Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/05/2026
30 Views
Last Episode
مگر اب میں نے ارادہ کینسل کردیا ہے۔پہلے ہم ہنی مون پر جائیں گے پھر تمھاری بیٹی کے بارے میں سوچیں گے۔‘‘لاڈ سے اسکے گلے میں بانہیں ڈالتی وہ شرارت سے بولی تھی۔ ’’جی نہیں مجھے اپنی بیٹی چاہئے۔یہ تو ہر وقت بس تمھاری ٹیم میں رہتا ہے ہے نا شیر!‘‘اس نے پھر سے ایان کا گال چوما۔جو اس بار اسے ناراض نگاہوں سے گھور رہا تھا۔ ’’دیکھو باپ کو کیسے گھور رہا ہے۔‘‘عیسیٰ نے شکایت لگائی۔ ’’آپ نے دو دنوں سے شیو نہیں کی ہے جناب،میرے بچے کو یہ داڑھی چبھ رہی ہوگی۔‘‘اس نے ایان کے گال پر لب رکھتے،ساتھ ہی عیسیٰ رخسار بھی چومے تھے۔۔ ’’بس طے ہو گیا،میری بیٹی میری ٹیم میں ہوگی،اور تم ماں بیٹا رہنا ایک ساتھ۔۔‘‘اب وہ تینوں مسکراتے ہوئے جم سے باہر آئے تھے۔عیسیٰ کی سر گوشیاں مقدس کا شرمانا اور ایان کی باتوں پر دونوں کو بے ساختہ مسکرا دینا ہی اصل خوشی تھی۔عیسیٰ نے محبت سے اپنی کل کائنات کو سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ناظرین! آج ہمارے شو میں موجود ہیں، پاکستان کے مشہور و معروف شخصیت، عیسیٰ عبداللہ ، ان کی خوبصورت اہلیہ مقدس، اور ان کے دو پیارے بچے، ایان اور حورین عبداللہ!!" میزبان نے پرجوش آنداز میں سے تعارف کروایا تھا، پورے اسٹوڈیو نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کرنے لگا۔ جیسے ہی کیمرے کا رخ ان پر ہوا تو تمام ناظریں کی نگاہیں بھی ا نہی پر گئی تھیں ، عیسیٰ، جو ڈارک بلو سوٹ اور وائٹ شرٹ میں بے حد اسمارٹ لگ رہا تھا، اپنی گود میں حوریں کو سنبھالے وہ ہلکے سے مسکرایا ۔ مقدس، جو کہ پیسٹل پنک رنگ کی خوبصورت لانگ فراک میں، سر پر ہلکا سا دوپٹہ رکھے، بے حد دلکش لگ رہی تھی، اپنے بیٹے ایان کا ہاتھ تھامے مسکراتی ہوئی نشست سنبھال گئی تھی۔ "السلام علیکم!" مقدس نے خوش اخلاقی سے کہا، جبکہ ہوسٹ کے ہاتھ آگے بڑھانے پر ہی وہ طریقے سے پیچھے ہو گیا تھا۔۔اب وہ انڈسٹری کو خیر باد کہہ چکا تھا،اور اسکا سارا وقت صرف عبداللہ اینڈ کو کے لئے تھا۔کیونکہ بقول ابتسام صاحب کے وہ اپنا شوق جب چاہے پورا کر سکتا ہے مگر بزنس بھی اسی نے سنبھالنا تھا۔۔آفٹر آل وہ عبداللہ خاندان کا اکلوتا وارث تھا۔۔۔ ’’’وعلیکم السلام! بھئی، سب سے پہلے تو آپ دونوں کو مبارک ہو، ماشاءاللہ، دو خوبصورت بچوں کے والدین بن گئے ہیں۔۔‘‘ میزبان نے محبت سے کہا، اور کیمرہ فوراً ایان اور حورین پر زوم کی گیا تھا۔ ایان، جو سفید شرٹ اور نیوی بلو ٹائی میں بے حد معصوم لگ رہا تھا، تھوڑا شرما کر مقدس کے قریب ہو گیا، جبکہ حورین ، جو پھولوں والی پنک فروک میں بالکل گڑیا لگ رہی تھی، اپنے باپ کے کندھے سے لگی مسکرا رہی تھی۔۔آگے کے دو چھوٹے سے دانت تھے جو اس نے نئے نکالے تھے۔۔ حوریں تو بہت خوش لگ رہی ہے۔۔‘‘! میزبان نے ہنستے ہوئے کہا۔ "ہاں، کیونکہ یہ بابا کے ساتھ ہے۔" مقدس نے ہنستے ہوئے کہا، اور حورین نے فوراً عیسیٰ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں، جیسے اپنی مما کی بات کی تصدیق کر رہی ہو۔ "ایان، بیٹا، آپ بتائیں، زیادہ اچھا کون ہے مما یا بابا ؟" میزبان نے شرارت سے پوچھا۔ ایان نے پہلے معصومیت سے سوچنے والے انداز میں مقدس کو دیکھا، پھر عیسیٰ کی طرف دیکھا، اور معصومیت سے بولا، "بابا مجھے چاکلیٹ دلاتے ہیں، لیکن مما کہتی ہیں دانت خراب ہو جائیں گے۔۔مگر پھر بھی مما زیادہ اچھی ہیں۔۔‘‘!" اس کے جواب پر پورا اسٹوڈیو قہقہوں سے گونج اٹھا۔ مقدس نے مصنوعی ناراضی سے عیسیٰ کو دیکھا۔ ’’میں اپنے بیٹے کو اداس نہیں کر سکتا۔۔۔‘‘ عیسیٰ نے کندھے اچکا کر بے نیازی سے کہا۔ ’’اور حورین؟حورین کا فیورٹ کون ہے؟‘‘ ’’حورین تو اپنے بابا کی بیٹی ہے بھئی!‘‘ مقدس نے محبت اپنی جان کو دیکھا تھا عیسیٰ نے بھی مسکرا کر بیٹی کو دیکھا، جو اپنی ننھی انگلیاں منہ میں ڈالے لائٹس دیکھ کر خوش ہورہی تھی۔ ’’ایان ویسے تو زیادہ تر وقت میرے ساتھ ہی گزارتا ہے،مگر عیسیٰ کے آفس سے آنے کے بعد یہ تینوں صرف ایک دوسرے کو ہوتے ہیں۔۔اور حورین تو پوری پوری اپنے بابا کی بیٹی ہے بھئی۔‘‘وہ محبت سے اپنے بچوں کو دیکھ کر بولی تھی۔۔ "یعنی کہ مما کا فیورٹ ایان اور بابا کی فیورٹ حورین ہے؟" میزبان نے نرمی سے پوچھا۔ نہیں، میری فیورٹ تو صرف مقدس ہے۔‘‘‘‘ عیسیٰ نے سر جھٹک کر ہنستے ہوئے محبت سے کہا تھا۔۔ یہ سن کر مقدس نے حیرانی سے عیسیٰ کو دیکھا، چہرے گلاب کی طرح سرخ پڑ گیا تھا۔۔اسے اس سے یوں اظہار کی توقع ہر گز نہیں تھی۔۔مگر اسکا ایک جملہ مقدس کو بہت معتبر محسوس کر ا چکا تھا۔۔۔جبکہ اسٹوڈیو میں "اوہ ہو!" کی آّواز اور تالیاں گونجنے لگیں۔ مقدس کی گالوں پر سرخی پھیل گئی اور اس نے نظریں جھکا لی تھیں۔ ’’یہ ہوئی نہ بات! اتنے سال گزرنے کے بعد بھی شوہر کی محبت کم نہیں ہوئی ہے! اللہ اس رشتے میں پیار و محبت برقرار رکھے۔۔ مقدس، آپ کیا کہیں گی؟‘‘ میزبان نے دلچسپی سے پوچھا۔ "بس، یہی کہ عیسیٰ اور بچے میری پوری دنیا ہیں۔!" عیسیٰ نے محبت سے اسکی جانبب دیکھا تھا۔۔ ’’چلیں، شو کے آخر میں ہم آپ سے کچھ تفریحی سوالات کریں گے، لیکن اس سے پہلے ایک چھوٹا سا گیم سیگمنٹ ہوگا، جس میں آپ دونوں کو ایک دوسرے کے بارے میں سوالات کے جواب دینے ہیں۔۔‘‘ ’’تو پھر آپ دونوں تیار ہیں۔۔دیکھتے ہیں ،کون کس کو زیادہ جانتا ہے۔‘‘ عیسیٰ نے شوخ انداز میں اس کی طرف دیکھا تھا۔کیونکہ یقیناً اس نے شرارت سے باز نہیں آنا تھا۔۔ ’’جی بالکل تیار ہیں۔۔‘‘ مقدس نے پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا۔ڈھیروں اُمیدوں ، نیک تمناؤں اور قہقہوں کے شور میں عیسیٰ اور مقدس کا مسکراتا رُوشن چہرہ زندگی سے بھرپور خوش ،مطمئن اور مکمل تھا۔ عیسیٰ عبداللہ کے سنگت میں مقدس عبداللہ کی زندگی حسین تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد
