Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 2
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 21/04/2026
84 Views
Episode no 2
اس نے پیدل چل کر اسٹاپ تک جانا ہے اور پھر بسوں کے دھکے کھاتے ہوئے منزل تک پہنچنا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنی فلائٹ کا کسی کو نہیں بتایا تھا ۔۔اسی لئے کوئی بھی اسے ایئر پورٹ سے پك اپ کرنے نہیں آیا تھا۔ٹيكسی والے کو کرایا ادا کرتے ۔۔وہ ساری سوچيں جھٹکتا، مسکرا کر عبدالله ہاؤس کے دروازے پر کھڑا تھا ۔۔گارڈ نے اسے دیکھ ذرا حیرانی سے دروازہ کھول دیا تھا۔۔ ’’السلام علیکم بابا !کیسے ہیں "وہ مسکرا کر ان کے گلے لگا تھا۔ "’’میں ٹھیک ہوں بیٹا !آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے ۔۔سب نے آپ کا بہت انتظار کیا ہے۔۔"وہ مسکرا کر بول رہے تھے۔۔وہ دھیرے سے مسكراتا باقی سب لوگوں سے حال احوال کرتا وہ گھر کے بیرونی حصّہ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ "اوہ اللہ ، میرا بچہ آ گیا۔۔" ملازموں کو ہدایت کرتیں کچن سے باہر آتیں عائشہ یوں عیسی کا مسکراتا چہرہ اپنے سامنے دیکھ خوشی اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات سمیت بولتی نزدیک آئی تھیں۔۔۔۔انھونے نے تیزی سے آ کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ ان کی آواز میں محبت ،شفقت اور تڑپ محسوس کر اسے گلٹ سا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ ’’آپ کیوں اتنا اموشنل ہورہی ہے سویٹ ہارٹ !مجھے تو واپس آنا ہی تھا۔۔۔" عائشہ نے پرمسرت انداز میں مسکراتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اپنی آنکھوں کے کناروں سے آنسوآؤں کو پونچھا تھا۔۔۔ "ارے میاں، بس ماں سے ہی ملو گے ،یا ہمیں بھی لفٹ کراؤگے۔۔" ابتسام صاحب کی رعب دار آواز پرچونکا ،وہ ماں کو سینے سے لگاتا سب کی موجودگی فراموش کرگیا تھا۔۔۔ وہ مخصوص سفاری سوٹ میں ملبوس تھے ۔۔وہ آج بھی اتنے ہی گریس فل تھے جیسے عیسی انھين چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔ ’’مائی ہینڈ سم گرینڈ پا!" عیسیٰ ہولے سے مسکراتا تیزی سے ان کے قریب آیا ، عبدﷲ صاحب نے فوراً اسے کندھے سے پکڑ کر سینے سے لگا لیا تھا ۔۔اکلوتے پوتے کو سینے سے لگانے کی خوشی کوئی ابتسام صاحب سے پوچھتا۔۔۔۔ ’’واپس لوٹ کر انے میں اتنا وقت لگا دیا برخوردار ! لگتا ہے نیویارک کی ہوا کچھ زیادہ ہی راس آ گئی تھی؟"انہوں نے شرارت سے کہا۔ ’’ارے گرینڈ پا ! نیویارک کی ہوا میں وہ خوشبو کہاں، جو یہاں کی مٹی میں ہے!"عیسیٰ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ساتھ ہی قدم بڑھا کر اپنے باپ کی جانب بڑھا جو اتنے عرصے میں خاموش کھڑے تھے۔۔۔ ’’بہت بڑے ہوگئے ہو ،باپ کے کہے کی تو کوئی ویلیو ہی نہیں رہی۔۔"انھونے سالوں بعد بیٹے کو سینے سے لگاتے شکوه کیا تھا۔۔۔ ’’ایسی بات نہیں ہے بابا ۔۔۔"وہ ذرا شرمنده ہوا۔۔ "بھئی چچا سے کوئی ملے گا یا بھول گئے ہو ؟"عثمان صاحب نے ماحول کا تناؤ کم کرنے کی خاطر مسکرا کر کہا تو وہ ہولے سے ہنس کر نزدیک آیا۔۔۔ "اپ کو بھول سکتا ہوں میں ۔۔آپ تو میرے پارٹنر ہیں اینڈ مائی سویٹ اینڈ بیوٹیفل چچی کیسی ہیں آپ ؟؟"وہ مسکرا کر نزدیک آیا اور ساتھ کھڑی فریحہ چچی سے بھی حال احوال کیا۔۔۔۔ "تمھیں دیکھ لیا ،اب ہم سب کی طبیعت اور مزاج سب ٹھیک ہوگئے ہیں ۔۔"انھونے محبّت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔وہ ان محبّتوں کا ہمیشہ شکر گزار رہا تھا۔ ۔عبدﷲ ہاؤس میں آج سالوں بعد رونق لوٹ کر آئی تھی۔ کیونکہ اس گھر کا بیٹا واپس آگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کے پانچ بج رہے تھے،جب وہ گھر میں داخل ہوئی تھی، چہار سو نگاہ دوڑائی تو احساس ہوا کہ اسے انٹرویوز دیتے اور گھر لوٹنے لوٹتے کافی دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘اس نے لاؤنج میں پڑے صوفے پر پاؤں پسار کے بیٹھتے سلام کیا،تو نفیسہ بیگم نے تیکھی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’بڑئ جلدی واپس آگئی ہیں بی بی!‘‘انہونے گھورا۔۔ ’’وہ انٹرویوز اور پھر بسوں میں سفر کرنے میں وقت لگ گیا۔۔‘‘دوپٹہ اتار کر ایک طرف کو پھینکتی وہ تفصیلی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ جاری ہے
