Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/05/2026
30 Views
Last Episode
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی Last Episode ’’شکر ہے آپ لوگوں کو بھی گھر واپس آنےکا خیال آگیا تھا۔ورنہ میں اور مقدس تو ایک دوسرے کی شکل دیکھ دیکھ کر بھی تھک گئے تھے۔‘‘عیسیٰ نے میرم کی نازک سی بیٹی کو گود میں اٹھاتے ذرا شرارت سے سب کو دیکھ کر کہا تھا۔۔ جو کچھ ماہ کے لئے ابدال صاحب کے پاس لندن چلے گئے تھے۔جبکہ میرم کی ماں زارن کے گھر میں رہ رہی تھیں۔۔ ’بھئی تو ان دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھتے رہے،جبھی تو اب تم دونوں کی تنہائی بانٹنے والا تیسرا آرہا ہے۔‘‘عثمان صاحب شرارتی لہجے میں بولے تھے،مقدس جو ابتسام صاحب کے پاس بیٹھی اس سے دعائیں سمیٹ رہی تھی، خفت ذدہ سی سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔۔ ’’دو دن پہلے ہی مقدس کی طبیعت خراب ہونے پر وہ اسے ہسپتال لے کر گیا تھا۔اور وہاں انھیں پیرنٹس بننے کی خبر مل گئی تھی۔ ’’بالکل!ہمارا خاندان کا وارث آنے والا ہے،بھلا یوں پاکستان آکر اس سے زیادہ اچھی خبر اور کیا ہوسکتی تھی۔۔‘‘ابتسام صاحب نے ایک بار پھر مقدس کا ماتھا چوما تھا۔جس کے باعث انھیں آج یہ دن دیکھنا نصیب ہوا تھا،اور وہ اُنکے اَڑیل گھوڑے کے مزاج والے پوتے کو راہ راست پر لے آئی تھی ۔ ’’’اچھا مطلب جوآیا نہیں اس کی اتنی فکر ہے،اور جو اکلوتا پوتا ہر وقت میسر ہے۔اس کے لئے کوئی پیار اور دعائیں نہیں ہیں۔‘‘اب وہ میرم کو اسکی گڑیا واپس کرتا، ابتسام صاحب کی جانب بڑھا تھا،جنھونے اٹھ کر اسے سینے سے لگایا تھا۔۔ ’خوش رہو،اللہ تم دونوں کو یونہی خوش رکھے۔اور نیک صلح اولاد سے نوازے۔۔‘‘ عیسیٰ نے مسکرا کر مقدس کو دیکھا تھا۔۔جو گلابی چہرہ لئے ذرا شرمائی شرمائی سی اسکی ماں سے دعائیں لے رہی تھی۔۔ ’’میں سوچ رہی ہوں کہ عیسیٰ بھائی تو ایک گڑیا کے مامو بن گئے،لیکن میں پہلے گڑیا کی پھپھو بنو گی یا گڈے کی۔‘‘اس بار میرم اپنی شوخ طبیعت کے تحت، شرارتی آنداز میں بولی تھی۔اور سب ہی مسکرا دئیے تھے۔ ’’تم دعا کرو کہ اللہ پاک عیسیٰ کو جڑواں بچوں سے نواز دے۔۔رحمت اور نعمت دونوں ساتھ آجائیں گی،تو تمھارا مسلہ بھی حل ہوجائے گا۔‘‘یہ عرشمان صاحب تھے،جو دادا بننے کی خبر پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔جبکہ عیسیٰ نے شرارت سے مقدس کو دیکھا تھا،جو آنکھیں دکھاتی رخ پھیر گئی۔ ’’بس اللہ پاک خیر سے وہ دن لائے۔جب اس گھر میں بھی بچوں کی آوازیں گونج اُٹھیں۔۔‘‘سب نے دل سے دعا دیتے ان شاء اللہ کہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کا وسیع لان آج روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ ہر طرف نیلی اور سفید فیری لائٹس کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ شام کی ہلکی خنکی میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔پورا لان نیلے اور سفید غباروں سے سجا ہوا تھا۔۔آج عبداللہ خاندان کے نئی نسل کے پہلے چشم و چراغ کی پہلی سالگرہ تھی۔۔ بڑے سے بینر پر ’’ہیپی فرسٹ برتھ ڈے ایان عبداللہ‘‘ لکھا ہوا تھا، اور پورے لان میں بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔۔کلاؤنز ،باونسنگ کیسل اور ایک چھوٹا سا کینڈی اسٹال، جہاں بچے خوشی سے کھیلتے گودتے کینڈیز کھاتے پیتے موج مستی میں مگن تھے۔۔ سامنے ایک بڑی ٹیبل پر تین منزلہ کیک رکھا تھا، جس پر ایان کے نام کے ساتھ ایک چھوٹا سا تاج سجا تھا۔ مقدس آسمانی اور سفید رنگ کے خوبصورت امتزاج کے فراک میں ملبوس تھی، اور عیسیٰ بھی ماں بیٹے کے ساتھ ہلکی پھلکی ٹیوننگ کئے نیوی بلیو سلم فٹ بلیزر ز کے نیچے ہلکی آئس بلیو ڈریس شرٹ، پہنے چارکول گرے ڈریس پینٹ کے ساتھ براؤن آکسفورڈ شوز میں خوبرو اور جازب نظر د کھائی دے رہا تھا۔۔۔ ۔ مقدس بار بار ایان کو گود میں لے کر چوم رہی تھی، جو ننھے ہاتھوں سے اپنے کراؤن کو ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ جیسے جیسے شام ڈھل رہی تھی، مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ انڈسٹری کے کئی بڑے نام، عیسیٰ کے کو-ہوسٹس، شو کے ٹیم ممبرز، اور کچھ مشہور سیلیبریٹیز بھی تقریب میں شریک تھے۔ روشنیوں میں چمکتے کیمروں کے فلیشز، خوش گپیوں کی آوازیں، اور ہلکی موسیقی فضا کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔ "چلیں بھئی، اب کیک کاٹنے کا وقت ہو گیا!کیونکہ اب میرا شہزادہ مزید کسی کا انتظار نہیں کرسکتا۔۔" وہ چھوٹا سا شہزادہ اس وقت نیوی بلیو بلیزر ،اور سفید بوڈیسوٹ شرٹ پر ایک چھوٹی سی بو ٹائی اور بیج کلر کی سوفٹ چینوز پہنے چہرے پر ڈھیروں معصومیت لئے،ماں باپ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا تھا۔۔۔جبکہ اسکی دادی کئی بار اپنے لاڈلے کی نظر اُتار چکی تھیں۔ مقدس نے ایان کو عیسیٰ کے ساتھ کیک کے قریب کھڑا کیا، اور سب نے تالیاں بجائیں۔ جیسے ہی ننھے ایان نے اپنی ماما کی مدد سے چھوٹا سا چاقو پکڑا، سب نے یک آواز ہو کر ’’ہیپی برتھ ڈے ڈئیر ایان عبداللہ گنگنا شروع کردیا تھا۔۔عیسیٰ نے چھوٹا سا کیک کا ٹکرا اپنے لاڈلے سے منہ میں دیا تھا،جو مزےد سے کھاتا کیوٹ لگ رہا تھا۔۔اورپر ارد گرد کھڑے بچوں کے منہ میں بھی کیک ڈالتے وہ سب ہی مسکرا دئیے تھے۔۔ ’’دیکھو مقدس تمھارا لاڈلا کتنی جلدی ایک سال کا ہوگیا ہے۔۔‘‘عیسیٰ نے پاس کھڑی مقدس کو حصار میں لیتے ہولے سے کہا تھا،جبکہ اب وہ اپنے پردادا کی گود میں پیار سمیٹ رہا تھا۔۔ کیک کٹنے کے بعد فوٹو سیشن کا آغاز ہوا، جہاں سیلیبریٹیز اور فیملی ممبرز ایان کے ساتھ تصاویر بنوانے میں مصروف ہو گئے۔ ایک طرف گفٹس کا انبار لگا تھا—کسی نے برانڈڈ کھلونے دیے، کسی نے منی کار تحفے میں دی تھی، اور کسی نے سونے کی چین تحفے میں دی۔ ’’میرا شیر! بابا سے پیار تو لو۔۔‘‘کافی دیر بعد عیسیٰ نے اسے گود میں اُٹھایا تھا، اور چٹا چٹ اسکے گال چوم ڈالے تھے۔۔جبکہ وہ مقدس کے پاس آتا اسکی پلیٹ سے کیک اٹھا کر باپ کے گال پر لگاتا اب کھلکھلایا تھا۔۔ ’’ہاہاہا!‘‘مقدس کھلکھلائی تھئ۔۔ ’’مقدس دیکھ رہی ہو تم اس چھوٹے شرارتی بیٹے کو۔‘‘اس نے بیٹے کو گھورتے اسکی ناک دبائی تھی۔۔جو مان کی گردن منہ چھپاتا اس سے چھپنا چاہ رہا تھا۔۔ ’’سر پرائز!‘‘وہ لوگ ابھی بیٹے کے ساتھ ہی مگن تھے۔کہ عقب سے حمزہ،جنید کی آواز ابھری تھی۔۔وسب چونک کر متوجہ ہوئے۔۔ ’’ہیپی برتھ ڈے شہزادے!‘‘ انھونے نزدیک آتے چہکتے ہوئے ایان کو اپنی گود میں لیا تھا۔۔ ’’ارے یار، آپ لوگ کہاں سے ٹپک گئے۔۔تمھاری تو فلائٹ لیٹ نہیں ہوگئی تھی؟‘‘ عیسیٰ ابدال صاحب پھر یوسف صاحب کے گلے لگتا، اب اپنے تینوں سالوں سے مل رہا تھا ’’بس ہمارے بھانجے کی سالگرہ تھی۔‘‘مقدس جو ہمیشہ کی طرح خاموش کھڑی تھی۔۔اسکی اچانک بات پر چونک گئی تھی۔ ’’بھتیجا!‘‘عیسیٰ نےا سکے سر پر ہاتھ مارا کہ وہ شاید غلط بول گیا تھا۔ ’’جی نہیں ہم اس کے ماموں ہی بنے گئے،ہماری اکلوتی اپیا کا بیٹا ہے ایان شیر!‘‘وہ تینوں آگے بڑھتے مقدس کو اپنے حصار میں لے گئے تھے۔وہ حیران و پریشان سی کھڑی تھی۔۔جبکہ ہمیشہ کی طرح خاموش کھڑے یوسف صاحب نے آگئے بڑھ کر مقدس کو سینے سے لگایا تھا۔۔ ’’میں نے آج تک کبھی اپنی بیٹی کو اس ڈر سے سینے سے نہیں لگایا کہ کہیں اس کو سینے سے لگانے سے میرے تین بیٹے مجھ سے نہ چھوٹ جائیں۔ان کی ماں ،مجھ سے میرے بچے نہ چھین لے۔لیکن آج مجھے کوئی ڈر نہیں ہے،میں سب کے سامنے یہ اعلان کرتا ہون کہ مقدس میری پہلی اولاد میری
