادہ ہے؟‘‘وہ شدید بیزار دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’کیا میرے گھر والے آپ کی پہلی شادی اور بچوں کے بارے میں جانتے تھے؟‘‘وہ رندھے ہوئے لہجے میں استفساریہ گویا ہوئی۔آئینے سے نظر آتا عکس دیکھ وہ ایک لمحے کو ٹھہر گیا تھا۔اس کا سوزگوار حسن کسی کو بھی زیر کر سکتا تھا۔مگر وہ یزدان سکندر تھا۔بڑے بڑوں کو اپنے سامنے زیر کرنا اسکا پسندیدہ تھا۔ ’’ہاں۔۔اور پلیز یہ تام جھام جلدی اتار کر ، لیٹ جاؤ،صبح جلدی اٹھنا ہے تمھیں۔کل صبح سے میرا ،بچوں کا اور ڈیڈی کا ناشتہ ،تمھاری زمہ داری ہے۔‘‘وہ ایسے ہدایت جاری کر رہا تھا۔جیسے وہ پہلی رات کی دلہن نہیں بلکہ ملازمہ ہو۔ جبکہ وہ اپنے گھر والوں کے اس دھوکے پر صدمے سے دوچار تھی۔۔ بھاری قدموں سے لہنگا سنبھالتی وہ سیدھی ڈریسنگ روم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔جہاں وہ اپنا غم غلط کر سکتی تھی۔۔جبکہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر لیٹے یزدان نے سپاٹ نگاہوں سے اس لڑکی کی حرکتیں دیکھیں تھیں۔پھر سر جھٹک کر آنکھیں موند گیا۔۔کیونکہ وہ کسی قسم کا ڈرامہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے طلوع ہوتا سورج اپنے جوبن پر تھا۔ شیشے کی قد آور کھڑکیوں سے روشنی چھن چھن کر خواب گاہ میں داخل ہوتی،بیڈ پر سوئے نفوس کے چہرے پر پڑتی نیند میں خلل ڈالنے کا کام کر رہی تھی۔۔وہ شدید اکتاہٹ کا شکار تھا۔جبھی اس نے جھلبلا کر کروٹ بدلی تو ہاتھ کسی نرم وجود سے جا ٹکرایا تھا۔۔وہ ایک دم چونک کر اٹھا تھا۔۔مندی مندی سی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو وہ اپنے لاپرواہ وجود سے بے نیاز اس کے بے حد نزدیک، لیٹی خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔ سفید رنگ سادھے سے سوٹ میں اسکی دودھیا رنگت کھل سی رہی تھی۔جبکہ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر آدھا منہ کھولے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے، نیند میں غرق تھی۔ ’’کیوٹ۔۔‘‘وہ بے ساختہ سی مسکرایا تھا۔۔مگر پھر گڑبڑاکر دور ہوا تھا۔اسے تو لگا تھا وہ خود ہی صوفے پر سو جائے گی۔مگر اس بیڈ پر اس کی موجودگی نے اُسے برُی طرح چونکا دیا تھا۔جبھی کسی نے دروازہ دھڑا دھڑ بجایا تھا۔۔ وہ جو نیند میں غرق تھی۔گڑبڑا کر اُٹھ گئی تھی۔۔جبکہ اپنے سامنے یزدان سکندر کو خود کو دلچسپی سے تکتا پاکر وہ پل میں سر تا پاؤں سُرخ پڑی تھی۔ ’’ریلیکس بچے ہونگے۔۔‘‘وہ اپنی شرٹ درست کرتا متوازن لہجے میں بولتا دروازے تک گیا تھا۔او ر توقع کے عین مطابق دونوں بچے اسے ڈیڈی کہتے ہے،ڈیڈی کہتے پاؤں سے لپٹے تھے۔ ’’السلام علیکم! اینڈ گڈ مارننگ ڈیڈی۔۔‘‘وہ دونوں سات سال کے لگ بھگ شاید جڑواں کے بچے تھے۔پیچھے سے دلچسی سے دیکھتی تمکنت کو تو یہی لگا تھا۔ ’’وعلیکم السلام ڈیڈی کی جان۔‘‘اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دونوں کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔ ’’یہ کیوٹ سی ہماری مام ہیں؟‘‘ ان دونوں کی اشتیاق بھری نگاہیں پیچھے بیٹھے وجود پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔ ’’اممم۔۔یس۔۔‘‘وہ دونوں کو اپنے ساتھ لئے بیڈ پر آیا تو تمکنت اس کی رات کی تنبیہ یاد کر نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی تھی۔ ’’السلام علیکم مام!‘‘وہ دونوں ہی ویل مینرڈ بچے تھے۔جبکہ تمکنت اتنے بڑے بڑے بچوں کو دیکھ، مسلسل دل میں جل کڑھ رہی تھی۔۔اس کے نصیب میں ہمیشہ سے اُترن آئی تھی۔۔اور آج بھی اُترن ہی اسکا مقدر بنی تھی۔ ’’واہ تمکنت بختیار، شکل کے ساتھ آگر بخت بھی اتنا ہی اچھا ہوتا تو کیا بات تھی۔ ’’کیا ہم آپ کو ہگ کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ دونوں محبت سے پوچھ رہے تھے۔۔وہ تذبذب کا شکار لب چبا کر رہ گئی تھی۔ ’’آگر آپ نہیں چاہتی تو صاف کہہ دیں۔تاکہ ان کے دل میں خواہشات جنم نہ لیں۔‘‘ یزدان کی سرد آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آئی تھی۔ ’’نہ۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔دراصل یہ سب
Comments
Leave a Comment
Shagufta Usman
Fri Apr 10 2026
Zabrdust
