Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/05/2026
30 Views
Last Episode
پیاری اکلوتی بیٹی ہے،جس کے آنے سے مجھے باپ ہونے کا رتبہ ملا تھا۔۔‘‘وہ بار بار اسے ماتھے پر لب رکھتے گلو گیر لہجے میں بولے تھے۔جبکہ عبداللہ ہاؤس کے سب ہی مکین اس جذباتی منظر پر مسکرا دئیے تھے۔مقدس ابھی تک سکتہ میں کھڑی تھی۔۔ ’’اپنے بابا کا معاف کردو گڑیا۔۔‘‘انھونے بیٹی کے سامنے یوں بھری محفل میں ہاتھ جوڑنے چاہے جو فوراً سے تھام گئی تھی۔ ’’نہیں پلیز! ایسا مت کریں۔۔‘‘جب سے اسے عیسیٰ سے پتہ چلا تھا کہ یوسف صاحب کبھی اس کے وجود سے غٖافل نہیں رہے تھےاسکا دل نرم پڑ گیا تھا۔۔معاف تو وہ اپنی بے حس کو بھی کر چکی تھی۔۔جن کی وجہ سے مقدس کو وہ دن دیکھنا پڑے تھے۔۔۔ ’’’سسٹر ہم تو ہمیشہ سے مام سے کہتے تھے کہ ہمیں ایک بہن چاہئے تو یونھی ٹال دیا کرتی تھیں۔۔جب بابا اور گریپی نے ہمیں بتایا کہ آپ ہماری سسٹر ہیں تو ہم سے تو صبر ہی نہیں ہوا۔۔‘‘جیند نے اسے سینےسےلگاتے محبت سے اسکی پیشانی چوم لی تھی۔۔ ’’مسز یوسف کہاں ہیں۔وہ کیوں نظر نہیں آرہی ہیں؟‘‘ عائشہ بیگم نے ماحول کا تناؤ کم کرنے کی خاطر پوچھ لیا تھا۔ وہ بابا سے ناراض ہیں۔۔مگر بابا ممی کو منا لیں گے۔۔ہیں نا بابا۔۔‘‘حمزہ نے شرارت سے باپ کو دیکھا تھا۔۔ ’’بالکل منا لونگا،کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میری بیٹی اب اپنے بابا کا ساتھ ضرور دے گی۔۔‘‘مقدس کی آنکھوں سے آنسوں َرواں ہوگئے تھے۔ وہ یوسف صاحب کے سینے سے لگتی ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔اور اپنی ماں کو روتا دیکھ ایان بھی ہونٹ باہر نکالتا کیوٹ سے آنداز میں رونے لگا تھا۔۔ ’’مقدس یار۔۔آپ لوگوں نے میری بیوی کو رلا دیا،،دیکھیں میرا بیٹا بھی رونے لگا ہے۔۔‘‘ سسکیاں لیتی مقدس کو اپنے سینے سے لگاتاوہ ایان کو اسکی گود میں دے چکا تھا۔۔جو اب کے سینے میں منہ چھپاتا خود بھی سسکیاں لے رہا تھا۔۔ ’’کیا ہوگیا میرے بیٹے کا۔۔یہاں آجاؤ نانا کے پاس۔۔‘‘یوسف صاحب نے اسے مقدس کی گود سے زبردستی لے کر پیار کیا۔۔جو رو کر پھر باپ کی گود میں چلا گیا تھا۔۔ ’’اب آپ یہیں رہیں میرے بچے کو سنبھالیں تو یہ آپ لوگوں کو پہچان لے گا۔۔جب تک میں اور مقدس ہنی مون پر نکل جائیں گے۔۔‘‘عیسیٰ ماحول کو زعفرانی رنگ دینے کے لئے شرارت سے بولا تھا۔۔تو سب ہی کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔ ’’عیسیٰ!‘‘مقدس نے باپ دادا اور بھائیوں کی موجودگی کے باعث اسے گھور کر دیکھا۔اور ساتھ ہی قدم خاموشی سے مسکراتے ابدال صاحب کی جانب بڑھائے تھے،۔وہ بڑ ے تھے۔۔اور کئی بار اس سے معافی مانگ چکے تھے۔۔پرانی باتیں یاد رکھنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں رہا تھا۔۔ ’’آپ مجھے اور میرے بیٹے کو دعا نہیں دے گے۔‘‘ابدال صاحب کے سینے سے لگتی وہ شکوہ کرنے لگی۔ ’’میری ساری دعائیں میرے بچوں کے لئے ہیں۔اور صحیح کہہ رہا ہے عیسیٰ اب آپ لوگ گھومیں پھریں ،زندگی کو انجوائے کریں ،ہم اب اپنے پر پوتے اور نواسوں کے لاڈ اٹھائیں گے کیوں بھائی صاحب۔۔‘‘مقدس کو سینے سے لگاتے انھیں ابتسام صاحب کی رائے لی،، جو سر ہلاتے متفق نظر آرہے تھے۔ ’’مقدس ابدال صاحب کے سینے سے لگی کھڑی تھی،جبکہ عیسیٰ اپنے بیٹے کو گود میں لئے مسلسل مسکرا رہا تھا۔جو ماں کے پاس جانے کے لئے عیسیٰ کی گود سے پھسلا جا رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کے پرائیویٹ جم میں ہلکی ہلکی میوزک کی دھنیں گونج رہی تھیں۔ عیسیٰ سلیو لیس بلیک اسپورٹس شرٹ اور گرے ٹریک پینٹ میں ملبوس، پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ ڈمبلز اٹھا کر اپنی ایکسرسائز مکمل کر رہا تھا، جب اچانک ایک ننھی ہنسی نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ "ایان!" اس نے حیرانی سے اپنے ایک سالہ بیٹے کو دیکھا، جو اپنی چھوٹی چھوٹی ٹانگیں چلاتا ہوا کرال کر کے اس کے قریب آ گیا تھا۔ ایان، ایک چھوٹا سا نیوی بلیو جیم سوٹ پہنے ہوئے تھا، اپنے ننھے ہاتھوں سے عیسیٰ کی بڑی بڑی ویٹ پلیٹس کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ زور لگا کر کچھ اٹھانا چاہ رہا تھا، مگر جیسے ہی ناکام ہوا، معصومیت سے عیسیٰ کی طرف دیکھا اور شرارت سے تالیاں بجا کر کھلکھلایا ۔ "اوئے، تمہیں بھی باڈی بلڈر بننا ہے؟" عیسیٰ نے ہنستے ہوئے اپنا تولیہ ایک طرف پھینکا اور جھک کر ایان کو گود میں اٹھا لیا۔ وہ اپنے بیٹے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھاتے ہوئے "ون، ٹو، تھری!" کہہ کر ہلکے سے اوپر نیچے کرنے لگا، جیسے وہ بھی جم کر رہا ہو۔ ایان خوشی سے کِلکاریاں مارنے لگا، اس کے معصوم قہقہے پورے جم میں گونج رہے تھے۔ پھر اچانک وہ عیسیٰ کی گردن میں بانہیں ڈال کر شرارت سے اس کے پسینے والے چہرے کو ہاتھ لگانے لگا۔ "اوہ! گڈے جم میں شرارت نہیں، ورنہ بابا آ کو ماما کو دے آئیں گے۔!" عیسیٰ نے مصنوعی خفگی سے کہا، جس پر وہ کھلکھلایا۔۔ "دااا!" ایان نے اپنی توتلی زبان میں کہتے ہوئے اس کے گال پر ایک ننھا سا بوسہ دیا، جیسے اپنا دفاع کر رہا ہو۔عیسیٰ اسکے گال پر ہلکے سے دانٹ لگاتا اسے کھلکھلانے پر مجبور کر گیا۔۔ "عیسیٰ؟ ایان؟ کہاں چھپ کر بیٹھے ہیں بابا بیٹا؟" مقدس کی شرارتی سی آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔وہ خود ہی اسے یہاں چھوڑ کر گئی تھی۔۔ وہ اس وقت ایک ہلکی پرل وائٹ چکن کاری کرتے اور پلین شلوار میں ملبوس ، بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں قید کیے، عیسیٰ کو دل کے قریب محسوس ہوئی تھی۔ اس کی نظر عیسیٰ پر پڑی، جو پسینے میں بھیگا ہوا ایان کو اپنے کندھوں پر بٹھائے گھما رہا تھا، اس کے لبوں پر نرم سی مسکراہٹ کھل گئی تھی۔ "یہ کیا ہو رہا ہے؟" اس نے سینے پر بازو لپیٹ کر استفسار کیا،دونوں باپ بیٹا اپنے میں ہی مگن تھے۔ "یہ صاحب بھی فٹنس میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ سوچا، پہلے سالگرہ کے بعد تھوڑا ورک آؤٹ سیکھا دیا جائے!" عیسیٰ نے شوخی سے جواب دیا اور ایان کو دوبارہ کندھوں پر جھٹکا دیا، جس پر ایان نے خوشی سے قہقہہ لگایا۔ "بہت خوب! باپ بیٹا دونوں جم میں مصروف ہیں اور میں پورے گھر میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی!" مقدس نے مصنوعی ناراضی دکھائی۔ "اچھا؟ تو اب آ گئی ہو تو تم بھی ورک آؤٹ کر لو؟" عیسیٰ نے شرارت سے کہا، اور جم کی ایک اسٹریچنگ میٹ کی طرف اشارہ کیا۔ ’’’نہیں شکریہ، میرا ورک آؤٹ اس وقت تم دونوں کو ڈھونڈنا تھا، جو اب مکمل ہو چکا ہے!" مقدس نے ہنستے ہوئے جواب دیا اور ایان کے پاس آ کر اس کی گال تھپتھپا ئے ،جو باپ کے گلے میں بانہیں دالے اس وقت ماں کو لفٹ کرانے میں موڈ میں ہر گز نہیں تھا۔۔ ’’چلو، بہت ورک آؤٹ ہو گیا۔ اب آکر شاور لے لو۔۔ وہ نرمی سے کہتی واپسی کے لئے مڑنے لگی،جبکہ عیسیٰ اسکی کلائی پکڑتا نزدیک کھینچ چکا تھا۔مقدس نے گھور کر دیکھا تھاْ۔ ’’دیکھا؟ تمہاری مما کا ورک آؤٹ بس ہمیں سنبھالنے تک محدود ہے،میں سو چ رہا ہوں،مما کی تھوڑی سی مشقت اور کراتے ہیں،آپ کے لئے ایک چھوٹی سسٹر لے آتے ہیں۔‘‘وہ شرارت سے مقدس کو دیکھ کر آئیز ونک کرتا لب دبا گیا۔ ’’سد ھر جاؤتم! پہلے اسے تو سنبھال لو۔۔پھر بیٹی کے بارے میں سوچنا۔۔‘‘مقدس نے گھور کر دیکھا۔ ’’اسے سنبھالنے والے بہت لوگ ہیں۔تم میری بیٹی کی بات کرو۔۔تم نے کہا تھا ایان کی فرسٹ برتھ ڈے کے بعد سوچیں گے۔‘‘عیسیٰ نے یاد کرایا۔ ’’ہاں کہا تھا
